عائشہ بنت ابو بکر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حضرت عائشہ
کوائف
مکمل نام عائشہ بنت ابوبکر بن ابی قحافہ
کنیت ام عبداللہ
لقب ام المؤمنین • حمیرا
تاریخ پیدائش بعثت کے چوتھے سال • مکہ
محل زندگی مکہ • مدینہ
مہاجر/انصار مہاجر
اقارب رسول اللہؐابوبکرمحمد بن ابی بکر
وفات 10 شوال سنہ 58 ھ
سبب وفات طبیعی موت • معاویہ کے ہاتھوں
مدفن جنت البقیع
دینی معلومات
اسلام لانا بعثت کے چوتھے سال
جنگوں میں شرکت جنگ جمل
وجہ شہرت زوجۂ رسولؐواقعۂ افکجنگ جمل

عا‎ئشہ بنت ابوبکر (متوفی سنہ 58 ھ) حضرت خدیجہ کبری اور سودہ کے بعد پیغمبر اسلامؐ کی تیسری زوجہ ہیں۔ شادی کے وقت ان کی عمر کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ واقعۂ افک آپ کی زندگی کے اہم واقعات میں سے ہے جس میں آپ پر تہمت لگانے پر قرآن کریم میں سورہ نور کی بعض آیتیں میں تہمت لگانے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔

پیغمبر اکرم کی زوجات میں حضرت عا‎ئشہ اپنے سیاسی موقف اور پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد آپ کی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ خلیفہ اول اور دوم کو خلافت تک پہچانے میں انہوں نے بڑا کردار ادا کیا اور ان دونوں کی فضیلت میں احادیث نقل کرکے ان کے مقام کو اور مضبوط بنایا۔ حضرت عثمان کے دور خلافت کے ابتدائی ایام میں ان کے ساتھ تھیں لیکن بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر ان سے دور ہوگئیں اور ان کے خلاف تحریک شروع کی جو ان کے قتل پر ختم ہوئی۔ لیکن حضرت عثمان کے قتل کے بعد ان کے خون کے انتقام کے بہانے امام علیؑ کے مقابلے میں آگئیں اور بعض دوسرے اصحاب کے ساتھ مل کر جنگ جمل کی قیادت کی۔

اہل سنت بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے حضرت عا‎ئشہ کے لئے بلند مقام و مرتبت کے قا‎ئل ہیں۔ جبکہ شیعہ امام علیؑ کے دور خلافت میں ان کے خلاف موقف اختیار کرنے، جنگ جمل وجود میں لانے میں ان کے کردار اور اسی طرح سے امام حسن (ع) کے جنازہ کو پیغمبر اکرم (ص) کے پہلو میں دفن نہ ہونے دینے کی وجہ سے ان کی سیرت و رفتار پر انتقاد کرتے ہیں۔

سوانح حیات

ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: 25 عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: 1 یا 2 یا 4 ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: 3 ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: 3 ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: 4 ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: 5 ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: 5 یا 6 ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: 6 یا 7 ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: 7 ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: 7 ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: 7 ہجری)

حضرت عا‎ئشہ حضرت ابوبکر کی بیٹی اور قبیلہ بنی تیم سے تھیں۔ ان کی والدہ رومان بنت عمیر قبیلہ بنی کنانہ سے تھیں۔[1] بعثت کے چوتھے یا پانچویں سال مکہ میں متولد ہوئیں۔[2]

حضرت عائشہ کی کنیت ان کے بھتیجے عبداللہ بن زبیر کی وجہ سے ام عبداللہ مشہور ہوئی۔[3] بہت سارے تاریخی مصادر میں انہیں "ام المؤمنین" کہا گیا ہے۔[4]

کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ آپ کو حمیراء کہہ کر پکارتے تھے۔[5] اس بارے میں ایک روایت بھی مشہور ہے کہ جس میں آپؐ نے عائشہ سے فرمایا: کَلِّمینی یا حُمَیْراء(اے حمیرا مجھ سے بات کرو) کہا جاتا ہے کہ پہلی بار غزالی نے اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ان سے پہلے کسی بھی کتاب میں یہ حدیث ذکر نہیں ہوئی ہے۔ اسی لئے اہل سنت کے عالم دین الفتنی (متوفی ۹۸۶ ھ) لکھتے ہیں کہ غزالی نے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔[6] شیعہ عالم دین علامہ عسکری بھی اس روایت کو بے بنیاد سمجھتے ہوئے اسے غزالی کی جعلی حدیث قرار دیتے ہیں، جس میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف جھوٹی نسبت دی گئی ہے۔[7]

وفات

حضرت عائشہ نے 10 شوال سنہ 58 ہجری یا (57 ھ) کو 66 سال کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی۔ ابو ہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔[8] بعض نے تاریخ وفات کو رمضان کی 17 تاریخ قرار دیا ہے۔[9]

حضرت عائشہ کی علت وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل سنت ان کی موت کو طبیعی موت قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے معاویہ کو آپ کے قتل میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاویہ نے اپنے مکر و چالاکی سے ایک گڑھا کھودا اور عائشہ کو اس میں گرا دیا۔[10] اور اس کی علت معاویہ کی طرف سے یزید کے لیے بیعت مانگنے پر حضرت عائشہ کا اعتراض قرار دیتے ہیں۔[11] ان لوگوں کے نزدیک قتل کا یہ واقعہ ذی‌ الحجہ کی آخری تاریخ کو واقع ہوا ہے۔[12]

