اخلاق
اخلاقی آیات
آیات افکآیہ اخوتآیہ اطعامآیہ نبأآیہ نجواآیہ مشیتآیہ برآیہ اصلاح ذات بینآیہ ایثار
اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراجحدیث جنود عقل و جہل
اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصخشیتحلمزہدشجاعتعفتانصافاصلاح ذات البینعیب‌پوشی
اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتسخن‌چینیتہمتبخلعاق والدینحدیث نفسعجبعیب‌جوییسمعہقطع رحماشاعہ فحشاءکفران نعمت
اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقاستدراج
علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیمیرزا جواد ملکی تبریزیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیسید عبدالحسین دستغیبعبدالکریم حق‌شناسعزیزاللہ خوشوقتمحمدتقی بہجتعلی‌اکبر مشکینیحسین مظاہریمحمدرضا مہدوی کنی
اخلاقی مآخذ
قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءرسالہ لقاءاللہ (کتاب)مجموعہ وَرّامجامع السعاداتمعراج السعادۃالمراقبات

توبہ قرآن اور روایات میں مکررا استعمال ہونے والی اصطلاحات میں سے ایک ہے جس کے معنی بندے کا خدا کی طرف لوٹ آنا ہے۔ قرآن میں 69 آیات میں توبہ کے موضوع پر بحث ہوئی ہے جن میں توبہ کرنے والے کے ساتھ خدا کی مہربانی اور رحمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بندوں کو "توبہ نصوح" یعنی سچے دل سے خالص توبہ کرنے کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ احادیث میں بھی توبہ کی اہمیت اور اس کے مقام کو مورد تائید قرار دتے ہوئے توبہ کرنے میں تأخیر سے منع کیا گیا ہے۔ احادیث کے دوسرے حصے میں گناہوں کو حق اللہ اور حق الناس میں تقسیم کرتے ہوئے گناہ کے دونوں اقسام سے توبہ کرنے کی راستوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

توبہ مختلف درجات رکھتی ہے؛ سب سے پہلا درجہ گناہوں سے توبہ کرنا ہے جبکہ غفلت سے توبہ کرنا، غیر خدا پر توکل کرنے سے توبہ کرنا اور خدا کے علاوہ دوسروں کے مشاہدے سے توبہ کرنا وغیرہ اس کے بالاترین درجات میں سے ہیں۔

امام صادق(ع) کا فرمان

توبہ خدا کی رسی، خدا کی مدد اور بندوں پر خدا کے لطف و کرم کی وسعت کی نشانی ہے اور بندوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں توبہ کرنا چاہئے۔ ہر گروہ کی ایک خاص توبہ ہوا کرتی ہے؛ انبیاء الہی کی توبہ باطنی اضطراب اور اطمینان کی حالت کے دگرگون ہونے سے، اولیائے الہی کی توبہ تصورات کی رنگینی سے، خدا کے برگزیدہ افراد کی توبہ غفلت، فراغت اور استراحت سے، خدا کے مخصوص افراد کی توبہ غیر خدا کے ساتھ مشغول ہونے سے اور عوام الناس کی توبہ گناہ، معصیت اور خلاف ورزی سے ہے۔

مصباح الشریعہ، ترجمہ مصطفوی، ص۳۵۲

لغوی اور اصطلاحی معنی

توبہ کے معنی "واپسی" اور "لوٹ آنے" کے ہیں۔[1] قرآن میں یہ لفظ کبھی انسان کیلئے اور کبھی خدا کیلئے مختلف حروف اضافت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ یہ فعل جب انسان کی طرف نسبت دے کر جب کہا جاتا ہے "تابَ إلَی اللہ" تو اس کے معنی بندے کا گناہ سے ہاتھ اٹھاکر خدا کی طرف واپس آنے کے ہیں۔[2] اور جب اس فعل کو خدا کی طرف نسبت دے کر کہا جاتا ہے کہ "تابَ اللہ عَلَیہ" تو اس کے معنی بندے کی نسبت خدا کی مغفرت اور بخشش کے ہیں یا بندے کو خدا کی طرف سے توبہ کی توفیق عطا کرنے کے ہیں۔فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَبِّه کلِماتٍ فَتابَ عَلَیه إِنَّه هوَ التَّوَّابُ الرَّحیمُ (ترجمہ: اس کے بعد آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ دعا کے کلمات (حاصل کئے) تو اس نے ان کی توبہ قبول کی کیونکہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔) [3][4] [یادداشت 1]

