سیاہ تیر کے نشان والا راستہ وہ ہے جسے ہجرت کے لیے پیغمبر اکرمؐ نے اختیار کیا

ہجرت مدینہ،بعثت کے تیرہویں سال حضرت پیغمبر اکرمؐ کا دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ مکہ سے یثرب (مدینہ) کی طرف روانہ ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس مہاجرت کی اصلی وجہ مکہ کے مشرکین کی اذیت و آزار اور یثرب کے لوگوں کی آپؐ سے بیعت تھی آپؐ نے مسلمانوں کے دفاع کی خاطر یہ مہاجرت کی۔ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کی حکومت کے دور میں ہجرت رسمی طور پر مسلمانوں کے کیلنڈر کا مبدا قرار پائی۔

یثرب کے قبیلوں کی جنگ

حضرت پیغمبر اکرمؐ کی ہجرت سے پہلے یثربی قبیلوں اوس و خزرج کی آپس میں جنگ تھی۔ ان دوقبیلوں کی آخری جنگ نے دونوں کو اس سرزمین کو ترک کرنے پر مجبور کر دیا اور اسی وجہ سے اسلام یثرب میں داخل ہوا[1] اور اس کے دو تین سال بعد یثرب کے کچھ لوگوں نے عقبہ میں حج کے موسم میں (بعثت کے دسویں سے بارہویں سال تک) آپؐ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور آخرکار آپؐ نے دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ یثرب (مدینہ) کی جانب حرکت کی۔[2]

مسلمانوں کی یثرب کی جانب ہجرت کا آغاز

عقبہ کی بیعت، اس کے بعد عقبہ کے دوسرے ٧٥ آدمیوں کا بیعت کرنا، مدینہ سے واپس آنا اور اوس و خزرج نے جو بیعت رسول خداؐ سے کی تھی اس سے قریش کا آگاہ ہونا، ان سب حالات کے تحت مسلمانوں کے لئے مکہ میں زندگی گزارنا بہت سخت ہو گیا، اس وجہ سے رسول خداؐ سے ہجرت کا حکم لیاگیا اور رسول خداؐ نے بھی ہجرت کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ مدینے کی جانب اپنے انصار بھائیوں کے پاس جائیں اور فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے وہاں آپ لوگوں کے لئے بہترین دینی بھائی اور امن کی جگہ مہیا کی ہے۔"[3] روایات کے مطابق، مسلمانوں کے دستے دستے مدینہ کی جانب روانہ ہو گئے اور پیغمبر اکرمؐ اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں مکہ میں ہی رہے۔ مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت بعثت کے تیرہویں سال ذی الحجہ کے مہینے میں پیش آئی۔[4]

