شق القمر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شَقُّ القَمَر پیغمبر اکرمؐ کے معجزات میں سے ایک ہے۔ اسلامی مآخذ کے مطابق، آپ نے اس معجزے میں اپنی انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ یہ معجزہ، بعثت کے ابتدائی برسوں کا ہے۔ اس معجزے کے بارے میں کچھ شکوک وشبہات پیش آئے ہیں اور بعض علمائے اسلام نے ان کا جواب بھی دیا ہے۔

واقعہ کی کیفیت

شیخ طوسی کے بقول شق القمر کے سلسلہ میں مسلمانوں کے درمیان اجماع رہا ہے اور اس اجماع کی مخالفت، خود اجماع کے سالوں سال بعد ہوئی ہے لہذا اس مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔[1] لیکن روایات کے اندر اصل واقعہ کی تفصیلات اور کیفیت میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ روایات کے مطابق آنحضرت نے معجزے کے عنوان سے آسمان میں چاند کو دو ٹکڑوں میں تبدیل کرکے الگ الگ کردیا، پھر حکم دیا کہ اپنی پہلی حالت میں لوٹ جائے۔ معجزہ کا اتنا حصہ اسلامی مآخذ میں متفق علیہ ہے۔[2]

اکثر شیعہ اور اہل سنت مفسرین کے مطابق، سورہ قمر کی ابتدائی آیتیں اسی واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں:

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ وَإِن يَرَوْاْ آيَةً يُعْرِضُواْ وَ يَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ؛ ترجمہ: قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے اور یہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلسل جادو ہے"۔ (سورہ قمر،آیت1/2)۔

معجزہ شق القمر کی تفصیلات کو تاریخی، روائی اور تفسیری مصادر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تاریخی مصادر جیسے: البدایۃ و النہایۃ[3]، الفتن[4]، الخرائج و الجرائح،[5] امتاع الاسماع مقریزی[6] میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے۔ قاضی عبدالرحمن ایجی نے شق القمر کے معجزہ کو متواتر مانا ہے۔[7]

اہل سنت کے روائی مصادر میں شق القمر کا واقعہ 6 لوگوں کے ذریعے نقل ہے:انس بن مالک،[8] جبیر بن مطعم،[9] حذیفۃ بن یمان،[10]ابن عباس،[11]عبداللہ بن عمر[12]و ابن مسعود۔[13]

شیعہ تفسیری اور روائی کتابوں میں بھی شق القمر کے سلسلہ میں دو روایتیں نقل ہوئی ہیں:

  1. امالی میں شیخ طوسی۔[14]
  2. تفسیر قمی میں شیخ عباس قمی۔[15]

واقعہ کا وقت

یہ معجزہ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں بعثت کے ابتدائی دنوں میں مکہ کے اندر پیش آیا۔ علامہ طباطبائی نے اس کا وقت، شب 14 ذی‌الحجہ، قبل ہجرت کا پانچواں سال بیان کیا ہے۔[16]

مشرکوں کے تقاضے کی وجہ

مشرکین کے تقاضے کی بنیاد یہ تھی کہ ان کے عقیدے کے مطابق، روئے زمین پر صرف سحر و جادو ایسی چیز تھی جو موثر ہوتی تھی، اسی وجہ سے انھوں نے آپ سے ایسے کام کا تقاضا کیا جو خارق العادۃ (فطرت شکن) بھی ہو اور زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہو۔[17]

علماء کی نظر میں اس کی حیثیت

اس واقعے کے بارے میں علمائے اسلام کا نظریہ دو طرح کا رہا ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کے اکثر مفسرین اس واقعے کے ہونے کے قائل ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ سورہ قمر کی ابتدائی تین آیتیں اسی شق القمر کے معجزہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔[18]

یہ بات کچھ فرق کے ساتھ شیعہ سنی دونوں کی کتابوں میں آئی ہے اور بہت سے علماء نے اس سلسلہ میں اجماع[19] تواتر[20] یا استفاضہ[21] کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسرا نظریہ حسن بصری، عطاء خراسانی، بلخی جیسے لوگوں کا ہے جن کا خیال یہ ہے کہ یہ آیتیں قیامت سے اور اشراط الساعۃ سے متعلق ہیں۔[22]

سوالات اور شبہات

چند پہلوؤں سے اس واقعہ کے اوپر اعتراض کیا گیا ہے اور وہ پہلو یہ ہیں:

  • پہلا اعتراض: یہ اعتراض بطلیموسی نظریہ کائنات شناسی کی بنیاد پر ہے جس کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آسمانی افلاک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں یا آپس میں ایک دوسرے سے ملحق ہو جائیں۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جدید کائنات شناسی کے مشاہدہ کی بنیاد پر بطلیموس کا نظریہ سرے سے باطل ہے۔ اور پھر خود منظومہ شمسی کی پیدائش اور شہابیوں کا وجوب میں آنا اس نظریہ کے بطلان پر بہترین دلیل ہے۔[23]

