حدیث افتراق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدیث افتراق
حدیث کے کوائف
موضوع: امت اسلامی کے فرقے
صادر از: پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ
اعتبارِ سند: تواتر کا دعوی
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب.حدیث ثقلین.حدیث کساء.مقبولہ عمر بن حنظلہ.حدیث قرب نوافل.حدیث معراج. حدیث ولایت.حدیث وصایت.حدیث جنود عقل و جہل

حدیث افتراق پیغمبر اکرم سے منسوب ہے جو امت اسلامیہ کے فرقوں کے بارے میں ہے جن کی تعداد ستر سے زیادہ ہے۔ لہذا اس حدیث کے مطابق، امت اسلامیہ، پیغمبر اسلام کے بعد ستر فرقوں سے زیادہ میں تقسیم ہوگی جس میں سے صرف ایک ہی فرقہ نجات پا سکے گا۔ اب اس فرقہ ناجیہ کے بارے میں علمائے اسلام میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ فرقہ ناجیہ، علی کے شیعہ ہی ہیں۔

حدیث افتراق اور اس کے متعلق مسائل کو کلام کے مباحث میں بطورعلم فرقہ شناسی اور فرقوں کی مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

حدیث کا مضمون اور اس کی تشریح

حدیث افتراق یا حدیث تفرقہ،[1]۔ پیغمبر اکرمؐ کی یہ حدیث جو مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مجوس ستر فرقوں میں تقسیم ہوئے، یہودی اکہتر فرقوں میں اور عیسائی بہتر فرقوں میں منقسم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی اور ان تمام فرقوں میں صرف ایک ہی فرقہ ناجی ہوگا۔[2]

مختلف نقل کی بنیاد پر اسلامی فرقوں کی تعداد کبھی تہتر فرقے، [3] اور کبھی بہتر فرقے [4] اور کبھی اکہتر فرقے [5] ذکر ہوئے ہیں.

حدیث افتراق کی شرح میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ فرقہ ناجیہ کے علاوہ اکثراسلامی فرقوں کا نابود ہو جانا، اعتقادی اختلاف کی بناء پر ہے جو آپسی دشمنی اور تکفیریت کی وجہ سے انجام دی جاتی ہے اور اختلافات فقہی یعنی تمام فقیہ جو قرآن و سنّت کی طرف مراجعہ کرتے ہیں، معذور بھی ہوں اور اہل نجات بھی ہوں یہ نہیں ہو سکتا۔[6] بعض شرح کرنے والوں نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ حدیث، مسلمانوں کے تمام دنیاوی مسائل مثلا جان، مال، حکومت، آپسی دشمنی اور ان کے مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کو شامل ہے۔[7]

اعتبار حدیث افتراق

حدیث افتراق شیعوں کی کتاب کتب اربعہ اور اہلسنت کی صحیحین میں نقل نہیں ہوئی ہے۔ محققین فرقہ جیسے نوبختی کی کتاب فرق الشیعہ اور اسی طرح ابوالحسن اشعری کی کتاب مقالات الاسلامیین میں بھی اِس حدیث کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔ ابن حزم اندلسی نے بھی اسے نہ تو اعتبار کے قابل سمجھا اور نا ہی احتجاج کے قابل۔[8] ابن وزیر کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کا آخری حصّہ (ایک فرقے کے علاوہ سارے جہنمی ہیں) جعلی ہے۔[9]

اس کے باوجود شیعوں کی بعض حدیثی کتابیں جیسے:[10] اور اہلسنّت کی[11] اور بعض ادیان و مذاہب کے مصنفین [12] نے اس حدیث کو نقل بھی کیا ہے اور اسے قبول بھی کرتے ہیں۔ اور بعض فرقہ شناس جیسے عبدالقاہر بن طاہر بغدادی [13]؛ شہفور بن طاہر اسفراینی[14] اور ابن عبد الرحمن ملطی شافعی[15] نے اسی طرح سے اسلامی فرقوں کو تہتّر فرقوں کے اعتبار سے تقسیم کیا ہے۔ لہذا سے یہ کہا گیا ہے کہ حدیث افتراق نہ صرف مشہور و مستفیض [16] ہے بلکہمتواتر [17] یا متواتر سے نزدیک ہے۔ [18]

مقدسی بشاری مصنّف کتاب أحسن التقاسیم فی معرفۃ الأقالیم، نے رائج نظریہ کے خلاف، اس روایت کی سند کو روایتِ مشہور سے زیادہ صحیح بتایا ہے .[19]