آیات ہجرت

ہجرت مدینہ کے سلسلے میں چند آیات قرآنی بھی نازل ہوئیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  1. "وَ إِذْ یمْکرُ بِک الَّذینَ کفَرُوا لِیثْبِتُوک أَوْ یقْتُلُوک أَوْ یخْرِجُوک وَ یمْکرُونَ وَ یمْکرُ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَیرُ الْماکرین"(انفال/٣٠)
ترجمہ: وہ وقت یاد کرو جب کافر سوچ رہے تھے کہ تمہیں قید میں ڈال دیں، یا قتل کر دیں، یا مکہ سے باہر نکال دیں۔ وہ بھی سوچ رہے تھے اور خدا وند بھی تدبیر کر رہا تھا اور بے شک خدا بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
  1. "وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یشْری نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللَّهِ وَ اللَّهُ رَؤُفٌ بِالْعِبادِ" (بقرہ/٢٠٧)
ترجمہ: بعض فداکار اور با ایمان افراد (مانند امام علی علیہ السلام) اپنی جان کو خداوند کی خوشی کی خاطر پیش کرتے ہیں، اور خداوند اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔
  1. "وَ جَعَلْنا مِنْ بَینِ أَیدیهِمْ سَدًّا وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَیناهُمْ فَهُمْ لا یبْصِرُون" (یسں/٩)
ترجمہ: اور ان کے پیچھے کی جانب اور ان کے آگے کی طرف (سد) پردہ ڈال دیا ہے لہذا کچھ مشاہدہ نہیں کر سکتے۔
  1. "إِلاَّ تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذینَ کفَرُوا ثانِی اثْنَینِ إِذْ هُما فِی الْغارِ إِذْ یقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَکینَتَهُ عَلَیهِ وَ أَیدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْها وَ جَعَلَ کلِمَةَ الَّذینَ کفَرُوا السُّفْلی وَ کلِمَةُ اللَّهِ هِی الْعُلْیا وَ اللَّهُ عَزیزٌ حَکیمٌ" (توبہ/٤٠)
ترجمہ: اگر اس کی مدد نہیں کریں گے، خداوند اس کی مدد کرے گا (اور مشکل گھڑی میں خداوند اسے تنہا نہیں چھوڑے گا) اس وقت جب کافروں نے اسے مکہ سے باہر نکالا، تو وہ دو افراد تھے (صرف ایک نفر ہمراہ تھا) اس وقت وہ دونوں غار ثور میں تھے، اور وہ اپنے ہمسفر سے کہہ رہا تھا: غم نہ کھاؤ کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ اس وقت خداوند نے اپنی طرف سے آرامش اور سکون اس کے لئے بھیجی اور ایسے لشکر سے مدد بھیجی جو نظر نہیں آتا تھا جس نے اسے تقویت دی اور کافروں کے نقشے کو مٹا دیا (اور انکو شکست دی) اور خدا کی بات حق ہے اور وہ عزیز اور حکیم ہے۔
  1. "إِنَّ الَّذِینَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِکةُ ظَالِمِی أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِیمَ کنتُمْ ۖ قَالُوا کنَّا مُسْتَضْعَفِینَ فِی الْأَرْ‌ضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَکنْ أَرْ‌ضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُ‌وا فِیهَا ۚ فَأُولَٰئِک مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِیرً‌ا"(نساء/٩٧)
ترجمہ: جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، جس وقت فرشتے انکی جان لیں گے تو کہیں گے: کس حال میں تھے؟ تو جواب دیں گے: ہم زمین میں مستضعفین تھے۔ وہ کہیں گے مگر خدا کی زمین وسیع نہیں تھی کہ ہجرت کرتے؟ پس ان کی منزل دوزخ ہے اور دوزخ بہت بری جگہ ہے۔

پہلا مہاجر

اصحاب پیغمبرؐ میں سے پہلا فرد جو مدینہ میں داخل ہوا، رسول خداؐ کا پھوپھی زاد ابو سلمیٰ عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا جو کہ حبشہ سے واپس مکہ آیا۔ جب مکہ میں قریش نے اس کو اذیت و آزار دی تو اسے خبر ہوئی کہ مدینہ میں کچھ لوگ اسلام لائے ہیں تو اس نے عقبہ کی دوسری بیعت سے ایک سال پہلے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اس کے بعد دوسرے افراد جیسے عامر بن ربیعہ اپنی زوجہ لیلیٰ جو کہ ابو حشمہ عدوی کی بیٹی ہے، عبداللہ بن جحش بن رئاب اسدی نے، اپنے گھر والوں اور بھائی ابو احمد بن جحش کے ہمراہ ہجرت کی۔ اس طرح آہستہ آہستہ جحش خالی ہو گیا اور کوئی بھی وہاں نہ بچا۔ ابوسلمہ، عامر، عبداللہ اور اس کا بھائی سب قباء محلے میں بنی عمروبن عوف اور مبشر بن عبدالمنذر کے پاس پہنچ گئے۔ اور اس کے بعد مہاجرین جوق در جق مدینے میں داخل ہونے لگے۔ جیسے کہ طایفہ بنی غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ کے مردوں اور عورتوں سب نے مہاجرت کی۔ عبداللہ اور اس کے بھائی کے علاوہ عکاشہ بن محصن، شجاع اور عقبہ وہب کے بیٹے، اربد بن حمیر، منقذ بن نباتہ، سعید بن رقیش، محرز بن نضلہ، یزید بن رقیش، قیس بن جابر، عمروبن محصن، مالک بن عمرو، صفوان بن عمرو، ثقف بن عمرو، ربیعہ بن اکثم، زبیر بن عبیدہ، تمام بن عبیدہ، سخبرہ بن عبیدہ، محمد بن عبداللہ بن جحش، اور عورتوں میں سے زینب جحش کی بیٹی، جذامہ جندل کی بیٹی، ام قیس محصن کی بیٹی، ام حبیب تمامہ کی بیٹی، آمنہ رقیش کی بیٹی، سخبرہ، تمیم کی بیٹی، حمنہ جحش کی بیٹی، اور اس کے بعد عمر بن خطاب اور عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی نے مہاجرت کی۔[5]

