فرشتہ

wikishia سے

فرشتہ یا ملک ایسی ما ورائے طبیعیات اور نا مرئی مخلوق ہے جو دنیا و آخرت میں خدا کے اوامر کو نافذ کرنے پر مامور ہیں۔ ملائکہ پر ایمان مسلمانوں کے عقائد کا حصہ ہے۔ مسلمان علما کا فرشتوں کی حقیقت کے بارے میں اختلاف ہے؛ متکلمین انہیں جسمانی موجودات سمجھتے ہیں جو مختلف صورتیں اختیار کر سکتے ہیں، مگر فلاسفہ انہیں غیر جسمانی قرار دیتے ہیں۔

شیعہ علما کا عقیدہ ہے کہ فرشتے معصوم ہوتے ہیں، اس لیے خدا کے احکام کی نافرمانی اور گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے۔ اسی طرح فرشتے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ان کی ذمہ داریاں یہ ہیں: عبادت، تسبیح خدا، نامہ اعمال لکھنا، پیغمبروں پر وحی نازل کرنا، انسانوں کی حفاظت، مومنین کی امداد، مادی و معونی رزق پہنچانا، روحیں قبض کرنا، دلوں کو ہدایت دینا اور اللہ کے عذاب کا اجرا۔

فرشتے مختلف گروہوں اور مراتب کے حامل ہیں؛ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل دیگر فرشتوں کی نسبت بلند مقام رکھتے ہیں۔ فرشتوں کی انسانوں پر برتری، فرشتوں کی عصمت، ان کا جسمانی یا غیر جسمانی ہونا؛ ایسی مباحث ہیں جن کے بارے میں تفسیری و کلامی کتب میں تفصیلات موجود ہیں اور اس حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔

فرشتوں کی ماہیت

سولہویں صدی عیسوی سے متعلق ایک فرشے کا نقش

فرشتے خدا اور انسانوں کے مابین واسطہ ہیں اور خدا نے انہیں کائنات پر موکل قرار دیا ہے۔[1] ملائکہ، ملک کی جمع ہے۔[2]

فرشتوں کی ماہیت کے بارے میں اختلاف رائے ہے؛ متکلمین انہیں لطیف اور نورانی اجسام قرار دیتے ہیں جو مختلف صورتوں اور شکلوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔[3] علامہ مجلسی نے یہ نظریہ کچھ فلاسفہ کے سوا تمام مسلمانوں سے منسوب کیا ہے اور مزید کہا ہے کہ انبیا و اوصیا انہیں دیکھتے تھے۔[4] البتہ کچھ فلاسفہ ملائکہ کو جسم و جسمانیات سے ما ورا قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ فرشتے ایسے اوصاف کے حامل ہیں جو جسم میں نہیں سما سکتے۔[5] علامہ طباطبائی کے بقول روایات میں ملائکہ کو جسمانی صورتوں اور شکلوں میں مشاہدہ کیے جانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہوا ہے، وہ ’’تَمثُّل‘‘ ہے۔(یعنی کوئی چیز کسی کیلئے خاص صورت میں ظاہر ہو) [6] اسی طرح ان کے نزدیک اس مشہور قول کہ فرشتے اور جن لطیف اجسام کے حامل ہوتے ہیں اور مختلف صورتیں اور شکلیں اختیار کرتے ہیں؛ پر کوئی معتبر دلیل نہیں ہے ۔[7] امام صادقؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق ملائکہ نور سے خلق ہوئے ہیں۔[8]

اہمیت و مقام

فرشتوں پر ایمان مسلمانوں کے عقائد میں سے ہے [9] اور ان پر ایمان نماز و روزه پر ایمان کی مثل نبوت کے لوازم پر ایمان شمار ہوتا ہے۔[10]

