مقام محمود

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مقام مَحمود ایک ایسا مقام ہے جو بہت بلند و عظیم ہے کہ جسے پروردگار عالم نے پیغمبر اکرمؐ کو تہجد اور شب زندہ داری کے سبب عطا کیا۔ مفسرین نے سورہ اسراء کی 79ویں آیت کے ذیل میں اس مقام کو شفاعت پیغمبر اکرمؐ سے تفسیر کیا ہے۔

بعض مفسرین نے مقام محمود کے معنی، پیغمبر اکرمؐ کے اختیارات تمام مخلوقات پر ہونے کے ساتھ آنحضرتؐ کی ذات اقدس کو خداوند عالم سے بے حد قریب جانا ہے کہ در حقیقت یہ دونوں معنی بھی شفاعت کو شامل ہیں۔ زیارت عاشورا کے بعض جملوں کی بنا پر امام حسینؑ بھی مقام محمود پر فائز ہیں۔

سورہ اسراء آیت 79

متن ترجمہ
وَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نافِلَةً لَكَ عَسى‏ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقاماً مَحْمُودا اور رات کے ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہیں یہ آپ کے لئے اضافہ خیر ہے عنقریب آپ کا پروردگار اسی طرح آپ کو مقام محمود تک پہنچا دیگا۔


پیغمبر اکرمؐ کے لئے مقام محمود

علماء و مفسرین نے مقام محمود کو ایک عظیم اور قابل تحسین مقام و مرتبہ جانا ہے کہ جسے پروردگار عالم نے شب بیداری اور نمازِ شب [1]) کی وجہ سے پیغمبر اکرمؐ کو عطا کیا ہے۔[2]


مقام محمود کے معنی کے سلسلے میں علماء کے درمیان مختلف اقوال پائے جاتے ہیں کہ جن میں مقام شفاعت سب کے درمیان مشترک ہے:

  • مقام شفاعت: اکثر مفسرین شیعہ[3] و اہلسنت[4] نے روایات سے استفادہ کرتے ہوئے مقام محمود کے معنی مقام شفاعت کو جانا ہے۔ ایک روایت کی بنا پر آنحضرتؐ نے بھی سورہ اسراء میں موجود مقام محمود سے مراد اسی مقام کو جانا ہے کہ جہاں پر وہ اپنی امت کے لئے شفاعت کریں گے۔[5] ایک روایت میں یا امام باقرؑ یا امام صادقؑ سے آیہ مذکور کی تفسیر میں مقام محمود کو شفاعت سے تفسیر کیا گیا ہے۔[6] مفسرین کے ایک گروہ نے اس مقام کو شفاعت کبری سے یاد کیا ہے۔[7]
  • مخلوقات پر اختیار: مفسرین کا ایک گروہ مقام محمود کو ایک ایسا مقام سمجھتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اس مقام پر تمام مخلوقات پر اختیار رکھیں گے اور وہ خدا سے جو کچھ بھی چاہیں گے، جیسے شفاعت، تو خداوند متعال انہیں عطا کرے گا۔[8]
  • خداوند متعال سے قربت: تفسیر نمونہ میں مقام محمود سے مراد ایک احتمال یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مقصود پروردگار سے بے حد نزدیکی ہے کہ جس کے آثار میں سے شفاعت کبری ہے۔[9]


ائمہ معصومینؑ کے لئے مقام محمود

بعض زیارات میں حضرت علیؑ،[10] حضرت امام حسینؑ[11] اور امام رضاؑ [12] کو بھی مقام محمود پر فائز شمار کیا گیا ہے۔ زیارت عاشورا میں آیا ہے کہ: « میں خدا سے دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ ہونے کی درخواست کرتا ہوں… اور مقام محمود جو خدا کے نزدیک آپ کے لئے ہے اس تک پہونچنے کی درخواست کرتا ہوں »[13]

مفسر شیعہ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کے مطابق، اگرچہ سورہ اسراء کی 79ویں آیت پیغمبر اکرمؐ کے لئے نازل ہوئی ہے لیکن اس کے حکم میں دوسرے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں، اس طرح سے کہ وہ بندۂ مؤمن جو پابندی سے نماز شب پڑھتا ہو اور اسی مقدار میں خدا سے تقرب بھی رکھتا ہو تو وہ بھی ممکن ہے شفاعت کا کچھ حصہ حاصل کر لے اور دوسروں کی شفاعت کرے۔[14]


