ابراہیم بن محمد(ص)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابرہیم بن محمد بن عبداللہؐ
قبر ابراهیم پسر رسول خدا (ص).jpg
رسول خدا کے فرزند ابراہیم کی قبر
کوائف
مکمل نام ابرہیم بن محمد بن عبداللہؐ
تاریخ پیدائش ذی الحجہ سنہ 8 ہجری
محل زندگی مدینہ
نسب/قبیلہ قریش، بنی ہاشم
اقارب پیغمبر اکرم (ص)، ماریہ قبطیہ
وفات سنہ 10 ہجری
مدفن جنت البقیع
دینی معلومات

ابراہیم بن محمد (ص) (8۔10 ھ) ماریہ قبطیہ کے بطن سے رسول اللہ کے بیٹے ہیں۔ ان کی وفات دو سال کی عمر میں ہوئی اور ان کی وفات کے روز سورج کو گہن لگا تھا۔ رسول خدا نے کسوف اور بیٹے کی وفات کے باہمی ارتباط کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: سورج و چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتا ہے۔ ابراہیم بقیع میں عثمان بن مظعون کے پاس دفن ہیں۔

نسب اور ولادت


ابراہیم بن محمد بن عبدالله بن عبد المطلب فرزند پیغمبر اسلام ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ماریہ قبطیہ تھا جو ملوک مصر کی بیٹیوں میں تھیں۔ جنہیں رسول خدا کے خط کے جواب میں حاکم مصر نے تحائف کے ساتھ بھجوایا تھا۔[1]

ابراہیم ذی الحجہ سنہ 8 ہجری میں پیدا ہوئے۔ پیغمبر نے اپنے صحابہ سے فرمایا: میرے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ میں نے اس کا نام اپنے جد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔[2] آپ (ص) نے ابراہیم کی پیدائش کے ساتویں روز عقیقہ کیا۔ ان کے سر کے بال تراشے اور بالوں کے ہم وزن چاندی فقرا میں تقسیم کی۔[3]

ابراہیم کی ولادت کے موقع پر حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور آپ کو ابا ابراہیم کہہ کر سلام کیا۔[4] ابراہیم کی ولادت کے بعد رسول اللہ خوش ہوئے اور نو مولود حضرت عائشہ کو دکھاتے ہوئے فرمایا: دیکھو یہ بچہ کس قدر میرا ہمشکل ہے۔[5]

مربیہ

تاریخی روایات کی بنا پر ابراہیم کی مربیہ آنحضرت (ص) کی خادمہ سلمیٰ تھیں۔ ابراہیم کی ولادت کے بعد اس نے اپنے شوہر ابو رافع کو خبر دی اور اس نے رسول خدا کو آگاہ کیا۔ پیغمبر نے خوش ہو کر اسے ایک غلام بخشا۔[6]

ابراہیم کی ولادت کے بعد انصار کی خواتین اسے دودھ پلانے میں سبقت لے رہی تھیں۔ لیکن رسول خدا نے اس کے لئے ام بردة بنت منذر بن زید کا انتخاب کیا۔[7]

وفات

بقیع کا نقشہ و ابراہیم کا محل دفن

ایک قول کے مطابق ابراہیم کی وفات دہم یا آخر ربیع الاول سنہ 10 ہجری میں 16 ماه کی عمر میں ہوئی۔[8] ایک اور قول کے مطابق 18 ماہ کی عمر میں وفات ہوئی۔[9] ابن شہر آشوب کے مطابق ایک سال، دس مہینے اور آٹھ دن کی عمر میں ابراہیم کی وفات ہوئی اور بقیع میں عثمان بن مظعون (متوفی 2 ھ) کے پاس دفن ہوئے۔[10] رسول اللہ نے اس کی قبر پر ایک پتھر رکھا اور قبر پر پانی چھڑکا۔[11]

بیان ابن شہر آشوب

ابن شہرآشوب نے کتاب مناقب آل ابی طالب میں ابن عباس سے نقل کیا ہے: ایک روز رسول اللہ اپنے دامن میں اپنے فرزند ابراہیم اور حسین کو لئے بیٹھے تھے اس دوران جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: خدا تم پر سلام بھیجتا ہے اور کہتا ہے: ان دونوں کو اکٹھا نہیں رکھوں گا پس ایک کو دوسرے پر فدا کرو۔ رسول خدا نے امام حسین کا انتخاب کیا۔ اس کے تین روز بعد ابراہیم کی وفات ہو گئی۔[12]

پیغمبر کا غم

ابراہیم کی وفات نے آپ کو بہت غمناک کیا۔ آپ نے گریہ کیا بعض کے اعتراض کے جواب میں فرمایا:

إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ تَدْمَعُ الْعَینُ وَ یفْجَعُ الْقَلْبُ وَ لانَقُولُ مَا یسْخِطُ الرَّبَّ وَاللَّهِ یا إِبْرَاهِیمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ
میں بھی انسان ہوں، آنکھ روتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے۔ واللہ! اپنے رب کو ناراض کرنے والی بات نہیں کرونگا۔ اے ابراہیم! خدا کی قسم تمہاری موت کی وجہ سے غمگین ہوں۔[13]

ایک روایت میں یوں آیا ہے:

اے پہاڑ! جو میرے ساتھ پیش آیا ہے اگر وہ تیرے ساتھ پیش آتا تو تو ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن ہمیں جس طرح خدا نے حکم دیا ہے ہم کہتے ہیں: إنّا لِلهِ وَ إنّا اِلَیْهِ راجِعونَ وَ الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعالَمینَ.[14]

سورج کو گہن لگنا

ابراہیم کی وفات کے روز سورج کو گہن لگا۔ بعض نے کہا ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج کو گہن لگا ہے۔ آپ کو اس کا پتہ چلا تو آپ باہر آئے حمد الہی کے بعد فرمایا:

سورج اور چاند خدا کی دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گہن نہیں لگتا ہے۔[15]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۲۰۰
  2. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۰۸
  3. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۰۷
  4. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۴۵۰
  5. نک: انساب الاشراف، ج۱،ص۴۵۰.
  6. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۰۷
  7. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۰۸
  8. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۵؛ بلاذری، أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۱
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۴؛ أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۰
  10. الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۵؛ أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۱
  11. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۵؛ أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۱
  12. ابن شہر آشوب، المناقب، ج۴، ص۸۱
  13. مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۹، ص۹۱؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۱۴
  14. بلاذری، أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۲
  15. بلاذری، أنساب الأشراف، ج۱، ص۴۵۲؛ مجلسی، بحار الأنوار، ج۷۹، ص۹۱


منابع

  • ابن سعد، الطبقات الکبری، دوم، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق.
  • ابن شہر آشوب، المناقب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ق.
  • بلاذری، أنساب الأشراف،اول، بیروت،‌ دار الفکر، ۱۴۱۷ق.
  • مجلسی، بحار الأنوار، دوم، تہران، اسلامیہ، ۱۳۶۳ش.
  • مطهری، مرتضی، مجموعہ آثار استاد شهید مطهری، تهران و قم، انتشارات صدرا، ۱۳۹۰ش.