قریش کا حضرت پیغمبرؐ کو قتل کرنے کا ارادہ

عقبہ کی دوسری بیعت بعثت کے تیرہویں سال ذی الحجہ میں واقع ہوئی اور اس کے بعد تین مہینے کے اندر ہی رسول خداؐ کے اکثر صحابہ مدینہ کی جانب روانہ ہو گئے اور جب قریش نے دیکھا کہ لوگ رسول خداؐ کا ساتھ دے رہے ہیں اور آپ کے ساتھ مل کر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں تو رسول خداؐ کی ہجرت سے وحشت زدہ ہو گئے۔ اسی لئے اس ہجرت میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بعثت کے چودویں سال ماہ صفر کے آخری ایام میں دارالندوہ میں اکھٹے ہوئے۔ پھر ہر قوم میں سے کچھ افراد منتخب ہوئے تاکہ رسول خداؐ کے بارے میں فیصلہ کریں۔ اس وقت دار الندوہ کے دروازے پر کھڑے بوڑھے شخص نے کہا: مجھے اندر لے جائیں۔ اس سے پوچھا گیا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں مصر سے آیا ہوں اورآپ لوگوں کو رائے دینا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد سب داخل ہوئے اور بحث شروع ہوئی اور سب نے فیصلہ کیا کہ رسول خداؐ کو خارج کر دیں لیکن اس بوڑھے مرد نے کہا اگر تم لوگ رسول خداؐ کو نکال دو گے تو وہ لوگوں کو جمع کر کے آپ کے ساتھ جنگ کو تیار ہو جائے گا سب نے کہا: یہ سچ ہے اور یہ رائے مناسب ہے۔ اس کے بعد سب نے مشورہ کیا اور کہا کہ آپؐ کو قید کر لیا جائے دوبارہ اس بوڑھے شخص نے کہا کہ ایسا نہ کریں کیونکہ محمدؐ بہت شیرین زبان شخص ہے اور اس کام سے تمہارے اپنے فرزند اور نوکر تم لوگوں کو مفسد کہیں گے اور اگر تمہارے اپنے ہی فرزند اور نوکر فاسد کہنے لگ گئے تو اس کو قید کرنے کا کیا فائدہ ہو گا؟ پھر سب نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ آپؐ کو قتل کیا جائے اور اس کام کے لئے ہر قوم میں سے ایک ایک جوان کو تلوار تھما دی تاکہ سب مل کر آپؐ کو قتل کردیں۔[6]

لیلة المبیت

بعثت کے چودہویں سال جمعرات کی رات ربیع الاول کی پہلی رات کو رسول خداؐ مکہ سے باہر چلے گئے اور اسی رات حضرت علیؑ رسول خداؐ کے بستر پر سوئے۔اس رات کو لیلۃ المبیت کہتے ہیں۔ رسول خداؐ کا مکہ سے خروج کی وجہ آپؐ کا مشرکین قریش کی چال سے آگاہ ہونا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیہ پیغمبرؐ کو خبر دینے کے لئے ہی ہے۔: وَ إِذْ یمْکرُ بِک الَّذینَ کفَرُوا لِیثْبِتُوک أَوْ یقْتُلُوک أَوْ یخْرِجُوک وَ یمْکرُونَ وَ یمْکرُ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَیرُ الْماکرینَ۔(انفال/٣٠)

