زبور

ویکی شیعہ سے

زَبور آسمانی کتابوں میں سے ایک ہے جو حضرت داوود پر نازل ہوئی۔ زبور میں نئی شریعت اور احکام نہیں بلکہ یہ بعض دعاوں، مناجات اور نصیحتوں پر مشتمل تھی۔ بعض قرآنی آیات کے مطابق حضرت داوود زبور کی وجہ سے بعض دیگر انبیاء پر برتری رکھتے ہیں۔ احادیث کے مطابق زبور ودایع امامت میں سے ہے جس میں حضرت محمدؐ کا ذکر ہوا ہے۔

بعض محققین کا کہنا ہے کہ عہد عقیق میں موجود مَزامِیر وہی حضرت داوود کی زبور ہے جو تحریف سے محفوظ رہی ہے۔ تورات کے مزامیر یہودی دین کے معتبر مصادر میں شمار ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر 5 کتاب اور 150 مزمور ہیں جن میں سے 73 مزمور کی نسبت حضرت داوود کی طرف دی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سورہ انبیاء کی 105ویں آیت تورات سے بلاواسطہ نقل کرنے والی اکیلی آیت ہے جو اب بھی مزامیر میں موجود ہے۔

تعارف اور اہمیت

بعض احادیث کے مطابق زبور 104 آسمانی صحیفوں میں سے ایک ہے[1] جو 18 رمضان کو حضرت داوود پر نازل ہوئی۔[2] تفسیر نمونہ کے مؤلف ناصر مکارم شیرازی کے مطابق زبور نصیحتوں، دعاؤں اور مناجات پر مشتمل تھی اور کوئی نئے احکام یا شریعت اس میں نہیں تھے۔[3] بعض احادیث کے مطابق زبور ودایع امامت میں سے ایک ہے جو جَفْر اَبیَض میں محفوظ ہے۔[4]

ایک حدیث نبوی کے مطابق پیغمبر اسلامؐ کا نام زبور میں «ماحی» یعنی زمین سے بت پرستی کو محو اور ختم کرنے والے سے ذکر ہوا ہے۔[5] بعض احادیث میں حضرت علیؑ کا نام بھی ذکر ہونے کا تذکرہ ہوا ہے۔[6] ایک حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے پیغمبر اکرمؐ کو زبور کے بدلے مثانی سورے دیا۔[7] صحیفہ سجادیہ کو بھی خوبصورت دعاؤں اور مناجات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زبور آل محمد کا نام دیا گیا ہے۔[8] زبور لغت میں «لکھا گیا» کے معنی میں ہے۔[9]

زبور سے مربوط قرآنی آیات

حرم امام حسینؑ میں سورہ انبیاء کی 105ویں آیت کی کاشی کاری

زبور کا لفظ قرآن مجید میں تین مرتبہ ذکر ہوا ہے اور سورہ نساء کی 163ویں آیت، سورہ اسراء کی 55ویں آیت میں اللہ کی طرف سے حضرت داوود کو ایک عطیہ کے طور پر معرفی ہوئی ہے۔[10] تفسیر المیزان کے مؤلف محمدحسین طباطبایی سورہ نساء کی 163ویں آیت سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت داوود کی دیگر بعض انبیاء پر برتری اسی زبور کی وجہ سے تھی۔[11] سورہ اسراء کی 196ویں آیت میں زبور کو جمع کی صورت میں (زُبُر) سے یاد کیا ہے اس سے مراد حضرت داوود پر نازل ہونے والی کتابیں نہیں بلکہ وہ آسمانی کتابیں ہیں جو حضرت داوود سے پہلے کے انبیاء پر نازل ہوئی تھیں۔[12]

«وَلَقَدْ کتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکرِ أَنَّ الْأَرْضَ یرِثُہَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ»[13] کی آیت میں بھی «زبور» کا لفظ آیا ہے لیکن اس کے بارے میں مختلف احتمال دئے گئے ہیں؛ لیکن علامہ طباطبائی نے دوسری آیتوں سے استناد کرتے ہوئے اسے وہی حضرت داوود کی زبور قرار دیا ہے۔[14] بعض محققین کے مطابق سورہ انبیاء کی 105ویں آیت قرآن مجید کی وہ اکیلی آیت ہے جو عہد قدیم سے بلاواسطہ نقل ہوئی ہے۔[15] پندرہویں صدی ہجری کے مفسرین قرآن میں سے محمد صادقی تہرانی اور ناصر مکارم شیرازی تورات کے مزامیر میں تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس آیت کے مندرجات تورات کے مزامیر میں بھی موجود ہے۔[16]

زبور کا تورات کے بعض حصوں سے مطابقت

داوود کے مزامیر کی چوتھی صدی عیسوی کی تصویر جو مصر کے قبطی عجائب گھر میں موجود ہے۔[17]

