افسانہ غرانیق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

افسانہ غَرانیق ان روایات کی طرف اشارہ ہے جن کی بنیاد پر مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت کے تقریبا دو مہینے بعد سورہ نجم پیغمبر اسلام ﷺ پر اس وقت نازل ہوا جب آپ مشرکین سے محو گفتگو تھے۔ مذکورہ روایت اگرچہ بعض درجہ اول اسلامی مآخذ میں آئی ہے، لیکن بہت سے مسلمان عالموں کی مخالفت سے بھی روبرو ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ کے سورہ نجم کی تلاوت کرنے کے بعد، شیطان نے آپ کو دو اور عبارتیں وسوسہ کی شکل میں القا کیں اور حضرت جبرئیل نے پیغمبر اکرم ﷺ کو اس قضیہ سے آگاہ کیا۔

بعض اہل‌ سنت کی تاریخی اور تفسیری کتابوں میں بھی جیسے سیرہ ابن‌ اسحاق، الطبقات الکبری اور تفسیر طبری نے افسانہ غرانیق کے متعلق روایت ذکر کی ہیں، لیکن بہت سے سنی اور شیعہ علماء نے اپنے استدلال کے ذریعہ افسانہ غرانیق کے وجود پر سوال اٹہایا ہے؛ محمد ہادی معرفت، شیعہ مفسر نے اس روایت کی سند پر سوال اٹھایا ہے، کیوں کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی روایت صحابہ پیغمبر تک نہیں پہونچتی اور اس روایت کے کسی بھی اصلی راوی نے پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے۔ ابن‌ حیان اندلسی نے پیغمبر اکرمﷺ پر کسی بھی طرح کے خواہشات نفس کے غلبہ اور شیطانی القائات کو رد کیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ داستان کا تذکرہ اہل سنت کے کسی بھی معتبر حدیثی مآخذ یعنی صحاح ستہ میں نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح فخر رازی اہل سنت کے مشہور متکلم اور مفسر، نے بھی افسانہ غرانیق کو قرآن مجید کے ظاہر گرا مفسرین سے متعلق روایت قرار دیا ہے اور وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ اس گروہ کے مقابلے میں اہل تحقیق کا ایک دوسرا گروہ ہے جس نے قرآن، سنت اور عقل سے استناد کرتے ہوئے اس افسانہ کو جعلی اور باطل جانا ہے۔

بعض غیر مسلم اسلام شناس افراد نے افسانہ غرانیق کے اسلامی منابع میں موجود ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وحی میں شیطان کی دخالت ایک ممکن امر ہے اور اسی طرح یہ موضوع رمان آیات شیطانی سلمان رشدی کی لکھی ہوئی کتاب میں بھی موجود ہے جو بعد میں امام خمینی کی طرف سے حکم اعدام یعنی موت کے فرمان سے مواجہ ہوا۔

داستان کا خلاصہ

سید جعفر مرتضی عاملی نے افسانہ غرانیق کے متعلق اپنی کتاب الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم میں جو توضیح بیان فرمائی ہے، اور بعض دوسرے اہل‌ سنت کے تفسیری منابع جیسے تفسیر الدر المنثور،[1] السیرۃ الحلبیہ،[2] تفسیر طبری[3] اور فتح الباری،[4] ، ان تمام لوگوں نے اس سلسلے میں ایک روایات ذکر کی ہے جس کے مطابق ، پیغمبر اکرم ﷺ نے تقریبا مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت کے دو مہینے بعد جب آپ مشرکین کے درمیان تھے تو آپ پر سورہ نجم نازل ہوئی۔ حضرت محمدﷺ نے اس سورہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب آپ بیسویں آیت پر پہونچے تو شیطان سے متاثر ہو گئے اور وہ عبارت جو مشرکین کے درمیان مشہور تھی اور ان کے نزدیک مورد قبول تھی، سونچا کہ یہ مشہور عبارت بھی سورہ نجم کا حصہ ہے:«تِلْکَ الْغَرانیقُ الْعُلی وَإنّ شَفاعَتَہُنَّ لَتُرْتَجی؛یہ بہت عالی مقام غرانیق (اونچی اڑان اور گردن والے پرندے) ہیں جن کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا».[5]