ترجمہ: جب کافر تمہارے بارے میں حیلہ گری کریں تا کہ تمہیں قید کریں یا تمہیں قتل کریں یا شہر سے باہر نکالیں تو خداوند ان کی حیلہ گری میں داخل ہو گا اور خداوند بہترین حیلہ گر ہے۔

لیلۃ المبیت وہ رات ہے جب پیغمبرؐ، خدا کے حکم سے مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے اور چونکہ قریش نے آپؐ کو قتل کا ارادہ کیا ہوا تھا اسی لئے رسول خداؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا: اے علیؑ! آج کی رات آپؑ میرے بستر پر سوئیں تاکہ مشرک میری غیر موجودگی سے آگاہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؑ کی عظمت میں اس آیہ شریفہ کا نزول فرمایا:: «وَمِنَ النَّاسِ مَن یشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ»(بقرہ/٢٠٧)

ترجمہ: اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

رسول خداؐ غار ثور میں

رسول خداؐ ربیع الاول کی پہلی رات کو (سنہ ٦٢٢ میلادی ١٣ ستمبر) غار ثور کی جانب روانہ ہوئے ابو بکر بن ابو قحافہ بھی آپؐ کے ہمراہ تھے اور تین دن غار ثور میں رہے اور ربیع الاول کی چوتھی رات کو مدینہ کی طرف نکل پڑے۔

حضرت علیؑ کے اقدامات

حضرت علیؑ نے رسول خداؐ کے غار ثور میں جانے کے بعد اگلے دن تک صبر کیا تا کہ دوسری رات داخل ہو جائے۔ حضرت علیؑ ہند بن ابی ہالہ کے ہمراہ روانہ ہوئے اور رسول خداؐ کے پاس غار میں پہنچ گئے اور وہاں پر آپؐ نے ہند کو حکم دیا کہ اپنے اور اپنے ہمراہ کے لئے اونٹ خرید کر لے آئے ابو بکر نے کہا: اے رسول خداؐ میں نے اپنے اور آپ کے لئے دو سواری تیار کی ہوئی ہے اور اسی سواری سے مدینہ تک کا سفر طے کریں گے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: میں ان دونوں یا ان میں سے ایک کو بھی قبول نہیں کرتا جب تک کہ ان کی قیمت ادا نہ کر لوں۔ ابوبکر نے کہا: جیسا آپ کا حکم ہو۔ اس نے علیؑ سے کہا کہ ان اونٹوں کی قیمت ادا کردیں اور پھر سفارش کی کہ امانت داروں کی امانتیں لوٹا دیں اور آپؐ کے دوسرے وعدوں کو بھی پورا کر آئیں۔ قریش جاہلیت کے دور میں پیغمبر اکرمؐ کو امین کے نام سے جانتے تھے اسی وجہ سے اپنی امانتیں اور اموال آپؐ کے پاس رکھتے تھے۔ اسی طرح جب حج کے موسم میں لوگ مکہ میں داخل ہوتے تو اپنے اموال کو آپؐ کے سپرد کر دیتے اور یہ کام آپؐ کی نبوت کے بعد بھی جاری رہا۔ اسی لئے رسول خداؐ نے حضرت علیؑ کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں ہی رہیں اور لوگوں کی امانتیں لوٹائیں اور آپؐ کے دوسرے کاموں کو بھی انجام دیں اور فرمایا: "جب ان کاموں کو انجام دے لو تو خدا اور اس کے رسول کی جانب ہجرت کے لئے آمادہ رہنا اور جوں ہی میری طرف سے خط تم تک پہنچے، فوراً حرکت کرنا۔" علیؑ تین دن راتیں مکہ میں رہے اور رسول خداؐ کے پاس لوگوں کی جو امانتیں تھیں انہیں لوٹا دیں اور جب اس کام سے فارغ ہوئے تو مدینہ کی طرف ہجرت کی اور کلثوم بن ہدم کے گھر میں رسول خداؐ کے ہمراہ اقامت کی۔[7]