فرقہ ناجیہ

تفصیلی مضمون: فرقہ ناجیہ

فرقہ ناجیہ کے مصداق کو معیّن کرنے کے سلسلے میں علمائے مذاہب کے درمیان کافی اختلافِ نظر پایا جاتا ہے جن میں سے اکثر خود کو فرقہ ناجیہ اور باقی بہتّر فرقوں کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ :[20] مذہب امامیہ کے ایک عالم دین جمال الدین رازی نے اپنی کتاب تبصرۃ العوام فی معرفۃ مقالات الانام [21] [[ میں اور عالم مذہب اسماعیلیہ جعفر بن منصور الیمن نے اپنی کتاب سرائر و اسرار النطقاء[22] میں اور اسی طرح عالمِاہل سنت نے اپنی کتاب الملل والنحل[23] میں اپنے مذہب کو فرقہ ناجیہ کا مصداق قرار دیا ہے۔

شیعوں کے مشہور محدّث شیخ صدوق نے چوتھی صدی ہجری میں اپنی کتاب کمال الدین و تمام النعمہ میں نقل کیا ہے کہ پیغمبراکرم(ص) نے امام علیؑ کے چاہنے والوں اور ان کے بعد کے ائمّہ کے شیعوں کو فرقہ ناجیہ جانا ہے۔[24] اسی طرح علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں امام علیؑ سے نقل کیا ہے کہ میرے شیعہ اہل نجات ہیں۔[25] علامہ حلی نے بھی بعض احادیث کی بناء پر ائمّہ شیعہ اور ان کی پیروی کرنے والوں کو فرقہ ناجیہ قرار دیا ہے۔[26] اس کے بعد مذہب شیعہ کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے دلیلوں کا ذکر کیا ہے۔[27]

اس کے باوجود بھی علمائے اہلسنت نے بعض احادیث سے استناد کیا ہے کہ وہ، جماعت [28] یا اکثریت [29] یا خلفائے راشدین کے ماننے والوں کو فرقہ ناجیہ سمجھتے ہیں۔[30] حدیث افتراق کے سلسلے سے یہ مطلب بھی ملتا ہے کہ سوائے زندیقوں، کے تمام اسلامی فرقے اہل نجات ہیں۔[31]