حوالہ جات

  1. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۶، ص۶۷۰؛ طبرسی، تفسیر جوامع الجامع، تہران، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۳۴۱۔
  2. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۶، ص۵۱۰–۵۱۱؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۶، ص۶۷۱؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی‏، ۱۴۱۵ھ، ج۳، ص۲۱۰؛ بحرانی، ‏البرہان‏، ۱۴۱۶ھ، ج۳، ص۵۶۹؛ عیاشی، کتاب التفسیر، ‏۱۳۸۰ش، ج۲، ص۳۱۴؛ طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۱۷۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۰ش، ج۱۲، ص۲۳۲؛ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ۱۳۷۸ش، ج۴، ص۲۸۵؛ شبر، تفسیر القرآن الکریم، ۱۴۱۲ھ، ص۲۸۶؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ھ، ج۲۱، ص۳۸۶–۳۸۷؛ قرطبی، یوم الفزع الاکبر، مکتبۃ القرآن، ص۱۵۵۔
  3. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۶، ص۵۱۲؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۶، ص۶۷۱؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی‏، ۱۴۱۵ھ، ج۳، ص۲۱۱–۲۱۲؛ بحرانی، ‏البرہان، ۱۴۱۶ھ، ج۳، ص۵۷۰–۵۷۴؛ عیاشی، کتاب التفسیر، ‏۱۳۸۰ش، ج۲، ص۳۱۴؛ طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۱۷۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۰ش، ج۱۲، ص۲۳۲؛ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ۱۳۷۸ش، ج۴، ص۲۸۵؛ شبر، تفسیر القرآن الکریم، ۱۴۱۲ھ، ص۲۸۶۔
  4. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ھ، ج۲۱، ص۳۸۷؛ قرطبی، یوم الفزع الاکبر، مکتبۃ القرآن، ص۱۵۵۔
  5. ابن حنبل، مسند، دار صادر، ج۲، ص۴۴۱۔
  6. عیاشی، کتاب التفسیر، ‏۱۳۸۰ش، ج۲، ص۳۱۴۔
  7. طباطبایی، تفسیر المیزان، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۱۷۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۰ش، ج۱۲، ص۲۳۲؛ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، ۱۳۷۸ش، ج۴، ص۲۸۵۔
  8. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۶، ص۶۷۱؛ ابن عربی، فتوحات مکیہ، مؤسسۃ آل البیت لإحیاء التراث، ج۴، ص۵۷؛ عروسی حویزی، تفسیر نورالثقلین، ۱۴۱۵ھ، ج۳، ص۲۰۶۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۰ش، ج۱۲، ص۲۳۱–۲۳۲۔
  10. طوسی، تہذیب الاحکام، ‌۱۴۰۷ھ، ج۶،‌ ص۳۰۔
  11. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۱۰۱، ص۲۹۲۔
  12. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۶۰۵؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ‌۱۴۰۷ھ، ج۶،‌ ص۸۸۔
  13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۱۰۱، ص۲۹۲۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۰ش، ج۱۲، ص۲۳۱–۲۳۲۔


مآخذ

  • ابن عربی، محی‌الدین، فتوحات مکیہ، قم، موسسۃ آل البیت(ع) لإحیاء التراث، [بی‌تا]۔
  • بحرانی، سید ہاشم‏، ‏البرہان فی تفسیر القرآن‏، تہران‏، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ھ۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مرکز نشر اِسراء، ۱۳۷۸ ہجری شمسی۔
  • شبر، سید عبداللہ، تفسیر القرآن الکریم، بیروت، ‏دارالبلاغۃ للطباعۃ والنشر، ۱۴۱۲ھ۔
  • ابن حنبل، احمد، مسند، بیروت، دار صادر، [بی‌تا]۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، تفسیر المیزان، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۷ ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران و مدیریت حوزۃ علمیۃ قم، ۱۳۷۷ ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، ۱۳۷۲ ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، [بی‌تا]۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق حسن موسوی خرسان، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، ‌۱۴۰۷ھ۔
  • عروسی حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نورالثقلین، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۴۱۵ھ۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، کتاب التفسیر، ‏تہران، ‏چاپخانہ علمیہ، ۱۳۸۰ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی‏، تہران، انتشارات الصدر، ۱۴۱۵ھ۔
  • قرطبی، محمد بن احمد الانصاری، یوم الفزع الاکبر، محقق: محمد ابراہیم سلیم، مصر، الطبع و النشر مکتبۃ القرآن، [بی‌تا]۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، و دیگران، تفسیر نمونہ، قم، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۰ہجری شمسی۔