اس بنا پر حضرت محمد ﷺ نے اس عبارت کو وحی سمجھ کر اپنی زبان پر جاری کیا لیکن رات کے وقت پیغمبر اسلام ﷺ پر جبرئیل نازل ہوئے اور سورہ نجم کی تلاوت کی اور دو مذکورہ جملوں کو بھی ذکر کیا، جبرئیل نے اس عبارت «تِلْکَ الْغَرانیقُ الْعُلی وَإنّ شَفاعَتَہُنَّ لَتُرْتَجی کا انکار کیا اور پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: «کیا میں نے خدا کی طرف اس چیز کی نسبت دی جسے اس نے فرمایا ہی نہیں تھا ؟» اس کے بعد خداوند کریم نے سورہ اسراء کی ۷۳ سے ۷۵ تک آیتیں پیغمبراسلام ﷺ پر وحی کی کہ جس کا ترجمہ یہ ہے: « اور یہ ظالم اس بات کے کوشاں تھے کہ آپ کو ہماری وحی سے ہٹا کر دوسری باتوں کے افترا پر آمادہ کردیں اور اس طرح یہ آپ کو اپنا دوست بنا لیتے؛اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور پر) کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہو جاتے؛ اور پھر ہم زندگانی دنیا اور موت دونوں مرحلوں پر دہرا مزہ چکھاتے اور آپ ہمارے خلاف کوئی مددگار اور کمک کرنے والا بھی نہ پاتے۔»[6]

مسلمانوں کی کتابوں میں افسانہ غرانیق

افسانہ غرانیق اہل‌ سنت کے تاریخی ، تفسیری اور حدیثی کتابوں میں ذکر ہوا ہے؛ جیسے سیرہ ابن‌ اسحاق،[7] پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کے سلسلے میں مسلمانوں کی پہلی کتاب، [8]، الطبقات الکبری [9] تیسری صدی کے ما بین چار ہزار سے زیادہ راویوں کی روایت پر مشتمل کتاب۔ [10] تاریخ الاسلام،[11] ساتویں صدی سے متعلق کتاب ،[12] و تفسیر طبری[13] قرآن کریم کی تفسیر کی سب سے پرانی اور جامع تفسیر جو احادیث تفسیری کی بنیاد پر تدوین ہوئی ہے۔[14] ان تمام منابع نے افسانہ غرانیق کو مسلمانوں کے بعض گروہ کے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔[15]

اس کے بعد بھی بعض افراد جیسے علی بن احمد واحدی (متوفی 468 ھ)،[16] محمد بن عمر زمخشری (متوفی 538 ھ)،[17] عبداللہ بن عمر بیضاوی (متوفای 791 ھ)[18] و جلال‌ الدین سیوطی (متوفی 911 ھ)[19] نے بھی اس داستان کو نقل کیا ہے۔

مخالفین

اگرچہ افسانہ غرانیق کا اہل‌ سنت کے بعض منابع میں تذکرہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اہل سنت اور شیعوں کے بعض علماء نے اس مذکورہ افسانہ سے متعلق تمام اخبار کی رد پیش کی ہے اور اس داستان کا انکار کیا ہے؛ منجلمہ سید مرتضی نے کتاب تنزیہ الانبیاء میں افسانہ غرانیق سے متعلق تمام روایات کو ضعیف قرار دیا ہے اور اصحاب حدیث کی جانب سے مورد انکار جانا ہے۔ [20] بعض علماء نے افسانہ غرانیق کی رد میں چند دلیلیں پیش کیں ہیں:

  • روایت کی سند میں اشکال ہے: محمد ہادی معرفت کے مطابق، وہ تمام روایتیں جس میں افسانہ غرانیق کا تذکرہ ہوا ہے ان میں سے کسی ایک کی بھی سند اصحاب پیغمبر تک نہیں پہونچتی اور پیغمبر ﷺ کے دور سے سب سے زیادہ نزدیک‌ راوی تابعین ہیں کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی پیغمبر اکرم ﷺ کو درک نہیں کیا اور اس مذکورہ واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے۔[21] ہادی معرفت نے اسی طرح ابن‌ عباس کے بارے میں بھی جو اس واقعہ کے راویوں میں سے ہیں، کہا ہے کہ یہ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے لہٰذا وہ اس واقعہ کے گواہوں میں سے نہیں ہو سکتے اوراس کے باوجود بھی اگر اصل داستان کو قبول بھی کر لیا جائے تب بھی کوئی راوی سیدھے طور سے اس واقعہ کے گواہ نہیں تھے۔[22]

بعض مسلمان مفسرین نے بھی افسانہ غرانیق پر نقد کیا ہے اور اس کی رد میں دلیلیں پیش کی ہیں:

  • ابن‌ حیان اندلسی نے قرآن کریم کی بعض آیات جیسے سورہ نجم کی آیت ۱-۴ اور سورہ یونس کی آیت ۱۵ پر اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیغمبر ﷺ پر خواہشات نفسانی کا غلبہ اور شیطانی القائات اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ [23] انہوں نے احمد بن حسین بیہقی اور محدث شافعی پانچویں صدی ہجری، کے نظریات کو نقل کرتے ہوئے افسانہ غرانیق کے تمام راویوں کو مردود جانا ہے اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ مذکورہ داستان اور اس کے قدیمی روائی مآخذ کا اہل سنت کی معتبر حدیثی کتابوں میں جو صحاح ستہ کے نام سے جانی جاتی ہیں، تذکرہ نہیں ہوا ہے۔[24]
  • ابوالفتوح رازی شیعوں کے چھٹی صدی کے مفسر اور محدث نے کتاب تفسیر روض الجنان میں واقعہ غرانیق کو مختلف اعتبار سے باطل جانا ہے۔ انھوں نے اس عبارت «فینسخ اللہ ما یلقی الشیطان» (یعنی خداوند نے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹ کو مٹا دیا) کے بارے میں کہا ہے چونکہ بعض مفسرین نے اس آیت کو پیغمبر پر شیطانی کی تاثیرکے معنی میں جانا ہے لہٰذا ابو الفتوح رازی نے اس نظریہ کے غلط ہونے کے سلسلے میں چند نکات بیان کئے ہیں ؛[25] منجملہ یہ کہ مشرکین کی ایک عادت یہ تھی کہ جب پیغمبر ﷺ ان کے لئے وحی کی تلاوت کرتے تھے تو یہ لوگ شعر پڑھتے تھے تاکہ پیغمر ﷺ کو خطا و اشتباہ میں ڈال سکیں اور اس آیت کے اس ٹکڑے کا یہ معنی ہے کہ خداوند کریم ان کے اس شیطانی وسوسہ کی تاثیر کے مقابلے میں مانع ہے، یا یہ کہ مشرکین میں سے کسی نے پیغمبر ﷺ کے ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اس عبارت کو آپ کی زبان سے جاری کروایا اور بعض لوگوں نے یہ گمان کیا کہ وہ عبارت بھی پیغمبرﷺ کی طرف سے تھی۔[26] اسی طرح اگر دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو ابو الفتوح رازی نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر کی جانب سے «تلک الغرانیق العلی منہا الشفاعۃ ترتجی» کا بیان، تأیید کے معنی میں نہیں ہے بلکہ مشرکین پر طعنہ کے عنوان سے تھا۔[27]
  • فخر رازی، اہل‌ سنت کے معروف متکلم اور مفسر، نے واقعہ غرانیق کو ظاہرگرا مفسرین کی روایت جانا ہے اور مزید یہ بات بھی کہی ہے کہ اس گروہ کے مقابلے میں اہل تحقیق کا ایک گروہ ہے جس نے قرآن، سنت اور عقل سے استدلال کرتے ہوئے اس واقعہ کی تردید کی ہے اور اسے جعلی اور باطل قرار دیا ہے۔[28] فخر رازی نے پیغمبر اکرم کی پاکیزگی اور طہارت کے سلسلے میں قرآن مجید سے سات آیتیں ذکر کرتے ہوئے صحیح بخاری کی طرف اشارہ کیا ہے اگرچہ اس میں پیغمبر ﷺ کا سورہ نجم کی تلاوت، اور مسلمانوں، مشرکین، انسان اور جنات کا سجدہ بھی آیا ہے لیکن غرانیق کی روایت کی طرف اصلا اشارہ نہیں ہے۔[29] پھر فخر رازی نے اس بیان کے ساتھ کہ پیغمبر ﷺ کی تمام کوشش بتوں کا انکار تھا لہذا وہ لوگ جو پیغمبر کی تعریف کو بت کی حیثیت سے مانتے تھے انہیں کافر جانا ہے۔[30]

نتائج

بعض غیر مسلم اسلام شناس افراد نے افسانہ غرانیق کے اسلامی منابع میں موجود ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وحی میں شیطان کی دخالت ایک ممکن چیز ہے [31] یوسف درۃ الحداد، مولف اور لبنان کے مسیحیوں کا اسقف، نے بھی سورہ نحل کی آیت ۹۸ جس میں پیغمبر اسلام سے کہا گیا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت شیطان سے پناہ مانگو، کو دلیل بناتے ہوئے کہا ہے کہ وحی کے دریافت کرنے میں شیطان کی دخالت تھی۔[32]