حضور پاکؐ سے شادی

عائشہ رسول خداؐ کی بیویوں میں سے ایک ہیں جن سے آپؐ نے خدیجہ کی وفات اور سودہ بنت زمعۃ بن قیس کے بعد شادی کی۔[13]اور یہ مشترک زندگی 9 سال پانچ مہینے تک جاری رہی۔[14] پیغمبر اکرمؐ سے شادی کی تاریخ معلوم نہیں ہے لیکن یہ شادی حضرت خدیجہؑ کی رحلت کے بعد ہونے میں سب کا اتفاق ہے لیکن پیغمبر اکرمؐ کی مدینہ ہجرت سے دو یا تین سال پہلے ہو‎ئی ہے اس میں اختلاف ہے۔[15] بعض گزارشات میں ذکر ہے کہ آپؐ کی عائشہ سے شادی، سودہ کی شادی سے پہلے ہوئی ہے، لیکن بعض زیادہ مشہور روایات کی بنا پر عا‎ئشہ سے شادی کرنے سے پہلے، سودہ سے شادی ہو‎ئی تھی۔[16] منقول ہے کہ عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ ابوبکر کے پاس گئیں اور عائشہ کے باپ سے شادی کی بات کی اور گیارہ بعثت کو شوال کے مہینے میں حضورؐ نے عائشہ سے شادی کی۔[17]اور 400 درہم حق مہر رکھا۔[18]

شادی کے وقت عمر

عائشہ کی پیغمبر اکرمؐ سے شادی کے وقت کی عمر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس طرح سے کہ شادی کے وقت عا‎ئشہ کی عمر چھ سے 18 سال کے درمیان تھی۔[19] مشہور تاریخی منابع کے مطابق پیغمبر اکرم سے شادی کے وقت عا‎ئشہ کی عمر چھ یا سات سال تھی[20] لیکن رخصتی اس کے چند سال بعد مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی بعد اس وقت ہوئی جب عائشہ کی عمر نو سال سے زیادہ ہوگئی۔[21]

اس طرح سے بعض محققین کا کہنا ہے کہ مختلف تاریخی کتابوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عائشہ کی عمر پیغمبر اکرمؐ سے شادی کے وقت 18 سال تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ عائشہ ابتدائی مسلمانوں میں سے ہے اور بعثت کے ابتدائی دنوں میں بچی تھیں۔ ان کے مطابق اگر بعث کے وقت عائشہ کی عمر سات برس رہی ہوگی تو شادی کے وقت 17 تھی۔[22]

سید جعفر مرتضی عاملی عایشہ کی کم عمری کو قبول نہیں کرتے ہیں اور شادی کے وقت ان کی عمر کو تیرہ سے سترہ کے درمیان صحیح مانتے ہیں۔ وہ ابن اسحاق کے نقل کے مطابق، عائشہ کا شمار ان افراد میں کرتے ہیں جنہوں نے ابتدائے بعثت میں اٹھارہ لوگوں کے بعد اسلام قبول کیا ہے یعنی وہ اسلام لانے والی انیسویں فرد ہیں۔ جعفر مرتحضی مزید لکھتے ہیں: اگر بعثت کے وقت ان کی عمر سات سال فرض کی جائے تو عقد کے وقت اب کی عمر سترہ سال اور ہجرت کے وقت 20 سال ہوتی ہے، مگر یہ کہ قبول اسلام کے وقت ان کی عمر سات سال سے بھی کم مانی جائے۔[23]

افک کا واقعہ

تفصیلی مضمون: واقعۂ افک

عائشہ سے نقل مشہور روایت کے مطابق سنہ 5 ہجری میں غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر اسلامی فوج جب آرام کرنے رک گئی تو عا‎ئشہ رفع حاجت کی غرض سے کچھ فاصلے پر گئیں اور گلے کا ہار گم ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ ڈھونڈنے میں مصروف رہیں جبکہ لشکر میں کسی کو بھی عا‎ئشہ کے وہاں پر نہ ہونے کا علم نہیں تھا اور فوج روانہ ہوئی اس خیال سے کہ عا‎ئشہ کجاوے میں موجود ہیں اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ عا‎ئشہ جب واپس پلٹیں تو دیکھا سب چلے گئے ہیں اور وہ جگہ خالی ہوگئی ہے۔ وہ اسی مقام پر رک گئیں یہاں تک کہ صفون بن معطل نامی ایک شخص پہنچا اور اس نے اپنا اونٹ عا‎ئشہ کے حوالے کیا اور ان کو لشکر تک پہنچایا۔ یہ واقعہ بعض اصحاب کو عا‎ئشہ کے بارے میں بدگو‎ئی کرنے کا سبب بنا اور عا‎ئشہ کے کردار کشی کرنے والا یہ ٹولہ اسلامی متون کے مطابق منافقوں کا گروہ تھا یہاں تک کہ قرآن کریم نے سورہ نور کی بعض آیتوں(آیہ 11 سے 26 تک) میں پاک دامن خواتین پر تہمت لگانے کو گناہ کبیرہ قرار دیا اور عائشہ کو اس سے بری سمجھا اور تہمت لگانے والوں کی مذمت کی۔[24]