توبہ قرآن کریم کی روشنی میں

توبہ اور اس کے مشتقات قرآن میں 87 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں اور قرآن کے نویں سورہ کو توبہ کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں توبہ کی قبولیت کو ان اشخاص کے ساتھ مختص کیا گیا ہے جنہوں نے نادانی میں کسی گناہ یا معصیت کا ارتکاب کیا ہو لیکن جیسے ہی وہ اس گناہ اور معصیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔إنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللَّه لِلَّذینَ یعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَہالَةٍ ثُمَّ یتُوبُونَ مِنْ قَریبٍ فَأُولئِک یتُوبُ اللَّه عَلَیهمْ وَ کانَ اللَّه عَلیماً حَکیماً (ترجمہ: توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔)[5] لیکن وہ لوگ جو موت کے آثار نمایاں ہونے تک گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب موت کے آثار نمودار ہوتے ہیں تو توبہ کرتے ہیں، ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی ہےوَ لَیسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذینَ یعْمَلُونَ السَّیئاتِ حَتَّی إِذا حَضَرَ أَحَدَهمُ الْمَوْتُ قالَ إِنِّی تُبْتُ الْآنَ وَ لاالَّذینَ یمُوتُونَ وَ همْ کفَّارٌ أُولئِک أَعْتَدْنا لَهمْ عَذاباً أَلیماً (ترجمہ: ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔) [6]

توبہ ہمیشہ گناہ کے بعد نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں ایک جگہ اعلان ہوتا ہے کہ خداوند متعال پیغمبر اکرم(ص)، مہاجرین اور انصار جنہوں نے خدا کی فرمانبرداری کی ہے کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔[7] یہاں توبہ کی قبولیت کا تذکرہ ہے بغیر اس کے کہ کسی گناہ کا ذکر ہوا ہو، لہذا توبہ کبھی گناہ کے بعد ہے اور کبھی اس سے مراد کسی چیز یا شخص پر خدا کی رحمت اور نگاہ کرم کے ہیں۔

خدا اور بندہ دونوں کی طرف توبہ کی نسبت

سورہ توبہ کی آیت نمبر 118 وَ ظَنُّو´ا أَنْ لامَلْجَأَ مِنَاللّه الاّ ´اِلَیه ثُمَّ تابَ عَلَیهمْ لِیتُوبُو´ا اِنَّاللّه هوَ التَوّابُ الرَّحیم (ترجمہ: اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے تو اللہ نے ان کی طرف توجہ فرمائی کہ وہ توبہ کر لیں اس لئے کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔) میں بندہ کی توبہ خدا کے دو توبوں کے درمیان واقع ہوئی ہے اس معنی میں کہ شروع میں خدا بندہ کی طرف لوٹ آتا ہے اور اسے توبہ کی توفیق دیتا ہے پھر بندہ توبہ کرتا ہے اس وقت خدا بندے کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے معاف کر دیتا ہے۔[8]

توبہ نصوح(خالص توبہ)