جیسا کہ مرتضی کریمی‌ نیا، ہم عصر قرآنی محقق نے کہا ہے کہ بعض غربی اسلام‌ شناس جیسے: آرتور جفری، مونتگمری وات اور ژوزف ہورویتس،ان تمام افراد نے افسانہ غرانیق کے سلسلے میں روایت کے مضمون کو قبول کیا ہے۔[33] اسی طرح افسانہ غرانیق رمان آیات شیطانی، تالیف سلمان رشدی کے بعض بخش کا بنیاد قرار پایا۔[34] اور امام خمینی نے اس کتاب کے مولف اور ناشرین کے لئے موت کا فرمان سنایا تھا۔[35]

مآخذ مطالعہ

افسانہ غرانیق کے اشکالات اور اس کی رد میں فارسی زبان میں بہت زیادہ تعداد میں مقالات لکھے گئےہیں؛ منجملہ:

حوالہ جات

  1. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ھ ، ج۴، ص۱۹۴و۳۶۶-۳۶۸.
  2. حلبی، السیرۃ الحلبیہ، بیروت، ج۱، ص۳۲۵-۳۲۶.
  3. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۷، ص۱۳۱-۱۳۴.
  4. ابن‌حجر عسقلانی، فتح الباری، ۱۳۷۹ھ ، ج۸، ص۴۳۹-۴۴۰.
  5. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۱۳۷-۱۳۸.
  6. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم، ۱۴۱۵ھ ، ج۳، ص۱۳۷-۱۳۸.
  7. ابن‌ اسحاق، سیرہ ابن‌ اسحاق، ۱۴۲۴ھ ، ص۲۱۷-۲۱۸.
  8. توکلی طرقی، «ابن‌اسحاق: پیمبراسلام ﷺ کی سیرت کے پہلے مؤلف »، کیہان فرہنگی، ص۵۳.
  9. ابن‌ سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۶۰-۱۶۱.
  10. «الطبقات الکبری»، سایت دفتر آیت‌ اللہ العظمی مکارم شیرازی.
  11. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۰۹ھ ، ج۱، ص۱۸۶-۱۸۷.
  12. ذہبي، تاریخ الإسلام، ۱۴۰۹ھ ، ج۱، مقدمۃ التحقیق، ص أ.
  13. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۱۷، ص۱۳۱.
  14. خرمشاہی، «سہم ایرانیان در تفسیر قرآن»، ص۵.
  15. ابن‌ اسحاق، سیرہ ابن‌ اسحاق، ۱۴۲۴ق، ص۲۱۷-۲۱۸؛ ابن‌ سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ھ ، ج۱، ص۱۶۰-۱۶۱؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، [۱۴۰۶ھ]، ج۱، ص۱۸۶-۱۸۷؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ھ ، ج۱۷، ص۱۳۱.
  16. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ھ ، ص۳۲۰.
  17. زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ھ ، ج۳، ص۱۶۴.
  18. بیضاوی، انوار التنزیل، ۱۴۱۶ھ ، ج۴، ص۷۵.
  19. سیوطی، الدر‌ المنثور، ۱۴۰۴ھ ، ج۴، ص۳۶۶.
  20. علم‌الہدی، تنزیہ الانبیاء، الشریف الرضی، ص ۱۰۷.
  21. معرفت، التمہید، ۱۳۸۶ہجری شمسی، ج۱، ص۱۲۱.
  22. معرفت، التمہید، ۱۳۸۶ہجری شمسی، ج۱، ص۱۲۱.
  23. ابو حیان، البحر المحیط فی التفسیر، ۱۴۲۰ھ ، ج۷، ص۵۲۶.
  24. ابو حیان، البحر المحیط فی التفسیر، ۱۴۲۰ھ ، ج۷، ص۵۲۶.
  25. توجہ فرمائیں: ابو الفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۱ہجری شمسی، ج۱۳، ص۳۴۵-۳۴۹.
  26. ابو الفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۱ ہجری شمسی، ج۱۳، ص۳۴۶.
  27. ابو الفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۱ہجری شمسی، ج۱۳، ص۳۴۷.
  28. رازی، تفسیر کبیر، ۱۴۱۱ق، ج۲۳، ص۲۳۷.
  29. فخر رازی، تفسیر کبیر، ۱۴۱۱ھ ، ج۲۳، ص۲۳۷.
  30. فخر رازی، تفسیر کبیر، ۱۴۱۱ھ ، ج۲۳، ص۲۳۷.
  31. کنگرہ بزرگداشت آیت‌اللہ معرفت، معرفت قرآنی، ۱۳۸۷ہجری شمسی، ج۵، ص۲۳۶.
  32. کنگرہ بزرگداشت آیت‌اللہ معرفت، معرفت قرآنی، ۱۳۸۷ہجری شمسی، ج۵، ص۲۳۶.
  33. کریمی‌ نیا، «سیری اجمالی در سیرہ‌نگاری پیامبر اسلام در غرب»، ص۲۴.
  34. سبحانی، «نویسندگان ارتباط خود را با علمای حوزہ حفظ کنند»، ص۲۷؛ «تہاجم شیطانی: نقدی بر آیہ‌ہای شیطانی (۱)»، ص۳۵.
  35. امام خمینی، صحیفہ امام، ۱۳۸۹ہجری شمسی، ج۲۱، ص۲۶۲.
  36. «نقد توطئہ آیات شیطانی»، سایت کتابخانہ ملی.
  37. «نقد توطئہ آیات شیطانی»، سایت کتابخانہ ملی.