اہل سنت ان آیتوں کو عائشہ کی فضیلت قرار دیتے ہوئے انہیں دوسری ازواج رسول سے برتر سمجھتے ہوئے خود عائشہ اور اس کے رشتہ داروں سے ان کی برتری کو نقل کرتے ہیں۔ جیسا کہ نقل ہوا ہے: رسول اللہ کی سب سے محبوب بیوی عائشہ ہے۔[25] اس کے باوجود بعض شیعہ علماء اگرچہ ان آیات کو عائشہ کے بارے میں نقل ہونے کو مانتے ہیں لیکن اسے عائشہ کے لیے فضیلت نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ صرف الزام کو اس سے دور کیا ہے اور کچھ نہیں۔[26] جبکہ بعض لوگ ان آیتوں کو ماریہ قبطیہ کے بارے میں قرار دیتے ہیں جو فرزند رسول خدا ابراہیم کی موت کے بعد نازل ہوئی ہیں۔[27]

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد عائشہ کی زندگی کے بارے میں چند مرحلوں میں تحقیق کی جاسکتی ہے۔

شیخین کا دور

عائشہ، ابوبکر و عمر کی خلافت کے دوران بلا واسطہ سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرتی تھیں لیکن پیغمبر اکرم کی بیوی، پہلے خلیفہ کی بیٹی ہونے کے ناطے معاشرے میں بڑی حیثیت کی حامل تھیں اور خلیفہ اول اور دوم کی مورد توجہ تھی۔ بعض شیعہ مؤلفین کے مطابق ابوبکر کے خلیفہ بنانے میں بھی ان کا کردار تھا اور پیغمبر اکرم کی حیات کے آخری دنوں میں اپنے باپ کی خلافت کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور اسی طرح سے ابوبکر اور عمر کی فضیلت میں پیغمبر اکرم سے بعض روایات نقل کرکے ان دونوں کی خلافت کو مضبوط کرنے میں مدد کی۔[28] اور احادیث، فتوی کو فکری اور فقہی حمایت میں بیان کرکے دونوں خلیفوں کی سیاست کو تقویت پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔[29] اس کے مقابلے میں ایسی گزارشیں بھی ملتی ہیں کہ پہلے دو خلیفوں کی طرف سے عا‎ئشہ کے لیے تحفہ تحا‎ئف اور بیت المال سے دوسری ازواج نبی سے زیادہ رقم دی جاتی تھی۔[30] خلیفہ دوم کا عقیدہ تھا کہ عائشہ کو پیغمبر اکرم باقی زوجات کی نسبت زیادہ چاہتے تھے اسی لئے دوسروں کی نسبت انہیں دو ہزار درہم زیادہ دیتے تھے۔[31] اور یہ کام شیعوں کی نظر میں بے عدالتی ہے۔[32]

عثمانؓ کا دور

دوسرے خلیفہ کی وفات اور عثمان کے خلافت پر آنے کے بعد عائشہ کی زندگی نئے موڈ میں داخل ہوئی اور اسلامی معاشرے میں بڑا سیاسی کردار ادا کیا۔[33] خلافت کے ابتدا‎ئی دنوں میں عا‎ئشہ کا عثمان کے ساتھ رابطہ صحیح رہا یہاں تک کہ عائشہ ان کی فضیلت میں احادیث بیان کرنے لگیں۔[34] لیکن خلافت کے دوسرے حصے میں یہ رابطہ کم ہوتا گیا اور آخر کار دشمنی اور عثمان کے قتل کی سرپرستی تک جا پہنچا۔[35] جو چیز عائشہ اور خلیفہ سوم کے اختلافات کا سبب بنی وہ عثمان کی طرف سے عائشہ کو عمر کے زمانہ میں بیت المال سے ملنے والے وظیفہ میں کمی کرنا تھا، عثمان نے ان کا وظیفہ بھی دیگر ازواج کے برابر کر دیا جبکہ عمر کے زمانہ میں انہیں سب سے زیادہ وظیفہ ملتا تھا۔ یہ چیز عایشہ کی تاراضگی کا سبب بنی۔[36] اسی طرح سے ولید بن عقبی کا واقعہ، جو عثمان کا رشتہ دار ان کی طرف سے کوفہ کا والی تھا، اور اسی طرح سے دیگر ظلم جو عثمان نے بعض اصحاب جیسے؛ عبداللہ بن مسعود، عمار، ابوذر اور جندب وغیرہ پر کئے۔ اس کی وجہ سے یہ سب چیزیں سیاسی اور فکری طور پر ان دونوں کے باہمی اختلافات کا باعث بنیں۔[37]

انہوں نے اپنے بیانات میں جو کچھ ان کے اور عثمان کے درمیان مسجد نبوی میں پیش آیا تھا اس پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔[38] عثمان نے بھی انہیں نوح اور لوط کی بیویوں سے تشبیہ دی جنہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی اور جہنم چلی گئیں۔ اس جملے پر عائشہ نے سخت موقف انتخاب کیا اور «اُقْتُلوا نَعْثَلاً فَقَدْ کَفَر» (یعنی اس نادان بوڑھے کو قتل کر دو، یہ کافر ہوگیا ہے) کہتے ہوئے عثمان کو موت کے لائق قرار دیا۔[39]