لفظ ملک ۸۸ مرتبہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔[11] امام علیؑ خطبہ اشباح میں فرشتوں کی تخلیق، اقسام، خصوصیات اور ذمہ داریوں کی وضاحت فرماتے ہیں۔[12] بحار الانوار میں ایک سو سے زائد روایات ملائکہ کی حقیقت، ذمہ داریوں، عصمت اور مقرب فرشتوں کے اوصاف کے بارے میں مذکور ہیں۔[13] صحیفہ سجادیہ کی تیسری دعا مقرب فرشتوں کے بارے میں مخصوص ہے؛ اس دعا میں خدا کی جانب سے نزولِ صلوات و درود کو ان کی طہارت میں اضافے کا باعث قرار دیا گیا ہے۔[14]

روایات کی بنا پر ملائکہ کی تعداد دیگر مخلوقات کی نسبت سب سے زیادہ ہے اور بہت سی روایات میں ان کی کثرت کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔[15] احادیث میں منقول ہے کہ ملائکہ کی تخلیق پیغمبرؐ و آئمہؑ کی تخلیق کے بعد ہوئی ہے۔[16] مشرکین کا ایک گروہ فرشتوں کی پرستش کرتا تھا اور انہیں خدا کی مخلوق سمجھتا تھا، مگر اس کے باوجود ان کا خیال تھا کہ وہ عمل میں مستقل ہیں اور اپنے سے نچلی مخلوقات کے رب ہیں۔[17] بعض مشرکین انہیں خدا کی دختران سمجھتے تھے۔[18]

ملائکہ، دیگر ادیان میں

دیگر ادیان میں بھی ملائکہ پر کلام کیا گیا ہے؛ زرتشت کے دین میں فرشتے اهورا مزدا کی مخلوق ہیں اور ہر امشاسپند (زرتشتی دین کے بلند مرتبہ فرشتوں کا لقب) اس کی ایک صفت کا مظہر ہے۔ یہودی دین میں فرشتے خدا کے بندوں کی منزلت پر ہیں اور زمین پر اس کے احکام کا اجرا کرتے ہیں اور انسانوں تک وحی پہنچاتے ہیں۔ عیسائیوں کی مقدس کتاب کے مطابق فرشتوں کو انسان سے پہلے خلق کیا گیا ہے اور وہ انسانوں کے محافظ ہیں۔ میکائیل جیسے بعض فرشتوں پر درود اور ان کی پرستش مسیحی کلیساؤں میں رائج ہے۔[19]

ذمہ داریاں

قرآن میں فرشتوں کی ذمہ داریاں ذکر ہوئی ہیں: وحی کے نزول میں واسطہ (خدا کا پیغام پیغمبروں تک پہنچانا،[20] تدبیر امور عالم، رساندن فیض الهی به مخلوقات،[21] استغفار[22] مومنین کی شفاعت [23] اور امداد،[24] لعن کافران،[25] بندوں کے اعمال ثبت کرنا[26] اور قبضِ روح۔[27] کچھ فرشتے ہمیشہ خدا کی عبادت و تسبیح میں مشغول رہتے ہیں اور کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔[28]

فرشتے عالم برزخ[29] اور آخرت میں بھی حاضر ہوتے ہیں؛ ان میں سے کچھ بہشت میں مامور ہیں۔[30] اور کچھ دوزخ اور دوزخیوں پر نگہبان ہیں۔[31]

مراتب و اقسام

علامہ طباطبائی کے بقول فرشتوں کے مختلف مراتب و مقامات ہیں۔ ان میں سے بعض کا مقام دوسروں سے بالا تر یا پائین تر ہے۔[32] قرآنی آیات کے مطابق ان میں سے ایک گروہ فرشتہ وحی (جبرئیل) کے معاونین[33] اور ایک گروہ ملک الموت (عزرائیل) کا معاون شمار ہوتا ہے۔[34]

ملا صدرا فرشتوں کو مقرب، ارواح مُهَیمِہ، آسمانی اجسام پر موکل، عقلی اور زمینی فرشتوں میں تقسیم کرتے ہیں[35] اور امام خمینی انہیں اجسام میں غیر متصرف (مهیمہ اور عالم جبروت کے فرشتوں) اور جسمانی موجودات پر موکل فرشتوں[36] میں تقسیم کرتے ہیں۔