قرآن کی ایک آیت میں لوگوں سے خدا کی طرف "سچے دل سے خالص توبہ" کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے: یا أَیها الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّه تَوْبَةً نَصُوحا (ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی بارگاہ میں (سچے دل سے) خالص توبہ کرو۔) [9] لفظ نصوح کا اصلی مادہ "نصح" اور آیت کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ لفظ "نصوح" کے معنی "پاک اور خالص"،[10] یا "دائمی" یا "مستحکم"[11][12] کے ہیں۔ اس بنا پر "توبہ نصوح" سے مراد ایسی توبہ ہے جو خلوص نیت کے ساتھ ہو یا ایسی توبہ ہے جو ہمیشہ کیلئے ہو اور اسے کبھی بھی نہ توڑے۔ یہی دوسرا معنی زیادہ مشہور ہے۔ اسی وجہ سے توبہ نصوح کو ایسی توبہ قرار دیا گیا ہے کہ جس میں توبہ کرنے والا ہمیشگی اور استقامت کا قصد رکھتا ہو۔[13]

احادیث کی روشنی میں توبہ نصوح کی بنیادی شرط یہ ہے کہ توبہ کرنے والا اس گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے،[14] اور اس قسم کے توبہ کا ثمرہ توبہ کرنے والے کے گناہوں کا اس طرح معاف ہونا ہے کہ اس کا کوئی اثر کسی بھی گواہ کے یہاں باقی نہ رہے، نہ انسان کے اعمال پر نظارت کرنے والے فرشتوں کے یہاں اور نہ انسان کے اعضاء و جوارح کے یہاں اور نہ اس گناہ کے مرتکب ہونے والی حگہ پر۔[15]

توبہ احادیث کی روشنی میں

پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان

عَلامَةُ التّائِبِ فَاَربَعَةٌ: اَلنَّصیحَةُ لِلّہ فی عَمَلِہ وَ تَركُ الباطِلِ وَ لُزومُ الحَقِّ وَ الحِرصُ عَلَی الخَیرِ؛۔توبہ کرنے والے کی چار نشانیاں ہیں: خدا کیلئے خالص عمل انجام دینا، باطل کو چھوڑ دینا، حق پر پایند رہنا اور کار خیر کو انجام دینے میں حریص ہونا۔

تحف العقول، ص۲۰

شیعہ اور سنّی دونوں فریق کی کتابوں میں بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں توبہ کی حقیقت، اس کی اہمیت، خدا کے نزدیک توبہ اور توبہ کرنے والوں کی محبوبیت اور توبہ کرنے والوں کے ساتھ خدا کے عشق واشتیاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[16] مثلا ایک حدیث میں آیا ہے کہ خداوند متعال توبہ کرنے والے کو تین خصوصیات عطا کرتا ہے کہ اگر ان میں سے صرف ایک خصوصیت آسمان اور زمین میں رہنے والی تمام مخلوقات کو دی جاتیں تو اس کے ذریعے سب کے سب نجات پاتے۔ [17] دوسرے اہم نکات جو اس حوالے سے احادیث میں بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں: توبہ کرنے میں تأخیر سے منع،[18] یہ کہ گناہ پر اصرار کرنا توبہ کا مزاق اڑانے کے مترادف ہے،[19] اور توبہ پر ہمیشہ کیلئے قائم رہنا وغیرہ۔ مختلف گناہوں سے توبہ کرنے کے احکام اور شرائط کے بارے میں بھی بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں۔ [20]

بعض احادیث کے مطابق خدا کی طرف سے توبہ کی قبولیت کیلئے ائمہ معصومین علیہم‌السلام کی ولایت شرط ہے۔[21]

توبہ اسلامی فقہ میں

تمام اسلامی فرقوں کے فقہی کتابوں میں گناہوں سے فورا توبہ کرنے کے واجب ہونے پر ہمیشہ تاکید کی گئی ہے۔[22][23]

بعض فقہا نے توبہ کے خاص آداب بھی ذکر کئے ہیں۔ مثلا بعض نے غسل توبہ کو بھی مستحب غسلوں[24][25] اور نماز توبہ کو مستحب نمازوں میں شمار کیا ہے۔[26]

مختلف گناہوں سے توبہ

فقہی کتابوں میں گناہ کی اقسام، ہر گناہ سے توبہ کرنے کا طریقہ اور دنیاوی مجازات میں توبہ کے اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ گناہ صرف حق اللہ ہے یا اس میں حق اللہ کے علاوہ حق الناس کا پہلو بھی شامل ہے۔