امام علیؑ کا دور

تفصیلی مضمون: جنگ جمل

عا‎ئشہ امام علیؑ کے مخالفین میں سے تھیں۔ بعض مصنفین اس اختلاف کی ابتداء کو پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کے دوران تک لے گئے ہیں۔[40] [41] اگرچہ مختلف گروہوں کو امام علیؑ کی خلافت کے خلاف جمع کرنے اور انہیں منظم کرکے ایک لشکر تیار کرنے سے جنگ جمل وجود میں آئی اور یہی علیؑ سے دشمنی کی واضح دلیل ہے، اگرچہ بعض اہل سنت مصنفوں نے اس کی وجہ مخالفوں کے بہکاو‎ے سے متاثر ہونا قرار دیا ہے، یا بصرہ پر فوجی چڑھا‎ئی کو عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا قرار دیا ہے نہ علی کی مخالفت، اور عا‎ئشہ کے اس فعل کو اجتہاد میں خطا قرار دیا ہے جس پر خود عا‎ئشہ بھی پشیمان تھیں۔[42] جبکہ شیعہ علما نے عثمان کا قصاص یا عائشہ کی پشیمانی کو نقد کرتے ہوئے اسے قبول نہیں کیا ہے۔[43]

عا‎ئشہ مکہ میں ہی تھیں جب انہیں عثمان کے قتل کی خبر ملی۔[44] انہوں نے عمرہ مکمل کیا اور مدینہ کا رخ کیا۔ لیکن جیسے ہی انہیں امام علی علیہ السلام کی خلافت کی خبر ملی وہ غصہ میں واپس مکہ چلی گئیں۔[45] ایک عرصے کے بعد جب طلحہ و زبیر مکہ پہنچے تو عرب قبیلوں سے کچھ جنگجو لیکر تینوں بصرہ کی طرف روانہ ہو‎ئے اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا[46] اور اس شہر پر قبضہ کرنے کے بعد امام علی علیہ السلام کی فوج سے نبرد آزما ہو‎گئے۔[47] عایشہ اس جنگ میں اونٹ پر ایک ہودج میں سوار تھیں جسے زرہوں سے ڈھانپا گیا تھا۔[48] اسی وجہ سے یہ جنگ جمل کے نام سے مشہور ہوئی۔

ایک نقل میں آیا ہے کہ عائشہ نے ام سلمہ کو بھی عثمان کے قصاص میں ساتھ دینے کی دعوت کی تو آپ نے اس کی دوغلی پالیسی کہ ایک طرف عثمان کو کافر کہتی ہے اور دوسری طرف اسے شہید قرار دیتے ہوئے اسے مظلوم قرار دے کر خونخواہی کا مطالبہ کرنے پر اعتراض کیا۔[49]

شیخ مفید کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی بیوی ہونے اور خلیفہ اول کی بیٹی ہونا سبب ہوا کہ امام علیؑ کے دشمن کی پوزیشن مضبوط ہو جائے۔[50] جنگ ختم ہونے کے بعد امام علیؑ نے عائشہ سے، جو کہ زخمی بھی ہوئی تھیں، سخت الفاظ میں بات کی اور محمد بن ابی بکر کو اپنی خواہر کے حالات سے باخبر رہنے کا حکم دیا پھر انہیں احترام کے ساتھ مدینہ لے آئے۔[51]

معاویہ کا دور

اگرچہ بعض نے بنی امیہ کے دور کو عائشہ کا خاموش دور قرار دیا ہے لیکن بعض نے عائشہ کی ان کے ساتھ ہمکاری کو فاش کیا ہے۔[52] اگرچہ ان کے بھائی محمد بن ابی بکر کو معاویہ نے بہت بری حالت میں قتل کرایا اور اس کی وجہ سے وہ اس پر لعنت بھیجتی تھیں۔[53] اسی طرح سے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو معاویہ نے قتل کرایا تھا۔ اس وجہ سے وہ اس کی مذمت کرتی تھیں۔[54] لیکن امام علیؑ کی شہادت کے بعد ان سے جا ملیں۔[55] معاویہ نے بھی خود کو عائشہ سے قریب کیا اور برابر انہیں تحفے بھیجنے لگا۔[56] کہا جاتا ہے کہ معاویہ نے ایک دفعہ انہیں ایک لاکھ دینار بھیجے اور ان کا اٹھارہ ہزار دینار کا قرضہ بھی ادا کیا۔[57]