خصوصیات

فرشتوں کی بعض خصوصیات یہ ہیں:

عصمت

علامہ مجلسی کے بقول شیعہ فرشتوں کو ہر قسم کے گناہِ کبیرہ و صغیرہ سے معصوم سمجھتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر اہل‌ سنت بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔[37] اس کے باوجود بعض اہل سنت فرشتوں کی عصمت کو قبول نہیں کرتے اور بعض ان کی خاص اقسام جیسے حامل وحی اور مقرب فرشتوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔[38]

آیت «لَا یسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِ‌هِ یعْمَلُونَ: سخن میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اس کے حکم سے کام کرتے ہیں»[39] اور «لایعصون الله ما امرهم»[40] کی بنا پر ملائکہ معصوم ہیں اور خدا کی نافرمانی نہیں کرتے۔[41] البتہ بعض نے هاروت و ماروت کی داستان اور ابلیس کے آدم کو سجدہ نہ کرنے [42] نیز فطرس کی نافرمانی کے پیش نظر ان کی عصمت میں تشکیک کی ہے۔[43] شیعہ علما نے اس قسم کے اعتراضات کا جواب دیا ہے؛ منجملہ یہ کہ ھاروت و ماروت کی نافرمانی افسانوی ہے اور قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہے،[44] اسی طرح کہا گیا ہے کہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا،[45] نیز مرتضی مطہری کے بقول خدا کے احکام کی نافرمانی کا احتمال کچھ فرشتوں کیلئے موجود رہتا ہے نہ سب کی نسبت۔[46] ناصر مکارم شیرازی کے بقول اوامر الہٰی کی انجام دہی میں سستی کے نتیجے میں بعض فرشتوں کی تنبیہ جو روایات میں مذکور ہوئی ہے ترک اولیٰ ہے نہ گناہ؛ جیسا کہ بعض پیغمبروں کی نسبت بھی یہی تعبیر استعمال ہوتی ہے۔[47]

علامہ طباطبائی سمجھتے ہیں کہ فرشتے وہی ارادہ کرتے ہیں، جو خدا کرتا ہے اور جو خدا امر کرے وہ اس پر عمل کرتے ہیں، اس اعتبار سے وہ گناہ نہیں کرتے ۔[48]

آدم

بعض علمائے دین آیت «وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ... وَ فَضَّلْنَاهُمْ عَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا؛ قطعا ہم نے اولاد آدم کو عزت و تکریم سے نوازا …اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں بڑی فضیلت دی»[49] کی رو سے فرشتوں کو انسان سے برتر سمجھتے ہیں۔ بعض دیگر فرشتوں کے آدم کو سجدے اور حضرت آدم کے توسط سے انہیں تعلیم دینے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انسان کو فرشتوں سے برتر سمجھتے ہیں بشرطیکہ اپنی استعداد کو بروئے کار لائے۔[50]

حسن زادہ آملی کے بقول ابن ‌عربی عالین (مهیمین) فرشتوں کو بنی آدم سے برتر سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ان پر حضرت آدم کو سجدہ کرنا واجب نہیں تھا۔[51] اور محمد داؤد قیصری، خلیفۃ ‌اللّهی مقام پر پہنچنے والے انسانوں کو عالین فرشتوں سے سے برتر سمجھتے ہیں۔[52] ملا صدرا، سورہ بقرۃ کی آیت ۳۱ کہ جو ملائکہ کی تعلیم کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ سے استدلال کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ مذکورہ آیت آدم کی زمین و آسمان پر ساکن فرشتوں پر برتری بیان کر رہی ہے نہ کہ مهیمین فرشتوں پر برتری کو۔[53]