مآخذ

  • ابن‌ اسحاق، محمد، سیرہ ابن‌ اسحاق: السیرۃ النبویۃ لابن إسحاق، تحقیق احمد فرید المزیدی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۴عیسوی۔
  • ابن‌ حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، تصحیح محمد فؤاد عبد الباقی و محب‌ الدین الخطیب و تعلیقہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز، بیروت، دار المعرفۃ، ۱۳۷۹ھ ۔
  • ابن‌ سعد، محمد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰عیسوی۔
  • ابو الفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، بہ‌ کوشش و تصحیح محمد جعفر یاحقی و محمد مہدی ناصح، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۱ ہجری شمسی۔
  • ابو حیان، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، بیروت، دارالفکر، ۱۴۲۰ھ ۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، ‏‏صحیفہ امام:‏‏ مجموعہ آثار امام خمینی‏‏، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ پنجم، ۱۳۸۹ ہجری شمسی۔
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، بیروت، نشر دارالفکر، ۱۴۱۶ھ ۔
  • توکلی طرقی، عبدالحسین، «ابن‌ اسحاق: مؤلف اولین سیرہ پیامبر»، کیہان فرہنگی، شمارہ ۲۹۰-۲۹۱، بہمن و اسفند ۱۳۸۹ہجری شمسی۔
  • «تہاجم شیطانی: نقدی بر آیہ‌ہای شیطانی (۱)»، در مجلہ رشد آموزش قرآن، ش۸، بہار ۱۳۸۴ہجری شمسی۔
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیہ: انسان العیون فی سیرۃ الأمین المأمون، با حاشیہ سید احمد زینی دحلان، بیروت، المکتبۃ الاسلامیہ، بی‌تا.
  • خرمشاہی، بہاءالدین، «سہم ایرانیان در تفسیر قرآن»، مجموعہ مقالات کنگرہ شیخ مفید، ش۳۷.
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام و وفیات المشاہیر الأعلام، بیروت، دار الکتب العربی، ۱۴۲۲ھ ۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام ووفیات المشاہیر والأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹عیسوی۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، نشر دار الکتب العربی، ۱۴۰۷ھ ۔
  • سبحانی، جعفر، «نویسندگان ارتباط خود را با علمای حوزہ حفظ کنند: نامہ حضرت آیت‌اللہ سبحانی بہ دکتر سروش»، در مطالعات قرآنی نامہ جامعہ، ش۱۵، آذر ۱۳۸۴ہجری شمسی۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌ بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، منشورات مکتبۃ آیۃاللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ھ ۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن: تفسیر الطبری، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲عیسوی۔
  • «الطبقات الکبری»، سایت آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی، تاریخ درج مطلب: ۱۱ اردیبہشت ۱۴۰۰ہجری شمسی، تاریخ بازدید: ۱۱ اردیبہشت ۱۴۰۰ہجری شمسی۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم،‌ بیروت، دارالہادی، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵عیسوی۔
  • علم‌الہدی، علی بن حسین، تنزیہ الانبیاء، قم، الشریف الرضی، بی‌تا.
  • فخر رازی، محمد بن عمر، تفسیر کبیر (مفاتیح ‌الغیب)، بیروت، نشر دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ ۔
  • کریمی‌ نیا، مرتضی، «سیری اجمالی در سیرہ‌نگاری پیامبر اسلام در غرب»، در کتاب سیرہ‌ پژوہی در غرب: گزیدہ متون و منابع، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
  • کنگرہ بزرگداشت آیت‌ اللہ معرفت، معرفت قرآنی، تہران، پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، زیرنظر گروہ قرآن‌ پژوہی پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، بہ‌کوشش علی نصیری، ۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • معرفت، محمد ہادی، التمہید فی علوم القرآن، قم، مؤسسہ فرہنگی انتشاراتی التمہید، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، بیروت، نشر دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ ۔