امام حسنؑ کی تدفین

عائشہ کی زندگی میں انجام پانے والے اقدامات میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے جنازے کو پیغمبر اکرم (ص) کے پہلو میں دفن ہونے سے روکنا ہے۔[58] پیغمبر اکرم کے دفن کی جگہ عا‎ئشہ کا گھر ہے اور اس سے پہلے خلیفہ اول اور دوم بھی اسی مکان میں دفن ہو چکے تھے۔ امام حسن (ع) کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھا‎ئی کی وصیت کے مطابق آپ کے جسد اطہر کو پیغمبر اکرم کی قبر کے قریب دفن کرنا چاہا لیکن عا‎ئشہ نے مدینے کے گورنر مروان بن حکم کے ورغلانے پر ایسا کرنے سے منع کیا اور امام حسین (ع) لڑا‎ئی جھگڑے سے بچنے کے لیے اس اقدام سے منصرف ہوگئے۔[59] اور امام کے جنازے کو بقیع میں دفن کیا گیا۔[60] بعض کا کہنا ہے کہ جب عائشہ نے دیکھا کہ مروان بن حکم اور اس کے ساتھی اسلحہ کے ساتھ تشییع کرنے آئے ہیں اور یہ بڑا خطرناک مرحلہ تھا اس لئے انہوں نے وہاں پر دفن سے منع کیا۔[61]

عا‎ئشہ کی خصوصیات

اہل سنت کی حدیثی و تاریخی کتابوں میں عائشہ اور ان کے فضائل کے بارے میں خصوصی و تفصیلی بحث ہوئی ہے۔[62] [63] [64] ان میں انہیں اہل علم و ادب کے طور پر متعارف کیا گیا ہے۔ جسے انہوں نے اپنے والد سے حاصل کیا تھا اور وہ طب سے بھی آشنا تھیں۔[65] اسی طرح ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آیات، احکام، اسلامی سنن، شعر، عرب جنگوں، قضاوت، نسب شناسی کے بارے میں بھی علم رکھتی تھیں۔[66] آپ کی پیغمبر اکرمؐ سے شادی کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ آپؐ کی بیویوں میں سے صرف آپ غیر شادی شدہ تھیں۔[67] اہل سنت کی کتابوں میں پیغمبر اکرمؐ کی آپ سے محبت کے بارے میں بھی گزارشات ملتی ہیں اور انہیں پیغمبر اکرمؐ کی محبوب ترین اور خوبصورت ترین بیوی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[68] [69]

شیعوں کا نظریہ

شیعہ محققین نے عائشہ کے فضایل کو نقد اور رد کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں جو فضیلتیں بیان ہوئی ہیں وہ جعلی اور غلو پر مشتمل ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے عائشہ کی فضیلت تراشی اور محبوبیت سازی میں رسول اللہؐ کی ذات کی تحقیر اور انہیں قربانی کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔[70] اہل سنت نے جہاں عائشہ کی بہت فضیلتیں بیان کی ہیں ان کے برخلاف شیعوں نے انہیں بے ادب، بخیل اور حسد جیسے صفات سے متصف کیا ہے اور بعض دفعہ ان کی ان عادتوں کی وجہ سے پیغمبر اکرمؐ ناراض اور غصہ بھی ہوئے ہیں اور بعض موقعوں پر تو ان سے شکوہ بھی کیا ہے۔[71] [72]

شیعوں کے مطابق عائشہ کی پیغمبر اکرمؐ کی دوسری بیویوں کی نسبت حساسیت اور حسد کی بنیاد پر کئے جانے والے اقدامات ناپسندیدہ عمل تھے۔[73] عائشہ کے حسد کے واقعات میں سے ایک جو تاریخ میں ذکر ہوا ہے وہ پیغمبر اکرمؐ کی دوسری بیویاں خاص کر حضرت خدیجہؑ سے حسد کرنا ہے اور اس بارے میں اہل سنت کی کتابوں میں بھی مختلف جگہوں پر ذکر آیا ہے۔ خود ان سے ہی نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کا خدیجہ کے نام لینے پر حسد کرتی تھیں۔[74] اور اسی طرح ماریہ قبطیہ سے بھی حسد کرتی تھیں جب ان کے یہاں بیٹا ہوا۔[75] اور یہ بھی نقل ہوا ہے کہ ان کی حسد کرنے سے پیغمبر اکرمؐ ناراض ہوتے تھے۔[76]
شیعوں نے عائشہ کی خوبصورتی اور پیغمبرؐ کے نزدیک محبوبیت کے بارے میں بھی کہا ہے کہ چونکہ ان روایات میں سے اکثر خود عائشہ یا ان کے بھتیجے عروہ بن زبیر سے نقل ہوئی ہیں، اس لئے ان روایات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے اور ان کی خوبصورتی اور محبوبیت کے رد میں بہت سارے دلائل بھی پیش کئے ہیں۔[77]

عائشہ کی اہانت کی حرمت کا فتوی

لندن میں مقیم کویتی شیعہ عالم یاسر الحبیب کی طرف سے عائشہ کی توہین اور لعن کرنے پر احساء سعودی عرب کے بعض علماء نے آیت‌ اللہ خامنہ‌ای سے زوجۂ رسول خدا، عائشہ کے بارے میں اس طرح کے توہین آمیز اور تحقیر آمیز کلمات کے بارے میں اپنی نظر بیان کرنے کی درخواست کی تو آپ نے اس سوال کے جواب میں یوں فرمایا: اہل سنت برادران کے مقدسات منجملہ پیغمبر اکرمؐ کی زوجہ (عائشہ) پر تہمت لگانا حرام ہے۔ اس موضوع میں تمام انبیاء کی بیویاں خاص کر سید الانبیاء حضرت محمدؐ کی ازواج شامل ہیں۔