حق اللہ

اگر کسی ایسے گناہ اور معصیت سے توبہ کر رہا ہو جس میں صرف حق‌اللّہ کا پہلو پایا جاتا ہو یعنی ایسی واجب عبادات میں سے ہو جسے جبران کیا جا سکتا ہو مثلا نماز یا روزہ‌ کی قضا، اس صورت میں ندامت اور گناہ کو ترک کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ واجب کو جبران کرنا بھی ضروری ہے اور اگر توبہ کے وقت اسے جبران کرنا ممکن نہ ہو تو جب بھی ممکن ہو اسے جبران کرنے کی نیت کرنا ضروری ہے اور اگر موت کے آثار نمایاں ہونے لگے تو اس کی وصیت کرنا واجب ہے۔[27] اگر ترک کرنے والے واجبات کی تعداد معلوم نہ ہو تو اتنی مقدار میں اس واجب کو جبران کرنا ضروری ہے جس مقدار کے بارے میں یقین ہو۔ [28]

اگر کوئی شخص کسی ایسے گناہ کا مرتک ہوا ہو جس پر شریعت میں حد یا تعزیر معین ہو (مثلا زناکاری یا شراب خواری) اور حاکم شرع کے پاس اس کا گناہ ثابت ہونے سے پہلے اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ہے اور اس پر سے حد یا تعزیر ساقط ہو جائے گی۔ [29] ایسے مواقع پر گناہ کا اقرار کرنا واجب نہیں بلکہ اس کا اقرار نہ کرنا مستحب ہے۔[30] لیکن اگر حاکم کے ہاں اس کا گناہ اپنی اعتراف کی وجہ سے ثابت ہو جائے پھر وہ اس گناہ سے توبہ کرے تو اسے پر حد جاری کرنے یا اسے بخش دینے میں حاکم کو اختیار ہے چنانچہ حاکم شرع کے ہاں اس کا گناہ دو عادل گواہ کی گواہی سے ثابت ہو گئی ہو پھر اس کے بعد وہ توبہ کرے تو اس پر سے حد یا تعزیر ساقط نہیں ہوگی۔[31]

اگر کوئی شخص ایسی گناہ کا مرتکب ہوا ہو جس پر شریعت میں کوئی حد یا تعزیر معین نہ ہو (جیسے جھوٹ جس سے کسی کو کوئی ضرر نہ پہنچے) تو توبہ کیلئے پشیمانی اور گناہ کو ترک کرنے کا ارادہ کافی ہے۔[32]

حق الناس

پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان

اَلْعَدْلُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی الاُمَراءِ اَحْسَنُ، وَ السَّخاءُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی الاَغْنیاءِ اَحْسَنُ، اَلْوَرَعُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی الْعُلَماءِ اَحْسَنُ، اَلصَّبْرُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی الْفُقَراءِ اَحْسَنُ، اَلتَّوبَةُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی الشَّبابِ اَحْسَنُ، اَلْحَیاءُ حَسَنٌ وَلكِنْ فِی النِّساءِ اَحْسَنُ؛عدالت اچھی چیز ہے لیکن حکمرانوں کیلئے بہتر ہے، سخاوت اچھی ہے لیکن ثروت مند کیلئے بہتر ہے، تقوی اچھی ہے لیکن علماء کیلئے بہتر ہے، صبر اچھا ہے لیکن فقراء کیلئے بہتر ہے، توبہ اچھی ہے لیکن جوانوں کیلئے بہتر ہے اور حیا اچھی ہے لیکن عورتوں کیلئے بہتر ہے۔

