بعثت

wikishia سے
اسلام
اللہ
اصول دین توحید • عدل  • نبوت  • امامت  • قیامت
فروع دین نماز  • روزہ  • حج  • زکٰوۃ  • خمس  • جہاد  • امر بالمعروف  • نہی عن المنکر  • تولی  • تبری
اسلامی احکام کے مآخذ قرآن  • سنت  • عقل  • اجماع  • قیاس(اہل سنت)
اہم شخصیات پیغمبر اسلامؐ  • اہل بیت  • ائمہؑ  • خلفائے راشدین(اہل سنت)
اسلامی مکاتب شیعہ: امامیہ  • زیدیہ  • اسماعیلیہ  •
اہل سنت: سلفیہ  • اشاعرہ  • معتزلہ  • ماتریدیہ  • خوارج
ازارقہ  • نجدات  • صفریہ  • اباضیہ
مقدس شہر مکہ  • مدینہ  • قدس  • نجف  • کربلا  • کاظمین  • مشہد  • سامرا  • قم
مقدس مقامات مسجد الحرام  • مسجد نبوی  • مسجد الاقصی  • مسجد کوفہ  • حائر حسینی
اسلامی حکومتیں خلافت راشدہ  • اموی  • عباسی  • قرطبیہ  • موحدین  • فاطمیہ  • صفویہ  • عثمانیہ
اعیاد عید فطر  • عید الاضحی  • عید غدیر  • عید مبعث
مناسبتیں پندرہ شعبان  • تاسوعا  • عاشورا  • شب قدر  • یوم القدس

بعثت حضرت محمدؐ کو پیغمبری پر مبعوث ہونے اور ان کی رسالت کے آغاز کو کہا جاتا ہے جو 27 رجب، چالیس عام الفیل کو واقع ہوا۔ اسی لئے شیعہ 27 رجب کو عید مبعث کے عنوان سے مناتے ہیں۔ رسول اکرم کی بعثت دینِ اسلام کا آغاز اور حجاز کی سرزمین سے بت پرستی ختم ہونے کی ابتدا تھی۔

بعث کا معنی

بعثت، خدا کی طرف سے کسی شخص کا پیغمبری کے لئے منتخب ہونے اور اس کی نبوت کے آغاز کو کہا جاتا ہے۔ اگرچہ بعثت تمام انبیاءؑ کا نبوت پر مبعوث ہونے کو کہا جاتا ہے لیکن اس لفظ سے حضرت محمدؐ کا انتخاب ذہن میں آتا ہے۔[1] اسی لئے اسلامی تہذیب میں مبعث یا عید مبعث اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت محمدؐ رسالت پر مبعوث ہوئے۔[2]

غار حراء جہاں پیغمبر اکرمؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی

بعثت عربی میں نکالنے کے معنی میں آیا ہے۔[3] اسی طرح بھیجنے[4] اور روانہ کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے۔[5] بعثت قرآن کریم میں لوگوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کو بھیجنے کے معنی میں آیا ہے۔[6] اسی طرح قرآن کریم میں قیامت کے دن مردوں کے زندہ ہونے کو بھی بعثت سے تعبیر کیا گیا ہے۔[7]

پیغمبر اکرمؐ کی بعثت کا زمان اور مکان

تفصیلی مضمون: حضرت محمدؐ اور اسلام

پیغمبر اکرمؐ 40 سال کی عمر میں مبعوث بہ رسالت ہوئے جبکہ غیر مشہور قول کے مطابق 43 سال کی عمر میں مبعوث ہوئے۔[8] مورخین کے مطابق بعثت کا واقعہ پیر کے دن 27 رجب سنہ 40 عام الفیل کو پیش آیا ان دنوں ایران میں خسرو پرویز کی حکومت بیسویں سال میں داخل ہو چکی تھی۔ بعض قول کے مطابق روز مبعث 17 یا 18 رمضان، یا ربیع الاول کے مہینے کی کسی تاریخ کو یہ واقعہ پیش آیا، اگرچہ اہل تشیع کے نزدیک 27 رجب ہے۔[9] رسول اکرمؐ غار حرا میں نبوت پر فائژ ہوئے۔