اس فتوی کا دنیا میں خاص کر اسلامی دنیا میں بڑا استقبال ہوا۔[78]

نقل حدیث میں کردار

عائشہ، پیغمبر اکرم کی روایات اور سیرت نقل کرنے والوں میں سے ہیں۔ ان سے منقول روایات کی تعداد 2210 تک ہے۔[79] جبکہ پیغمبر اکرمؐ کی دوسری تمام ازواج نقل شدہ روایات کی مجموعی تعداد محض 612 ہے۔ مسند احمد بن حنبل میں 2270 احادیث ان سے نقل ہوئی ہیں اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کے قفہی ابواب میں 1200 روایات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے 290 کی راوی عائشہ ہیں۔ لہذا اس بناء پر اہل سنت قائل ہیں کہ ایک چوتھائی شریعت کو عایشہ حمل کئے ہوئے ہیں۔[80] ان سے نقل ہونے والی کچھ حدیثں شیعہ محققین کی طرف سے مورد نقد قرار پا‎ئی ہیں۔[81]

کتاب‌ شناسی

علامہ عسکری کی کتاب

عائشہ کے بارے میں اب تک بہت ساری کتابیں دنیا کی مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں اور بہت سارے شیعہ و سنی علما نے اس بارے میں قلم فرسائی کی ہے۔ بعض متاخرین کی کتب جن میں اسلام میں ان کے کردار کے بارے میں بحث ہوئی ہے، مندرجہ ذیل ہیں:

  • أحادیث ام المؤمنین عایشۃ (2 جلد) تالیف سید مرتضی عسکری۔ اس کتاب کا فارسی ترجمہ نقش عائشہ در احادیث اسلام کے عنوان سے ہوا ہے۔
  • عائشہ در دوران علی علیہ‌السلام تالیف: سید مرتضی عسکری
  • نقش عائشہ در تاریخ اسلام تالیف: سید مرتضی عسکری، سید علی اختر رضوی نے تاریخ اسلام میں عائشہ کا کردار کے نام سے اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔
  • عائشہ در صحاح ستہ تالیف: حسین طیبیان
  • عائشہ در حیات محمدؐ تالیف: سپہروز مولودی