پیغمبروں کی ملائکہ پر برتری

بہت سے مسلمان پیغمبروں کو ملائکہ سے برتر سمجھتے ہیں اور اس کی دلیل بھی پیغمبروں میں قوت غضبیہ و شھویہ کا موجود ہونا ہے جبکہ فرشتوں میں یہ نہیں ہوتیں۔[54] اسی طرح ان پر پیغمبروں کی برتری کو بیان کرنے کیلئے قرآن کی ان آیات سے بھی استدلال کیا گیا ہے کہ جن میں آدم کے سامنے فرشتوں کے سجدے اور آدم کی جانب سے انہیں تعلیم دینے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[55] اسی طرح شیعہ آئمہؑ کو ملائکہ سے برتر سمجھتے ہیں۔[56]

بشری تمثل

قرآنی آیات[57] کے مطابق روح‌ الامین انسانی شکل میں مریم کے سامنے جلوہ گر ہوئے۔[58] اسی طرح روایات کی بنا پر جبرئیل پیغمبر اکرمؐ پر دحیہ کلبی کی شکل میں نازل ہوتے تھے۔[59] روایات میں منقول ہے کہ فرشتے قبضِ روح کے وقت مرنے والے کے مومن یا فاسق ہونے کی مناسبت سے مختلف شکلوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔[60] تمثل یعنی فرشتے اپنی اصلی صورت کے علاوہ کسی اور شکل میں ظاہر ہوں۔[61] پیغمبرؐ کے سوا کسی نے ملائکہ کو اپنی اصل شکل میں نہیں دیکھا ہے۔[62]

تجرد

فلاسفہ کے نزدیک ملائکہ مجرد ہیں۔[63] خواص مادہ از قبیل شہوت و غضب ،[64] تغییر، تحول، تکامل[65] اور حواس کے ساتھ ادراک کی صلاحیت نہ رکھنا [66] ان کے تجرد کی ادلہ ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے مفسرین کے برخلاف ملا صدرا فرشتوں کو ایک ثابت و غیر متزلزل مقام کا حامل سمجھتے ہیں،[67] ان میں سے ایک گروہ کے علم و کمال کو قابل افزائش سمجھتے ہیں۔[68] امام علیؑ فرشتوں کے ایک گروہ کو دانا ترین اور خدا کی مقرب ترین مخلوق قرار دیتے ہیں کہ جن کی آنکھوں پر نہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے، نہ سہو ان کی عقل پر اور نہ ان کا بدن تھکن کا شکار ہوتا ہے۔[69]

پروں کا حامل ہونا

قرآن و روایات کے ظاہر کی بنا پر فرشتوں کے پر ہوتے ہیں ۔[70] فرشتوں کے پر ہونے سے مقصود کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں:

  • علامہ طباطبائی کا خیال ہے کہ فرشتوں کے پر ہونے سے مقصود یہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ آسمان سے زمین اور زمین سے آسمان تک آمد و رفت رکھتے ہیں، نہ یہ کہ پرندوں کی طرح پر رکھتے ہوں۔[71]
  • امام خمینیؒ سمجھتے ہیں کہ عالم ملکوت کے فرشتے غیر جسمانی اور مجرد ہیں اور ان کے پر نہیں ہوتے، تاہم عالم مثال کے فرشتے ممکن ہے کہ بال و پر رکھتے ہوں۔[72]
  • ابن‌ عربی کے نزدیک فرشتوں کے پروں کی تعداد سے مقصود آسمان و زمین کے ملکوت میں ان کی تاثیر کا میزان ہے۔[73]

اسی طرح فرشتوں کے پروں کی تعداد احکام الہٰی کی انجام دہی میں ان کی سرعت کی علامت ہے،[74] قدرتِ انتقال اور انجام فعل کی علامت،[75] اور فرشتوں کے مراتب میں تفاوت کی علامت [76] سمجھا جاتا ہے۔

کتاب ‌شناسی

ملائکہ کے بارے میں فارسی، عربی اور انگریزی میں متعدد آثار تالیف کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