نہج الفصاحہ ص۵۷۸، ح ۲۰۰۶

ہر وہ گناہ جس میں حق اللہ کا پہلو پایا جاتا ہے اگر ان میں حق الناس کا پہلو بھی پایا جاتا ہو تو ان گناہوں میں پشیمانی اور گناہ کو ترک کرنے کے ارادے کے ساتھ خدا کے حق کو جبران کیا جا سکتا ہے لیکن حق الناس کے حوالے سے ان گناہوں کی کئی حالتیں ہو سکتی ہیں:

  • اگر گناہ زبان سے متعلق ہو (جیسے قَذْفْ(کسی پر زنا کی تہمت لگانا، تہمت اور غیبت‌ وغیرہ) تو جس شخص کے حوالے سے وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے اس سے معافی مانگنا ضروری ہے۔ یہاں پر بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر جس کے اوپر تہمت یا جس کے اوپر قذف یا جس کی غیبت کی ہے اسے اس چیز کا علم نہ ہو تو اس سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں بلکہ بہتر ہے کہ اس کے حق میں استغفار کیا جائے اور خدا کی بارگاہ میں توبہ کی قبولیت اور قیامت کے دن اس گناہ کے سزا سے نجات پانے کی دعا کی جائے۔[33]
  • ایسے گناہ جس میں کسی کو جسمانی طور پر کوئی نقصان پہچایا گیا ہو (مثلا تھپڑ مارنا یا قتل کرنا) تو اس صورت میں قصاص اور دیہ جیسے احکام جاری ہونگے مگر یہ کہ متعلقہ شخص معاف کر دے۔[34]
  • ایسے گناہ جن میں کسی کو کوئی مالی نقصان پہنچایا ہو (مثلا چوری، کم‌فروشی اور ربا وغیرہ) تو اس صورت میں مالی نقصان کو جبران کرنا واجب ہے اس تفصیل کے مطابق جو فقہی کتابوں میں درج ہیں۔[35]

باطل اعتقادات سے توبہ

باطل اعتقادات کے بارے میں اگر اپنے علاوہ کسی غیر کو پتہ نہ چلا ہو تو خدا کی بارگاہ میں توبہ کرنا کافی ہے۔ لیکن اگر اس کے باطل اعتقادات سے دوسرے بھی آگاہ ہو گئے ہوں اور اس نے دوسروں کو بھی اس باطل عقیدے کی طرف دعوت دی گئی ہو تو ان تمام اشخاص کو جو اس کے باطل عقیدے سے آگاہ ہیں، اس عقیدے کے باطل ہونے اور اس سے ہاتھ اٹھانے سے دوسروں کو آگاہ کرے۔ اگر اس کے کہنے پر کسی نے اس باطل عقیدے پر ایمان لایا ہو تو انہیں اس عقیدے کے باطل ہونے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس عقیدے کو ترک کرنے کی دعوت دینا بھی واجب ہے۔[36]

بعض احادیث کے مطابق اگر کسی شخص نے معاشرے میں کسی بدعت کو رائج کیا ہو تو جب تک یہ بدعتگزار ان تمام لوگوں کو جو اس بدعت کی وجہ سے گمراہ ہو گئے ہیں، اس بدعت کے باطل ہونے سے آگاہ نہیں کرتا اور انہیں راہ راست کی طرف دعوت نہیں دیتا اس کی توبہ قابل قبول نہیں ہے۔ [37]

ارتداد سے توبہ

فقہ امامیہ میں مرتد فطری کی توبہ اس دنیا میں قابل قبول نہیں ہے لیکن اگر اس نے سچے دل سے خالص توبہ کی ہے تو خدا کے ہاں یہ توبہ قبول ہوگی۔ [38] مرتد ملی کو پہلے توبہ کرنے کا کہا جائے گا اگر اس نے قبول نہ کیا اور توبہ نہ کی تو اس پر حد ارتداد جاری کیا جائے گا۔[39][40]