حوالہ جات

  1. طبقات الکبری، ج۸، ص۴۷؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۴۰۹
  2. عسکری، نقش عائشہ در احادیث اسلام، ج۱، ص۴۵؛ ابن حجر، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۸، ص۲۳۱.
  3. ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۶۸؛ ابن ابی ‌الحدید، شرح نہج‌ البلاغہ، ۱۳۷۸ق، ج۱۴، ص۲۲.
  4. ابن طولون، الائمۃ الاثنا عشر، ص۱۳۱.
  5. دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۳ق، ص۸۲.
  6. الفتنی، تذکرۃ الموضوعات، ص۱۹۶.
  7. عسکری، احادیث ام‌المؤمنین عائشۃ، ۱۴۱۸ق، ص۲۵و۲۶.
  8. ذہبی، تاریخ اسلام، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۱۶۴؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۵۲۰.
  9. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۶، ص۴۲.
  10. بیاضی، الصراط المستقیم، ۱۳۸۴ق، ج۳، ص۴۸.
  11. حر عاملی، اثبات الہداۃ، ۱۴۲۵ق، ج۳، ص۴۰۲.
  12. سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۵۰۳.
  13. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۸۱.
  14. ابن حزم، جوامع السیرۃ النبویۃ، ص۲۷.
  15. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۲، ص۲۳۵؛ ابن حجر، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۸، ص۲۳۲.
  16. ابن سعد، طبقات الکبری، ج۸، ص۴۶؛ ابن قتیبہ، المعارف، ص۱۳۳-۱۳۴؛صالحی شامی، سبل الہدی، ج۱۱، ص۴۵؛ ابن قتیبہ، المعارف، ۱۴۱۰ق، ص۱۳۳-۱۳۴؛ صالحی شامی، سبل الہدی، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۴۵.
  17. ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۶۸.
  18. سہیلی، الروض الانف، ۱۴۱۲ق، ج۷، ص۵۳۴.
  19. ابن حجر، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۸، ص۲۳۲؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۲، ص۱۹۱.
  20. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۴۷-۴۸
  21. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۲، ص۶۴۴؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۸، ص۴۷-۴۸.
  22. تقی ‌زاده داوری، تصویر خانواده پیامبر در دائرة المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۹۲-۹۳.
  23. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۸۵-۲۸۷.
  24. نک: ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۲، ص۲۹۷-۳۰۲ ؛ بخاری، صحیح بخاری، ج ۵، ص۲۲۳-۲۲۷؛
  25. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۸، ص۶۸.
  26. طباطبایی، المیزان، ج۱۵، ص۱۴۴.
  27. یوسفی غروی، موسوعہ التاریخ الاسلامی، ج ۳، ص۳۵۰؛ عاملی، الصحیح من سیرہ النبی الاعظم، ج۱۲، ص۳۲۰، ۳۲۶
  28. واردی، نقش ہمسران رسول خدا در حکومت امیر مومنان، ص۱۱۴
  29. تقی ‌زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃالمعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۱۵.
  30. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۵۳
  31. ابن هشام، السیرة النبویة، ج۲، ص۶۷.
  32. تقی زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر، ص۱۱۵-۱۱۶
  33. تقی ‌زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃ المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۱۷.
  34. مسلم، صحیح مسلم، ج۷، ص۱۱۷.
  35. عسکری، نقش عائشہ در تاریخ اسلام، ج۱، ص۱۵۰.
  36. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۱۷۵.
  37. تقی‌ زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃ المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۲۰.
  38. ابن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۲۱
  39. طبری، تاریخ طبری، ج۳، ص۴۷۷.
  40. واردی، نقش ہمسران رسول خدا در حکومت امیر مومنان، ص۱۰۳؛ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۲۶
  41. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۲۶.
  42. ندوی، سیرہ السیدہ عائشہ‌ام المومنین،‌ ص۱۸۹-۱۹۲
  43. سید مرتضی، الذخیرہ، ۱۴۱۱ق، ص۴۹۶؛ مفید، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۳ق، ص۱۴۱.
  44. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۴، ص۴۴۸
  45. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۴،ص۴۵۹
  46. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج۱، ص۷۱-۷۲
  47. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۱۸۰-۱۸۱
  48. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۳۳۴.
  49. ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۴۵۴.
  50. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۲۶و۲۲۷.
  51. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۱۶۰-۱۶۹. ۳۶۹-۳۸۲.
  52. تقی‌ زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دائرۃ المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۲۶.
  53. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۰۵.
  54. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۲۵۷.
  55. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۰۵؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۵، ص۲۵۷.
  56. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۳۶و۱۳۷.
  57. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۴۱۷ق، ج۸، ص۱۳۶.
  58. ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲.
  59. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۲۵؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۴، ص۱۴۱
  60. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۶.
  61. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۶۱.
  62. مراجعہ کریں: ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۶، ص۱۸۹-۱۹۱؛ ابن حجر، فتح الباری، ج۷، ص۸۳؛ صالحی شامی، سبل الہدی و الرشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۱۶۴
  63. ابن حجر، فتح الباری، ج۷، ص۸۳.
  64. صالحی شامی، سبل الهدی و الرشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱۱، ص۱۶۴.
  65. ابن حنبل، مسند احمد، ج۶، ص۶۷؛ حاکم نیشابوری، مستدرک حاکم،
  66. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۸۳.
  67. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۴۰۹.
  68. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ج۸، ص۶۸.
  69. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۹۹.
  70. تقی ‌زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دایرۃ المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۱۰۱و۱۰۲.
  71. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۲، ص۲۲۷؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۹۰؛تقی‌ زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دایرۃ المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۹۷و۱۰۱-۱۰۴
  72. تقی ‌زاده داوری، تصویر خانواده پیامبر در دایرة المعارف اسلام، ۱۳۸۷ش، ص۹۷و۱۰۱-۱۰۴.
  73. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۹۱.
  74. مسلم بن حجاج نیشابوری، صحیح مسلم، ج ۴، ص۱۸۸۹
  75. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۸۷.
  76. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج ۴ ص۲۷۸و۲۷۹.
  77. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۲۸۹-۲۹۱.
  78. (عائشہ یا اہل سنت کے کسی بھی مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔) توہین بہ عائشہ و ہر یک از نمادہای اہل‌سنت حرام است. خبر گزاری خبر آنلاین. تاریخ انتشار: دوشنبہ ۱۲ مہر ۱۳۸۹.
  79. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰، ج۶، ص۴۳.
  80. عسکری، احادیث ام المؤمنین عائشۃ، ۱۴۱۸ق، ص۳۲.
  81. عسکری، احادیث ام المومنین عائشہ، طیبیان، عائشہ در صحاح ستہ.