  • «سیری در اسرار فرشتگان»، قرآنی و عرفانی زاویے سے؛ مؤلف محمد زمان رستمی اور طاہر آل‌ بویہ، یہ کتاب فارسی زبان میں ہے۔ فرشتوں کی ماہیت، صفات، اقسام، فرشتوں کے کام اور فرشتوں کی انسانوں پر خلافت اس کتاب کی فصول کے عناوین ہیں۔[77] پژوھشگر علوم و فرھنگ اسلامی نے یہ کتاب سنہ ۱۳۹۳ش کو ۵۵۲ صفحات پر شائع کی ہے۔[78]
  • «المخلوقا‌ت‌ الخفیة فی‌ القرآن‌: الملائکہ، الجن‌، ابلیس‌»، عربی، تالیف: سید محمد حسین طباطبائی۔

اسی طرح الایمان بالملائکه، تالیف عبد الله سراج ‌الدین، الملائکه، تالیف بیلی گرام، سیمای فرشتگان در قرآن و نهج البلاغه، تالیف لیلا حمد اللهی، فرشتگان، علی رضا رجالی تهرانی اور ملائکه، تالیف محمد شجاعی، دیگر آثار ہیں جو اس حوالے سے لکھے گئے ہیں۔[79]

حوالہ جات

  1. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۶۔
  2. طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۲۹۲۔
  3. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۶۱۔
  4. علامه مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۶، ص۲۰۲-۲۰۳۔
  5. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۶۱۔
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۳۔
  7. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۳۔
  8. مجلسی، بحارالانوار، ج۵۸، ص۳۰۶، ح۱۵۔
  9. سوره بقره، آیہ ۲۸۵۔
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۴۲۔
  11. رستمی و آل‌ بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۴۷۔
  12. نهج‌البلاغہ، صبحی صالح، ۱۳۷۴، ص۱۲۸-۱۳۱۔
  13. ملاحظہ کیجئے: علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۶، ص۱۴۴-۳۲۶۔
  14. الصحیفة السجادیة، ۱۳۷۶ش، ص۳۶-۴۰۔
  15. بحرانی، البرهان، ۱۴۱۶ق، ج۴، ص۵۳۵۔
  16. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۵، ص۸ و ج۱۸، ص۳۴۵ و ج۲۴، ص۸۸۔
  17. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۳۸۔
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۹، ص۱۷۱۔
  19. The Encyclopedia of Religion, volume1, p:2830, Oxford, New York, (1986 بحوالہ مطهری‌ نیا، بازنمایی فرشتگان الهی در رسانه(۱) جبرائیل و میکائیل، ۱۳۹۰ش، ص۵۹۔
  20. سوره نحل، آیہ ۲ و ۱۰۲؛ سوره عبس، آيہ ۱۶۔
  21. سوره نازعات، آيہ ۵؛ سوره معارج، آيہ ۴۔
  22. سوره مؤمن، آيہ ۷۔
  23. سوره انبیاء، آيہ ۲۸۔
  24. سوره آل‌ عمران، آیہ ۱۲۴ و ۱۲۵۔
  25. سوره بقره، آیہ ۱۴۱؛ سوره آل‌ عمران، آيہ ۸۷۔
  26. سوره یونس، آيہ ۲۱؛ سوره زخرف، آيہ ۸۰؛ سوره انفطار، آیہ ۱۱۔
  27. سوره انعام، آیہ ۶۲؛ سوره نساء، آیہ ۹۷۔
  28. سوره انبیاء، آيہ ۱۹-۲۰۔
  29. سوره نحل، آیہ ۲۸ و۳۲۔
  30. سوره زمر، آیہ ۷۲؛ سوره انبیاء، آیہ ۱۰۳۔
  31. سوره مدثر، آيہ ۲۰۔
  32. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۲۔
  33. سوره تکویر، آیہ ۲۱۔
  34. سوره سجده، آیہ ۱۲؛ سوره انعام، آیہ ۶۲۔
  35. نگاه کنید بہ ملا صدرا، مفاتیح الغیب، ۱۳۶۳ش، ص۳۵۰-۳۵۱۔
