یأجوج و مأجوج

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یأجوج و مأجوج کسی قوم یا اقوام کا نام ہے جو قرآن اور یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتابوں میں آیا ہے۔ یأجوج و مأجوج کو دینی منابع میں دوسروں کے اموال کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ایک ظالم اور ستمگر گروہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات کے مطابق حضرت ذوالقرنین نے یأجوج و مأجوج سے تنگ آئے ہوئے افراد کی درخواست پر ان سے محفوظ رہنے کے لئے ایک بند تمعیر کیا جو ذوالقرنین کا بند یا یأجوج و مأجوج کے بند کے نام سے مشہور ہے۔ اس بند کا ختم ہونا اور دوبارہ یأجوج و مأجوج کے لشکر کا رونما ہونا آخری زمانے کی علامتوں میں ہے ہے جس کا تذکرہ قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں میں آیا ہے۔ بعض یہ احتمال دیتے ہیں کہ یہ بند جارجیا کے شمال میں واقع ہے۔

اجمالی تعارف

یأجوج و مأجوج کی حقیقت کے بارے میں کئی احتمال دئے گئے ہیں:

  • کسی شخص کا نام: بعض منابع کے مطابق یأجوج و مأجوج کسی شخص کا نام تھا۔[1] عہد عتیق میں مأجوج کو حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے قرار دیا گیا ہے۔[2]
  • ایک علاقے کا نام: بعض منابع کے مطابق یأجوج و مأجوج ایک جغرافیائی منطقے کا نام تھا۔[3]
  • شمالی ایشیا میں بسنے والے اقوام: اسلامی منابع میں یأجوج و مأجوج شمالی ایشیا میں بسنے والے اقوام کو کہا جاتا ہے جو قتل اور دوسروں کے اموال کو غارت کرنے میں مشہور تھے۔ ان منابع کے مطابق ان کی سکونت کا محدودہ ایشیا کے شمال مشرق یعنی تبّت‌ اور چین سے شمالی اقیانوس‌ منجمد تک اور مغرب میں ترکستان‌ تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی بنا پر بعض مفسرین نے لفظ یأجوج و مأجوج کو چینی زبان کے لفظ مُنگوک یا مُنچوگ‌ سے ماخوذ قرار دیتے ہیں جو عبری یا عربی زبان میں یأجوج و مأجوج میں تبدیل ہوا ہے اور یونانی زبان میں اسے گوگ و ماگوگ سے تعبیر کی گئی ہے۔[4]
  • مغل قوم کا دوسرا نام: بعض یہ احتمال دیتے ہیں کہ یأجوج و مأجوج قوم مغل ہی تھے جو اپنے علاقے یعنی دریائے خزر کے شمال مشرق سے قریب علاقوں جیسے ماوراءالنہر، ارمنستان اور آذربایجان سے لے کر دور دراز علاقوں جیسے چین اور برصغیر تک حملہ کرتے تھے اور دیوار چین اور ذوالقرنین ڈیم ان کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے بنایا گیا تھا۔[5] اس بنا پر یأجوج و مأجوج کا آخری زمانے دوبارہ آنے پر قرآن میں اشارہ ہوا ہے اور ساتویں صدی ہجری میں مغلوں کے حملے کو اسی پر منطبق کیا گیا ہے۔[6]

یأجوج و مأجوج

تفصیلی مضمون: ذوالقرنین

ذوالقرنین ایک با ایمان بادشاہ تھا جس کا گزر ایک ایسے علاقے سے ہوا جو دو پہاڑوں کے دریمان واقع تھا۔ اس علاقے کے لوگوں نے ان سے کہا کہ یأجوج و مأجوج ان پہاڑوں کے دوسرے طرف سے ان کے علاقے میں داخل ہو کر انہیں قتل و غارت کرتے ہیں۔ اس علاقے کی لوگوں نے ذوالقرنین سے کہا کہ وہ ان کے لئے ایک ڈیم بنا دے جس سے وہ یأجوج و مأجوج کے حملے سے محفوظ رہ سکیں۔ ذوالقرنین نے اس علاقے کے لوگوں کی مدد سے بغیر کسی قیمت کے لوہے اور تانبے سے ایک مضبوط ڈیم بنا دیا جو ان لوگوں کو یأجوج و مأجوج کے حملوں سے محفوظ رکھتا تھا اسی مناسبت سے یہ ڈیم، ذوالقرنین ڈیم یا یأجوج و مأجوج ڈیم سے مشہور ہوا ہے۔[7] قرآن میں یہ داستان سورہ انبیا کی آیت نمبر 93 سے 98 میں آئی ہے۔ بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ ڈیم تفلیس کے شمال میں آبنائے ڈیوول کے مقام پر جرجیا اور روس کے باڈر پر واقع ہے۔[8]