مراتب توبہ

توبہ کے کئی درجات ہیں: کفر سے توبہ، گناہان کبیرہ سے توبہ، گناہان صغیرہ سے توبہ، فکر گناہ سے توبہ، ترک اولی سے توبہ، غفلت سے توبہ، غیر خدا سے توبہ، انبیاء کی توبہ جو باطنی اضطراب اور دگرگونی سے توبہ ہے۔ قَالَ الصَّادِقُ(ع): التَّوْبَةُ حَبْلُ اللَّہ وَ مَدَدُ عِنَایتِہ وَ لابُدَّ لِلْعَبْدِ مِنْ مُدَاوَمَةِ التَّوْبَةِ عَلَی كُلِّ حَالٍ وَ كُلُّ فِرْقَةٍ مِنَ الْعِبَادِ لَہمْ تَوْبَةٌ فَتَوْبَةُ الْأَنْبِیاءِ مِنِ اضْطِرَابِ السِّرِّ وَ تَوْبَةُ الْأَوْلِیاءِ مِنْ تَلْوِینِ الْخَطَرَاتِ وَ تَوْبَةُ الْأَصْفِیاءِ مِنَ التَّنْفِیسِ وَ تَوْبَةُ الْخَاصِّ مِنَ الِاشْتِغَالِ بِغَیرِ اللَّہ تَعَالَی وَ تَوْبَةُ الْعَامِّ مِنَ الذُّنُوبترجمہ:توبہ خدا کی رسی، خدا کی مدد اور بندوں پر خدا کے لطف و کرم کی وسعت کی نشانی ہے اور بندوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں توبہ کرنا چاہئے۔ ہر گروہ کی ایک خاص توبہ ہوا کرتی ہے؛ انبیاء الہی کی توبہ باطنی اضطراب اور اطمینان کی حالت کے دگرگون ہونے سے، اولیائے الہی کی توبہ تصورات کی رنگینی سے، خدا کے برگزیدہ افراد کی توبہ غفلت، فراغت اور استراحت سے، خدا کے مخصوص افراد کی توبہ غیر خدا کے ساتھ مشغول ہونے سے اور عوام الناس کی توبہ گناہ، معصیت اور خلاف ورزی سے ہے۔[41][42]

نوٹ

  1. فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَبِّهِ کلِماتٍ فَتابَ عَلَیهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحیمُ

حوالہ جات

  1. الصحاح جوہری؛ ابن‌منظور، لسان العرب، ذیل «توب»
  2. مجمع البیان طبرسی؛ محمدحسین طباطبائی، المیزان، ذیل مائدہ‌: ۷۴؛ اعراف‌: ۱۴۳؛ ہود: ۳
  3. سورہ بقرہ/آیت=۳۷
  4. اساس البلاغہ زَمَخْشَری‌، ج۱، ص۸۴؛ ابن‌منظور، لسان العرب ذیل توبہ؛ تاج العروس مرتضی زَبیدی‌، ذیل «توب»
  5. سورہ نساء/آیت =17
  6. سورہ نساء/آیت=18
  7. توبہ/ ۹/۱۱۷
  8. طوسی‌، التبیان؛ طبرسی‌، ۱۴۱۸ـ۱۴۲۰؛ محمدحسین طباطبائی‌، ذیل آیہ‌
  9. سورہ تحریم، آیت=8
  10. عبری و آرامی: گزنیوس، ص۶۶۳
  11. عبری: ہمانجا
  12. زامیت، ص۴۰۲
  13. طبری،ج۲۸، ص۱۶۸؛ کلینی، ج۲، ص۴۳۲؛ راغب، ذیل نصح؛ طبرسی، ج۱۰، ص۶۲-۶۳؛ قرطبی، ج۸، ص۲۲۷، ج۱۸، ص۱۹۷
  14. کلینی‌، ج۲، ص۴۳۲؛ بحارالانوار، ج۶، ص۳۹
  15. بحارالانوار، ج۶، ص۲۸
  16. کلینی‌، ج۲، ص۴۳۵؛ حرّ عاملی‌، ج۱۶، ص۷۳؛ مجلسی‌، ج۶، ص۱۹، ۲۱، ۲۹، ۴۲
  17. کلینی‌، ج۲، ص۴۳۲ـ۴۳۳؛ حرّ عاملی‌، ہمانجا
  18. بحارالانوار‌، ج۶، ص۳۰
  19. وسائل الشیعہ، حرّ عاملی‌، ج۱۶، ص۷۴
  20. بحارالانوار، ج۷۲، ص۳۲۹؛ ج۲، ص۲۹۷؛، ج۶، ص۲۳
  21. بحارالانوار، ج۲۷، ص۲۰۰، ج۷۵، ص۲۲۵
  22. نووی، روضہ...، ج۱۱، ص۲۴۹
  23. شہید ثانی، مسالک...، ج۱۰، ص۸؛ نجفی، ج۳۳، ص۱۶۸
  24. ابوالصلاح، ص۱۳۵
  25. محقق، شرایع...، ج۱، ص۳۷
  26. محقق، المعتبر، ج۲، ص۳۷۴؛ ابن قدامہ، المغنی، ج۱، ص۴۳۸؛ابن عابدین، ج۲، ص۲۸؛ شروانی، ج۲، ص۱۱، ۲۳۸
  27. ابوالصلاح حلبی‌، الکافی فی‌الفقہ، ص۲۴۳؛ موسوی بجنوردی‌، ج۷، ص۳۱۹
  28. امام خمینی‌، تحریرالوسیلہ، ج۱، ص۴۱۱، مسئلہ ۱۰
  29. شیخ بہائی‌، جامع عباسی، ص۴۲۲
  30. الموسوعہ‌الفقہیہ، ج۱۴، ص۱۲۱ـ۱۲۲
  31. شیخ بہائی‌، جامع عباسی، ص۴۲۱ـ۴۲۲
  32. موسوی بجنوردی‌، القواعد الفقہیہ، ج۷، ص۳۱۹
  33. موسوی بجنوردی‌، القواعد الفقہیہ، ج۷، ص۳۲۱ـ۳۲۲
  34. موسوی بجنوردی‌، القواعد الفقہیہ، ج۷، ص۳۲۰
  35. رجوع کنید بہ ابوالصلاح حلبی‌، الکافی فی الفقہ، ص۲۴۳؛ موسوی بجنوردی‌، القواعد الفقہیہ، ج۷، ص۳۱۹ـ ۳۲۰؛ امام خمینی‌، تحریرالوسیلہ، ج۲، ص۱۷۲
  36. امام خمینی‌، تحریرالوسیلہ، ج۱، ص۱۳۱
  37. مجلسی‌، بحارالانوار، ج۲، ص۲۹۷
  38. گلپایگانی‌، توضیح المسائل، ۱۴۰۹، ج۱، ص۴۱ـ۴۲
  39. امام خمینی‌، تحریرالوسیلہ، ج۲، ص۴۹۴ـ ۴۹۵
  40. الموسوعہ‌الفقہیہ، ج۱۴، ص۱۲۷ـ ۱۲۸
  41. مصباح الشریعہ، ص۹۷
  42. مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، ج۱، مراتب توبہ