رسول اللہ کی بعثت کے آغاز کا واقعہ

حضرت محمدؐ غار حراء میں عبادت میں مشغول تھے اسی اثنا میں سورہ علق کی پہلی چند آیتوں کے نزول کے ساتھ آپؐ کی بعثت کا آغاز ہوا اور سورہ مدثر کی چند آیتوں کے نزول کے ساتھ وحی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔[10]پیغمبر اکرمؐ نے سب سے پہلے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ(س) اور اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؑ کو اس واقعے سے آگاہ فرمایا۔ اس واقعے کے تین سال بعد سورہ شعراء کی آیت نمبر 214 وَأَنذِرْ عَشِیرَتَک الْأَقْرَبِینَ (ترجمہ: اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے) کے نزول کے ساتھ آپؐ کی رسالت اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی اور اسی سال سورہ حجر کی آیت نمبر 94 فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکینَ (ترجمہ: پس جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے اسے انجام دو اور مشرکان سے دوری اختیار کرو) کے نزول کے ذریعے آپؐ کو اپنی پیغمبری کا عمومی اعلان کرتے ہوئے اپنی دعوت کے دائرہ کو وسیع کرنے کا حکم آیا یوں آپؐ نے پہلی بار بازار عکاظ[نوٹ 1] میں جہاں پر سب لوگ تجارت کے لئے جمع تھے اور کچھ لوگ بلندی پر چڑھ کر اپنے نئے اشعار اور مختلف قصے سنانے میں مشغول تھے، عمومی طور پر دین اسلام کی دعوت دی۔[حوالہ درکار] ابو لہب اور بعض دوسروں نے اس کی پیروی کرتے ہوئے آپؐ کو اذیت وآزار پہنچائی لیکن حضرت ابوطالب نے آپؐ کی حمایت کرتے ہوئے ان لوگوں کی تنبیہ کی۔[11]

وحی کے فرشتے کا نزول اور پیغمبر کرمؐ کا عکس العمل

امام علیؑ: پیغمبرؐ ہر سال غار حرا میں کچھ عرصہ قیام فرماتے تھے اور وہاں میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا۔اس وقت رسول اللہ اور (ام المومنین)حضرت خدیجہ کے گھر کے علاوہ کسی گھر کی چار دیواری میں اسلام نہ تھا البتہ ان میں تیسرا شخص تھا، میں وحی اور رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سونگھتا تھا۔

حضرت محمدؐ پر پہلی مرتبہ وحی، جبرائیل لے کر آئے تو رسالت کے اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ آپ پر سنگینی کر رہا تھا۔ رسول اکرمؐ بچپن سے ہی آپ اپنی اندرونی پاکی اور مکہ کے فاسد معاشرے کی وجہ سے ہمیشہ شہر سے دور اکیلا ہی رہنا پسند فرماتے تھے۔ اسی لئے آپ ایک مہینہ مکے کے اطراف پہاڑوں پر گزارتے اور پھر شہر واپس لوٹتے اور عالم غیب کے بارے میں بھی کچھ خواب دیکھے ہوئے تھے، بعثت سے پہلے وحی کی آواز فرشتے کی زبانی سننا اور ٣ سال اسرافیل اور ٢٠ سال جبرائیل سے رابطہ برقرار رکھنے[12] کی وجہ سے آپ ذھنی طور پر پیغمبری کے لئے تیار تھے۔ البتہ بعض ایسی روایات بھی ہیں جن میں پیغمبر اکرمؐ کا وحی اور فرشتوں سے ارتباط کے بارے میں ناآشنا بیان کرتی ہیں: رسول اکرمؐ کا وحی پر تعجب، یا پریشانی سا خائف ہونا یا جن زدگی کا خوف محسوس کرنا، خدیجہ سے مشورہ کرنا اور ورقہ بن نوفل سے پیغمبری پر مبعوث ہونے کی شہادت اور تائید لینا اور اس پر رسول اللہؐ کا سکون محسوس کرنا اس طرح کی روایات کا مضمون ہے۔[13]اس طرح کی روایات آپؐ کی رسالت کی اس بھاری ذمہ داری میں آپکی بصیرت و بینش اور آپ کی رسالت کے لئے ہونے والی تربیت کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔[14]

مسلمانوں میں بعثت کی اہمیت

بعثت کا واقعہ مسلمانوں کی رسومات میں ایک خاص منزلت رکھتا ہے۔ شیعہ 27 رجب کو عید مبعث کی مناسبت سے جشن مناتے ہیں۔ اہل سنت کے مطابق بعثت کا واقعہ ماہ مبارک رمضان میں پیش آیا لیکن چونکہ کوئی خاص تاریخ معین نہیں لہذا کوئی خاص جشن وغیرہ نہیں مناتے ہیں۔[حوالہ درکار] ایران اور عراق کے بعض صوبوں [15] میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔

اعمال

شب و روز کے اعمال

روایات میں مبعث کی رات اور دن کے بعض اعمال ذکر ہوئے ہیں جن کو انجام دینا مستحب ہے۔

مبعث کے دن اور رات کے اعمال
رات کے اعمال

بعثت کی شب کو لیلۃ المحیاٗ کہا جاتا ہے جو شب بیداری کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ [16]