مآخذ

  • ابن الاثیر، عز الدین (م۔۶۳۰)، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، ‌دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹۔
  • ابن اثیر، علی بن أبی الکرم (۶۳۰ق)،الکامل فی التاریخ، تحقیق عمر عبد السلام تدمری، ‌دار الکتاب العربی، بیروت، لبنان، الطبعۃ: الأولی، ۱۴۱۷ق۔
  • ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی (۵۹۷ ق)، زاد المسیر فی علم التفسیر المکتب الإسلامی، بیروت، الطبعۃ: الثالثۃ، ۱۴۰۴ق۔
  • ابن سعد، محمد (م۔۲۳۰)، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبد القادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبداللہ (م۔۴۶۳)، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، ‌دار الجیل، ۱۴۱۲/۱۹۹۲۔
  • ابن قتیبہ، عبداللہ بن مسلم (م۔۲۷۶)، المعارف، تحقیق ثروت عکاشۃ، القاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، ط الثانیۃ، ۱۹۹۲
  • ابن قتیبہ، عبداللہ بن مسلم (م۔۲۷۶)، الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۰ق۔
  • ابن قیم، محمد بن أبی بکر، إعلام الموقعین عن رب العالمین، تحقیق طہ عبد الرؤوف سعد،‌ دار الجیل، بیروت، ۱۹۷۳۔
  • ابن قیم، محمد بن أبی بکر أیوب، الأمثال فی القرآن الکریم، تحقیق إبراہیم محمد، مکتبۃ الصحابۃ، طنطا، مصر،۱۴۰۶، الطبعۃ الأولی۔
  • ابن ہشام، عبدالملک (م۲۱۸)، السیرہ النبویہ، تحقیق مصطفی السقا و ابراہیم الأبیاری و عبد الحفیظ شلبی، بیروت،‌ دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • أبی حیان، محمد بن یوسف (۷۴۵ ق)، تفسیر البحر المحیط، تحقیق الشیخ عادل أحمد عبد الموجود، ‌دار الکتب العلمیۃ، لبنان، بیروت، الطبعۃ الأولی، ۱۴۲۲ق۔
  • ابن خلکان، أحمد بن محمد بن إبراہیم بن أبی بکر ابن خلکان برمکی إربلی (۶۸۱ ق)، وفیات الأعیان وأنباء أبناء الزمان، محقق إحسان عباس، دار صادر، بیروت۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم، مصر، دار الحیاء الکتب العربیہ، ۱۳۸۷ش۔
  • ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، علی بن الحسین بن محمد بن أحمد بن الہیثم المروانی الأموی القرشی، أبو الفرج الأصبہانی (۳۵۶ق)، المحقق السید أحمد صقر،‌ دار المعرفۃ، بیروت۔
  • بابایی، احمد علی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔
  • بخاری، محمد بن إسماعیل (۲۵۶ق)، صحیح البخاری،، تحقیق د۔ مصطفی دیب البغا،‌دار ابن کثیر، الیمامۃ، بیروت، الطبعۃ الثالثۃ، ۱۴۰۷ش۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الأشراف، ج۱، تحقیق محمد حمید اللہ، مصر، ‌دار المعارف، ۱۹۵۹۔
  • تقی زادہ داوری، تصویر خانوادہ پیامبر در دایرہ المعارف اسلام، قم، شیعہ شناسی۔
  • ثعالبی، عبد الرحمن بن محمد (۸۷۵ق)، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، بیروت۔
  • ثعلبی، أحمد بن محمد (۴۲۷ق)، الکشف والبیان، أبی محمد بن عاشور، ‌دار إحیاء التراث العربی-بیروت، الطبعۃ: الأولی، ۱۴۲۲ھ-۲۰۰۲ء۔
  • حسین فاطمی، سید علی، نقد و بررسی دیدگاہ‌ہای موجود دربارہ افشای راز پیامبر(ص) در آیات ابتدایی سورہ تحریم، مجلہ تاریخ در آینہ پژوہش، شمارہ۱۱، پاییز ۸۵۔
  • زمخشری، محمود بن عمر جار اللہ، الکشاف عن حقائق التنزیل، تحقیق عبد الرزاق المہدی، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ اسلام، تحقیق تدمری،‌ دار الکتاب العربی، بیروت، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق۔
  • سمرقندی، نصر بن محمد (۳۶۷ق)، بحر العلوم، تحقیق د۔ محمود مطرجی،‌ دار الفکر، بیروت۔
  • سید بن طاوس، الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطوائف، الخیام، قم، چاپ اول، ۱۳۹۹ق۔
  • صالحی الشامی، محمد بن یوسف (۹۴۲م۔ق)، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیر العباد، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، ‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۴۔
  • عاملی، جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۶ق۔
  • سید مرتضی عسکری، عسکری،‌ مرتضی، احادیث ام المومنین عا‎ئشہ، بیروت، مجمع العلمی الاسلامی۔
  • عسکری، سید مرتضی، نقش عا‎ئشہ در تاریخ اسلام، ترجمہ عطا سردارنیا، تہران، مجمع علمی اسلامی۔
  • قرطبی، ابوعبد اللہ محمد بن أحمد (۶۷۱ق)، الجامع لأحکام القرآن، ‌دار الشعب القاہرۃ۔
  • مسلم نیشابوری، مسلم بن الحجاج (۲۶۱ہ)، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی،‌ دار إحیاء التراث العربی، بیروت۔
  • مقاتل بن سلیمان (متوفای۱۵۰ق)، تفسیر مقاتل بن سلیمان، تحقیق أحمد فرید،‌ دار الکتب العلمیۃ، لبنان، بیروت، الطبعۃ الأولی، ۱۴۲۴ق۔
  • نباطی، علی من محمد، الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم، محقق رمضان، میخائیل، المکتبۃ الحیدریۃ، نجف، چاپ اول، ۱۳۸۴ق۔
  • ندوی، سلیمان، سیرہ السیدہ عائشہ‌ام المومنین، ترجمہ بہ عربی محمد رحمہ اللہ حافظ الندوی، دمشق،‌ دار القلم، ۲۰۱۰ء۔
  • نیشابوری، حسن بن محمد (۷۲۸ق)، تفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان، تحقیق الشیخ زکریا عمیران،‌ دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، الطبعۃ: الأولی، ۱۴۱۶ق۔
  • واردی، تقی، نقش ہمسران رسول خدا در حکومت امیر مومنان، قم، بوستان کتاب،
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب (م۔۲۹۲)، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا
  • یوسفی غروی، محمد ہادی، موسوعہ التاریخ الاسلامی، قمع مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۲۳ق۔