  36. امام خمینی، آداب الصلاة، ۱۳۷۸ش، ص۳۳۹-۳۴۲۔
  37. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۱، ص۱۲۴۔
  38. زرکشی، البحر المحیط، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۲۱۔
  39. سوره انبیاء، آيہ ۲۷۔
  40. سوره تحریم، آیہ ۶۔
  41. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۲۔
  42. ملاحظہ کیجئے: فیاض لاهیجی، گوهر مراد، ۱۳۸۳ش، ص۴۲۶۔
  43. راستین و کهنسال، «عصمت فرشتگان، شواهد موافق و مخالف»، ص۱۲۷ و۱۲۸۔
  44. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱، ص۳۷۵۔
  45. فیاض لاهیجی، گوهر مراد، ۱۳۸۳ش، ص۴۲۶۔
  46. مطهری، مجموعہ آثار، ج۴، ص۲۸۰۔
  47. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۶۸۔
  48. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۲۔
  49. سوره اسرا، آیه ۷۰۔
  50. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۲، ص۱۹۹-۲۰۰۔
  51. ملاحظہ کیجئے: حسن‌زاده آملی، ممد الهمم، ۱۳۷۸ش، ص۳۶۷-۳۶۹۔
  52. حسن‌زاده آملی، ممد الهمم، ۱۳۷۸ش، ص۳۶۷-۳۶۹۔
  53. ملا صدرا، تفسیر القرآن الکریم، ۱۳۶۶ش، ج۲، ص۳۷۰۔
  54. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۳ق، ص۳۶۰؛ ایجی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ق، ج۸، ص۲۸۵۔
  55. ایجی، شرح المواقف، ۱۳۲۵ق، ج۸، ص۲۸۳-۲۸۵۔
  56. اشقر، عالم الملائکة الابرار، ۱۴۲۱ق، ص۹۲۔
  57. سوره مریم، آیہ ۱۷۔
  58. امام خمینی، آداب الصلاة، ۱۳۷۸ش، ص۳۴۲۔
  59. برای نمونہ نگاه کنید: علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۰، ص۲۱۰۔
  60. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۲، ص۷۴۔
  61. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۳۔
  62. اشقر، عالم الملائکة الابرار، ۱۴۲۱ق، ص۱۱۔
  63. ملاحظہ کیجئے: فیاض لاهیجی، گوهر مراد، ۱۳۸۳ش، ص۴۲۷۔
  64. علامہ حلی، کشف المراد، ۱۴۱۳ق، ص۳۶۰۔
  65. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۳۔
  66. اشقر، عالم الملائکة الابرار، ۱۴۲۱ق، ص۵۔
  67. بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۱۷۶؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۲۶، ص۳۶۲۔
  68. ملا صدرا، تفسیر القرآن الکریم، ۱۳۶۶ش، ج۲، ص۳۷۱۔
  69. قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۲۰۷۔
  70. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۶۲۵۔
  71. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۷۔
  72. امام خمینی، شرح چهل حدیث، ۱۳۸۰ش، ص۴۱۴۔
  73. ابن‌ عربی، تفسیر ابن‌ عربی، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۱۶۷۔
  74. سبزواری، ارشاد الاذهان، ۱۴۱۹ق، ص۴۴۰۔
  75. مکارم شیرازی، الامثل، ۱۴۲۱ق، ج۱۴، ص۱۳۔
  76. حسینی همدانی، انوار درخشان، ۱۴۰۴ق، ص۲۵۹۔
  77. رستمی و آل‌ بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۵-۲۹۔
  78. رستمی و آل‌ بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۴۔
  79. رستمی و آل‌ بویہ، سیری در اسرار فرشتگان، ۱۳۹۳ش، ص۴۶۔


