یوم الفصل
یَوْمُ الْفَصْل، فیصلے کا دن یا جدائی کا دن کے معنی میں قرآن میں قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔[1] مفسرین نے اس عنوان کو قیامت کے دن حق و باطل کے درمیان جدائی اور انسانوں کے عقائد و اعمال کی بنیاد پر آپس کے افتراق سے تعبیر کیا ہے۔[2] یہ اصطلاح قرآن کریم کی مختلف آیات میں قیامت کے منکرین اور اسے جھٹلانے والوں کی تنبیہ کے لئے استعمال ہوئی ہے۔[3] اسی طرح بعض آیات میں یوم الفصل کو تمام انسانوں کے جمع ہونے[4] اور حتمی فیصلے کے دن کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے؛ ایسا دن جس میں کوئی شخص دوسرے کے کام نہیں آ سکے گا، سوائے ان افراد کے جو رحمتِ الٰہی کے مستحق قرار پائیں۔[5]
علامہ طباطبائی نے سورہ حج آیت نمبر 17 سے استناد کرتے ہوئے یوم الفصل کو حق و باطل اور نیک و بد کے درمیان آخری اور قطعی جدائی کا دن قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق «وَامْتَازُوا الْیَوْمَ أَیُّهَا الْمُجْرِمُونَ»[6] جیسی آیات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں۔[7] علامہ مجلسی نے بھی اس دن کو خداوند متعال کی عدالت اور انسانوں کے ثواب و عقاب کے ظہور کا دن قرار دیا ہے۔[8] اسی طرح تفسیر نمونہ میں یوم الفصل کو فیصلے کے اس دن سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں اعمال کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔[9]
شہید مطہری نے اس مفہوم سے دو قسم کی جدائی مراد لیتے ہیں: ایک انسان کی روح کا جسم سے جدا ہونا، اور دوسرا انسانوں کا ان کی باطنی حقیقت اور اخلاقی صفات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ممتاز ہونا۔ ان کے نزدیک دنیا میں انسان ظاہری روابط کی بنیاد پر ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی درجہ بندی ان کے باطن، کردار اور اعمال کے مطابق ہوگی۔[10]
حوالہ جات
- ↑ سورۂ صافات، آیت 21۔
- ↑ قرشی بنابی، قاموس قرآن، 1371شمسی، ج5، ص180۔
- ↑ ملاحظہ ہو: سورۂ صافات، آیت 21؛ سورۂ مرسلات، آیت 38۔
- ↑ سورۂ نبأ، آیت 17۔
- ↑ سورۂ دخان، آیت 40۔
- ↑ سورۂ یٰس، آیت 59۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، منشورات اسماعیلیان، ج17، ص130۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج24، ص205۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1354-1387شمسی، ج19، ص32۔
- ↑ مطہری، مجموعۂ آثار، 1389شمسی، ج28، ص283۔
مآخذ
- قرشى بنابى، علىاكبر، قاموس قرآن، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، 1371ہجری شمسی۔
- مجموعہ آثار استاد شہید مرتضی مطہری، تہران، انتشارات صدرا۔
- طباطبائى، محمدحسين، المیزان فی تفسیر القرآن، بيروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، 1390ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر با ہمکاری جمعی از نویسندگان، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، 1354-1387ہجری شمسی۔