پیغمبرؐ کا پیچھا کرنا

جب قریش اپنے ارادے میں ناکام ہو گئے تو پیغمبرؐ کا پیچھا کیا تاکہ آپؐ کو مدینہ میں پہنچنے سے پہلے ہی قتل کر دیں۔ وہ لوگ رسول خداؐ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک غار میں داخل ہوئے۔ کسی نے ان سے کہا کہ رسول خداؐ اس غار سے آگے نہیں گئے شاید اسی جگہ سے آسمان کی طرف عروج فرما گئے ہیں یا پھر زمین کے اندر چلے گئے ہیں۔ دینی روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا کہ غار کے دہانے پر جال بُن دے۔ جب پیچھا کرنے والوں نے مکڑی کے جالے کو دیکھا تو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس غار میں کوئی داخل نہیں ہوا ہے۔ اس طرح قریش اپنی کوشش میں ناکام ہو گئے۔[8]

یثرب کی جانب روانہ

پیغمبر اکرمؐ تین دن غار میں رکنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔[9]

قبا کے مقام پر توقف

پیغمبر اکرمؐ بارہ ربیع الاول کے دن ظہر کے وقت یثرب پہنچے اور قباء کے مقام پر توقف فرمایا اور یہاں نماز پڑھی۔ آپؐ یہاں بنی عمرو بن عوف کے مہمان بنے اور دس دن سے زیادہ اسی مقام پر رہائش پذیر رہے۔ قبیلہ بنی عمرو نے آپؐ کو مزید کچھ ایام یہاں رکنے پر اصرار کیا لیکن آپؐ نے قبول نہیں فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا: ہم علی بن ابی طالبؑ کے منتظر ہیں۔ آپؐ یہاں رکے رہے یہاں تک کہ حضرت علیؑ پہنچ گئے۔[10]

مدینے میں داخلہ

مورخین نے پیغمبرؐ کے یثرب میں داخل ہونے کے واقعے کو تفصیل سے لکھا ہے۔ جیسے کہ عبدالرحمن بن عویم بن ساعدہ نے لکھا ہے کہ جوں ہی رسول خداؐ نے مکہ سے حرکت کی تو ہمارا انتظار شروع ہوچکا تھا۔ ہم ہر روز صبح کی نماز کے بعد مدینہ سے باہر آ جاتے اور(چیزوں کا سایہ ختم ہونے تک یعنی) ظہر کے وقت تک رسول خداؐ کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے۔ یہی سلسلہ جاری رہا۔ ایک دن جب رسول خداؐ کے انتظار میں مدینہ سے باہر گئے اور ظہر کا وقت ہوا تو گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم اپنے گھر واپس آ گئے۔ جب ہم اپنے گھر میں تھے، اسی وقت رسول خداؐ مدینے میں داخل ہوگئے۔ مدینے میں پہلا فرد جس نے آپؐ کو دیکھا وہ یہودی تھا جو کہ ہمارے روز کے کام سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ ہم روزانہ اپنے پیغمبر کا انتظار کرتے ہیں اسی لئے اس نے زور سے آواز لگائی اے بنی قیلہ! آپ لوگوں کے مہمان پہنچ گئے ہیں۔ یہ آواز سنتے ہی ہم گھروں سے باہر بھاگے اور رسول خداؐ کے پاس پہنچ گئے۔ اس وقت ابو بکر بھی آپؐ کے ہمراہ تھے، اور چونکہ ہم میں سے اکثر نے رسول خداؐ کو پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا اور جب رسول اللہؐ کا سایہ غائب ہو گیا اور ابوبکر نے کھڑے ہو کر آپؐ پر سایہ ڈالا تو ہم نے آپؐ کو پہچان لیا۔ رسول خداؐ قبا میں کلثوم بن ہدم جو کہ بنی عمروبن عوف کے مردوں سے ہے، کے گھر داخل ہوئے اور لوگوں کی ملاقات کے لئے سعد بن خثیمہ کے گھر گئے کہ جس کے بیوی بچے نہیں تھے اور بغیر بال بچے والے مسلمان مہاجر بھی اس کے گھر میں رکے ہوئے تھے۔[11]