قرآن میں سورہ کہف میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کے مطابق یأجوج و مأجوج زمین میں فساد پھیلایا کرتے تھے اور دوسروں کو تنگ کیا کرتے تھے۔[9]

یأجوج و مأجوج اور آخری زمانے کی نشانی

تفصیلی مضمون: آخرالزمان

قرآن میں یأجوج و مأجوج کے خروج اور طغیان کو آخری زمانے کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔[حوالہ درکار] خدا نے سورہ انبیاء کی آیت نمبر 96 میں اسے آخری زمانے کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے: حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ؛(ترجمہ: یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دیئے جائیں گے تو وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔) عہد عتیق کی کتاب حزقیال اور عہد جدید کے مکاشفہ یوحنا میں بھی آخری زمانے میں ان کے ظہور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[10]

عوامی اصطلاح میں

یأجوج و مأجوج فارسی زبان میں بعض محاوروں میں استعمال ہوتا ہے۔ عوام الناس ان دو لفظوں کو نہیت عجیب و غریب، نامفہوم اور ناموس لفظ قرار دیتے ہیں۔ مثلا اگر کوئی گروہ ظاہری طور پر عجیب و غریب شکل و صورت کے حامل ہوں تو ان کے بارے میں کہا جاتا کہ: "یہ یأجوج و مأجوج کی طرح کی شکل و صورت کیا ہے۔" یا اگر کسی کتاب یا متن کا ترجمہ‌ نامفہوم ہو تو کہتے ہیں: " یہ کتاب یأجوج و مأجوج کی زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔"[11]

حوالہ جات

  1. عہد عتیق، کتاب حزقیال نبی، باب ۳۸، فقرہ ۲ و ۳۔
  2. عہد عتیق، کتاب پیدایش، فصل ۱۰۔
  3. عہد عتیق، کتاب حزقیال نبی، باب ۳۸، فقرہ ۲ و ۳۔
  4. حسینی طہرانی، معادشناسی، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۸۶-۸۷۔
  5. حسینی طہرانی، معادشناسی، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۸۶-۸۷۔
  6. جعفری، ذوالقرنین و قوم یأجوج و مأجوج، بہار و تابستان ۱۳۸۲ش، ص۹۹۔
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۲، ص۵۳۳-۵۳۵۔
  8. حسینی طہرانی، معادشناسی، ۱۴۲۵ق، ج۴، ص۹۰۔
  9. سورہ کہف، آیات ٩٣-٩٨۔
  10. عہد عتیق، کتاب حزقیال نبی، باب ۳۸، فقرہ ۲ و ۳؛ عہد جدید، مکاشفہ یوحنا، باب ۲۰، فقرہ ۷-۹۔
  11. خرمشاہی، اصطلاحات قرآنی در محاورہ فارسی، بہار۱۳۷۳، ش۱، ص۴۰۔


مآخذ

  • جعفری، یعقوب، ذوالقرنین و قوم یأجوج و مأجوج، وقف میراث جاویدان، بہار و تابستان ۱۳۸۲ش، ش۴۱ و ۴۲، ص۹۹۔
  • حسینی طہرانی، سیدمحمدحسین، معادشناسی، مشہد، انتشارات علامہ طباطبایی، ۱۴۲۵ھ۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، اصطلاحات قرآنی در محاورہ فارسی، قم، مجلہ بینات، مؤسسہ معارف اسلامی امام رضا(ع)، بہار۱۳۷۳، ش۱، ص۴۰۔
  • عہد جدید، مکاشفہ یوحنا، باب ۲۰، فقرہ ۷-۹۔
  • عہد عتیق، کتاب حزقیال نبی، باب ۳۸، فقرہ ۲ و ۳۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ سی و سوم، ۱۳۷۴ش۔