عصائے موسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عصاء موسی امامت کی امانتوں میں سے ہے اور حضرت موسی علیہ السلام کے بعض معجزے، اسی کے ذریعہ ظاہر ہوتے تھے، نیز یہ عصا، گذشتہ انبیاء کی میراث میں سے تھا کہ جو حضرت آدم ؑ سے حضرت شعیب تک پہنچا۔ اس کے بعد حضرت موسی تک آیا اور یہاں تک کہ امام زمانہ ؑ کے ظہور کے وقت، حضرت کے اختیار میں ہوگا۔ اس عصا کے سلسلے میں قرآن مجید اور قصص انبیاء سے متعلق کتب میں واقعات اور داستانیں نقل ہوئی ہیں۔

قرآن کی روشنی میں

عصائے حضرت موسی کے سلسلے میں کچھ معجزوں کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے:

  • سانپ میں تبد یل ہو جانا، جس وقت حضرت موسی عہدہ رسالت پر فائز ہوئے تھے۔[1]
  • اژدہا میں تبدیل ہو جانا، فرعون کے دربار میں۔[2]
  • جادوگروں کے جادو کو نگل لینا۔[3]
  • عصا کو دریا (دریائے نیل) پہ مارنا اور راستہ بن جانا تاکہ بنی اسرائیل، فرعون کے شر سے نجات پا جائیں۔[4]
  • عصا کو پتھر پہ مارنا اور پانی کے بارہ چشمے جاری ہونا (بنی اسرائیل قوم کے لئے)[5]

روایات کی روشنی میں

فریقین کی کتب میں اس عصاء کے نام، جنس، خصوصیت اور استعمال کے بارے میں مختلف مطالب بیان ہوئے ہیں۔[6] امام محمد باقر علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: حضرت موسی کا عصاء حضرت آدم جنت سے زمین پر لیکر آئے تھے اور یہ عصاء جنت کے عوسج (جنتی درخت کی ایک قسم) سے تھا۔[7] ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت موسی کا عصا، لکڑی کا تھا اور وہ جنت کے درخت مُورد (انار کے درخت سے مشابہ) سے تھا۔[8]

بعض تاریخی معلومات کے مطابق، حضرت شعیب علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا: گھر کے اندر جائیے اور ایک عصاء اٹھائیے۔ چنانچہ جب حضرت موسی (ع) اندر گئے تو حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کا عصاء حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ میں آگیا اور جب آپ اسے لیکر حضرت شعیب کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: اس کو واپس کرو اور کوئی دوسرا عصاء لو۔ موسی (ع) اس عصاء کو لے گئے اور دوسرے عصاءوں کے درمیان رکھ دیا جیسے ہی دوسرا عصاء اٹھانا چاہا وہی عصا پھر حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ میں آگیا اور تین بار ایسا ہی اتفاق ہوا! حضرت شعیب نے جب اس منظر کو دیکھا تو فرمایا: اے موسی؛ اس عصاء کو لے لیجئے، کیونکہ خداوند عالم نے اس عصاء کو آپ سے مخصوص کیا ہے۔[9]

عصائے موسی، ائمہ معصومین کے پاس

یہ عصا، نبوت کی میراث میں سے ہے۔ اس کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: عصائے موسی، حضرت آدم کی ایک یادگار تھا اور وہ شعیب نبی تک پہونچا ان کے بعد، موسی تک پہونچا اور اس وقت ہمارے پاس موجود ہے، میں نے اسے نزدیک سے دیکھا ہے وہ سبز رنگ کا تھا جیسے اسی دن درخت سے کاٹا گیا ہو۔ جب اس سے بات کروگے تو وہ بھی بات کریگا، اور وہ ہمارے قائم (امام مہدی عج) کے لئے مہیا ہوا ہے اور وہ اس کے ذریعہ، جو کچھ موسی انجام دیتے تھے انجام دینگے۔[10] امام جعفر صادق علیہ السلام بھی اس سلسلے میں فرماتے ہیں: عصائے موسی ہمارے پاس ہے۔ (میراث میں سلسلہ وار ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔)[11]

متعلقہ مضمون

حوالہ جات

  1. سوره قصص، آیہ31۔
  2. سورہ شعراء، آیه32.
  3. سوره شعراء، آیات46و 45.
  4. سوره شعراء، آیہ63.
  5. سوره بقره، آیہ60.
  6. مجلسی، بحار الانوار،1390ھ، ج13، ص60؛ ثعالبی، قصص الأنبیاء، 2007ھ، ص176.
  7. مجلسی، تاریخ پیامبران، 1388ش، ج۱،ص609.
  8. طبرسی، مجمع البیان، 1379ھ، ج4، ص250.
  9. مجلسی، تاریخ پیامبران، 1388ش، ج1، ص603؛ راوندی، قصص الانبیاء، 1409ھ، ص152.
  10. کلینی، الکافی، 1381ھ، ج1، ص231؛ مجلسی، بحار الانوار، ج52، ص318.
  11. کلینی، الکافی، 1381ھ، ج1، ص231.


مآخذ

  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، مکتبة الصدوق، 1381ھ.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1390ھ.
  • مجلسی، محمد باقر، تاریخ پیامبران علیهم السلام حیوة القلوب، تہران، آدینہ سبز، 1388ش.
  • ثعالبی، أبی إسحاق أحمد النیشابوری، قصص الأنبیاء (عرائس المجالس) دار الکتب العلمیة، بیروت،2007ھ.
  • راوندی، قطب الدین، قصص الانبیاء، مشہد، آستان قدس رضوی، 1409ھ.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمعُ البیان فی تفسیر القُرآن، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، 1379ھ.