مآخذ

  • قرآن کریم؛
  • ابن‌بابویہ‌، الامالی، قم ۱۴۱۷
  • ابوالصلاح حلبی‌، الکافی فی‌الفقہ، چاپ رضا استادی‌، اصفہان ?[۱۳۶۲ش]
  • محمدرضا گلپایگانی‌، توضیح‌المسائل، قم ۱۳۷۱ ش‌
  • الموسوعۃ الفقہیۃ، ج۱۴، کویت‌: وزارہ‌الاوقاف والشئون الاسلامیہ‌، ۱۴۰۸/۱۹۸۸
  • حسن موسوی بجنوردی‌، القواعد الفقہیہ، نجف ۱۹۶۹ـ۱۹۸۲، چاپ افست قم ۱۴۰۲
  • علی نمازی شاہرودی‌، مستدرک سفینہ‌البحار، تحقیق و تصحیح حسن نمازی‌، قم ۱۴۱۸ـ۱۴۱۹
  • حسین‌بن محمدتقی نوری‌، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم ۱۴۰۷ـ ۱۴۰۸
  • محمدبن حسین شیخ بہائی‌، جامع عباسی، تہران‌: انتشارات فراہانی‌، [بی‌تا.]
  • ابن بابویہ، محمد، المقنع، قم، ۱۴۱۵ق.
  • آقابزرگ، الذریعہ.
  • جوینی، عبدالملک، الارشاد، بہ کوشش اسعد تمیم، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • حاجی خلیفہ، کشف.
  • خواجہ عبداللہ انصاری، منازل السائرین، بہ کوشش عبدالغفور روان فرہادی، تہران، ۱۳۸۳ش.
  • خواجہ عبداللہ انصاری، صد میدان، بہ کوشش عبدالحی حبیبی، کابل، ۱۴۳۱ش.
  • راغب اصفہانی، حسین، مفردات الفاظ القرآن، بہ کوشش صفوان عدنان داوودی، دمشق/ بیروت، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • سہروردی، عمر، عوارف المعارف، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • سیدمرتضی، علی، الرسائل، بہ کوشش احمد حسینی و مہدی رجایی، بیروت، مؤسسہ النور.
  • سیوری، مقداد، ارشاد الطالبین، بہ کوشش مہدی رجایی و محمود مرعشی، قم، ۱۴۰۵ق.
  • شہید ثانی، مسالک الافہام، قم، ۱۴۱۳ق.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، بہ کوشش محمود قوچانی، تہران، ۱۳۹۴ق.
  • طبرسی، فضل، مجمع‌البیان، بیروت، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد، التبیان، بہ کوشش قصیرعاملی، نجف، ۱۳۸۳ق/۱۹۶۴م.
  • علامہ حلی،حسن، کشف المراد، بہ کوشش ابراہیم موسوی زنجانی، بیروت، ۱۳۹۹ق/۱۹۷۹م.
  • علامہ حلی، حسن، انوار الملکوت، بہ کوشش محمد نجمی‌زنجانی، تہران، ۱۳۳۸ش.
  • قانون مجازات اسلامی (ایران)، مصوب ۷/۹/۱۳۷۰ش.
  • کلینی، محمد، الکافی، بہ کوشش علی‌اکبر غفاری، تہران، ۱۳۹۱ق.
  • محقق حلی، المعتبر، بہ کوشش ناصر مکارم شیرازی و دیگران، قم، ۱۳۶۴ش.
  • محقق حلی، جعفر، شرایع الاسلام، بہ کوشش صادق شیرازی، تہران، ۱۴۰۹ق.
  • مشکور، محمدجواد، فرہنگ تطبیقی عربی با زبانہای سامی و ایرانی، تہران، ۱۳۵۷ش.
  • مصطفوی، حسن، مصباح الشریعہ، تہران: انجمن حکمت و فلسفہ ایران، ۱۳۶۰ش.
  • مفید، محمد، المقنعہ، قم، ۱۴۱۰ق.
  • مفید، محمد، اوائل المقالات، بہ کوشش ابراہیم انصاری، قم، ۱۴۱۳ق.
  • میبدی، احمد، کشف الاسرار، بہ کوشش علی‌اصغر حکمت، تہران، ۱۳۶۱ش.
  • نوبختی، ابراہیم، الیاقوت، بہ کوشش علی‌اکبر ضیایی، قم، ۱۴۱۳ق.
  • نہج‌البلاغہ، بہ کوشش علینقی فیض الاسلام، تہران، ۱۳۷۷ش.
  • تحف العقول عن آل الرسول(صلی اللہ علیہ وآلہ)، حسن بن شعبۃ الحرانی (م. قرن ۴ ق.)، بہ کوشش علی اکبر غفاری، دوم، قم، نشر اسلامی، ۱۴۰۴ ق.
  • نہج الفصاحة، پايندہ، ابو القاسم‏، دنياى دانش‏، تہران