دن کے اعمال

حوالہ جات

  1. ملاحظہ ہو: مطیع، «بعثت»، ص۷۹-۲۸۰.
  2. ہمایی، «مبحث بعثت رسول اکرمؐ»، ص۴۴.
  3. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۸ش، ج۱، ص۲۹۶.
  4. فراهیدی، کتاب العین، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۱۲.
  5. راغب اصفهانی، معجم مفردات الفاظ القرآن، ۱۴۱۲ق، ص۱۳۲-۱۳۳.
  6. سورہ بقرہ، آیت 213؛ سورہ نحل، آیت 36؛ سورہ اسراء، آیت 17.
  7. سورہ یس، آیت 52؛ سورہ بقرہ، آیت 56؛ سورہ حج، آیت 7۔
  8. یعقوبی،احمد، تاریخ، جلد۲، ص۱۵؛ ابن اثیر، الکامل، جلد ۲، ص۴۶؛ ابن کثیر، السیره النبویہ، جلد ۱، ص۳۸۵
  9. مجلسی، بحارالأنوار، ۱۳۶۳ش، ص۱۸، ص۱۹۰؛ عاملی، الصحيح من سیرة النبی الأعظم، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۹۰.
  10. ابن هشام، السیره النبویه، ج۱، ص۲۳۶-۲۳۷؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۶؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۲۹۸
  11. یعقوبی، احمد، تاریخ، جلد ۲، ص۱۷- ۱۸
  12. یعقوبی، تاریخ، ج۲، ص۱۶؛ نیز ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۴۶-۵۰.
  13. ابن هشام، السیره النبویه، ج۱، ص۲۳۸؛ یعقوبی، تاریخ، ج۲، ص۱۷؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۲۹۹
  14. مرتضی عاملی، الصحیح، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۲۹۸-۳۰۲؛ سبحانی، فروغ ابدیت، ۱۳۸۵ش، ص۲۲۳-۲۲۵.
  15. http://www.alshuhadaa.com/readtxt7186.htm
  16. دائرة المعارف تشیع، ج۸، ص ۱۷۶
  17. دائرة المعارف تشیع، ج۸، ص ۱۷۶
  1. عُکاظ مکہ کے ایک بازار کا نام ہے۔ (عرفات کے قریب اور مکہ تک تین دین کا جبکہ طائف تک ایک دن کا راستہ تھا۔) لوگ پہلی مرتبہ یکم ذی القعدہ کو بازارِ عکاظ جاتے تھے اور 20 دن تک وہاں رہتے تھے۔ ان دنوں بازار میں بڑا رش ہوتا تھا اور متعدد معاملے ہوتے تھے، شعرا اشعار پڑھتے تھے۔ عرب قبائل کے سردار وہاں جمع ہوکر ایک دوسرے پر فخرفروشی کرتے تھے اور کبھی عیش و نوش میں مشغول ہوتے تھے۔ یہ بازار طائف سے دس میل کے فاصلے پر صنعا کے راستے پر واقع تھی۔ اور چونکہ جاہلیت کے حالات سے سازگار اور جاہلیت کے لئے قابل قبول بازار تھا اس لئے جاہلیت کا مشہور بازار شمار ہوتا تھا۔ابن منظور، لسان العرب، ج۷، ص۴۴۸ نشر دارصادر، بيروت، طبع سوم۱۴۱۴ھ

مآخذ

  • قرآن کریم، تنزیل ویب سائٹ.
  • نہج البلاغہ، ترجمہ عبد المحمد آیتی، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۷ش.
  • ابن اثیر، الکامل
  • ابن کثیر، السیره النبویہ، بہ کوشش مصطفی عبد الواحد، بیروت، ۳۸۳ق /۹۶۴ء
  • ابن ہشام، عبد الملک، السیره النبویہ، بہ کوشش مصطفی سقا و دیگران، قاہره، ۳۵۵ق /۹۳۶ء
  • راغب اصفہانی، حسین، المفردات فی غریب القرآن، بہ کوشش محمد سید کیلانی، بیروت، دار المعرفہ
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران: امیر کبیر، ۱۳۶۹.
  • شہیدی، بعثت، در بعثت نامہ: مقالاتی درباره بعثت پیامبر اکرمؐ، گردآورنده: محمد رصافی، تہران: صبح صادق، ۱۳۸۳ش.
  • طبری، تاریخ
  • مطیع، مہدی، بعثت، در دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۲ تہران: مرکز دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۸۳ش.
  • همایی، جلال الدین، مبحث بعثت رسول اکرمؐ، در بعثت نامہ: مقالاتی درباره بعثت پیامبر اکرمؐ، گردآورنده: محمد رصافی، تہران: صبح صادق، ۱۳۸۳ش.