  • دوسرا اعتراض: اگر یہ واقعہ وقوع پذیر ہوا تھا تو پھر تاریخی کتابوں میں نقل کیوں نہیں ہوا ہے۔

اس اعتراض کا بھی اسلامی دانشوران کی طرف سے جواب دیا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ واقعہ رات میں پیش آیا تھا اور اس وقت بہت سے لوگوں کے سوتے ہوئے ہونے کا امکان ہے۔ نیز یہ کہ اس زمانہ کے عرب، آسمان اور ستاروں پر تحقیق میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اور دوسرے جوابات بھی دئے گئے ہیں۔[24]

ناسا کی تحقیقات اور کرہ ماہ میں شگاف کے مشاہدہ کا دعوی

ادھر کچھ برسوں پہلے سائبر اسپیس میں کچھ باتیں گھومتی رہیں جن کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ جو تصویریں ریما ایریاڈوس (Rima Ariados) نے اپولو مشن (Apollo Mission ) میں لی تھیں ان سے چاند میں شگاف کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ زغلول النجار نے سنہ 2004ء میں ایک کتاب شائع کی اور ان میں سے ایک تصویر کی تجدید کی۔ یہ دعوی بعد میں ناسا (NASA) کے دانشوروں کے ذریعہ مسترد کردیا گیا۔ [حوالہ درکار]


متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، التبیان،‌ بیروت، ج۹، ص۴۴۳۔
  2. نمونہ کر طور پر دیکھئے: شیخ طوسی، التبیان،‌ بیروت، ج۹، ص۴۴۳۔
  3. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶؛ ج۶، ص۸۲
  4. المروزی، کتاب الفتن، ۱۴۱۴ق، ص۳۶۷
  5. الراوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۱
  6. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۲۵۔
  7. الایجی، المواقف، الشریف الرضی، ج۸، ص۲۵۶۔
  8. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶؛ بخاری، صحیح البخاری، استانبول، ج۴، ص۲۴۳۔
  9. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۵۱۳۔
  10. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶۔
  11. ابونعیم الأصبہانی، دلائل النبوۃ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۸۰؛ ابن کثیر، البدایۃ‌ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶
  12. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۵۱۱؛ بخاری، صحیح البخاری، استانبول، ج۴، ص۲۴۳۔
  13. حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۵۱۲؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۱۴۶
  14. شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۴۱
  15. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۷ش، ج۲، ص۳۴۱
  16. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۱ق، ج۱۹، ص۶۵۔
  17. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۷، ص۳۵۵۔
  18. دیکھئے: طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۹، ص۲۸۲؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۲۹، ص۳۳۷۔
  19. طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ص۳۱۰
  20. سید شریف نے شرح المواقف میں اور ابن السبکی نے شرح المختصر میں آلوسی سے نقل کیا ہے، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۷۴۔
  21. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۱ق، ج۱۹، ص۶۰
  22. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۱ق، ج۱۹، ص۵۶
  23. تفسیر نمونہ، مکارم شیرازی، ۱۳۷۴ش، ج۲۳، ص۱۳-۱۷
  24. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۱ق، ج۱۹، ص۶۴-۶۵


مآخذ

  1. ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، تحقیق علی شیری، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، چاپ اول، ۱۴۰۸ھ۔
  2. أبونعیم الأصبہانی، احمد بن عبداللہ، دلائل النبوہ، بیروت،‌ دار النفائس، چاپ سوم، ۱۴۱۲ھ۔
  3. الآلوسی، محمود بن عبد اللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، علی عبد الباری عطیۃ، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  4. الایجی، عبدالرحمن بن احمد، المواقف، شرح علی بن محمد جرجانی، قم، الشریف الرضی،‌ بےتا۔
  5. البخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، استانبول، المکتبۃ الاسلامیہ للنشر و التوزیع، بےتا۔
  6. الراوندی، قطب الدین، الخرائج و الجرائح، قم، موسسۃ الامام المہدی، ۱۴۰۹ھ۔
  7. المروزی، نعیم بن حماد، کتاب الفتن، تحقیق سہیل زکار، بیروت،‌ دار الفکر للطباعۃ و النشر، ۱۴۱۴ھ۔
  8. حاکم النیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، چاپ اول، ۱۴۱۱ھ۔
  9. شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم،‌دار الثقافہ، ۱۴۱۴ھ۔
  10. شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، بےتا۔
  11. طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۱ھ۔
  12. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، تحقیق: لجنۃ من العلماء و المحققین الاحصایین، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، چاپ اوّل، ۱۴۱۵ھ۔
  13. فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ھ۔
  14. قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، موسسہ‌ دار الکتاب، چاپ چہارم، ۱۳۶۷ش۔
  15. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ھ۔
  16. مقریزی، احمد بن علی، إمتاع الأسماع، تحقیق محمد عبدالحمید النمیسی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۲۰ھ۔
  17. مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴ش۔