آغاز و انتہاء ہجرت

دن اسلامی قمری تاریخ عیسوی تاریخ چھبیس روزہ سفر ہجرت کے واقعات
پہلا دن بروز جمعرات 26 صفرالمظفر، سنہ 1 ہجری قمری 9 ستمبر 622ء ہجرت کا مکہ سے آغاز اور تین دن تک مکہ کے قریبی غار ثور میں مخفی رہنا
پانچواں دن بروز پیر یکم ربیع الاول، سنہ 1 ہجری قمری 13 ستمبر 622ء مکہ کی حدود سے خارج ہونا اور یثرب کی طرف آٹھ روزہ سفر کا آغاز
بارہواں دن بروز پیر 8 ربیع الاول، سنہ 1 ہجری قمری 20 ستمبر 622ء یثرب (مدینہ منورہ) کے نزدیک قباء میں تشریف آوری اور پانچ روزہ قیام
سولہواں دن بروز جمعہ 12 ربیع الاول، سنہ 1 ہجری قمری 24 ستمبر 622ء جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے یثرب میں تشریف آوری اور قباء کی جانب دوبارہ واپسی اور دس روزہ قیام
چھبیسواں دن بروز پیر 22 ربیع الاول، سنہ 1 ہجری قمری 4 اکتوبر 622ء مدینہ النبیؐ منتقل ہوئے

اسلامی تاریخ کی ابتدا

حضرت پیغمبرؐ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کو، اسلامی تاریخ کی ابتدا قرار پانے کے بدولت اہمیت حاصل ہے۔ واقعہ ہجرت کو کس نے اسلامی تاریخ اور تقویم کا آغاز قرار دیا ہے؟ اس کے بارے میں مختلف اقوال موجود ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ پیغمبرؐ خدا نے اسے اسلامی سال کا آغاز قرار دیا ہے۔ مشہور مورخ ابن جریر طبری نے کہا ہے کہ پیغمبرؐ نے مدینہ میں داخل ہوتے وقت حکم دیا کہ اس تاریخ کو لکھا جائے[12] اور رسول خداؐ کے خط بھی موجود ہیں کہ جن میں آپؐ نے اس کی تاریخ درج کرنے کا حکم دیا۔[13]

دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت علیؑ کے مشورے سے عمر بن خطاب نے ایسا حکم دیا ہے۔ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ نے اکابر صحابہ کی ایک میٹینگ بلائی تاکہ تاریخ اسلام کا آغاز متعین کیا جائے۔[14] اس میٹینگ میں مختلف رائے پیش کی گئیں کہ جو مورد قبول واقع نہ ہوئیں آخرکار حضرت علیؑ نے رائے دی کہ رسول خداؐ کی مکہ سے مدینہ کی ہجرت کو تاریخ اسلام میں لکھا جائے۔ اس رائے کو عمر نے پسند کیا اور پورے شہر میں اس دستور کو سرکلر کے طور پر پورے شہروں میں مشہور کردیا گیا ۔[15]