مآخذ

  • ابن‌ عربی، محیی‌ الدین محمد، تفسیر ابن عربی، تحقیق سمیر مصطفی رباب، بیروت، دار احیاء التراث، ۱۴۲۲ہجری۔
  • اشقر، عمر سلیمان، عالم الملائکة الابرار، اردن، دارالنفائس، ۱۴۲۱ق-۲۰۰۰ ء۔
  • الصحیفة السجادیة، قم، دفتر نشر الهادی، ۱۳۷۶شمسی۔
  • امام خمینی، سید روح‌ الله، آداب الصلاة، تهران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی(س)، تهران، ۱۳۷۸شمسی۔
  • امام خمینی، سید روح‌الله، شرح چهل حدیث، قم، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۰شمسی۔
  • ایجی، میر سید شریف، شرح المواقف، تصحیح بدر الدین نعسانی، الشریف الرضی، افست قم، ۱۳۲۵ہجری۔
  • بحرانی، سید هاشم، البرهان فی تفسیر القرآن، تهران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ہجری۔
  • جوادی آملی، عبدالله، تحریر تمهید القواعد ابن ترکه، تهران، انتشارات الزهراء، ۱۳۷۲شمسی۔
  • حسن‌ زاده آملی، حسن، ممد الهمم در شرح فصوص الحکم، تهران، وزارت فرهنگ و ارشاد، ۱۳۷۸شمسی۔
  • حسینی همدانی، سید محمد حسین، انوار درخشان، تحقیق محمد باقر بهبودی، تهران، کتاب فروشی لطفی، ۱۴۰۴ہجری۔
  • رستمی و آل‌ بویہ، محمد زمان و طاهره، سیری در اسرار فرشتگان، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، ۱۳۹۳شمسی۔
  • زرکشی، محمد بن عبدالله، البحر المحیط فی اصول الفقه، درا الکتبی، ۱۴۱۴ق۱۹۹۴ء۔
  • سبزواری نجفی، محمد بن حبیب‌الله، ارشاد الاذهان الی تفسیر القرآن، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۱۹ہجری۔
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، افست، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ہجری۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمه مجمد جواد بلاغی، انتشارات ناصر خسرو، تهران، چاپ سوم، ۱۳۷۲شمسی۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تصحیح احمد حسینی، تهران، کتابفروشی مرتضی، ۱۴۱۶ہجری۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تصحیح حسن حسن‌زاده آملی، قم، مؤسسة النشر الاسلامی، ۱۴۱۳ہجری۔
  • علامہ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ہجری۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ہجری۔
  • فیاض لاهیجی، عبدالرزاق، گوهر مراد، مقدمہ زین العابدین قربانی، تهران، سایه، ۱۳۸۸شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوی جزائری، قم، دارالکتاب، چاپ سوم، ۱۴۰۴ہجری۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت،‌ داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ہجری۔
  • مطهری‌ نیا، محمود، فرشتگان الهی در رسانہ (۱) (جبرئیل و میکائیل)، قم، مرکز پژوهش‌های اسلامی صداوسیمای جمهوری اسلامی ایران، ۱۳۹۰شمسی۔
  • مکارم شیرازی و دیگران، ناصر، تفسیر نمونہ، تهران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، الامثل فی تفسیر کتاب‌ الله المنزل، قم، مدرسہ امام علی بن ابی‌ طالب، ۱۴۲۱ہجری۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنین علیہ السلام، تهران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۷شمسی۔
  • ملا صدرا، محمد بن ابراهیم، تفسیر القرآن الکریم، تحقیق محمد خواجوی، قم، بیدار، ۱۳۶۶شمسی۔
  • ملا صدرا، محمد بن ابراهیم، مفاتیح الغیب، تهران، وزارت فرهنگ و آموزش عالی، انجمن اسلامی حکمت و فلسفہ ایران و مؤسسہ مطالعات و تحقیقات فرنگی، ۱۳۶۳شمسی۔
  • نهج‌ البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم، مرکز البحوث الاسلامیہ، ۱۳۷۴ افست از روی بیروت ۱۳۸۷ہجری۔