گمراہ فرقے

مذاہب اسلامی کے علما اپنے فرقہ کے علاوہ دوسرے بہتّر فرقوں کو گمراہ سمجھتے ہیں۔[32] اگرچہ شاطبی جو اہلسنت کے عالم دین ہیں ان کے قول کے مطابق بہتّر گمراہ فرقوں کے سلسلے میں کوئی بھی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہیں ہے۔[33]
ابن حزم نے اپنی فقہی کتاب المُحَلّی بالآثار، میں پیغمبر اکرم(ص) کی اس حدیث تفترق أمتی علی بضع وسبعین فرقۃ أعظمہم فتنۃ علی أمتی قوم یقیسون الامور..۔ [34] کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل قیاس جو فقہ میں قیاس کرتے ہیں یہی وہ فرقہ ہے جو گمراہ ہے۔[35]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. بقائی یمین، «بررسی و نقد حدیث فرقہ ناجیہ»، ۱۳۹۴ش
  2. ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۹ ھ، ج۳، ص۱۴۵؛ ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، دارالفکر، ج۲، ص۳۶۴؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۴ھ ج۲۸، ص۴.
  3. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ھ ج۱، ص۲۸۱؛ ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ھ ج۵، ص۲۶؛ طبرانی، المعجم الکبیر، مطبعۃالامۃ، ج۱۸، ص۵۱؛ ابن حنبل، مسند، ۱۴۱۹ھ ج۴، ص۱۰۲.
  4. ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۰۶ھ ج۱، ص۲۶۰؛ طبرانی، المعجم الکبیر، مطبعۃالامۃ، ج۱۷، ص۱۳.
  5. دانی، السنن الواردۃ، ۱۴۱۶ھ ج۳، ص۶۲۴.
  6. بغدادی، الفرق بین الفرق، ۱۴۰۸ھ ص۵-۸؛ شاطبی، الاعتصام، ۱۴۲۰ھ ص۴۴۲.
  7. شاطبی، الاعتصام، ۱۴۲۰ھ ص۴۶۰-۴۶۱.
  8. ابن حزم، الفِصَل، ۱۴۰۵ھ ج ۳، ص۲۹۲.
  9. ابن‌وزیر، العواصم و القواصم، ۱۴۱۵ھ ج۳، ص۱۷۰-۱۷۲.
  10. شیخ صدوق، الخصال، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۵۸۴-۵۸۵؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ ج۲۸، ص۱۳
  11. ابن‌ حنبل، مسند، ۱۴۱۴ھ ج ۳، ص۵۶۹؛ ابن ‌ابی‌ عاصم، السنۃ، ۱۴۱۹ھ ج۱، ص۷۵-۸۰؛ طبرانی، المعجم الکبیر، مطبعۃالامۃ، ج۱۸، ص۵۱.
  12. بغدادی، الفرق بین الفرق، ۱۴۰۸ھ ص۵-۸؛ سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، مؤسسۃ النشر الإسلامی، ج۱، ص۲۵-۲۶.
  13. بغدادی، الفرق بین الفرق، ۱۴۰۸ھ ص۱۱-۲۱
  14. اسفراینی، التبصیر فی الدین، ۱۴۰۸ھ ص۲۳-۲۵
  15. ملطی شافعی، التنبیہ و الردّ، ۱۴۱۳ھ ص۱۲.
  16. سبحانی، بحوث فی الملل و النحل، مؤسسۃ النشر الإسلامی، ج۱، ص۲۳؛ مظفر، دلائل الصدق، ۱۴۲۲ھ ج۵، ص۲۸۹.
  17. ابن طاووس، الطرائف، ۱۴۲۰ھ ج ۱، ص۲۸۷ و ج ۲، ص۷۴ و ص۲۵۹؛ مناوی، فیض‌ القدیر، ۱۳۹۱ھ ج ۲، ص۲۰
  18. الآمدی، الإحکام فی أصول الأحکام، دارالکتب العلمیۃ، ج۱، ص۲۱۹.
  19. مقدسی بشاری، أحسن التقاسیم، ۱۴۱۱ھ ج۱، ص۳۹.
  20. بغدادی، الفرق بین الفرق، ۱۴۰۸ھ ص۱۱-۲۱؛ اسفراینی، التبصیر فی الدین، ۱۴۰۸ھ ص۲۳-۲۵؛ ملطی شافعی، التنبیہ و الردّ، ۱۴۱۳ھ ص۱۲.
  21. رازی، تبصرۃ العوام، ۱۳۶۴ش، ص۱۹۴-۱۹۹.
  22. الیمن، سرائر و اسرار النطقاء، ۱۴۰۴ھ ص۲۴۳.
  23. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۱۹-۲۰.
  24. شیخ صدوق، کمال الدین، موسسۃ النشر الاسلامی، ص۲۵۷.
  25. علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ھ ج۲۸، ص۱۱.
  26. دیکھئے علامہ حلی کی کتاب، منہاج الکرامہ، ۱۳۷۹ش، ص۵۰.
  27. حلی، منہاج الکرامہ، ۱۳۷۹ش، ص۳۵-۱۱۱.
  28. ابن ‌ماجہ، سنن ابن‌ ماجہ،۱۴۳۰ھ ج۵، ص۱۲۸-۱۳۰.
  29. الآمدی، الإحکام فی أصول الأحکام،‌ دار الکتب العلمیۃ، ج۱، ص۲۱۹.
  30. ابن ‌ماجہ، سنن ابن ‌ماجہ،۱۴۳۰ھ ج۱، ص۲۸-۲۹.
  31. دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، ۱۴۰۶ھ ج۲، ص۶۳؛ دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، ۱۴۰۶ھ ج۲، ص۶۳.
  32. بغدادی، الفرق بین الفرھ ۱۴۰۸ھ ص۱۱-۲۱؛ اسفراینی، التبصیر فی الدین، ۱۴۰۸ھ ص۲۳-۲۵؛ ملطی شافعی، التنبیہ و الردّ، ۱۴۱۳ھ ص۱۲.
  33. شاطبی، الاعتصام، ۱۴۲۰ھ ص۴۸۱.
  34. طبرانی، المعجم الکبیر، مطبعۃالامۃ، ج۱۷، ص۱۳.
  35. ابن حزم، المُحَلّی بالآثار، دارالجیل، ج۱، ص۶۲.

مآخذ

  • ابن ابی ‌عاصم، احمد بن عمرو، السنۃ، چاپ باسم ‌بن فیصل جوابرہ، ریاض ۱۴۱۹/۱۹۹۸.
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند، تحقیق: ابو المعاطی نوری، چاپ عالم الکتب، بیروت، ۱۴۱۹ھ
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، فضائل الصحابہ، تحقیق محمد عباس وصی اللہ، بیروت، مؤسسہ الرسالہ،۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • ابن ماجہ، محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، چاپ دارالفکر، [بی‌تا]، بیروت.
  • ابن‌ حزم، ابو محمد، الفِصَل فی‌الملل و الأہواء و النحل، چاپ محمد ابراہیم نصر و عبدالرحمان عمیرہ، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵.
  • ابن ‌حزم، ابو محمد، المُحَلّی بالآثار، تحقیق: احمد شاکر، چاپ دارالجیل، بیروت، [بی‌تا].
  • ابن‌ طاووس، سید علی، الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطوائف، چاپ علی عاشور، بیروت ۱۴۲۰/۱۹۹۹.
  • ابن‌ وزیر، محمد بن ابراہیم، العواصم و القواصم فی الذَّبِّ عن سنۃ ابی‌القاسم، چاپ شعیب ارنؤوط، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۴.
  • اسفراینی، شہفور بن طاہر، التبصیر فی‌الدین و تمییز الفرقۃ الناجیۃ عن‌الفرق الہالکین، چاپ محمد زاہد کوثری، بیروت ۱۴۰۸/۱۹۸۸.
  • الآمدی، علی بن محمد، الإحکام فی أصول الأحکام، المکتب الاسلامی، دارالکتب العلمیۃ، [بی‌تا].
  • الیمن، جعفر ابن منصور، سرائر و اسرارالنطقاء، چاپ مصطفی غالب، بیروت ۱۴۰۴.
  • بغدادی، ابی‌ منصور عبدالقاہر، الفرق بین الفرق و بیان الفرقۃ الناجیۃ منہم، بیروت،‌ دار الجیل-‌ دار الآفاق، ۱۴۰۸ھ
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، چاپ دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۳ھ
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا، چاپ دارالکتب العلمیہ، بیروت،، ۱۴۱۱ھ
  • دانی، عثمان بن سعید، السنن الواردۃ فی الفتن و غوائلہا و الساعۃ و اشراطہا، تحقیق: ضاءاللہ بن محمد ادریس مبارکفوری، چاپ دارالعاصمۃ، ریاض، ۱۴۱۶ھ
  • دیلمی، شیرویۃ بن شہردار، الفردوس بمأثور الخطاب، تحقیق سعید بن بسیونی زغلول، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء.
  • رازی، جمال‌الدین، تبصرۃ العوام فی معرفۃ مقالات الانام، چاپ عباس اقبال آشتیانی، تہران: اساطیر، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • زیلعی، عبداللّہ‌ بن یوسف، تخریج الاحادیث و الآثار الواقعۃ فی تفسیر الکشاف للزمخشری، چاپ سلطان ‌بن فہد طبیشی، (ریاض) ۱۴۱۴ھ۔
  • سبحانی، جعفر، بحوث فی‌ الملل و النحل، مؤسسۃ النشر الإسلامی، [بی‌تا].
  • شاطبی، ابراہیم بن موسی، الاعتصام، چاپ‌ دار المعرفہ، بیروت ۱۴۲۰ھ
  • شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، چاپ الشریف الرضی، ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کتاب الخصال، چاپ علی‌ اکبر غفاری، قم ۱۳۶۲ہجری شمسی۔
  • طبرانی، ابوالقاسم، المعجم الکبیر، چاپ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۴ھ
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم ‌الکبیر، چاپ حمدی عبدالمجید سلفی، ج۱۸، بغداد: مطبعۃالامۃ، بی‌تا.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منہاج الکرامہ فی معرفہ الامامہ، موسسہ عاشورا، ۱۳۷۹ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، چاپ مؤسسۀ الوفاء، بیروت، ۱۴۰۳ھ
  • مظفر، محمد حسین، دلائل الصدق، چاپ موسسہ آل البیت(ع)، ۱۴۲۲ھ
  • ملطی شافعی، محمد بن احمد، التنبیہ والرد علی اہل الاہواء و البدع، چاپ مکتبۃ مدبولی، قاہرہ ۱۴۱۳ھ
  • مناوی، محمد عبدالرئوف، فیض‌القدیر: شرح الجامع الصغیر، (بیروت) ۱۳۹۱/۱۹۷۲.
  • ہیثمی، علی بن ابی‌ بکر، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، چاپ دارالمعارف، بیروت،۱۴۰۶ھ۔