مکارم شیرازی اور صادقی تہرانی جیسے بعض مفسرین نے حضرت داوود کی زبور کو تورات کے بعض حصوں کے ساتھ مطابقت کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان حصوں میں بھی کچھ تحریف ہوچکی ہے۔[18] البتہ صادقی تہرانی کا کہنا ہے کہ قرآن کے بعد زبور وہ کتاب ہے جو آسمانی کتابوں میں سب سے کم تحریف کا شکار ہوئی ہے۔[19] بعض محققن کے مطابق قرآن اور مزامیر میں کچھ مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے۔ جیسے بعض مثالیں دونوں میں یکساں ہیں اور بعض مبہم حروف دونوں میں ہیں جو ایک ہی منبع کی حکایت کرتے ہیں۔[20] 45واں مزمور میں پیغمبر اسلامؐ اور ان کے اصحاب کے بارے میں ذکر آیا۔[21]

مَزامیر میں پانچ کتابیں[22] اور 150 مَزمور شامل ہیں[23] جن میں سے 73 مزمور کی نسبت حضرت داوود کی طرف دی گئی ہے،[24] باقی بعض کی نسبت حضرت سلیمان اور بعض کی نسبت نامعلوم افراد کی طرف دی گئی ہے۔[25] تورات کے مزامیر شعر کی طرح ہیں[26] اور یہودی تعلیمات کے معتبر مصادر شمار ہوتے ہیں۔[27] یہودیوں کی روزمرہ دعائیں، ہفتہ وار یا دیگر مخصوص ایام کی دعائیں مزامیر میں سے ہیں[28] اور کتاب مقدس میں سے سوائے اناجیل کے باقی کوئی بھی اَسْفار مزامیر کے برابر نہیں پڑھے جاتے ہیں۔[29]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ملاحظہ ہو: شیخ صدوھ۔ الخصال، 1362شمسی، ج2، ص524.
  2. کلینی، الکافی، 1407ھ۔ ج4، ص157.
  3. مکارم شیرازی و دیگران، پیام قرآن، 1386شمسی، ج7، ص348.
  4. شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ۔ ج2، ص186.
  5. شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385شمسی، ج1، ص128.
  6. ملاحظہ کریں: شیخ صدوق، معانی الاخبار، 1403ھ۔ ص59؛ ابن‌شاذان قمی، الفضائل، 1363شمسی، ص175.
  7. کلینی، الکافی، 1407ھ۔ ج2، ص601.
  8. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج15، ص18-19.
  9. اسدی، «زبور»، ص288.
  10. ملاحظہ ہو: سورہ نساء، آیہ 163؛ و سورہ اسراء آیہ 55.
  11. طباطبایی، المیزان، 1417ھ۔ ج13، ص120.
  12. طباطبایی، المیزان، 1417ھ۔ ج15، ص320.
  13. سورہ انبیاء، آیہ105.
  14. طباطبایی، المیزان، 1417ھ۔ ج14، ص329.
  15. ایزانلو، و خندق‌آبادی، «زبور»، ص251.
  16. صادقی تہرانی، الفرقان، 1406ھ۔ ج19، ص379-382؛ مکارم شیرازی،‌ تفسیر نمونہ، 1371شمسی،‌ ج13، ص566.
  17. فرحات، «مزامیر داوود».
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج‏13، ص520؛ صادقی تہرانی، الفرقان فی تفسیر القرآن، 1365شمسی، ج17، ص230.
  19. صادقی تہرانی، الفرقان فی تفسیر القرآن، 1365شمسی، ج17، ص230.
  20. خزائلی، اعلام قرآن، 1371شمسی، ص346.
  21. بلاغی، قصص قرآن، 1381شمسی، ص375.
  22. مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، 1377شمسی، ص796.
  23. بلاغی، قصص قرآن، 1381شمسی، ص375.
  24. خزائلی، اعلام قرآن، 1371شمسی، ص347.
  25. مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، 1377شمسی، ص797.
  26. ایزانلو، و خندق‌آبادی، «زبور»، ص249.
  27. اسدی، «زبور»، ص291.
  28. اسدی، «زبور»، ص291.
  29. مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، 1377شمسی، ص799.

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن‌شاذان قمی، الفضائل، 1363ہجری ہجری شمسی۔
  • اسدی، علی، «زبور»، در دایرۃ المعارف قرآن کریم، ج14، قم، بوستان کتاب، 1395شمسی۔
  • ایزانلو، رمضانعلی، و حسین خندق‌آبادی، «زبور»، در دانشنامہ جہان اسلام، ج21، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، 1395ہجری شمسی۔
  • بلاغی، صدرالدین، قصص قرآن، تہران، امیرکبیر، 1381ہجری شمسی۔
  • جزائری، عزالدین، شرح الصحیفة السجادیہ، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1402ھ۔
  • خزائلی، محمد، اعلام قرآن، تہران، امیرکبیر، 1371ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1362ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، داوری، 1385ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1403ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید(رہ)، 1413ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ، قم، انتشارات فرہنگ اسلامی، 1365ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • فرحات، فاطمہ، «مزامیر داوود»، در سایت مجلۃ ہافِن، تاریخ درج: 31 اکتبر 2019م، تاریخ بازدید: 10 دی 1402ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، تہران، اساطیر، 1377ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، و دیگران، پیام قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