حوالہ جات

  1. اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی روایت کے لئے مراجعہ کریں: البکری، ج ۱، ص۲۶۰؛ ذہبی، ص۲۸۸۲۸۹
  2. ابن ہشام، ج ۲، ص۷۰ کے بعد؛ ابن سعد، ج ۱، ص۲۱۹۲۲۰؛ یعقوبی، ج ۲، ص۳۷
  3. ابن سعد، ج ۱، ص۲۲۶۔
  4. ابن ہشام، ج ۲، ص۷۶
  5. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص ۲۰۰ و طبری، تاریخ طبری، ج۲، ص ۳۷۰
  6. ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص ۹۳۶ و عیاشی، تفسیر، ج۲، ص۵۴۔ و صدوق، الخصال، ص۳۶۷، طوسی، أمالی، ص۴۶۳- ۴۶۵، حدیث ۳۵، و قمی، تفسیر، ج ۱، ص۲۷۳- ۲۷۵۔ (قمی:وہ بوڑھا شخص ابلیس تھا)
  7. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص ۲۰۰
  8. قمی، تفسیر قمی، ج ۱، ص۲۷۳- ۲۷۶؛ طبرسی، اعلام الوری، ص۶۱- ۶۳؛ قطب راوندی، قصص الانبیاء، ص۳۳۵- ۳۳۷؛ الخرائج و الجرائح، ج ۱، ص۴۴ حدیث ۲۳۱
  9. طوسی، امالی، ص۴۶۷- ۴۶۸، مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۹، ص۶۳؛ حلیۃ الابرار، ص۹۰
  10. کلینی، روضہ کافی، ص۲۸۰
  11. یعقوبی، تاریخ، ج۲، ص ۴۱
  12. تاريخ‏ الطبری،ج۲،ص۳۸۸
  13. سید المرسلین، ج۱، ص۶۱۰ و ص۶۰۹«كَتَبَ عَليُّ بْنُ اَبيطالِبٍ بِاَمْرِ رَسُولِ اللّهْ فِي شَهْرِ رَجَبِ سِنَةَ تِسْعٍ مِنَ الْهِجْرَةْ
  14. ابن کثیر،ج۳، ص۲۰۷
  15. یعقوبی،ج۲، ص۱۴۵؛ مسعودی،ج۴، ص۳۰۰

مآخذ

  • ابن اثیر، عز الدین أبو الحسن علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌ دار صادر،‌ دار بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، تحقیق احسان عباس، دار صادر، چاپ اول، ۱۹۶۸م.
  • ابن کثیر، ابوالفداء اسماعیل بن عمر، البدایة و النهایة، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م
  • ابن هشام، السیره النبویه، چاپ مصطفی سقّا، ابراهیم ابیاری و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، دار المعرفه، بی تا.
  • بحرانی، هاشم بن سلیمان، حلیه الابرار فی احوال محمد و آله اطهار(ع)، قم، موسسه المعارف الاسلامیه، ۱۴۱۵ق.
  • بکری، عبدالله بن عبدالعزیز، معجم مااستعجم من اسماء البلاد و المواضع، چاپ مصطفی سقّا، بیروت ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • بلاذری،‌ احمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق سهیل زکار و ریاض زرکلی،‌ بیروت، دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • ذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاهیر و الاعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دار الکتب العربی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق/۱۹۹۳م.
  • سبحانی، جعفر، سيدالمرسلين، قم، جامعه مدرسين، ۱۴۱۲ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، جامعه مدرسین قم، ۱۳۶۲ش.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافه، ۱۴۱۴ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الهدی، قم، مؤسسة آل البیت(ع) لإحیاء التراث، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراهیم، بیروت،‌ دار التراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تهران، نشر المکتبه الاسلامیه، بی‌تا.
  • قطب راوندی، سعید بن هبة‎ الله، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسة امام مهدی(عج)، ۱۴۰۹ ق.
  • قطب راوندی، سعید بن هبة‎ الله، قصص الانبیاء، مشهد، آستان قدس رضوی، ۱۳۶۸ش.
  • قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، قم،‌ دار الکتاب، ۱۳۶۳ش.
  • قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، قم،‌ دار الکتاب، ۱۳۶۷ش.
  • کلینی، یعقوب، الکافی، تصحیح وتعلیق علی‌أکبر غفاری، تهران، دارالکتب الاسلامیه، چاپ سوم، ۱۳۶۷ش.
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحار الانوار، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • مسعودی، أبو الحسن علی بن الحسین، التنبیه و الإشراف، تصحیح عبدالله اسماعیل الصاوی، القاهرة،‌ دار الصاوی، بی‌تا.
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج ‏الذهب، قم، دار الهجره، ۱۴۰۹ق.
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، قم، کنگره شیخ مفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ق.
  • یعقوبی، احمدبن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا.