قالیچہ سلیمان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قالیچہ سلیمان یا تخت سلیمان جناب سلیمان کا وہ تخت یا قالیچہ تھا جو ہواوں کے زور پر حضرت سلیمان اور ان کے اصحاب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا تھا۔ قرآن کریم میں جناب سلیمان کے قالیچہ کا نام نہیں آیا ہے، لیکن اس بات کی طرف اشارہ ضرور موجود ہے کہ جناب سلیمان کے ہاتھوں میں ہواوں کا اختیار تھا۔ بعض تفسیری اور روایی مآخذ میں جناب سلیمان کے قالیچہ اور اس کی خصوصیات کا ذکر پایا جاتا ہے۔ علامہ مجلسی نے ایک روایت سرزمین کربلا پر جناب سلیمان کے قالیچہ کے نزول کے بارے میں نقل کی ہے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جناب سلیمان کا قالیچہ حقیقت سے زیادہ افسانہ سے مشابہت رکھتی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جناب سلیمان کو ہواوں پر اختیار ہونے کا قصہ اس افسانہ کے عالم وجود میں آنے کا سبب بنا ہے۔

تعریف

قالیچہ یا بساط سلیمان ایک ایسا وسیلہ تھا جو حضرت سلیمان کے زیر اثر ہواوں کے دوش پہ پرواز کرتا تھا اور انکو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا تھا۔ بعض دوسرے مآخذ کی روشنی میں جناب سلیمان کا یہ قالیچہ ان شیاطین کے ذریعہ سونے اور ریشم سے بنایا گیا تھا جو جناب سلیمان کے خادم تھے۔ [1] قرآن کریم میں جناب سلیمان کے اس قالیچہ کا ذکر نہیں ہے لیکن ہواوں پر جناب سلیمان علیہ السلام کے تسلط کا ذکر ملتا ہے۔[2] بعض تاریخی مآخذ اور کچھ روایات میں جناب سلیمان کے اس قالیچہ کا ذکر مل جاتا ہے۔[3]

قالیچہ کی خصوصیات

جناب سلیمان کے بساط اور قالیچہ کی خصوصیات اور کیفیت خاص کر اس کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں کچھ مآخذ میں قالیچہ سلیمان کی لمبائی اور چوڑائی کے بارے میں ملتا ہے کہ وہ ایک بائی ایک فرسخ سے چار بائی چار فرسخ تک تھی۔[4] بعض لوگوں نے اس کو سو فرسخ میں پھیلا ہوا بتایا ہے اس طرح کہ اس پہ جناب سلیمان کا تخت سمیت چھ ہزار کرسیاں آجاتی تھیں۔[5] ان باتوں کی بنیاد پہ بعض لوگوں نے اس کو ایک غیر معمولی قالیچہ بتایا ہے۔[6] علامہ مجلسی سے منقول ایک روایت کے مطابق جناب سلیمان کی بساط پہ سونے اور چاندی کی تین ہزار کرسیاں رکھی گئی تھیں جس پر حضرت سلیمانؑ کے دور کے انبیاء، علماء کے مقام و منزلت کے اعتبار سے ترتیب سے سجی ہوئی تھیں اور اس کے بعد لوگوں کے مختلف گروہوں کے بیٹھنے کی جگہ معین تھی اس قالیچہ پر حیوانات اور شیاطین کے لئے بھی الگ جگہ رکھی گئی تھی۔[7]

بعض مآخذ نے جناب سلیمان کے اس قالیچہ کے وجود کو مسلم جانا ہے۔ [8] انکے مقابلہ میں محققین کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس قالیچہ کو فاقد ماخذ گردانتا ہے اور اسکو ایک افسانہ بتاتا ہے [9] ان کا کہنا ہے کہ قرآن کریم میں جو جناب سلیمان کی ہواوں پہ حکومت کا ذکر ہے وہ اس بات کا سبب بنا کہ لوگ اس طرح کا افسانہ گڑھ لیں۔[10]

مفسرین نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جناب سلیمان کے قالیچہ کی رفتار دن کے نصف اوّل میں کہ جو ۵ سے ۶ گھنٹہ کا ہوتا ہے اتنی تھی وہ اتنی دوری طے کرتا تھا جتنی انسان ایک مہینہ میں دوری طے کرتا ہے۔[11] بعض مآخذ میں ذکر ملتا ہے کہ جناب سلیمان ہواوں کی طاقت سے استفادہ کرتے ہوئے صبح کو خطہ شام سے چلتے تھے اور ناشتہ سے دوپہر کے کھانے تک کے دوران ایران پہنچتے تھے۔[12]

کربلا میں جناب سلیمان کی بساط کا نزول

علامہ مجلسی نے حضرت سلیمان کے کربلا میں محل شہادت امام حسینؑ پر پہنچنے کے واقعہ کی گزارش نقل کی ہے۔ اس روایت کے مطابق، جناب سلیمان اپنے قالیچہ پر سوار آسمان میں پرواز کر رہے تھے۔ جب سر زمین کربلا سے گذر ہوا تو ہوا کے زور سے آپ کا قالیچہ پلٹنے لگا یہاں تک کہ آپ کو لگا کہ آپ گر جائیں گے۔ جب ہوا کا زور کم ہوا تو آپ زمین پر اترے۔ ان گزارشات میں نقل ہوا ہے کہ جناب سلیمان نے اس بات کی علت جاننا چاہی تو انہیں کربلا کی زمین پر امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کیا گیا۔[13]

حوالہ جات

  1. انصاری، کشف الاسرار، ۱۳۷۱ش، ج۷، ص۱۹۱۔
  2. سورہ انبیاء، آیہ ۸۱؛ سورہ سبا، آیہ ۱۲؛ سورہ ص، آیہ ۳۶۔
  3. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۴، ص۲۴۴۔
  4. «مقامات و مواہب الہی حضرت سلیمان علیہ السلام»، سایت دائرۃ ‌المعارف طہور۔
  5. بلعمی، تاریخنامہ طبری (تاریخ بلعمی)، ۱۳۷۸ش، ج۱، ص۴۱۴۔
  6. محجوب، «بویہ پرواز: سوابق پرواز آدمیان در اعتقادہای دینی و مذہبی و داستانہای عوام و آداب و رسوم ایرانیان، یہودیان و مسلمانان (۱)» ص۵۶۳۔
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۱۴، ص۸۱۔
  8. صوفی، «دورہ کامل قصہ‌ہای قرآن از آغاز خلقت تا رحلت خاتم انبیاء(ع)»، سایت غدیر۔
  9. حکمت، «بازتاب سیمای قرآنی سلیمان نبی در مثنوی مولوی با تکیہ بر تلمیح»، ۱۳۹۴ش، ص۱۱۲و ۱۱۳۔
  10. حکمت، «بازتاب سیمای قرآنی سلیمان نبی در مثنوی مولوی با تکیہ بر تلمیح»، ۱۳۹۴ش، ص۱۱۲و ۱۱۳۔
  11. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱۶، ص۳۶۳؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۳، ص۴۷۴؛ کرمی، التفسیر لکتاب اللہ المنیر، ۱۴۰۲ھ، ج۶، ص۳۱۴۔
  12. روضۃ الصفا بہ نقل از: محجوب، «بویہ پرواز: سوابق پرواز آدمیان در اعتقادہای دینی و مذہبی و داستان‌ہای عوام و آداب و رسوم ایرانیان، یہودیان و مسلمانان (۱)»، ص۵۶۳۔
  13. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۴، ص۲۴۴۔


منابع