قرآن کی تلاوت

ویکی شیعہ سے
(تلاوت سے رجوع مکرر)

قرآن کی تِلاوَت، یا قَرائَت، قرآن پڑھنے کو کہتے ہیں۔ خدا نے قرآن میں پیغمبر اکرمؐ اور عام لوگوں کو قرآن کی تلاوت کی سفارش کی ہے۔ احادیث میں بھی اس کام کے لئے بہت زیادہ ثواب بیان ہوا ہے۔

قرآن کی تلاوت کے مخصوص آداب اور احکام ہیں۔ فقہاء کے مطابق سور عَزائم یا صرف سجدہ والی آیت پڑھنا جُنُب اور حائض پر حرام ہے۔ سجدہ والی آیات کے پڑھنے یا سنے پر سجدہ واجب ہوتا ہے۔ غَنا کے ساتھ قرآن پڑھنے کے بارے میں فقہاء کے درمیان مختلف نظریات پائے جاتے ہیں بعض اسے غنا کی حرمت سے مستثنی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح تلاوت کے وقت با وضو ہونا، قبلہ رخ ہونا، عطر لگانا اور معانی میں غور و خوض کرنا تلاوت قرآن کے مستحبات میں سے ہیں۔ ماہ رمضان اور مکہ جیسے مخصوص اوقات اور مقامات پر تلاوت قرآن کی زیادہ سفارش کی گئی ہے۔

دلی سکون، خوف و وحشت سے دوری، بصیرت و آگاہی کا حصول، تقویت حافظہ، خدا کی قربت اور ایمان میں اضافہ ہونا قرآن کی تلاوت کے آثار و برکات میں سے ہیں۔

تحقیق، تدویر اور تحدیر تلاوت قرآن کے مختلف طریقے شمار ہوتے ہیں۔

تعریف اور اہمیت

ایران میں ابتدائی سکول کی چوتھی جماعت میں قرآن سکھانے والی کتاب کا سرورق

قرآن کی تلاوت سے مراد قرآن پڑھنا ہے۔[1] عبدالباقی کتاب معجم المفہرس میں کہتے ہیں کہ لفظ "تلاوت" قرآن میں صرف ایک مرتبہ آیا ہے لیکن اس کے مشتقات تقریبا 50 مرتبہ سے زیادہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔[2] احادیث میں قرآن کی تلاوت کے لئے بہت سے آثار و برکات کا ذکر آیا ہے؛ من جملہ ان میں دل کو سکون ملنا، وحشت اور خوف سے دوری، بصیرت، تقویت حافظہ، خدا کی قربت اور ایمان میں اضافہ شامل ہیں۔[3] اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ: قرآن کو دیکھ کر پڑھنا والدین کی گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے اگرچہ والدین کافر ہی کیوں نہ ہو۔[4]

بعض اسلامی ممالک میں مختلف پروگراموں کا آغاز قاری کے توسط سے قرآن کی تلاوت سے ہوتا ہے۔ اذان کے موقع پر اذان سے پہلے مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے قرآن کی تلاوت سنائی جاتی ہے۔ اسی طرح گھروں میں قرآن کی تلاوت پر مبنی محافل برگزار ہوتی ہیں۔[5] ایران کی دارالقرآن آرگنائزیشن کے سربراہ کے مطابق سنہ 1399ہجری شمسی کی دہائیوں میں ایران میں 10 ہزار قرآنی جلسات گھروں میں برگزار ہوتے تھے۔[6] اسی طرح ایران کی وزارت تعلیم نے قرآن کی تعلیم کو مختلف کلاسوں کی نصابی کتابوں میں شامل کیا ہوا ہے۔[7] اور ایران میں قرآن کی ناظرہ تعلیم کے لئے مختلف مراکز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔[8]

قرائت اور تلاوت میں فرق

قرآن میں قرآن پڑھنے کے لئے مختلف کلمات جیسے قرائت اور تلاوت وغیرہ استعمال ہوئے ہیں۔[9] بعض ماہرین لغت قرائت اور تلاوت کو ایک دوسرے کا مترادف قرار دیتے ہیں۔[10] جبکہ بعض اس بات کے قائل ہیں کہ لفظ قرائت تلاوت کی نسبت عمومیت رکھتا ہے؛ یعنی ہر تلاوت یقینی طور پر قرائت کہلاتا ہے لیکن قرائت کو لزوما تلاوت نہیں کہا جا سکتا۔ ان کی نظر میں فقط وہ قرائت تلاوت کہلایا جا سکتا ہے جس میں قاری کا علم و عمل ساتھ ہو۔[11] اسی بنا پر بعض مصنفین کے مطابق قرآن میں جہاں صرف قرآنی الفاظ کو پڑھنے کی بات ہوئی ہے تو وہاں پر لفظ "قرائت" جبکہ جن موارد میں قرآنی الفاظ کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سمجھانا، قرآن میں غور و فکر کرنا یا قرآنی تعلیمات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت بھی مراد ہو تو وہاں پر لفظ "تلاوت" استعمال کیا گیا ہے۔[12] اسی لئے قرآن میں لفظ "قرائت" کو کسی نہ کسی قید کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جیسے "وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنْزِيلًا" ہم نے قرآن کو قطعہ‌ قطعہ نازل کیا ہے تاکہ تم اسے آہستہ اور ٹہر ٹہر کر لوگوں کو سنائیں۔[13]

اسی طرح راغب اصفہانی کے مطابق قرائت ایک عام معنا رکھتا ہے لیکن تِلاوت صرف آسمانی کتابوں کو پڑھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔[14] البتہ ابن‌ منظور کہتے ہیں کہ بعض ماہرین لغت کے مطابق لفظ "تلاوت" کو بھی عام معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔[15]

سورہ بقرہ آیت نمبر 121 میں حق تلاوت سے مراد

سورہ بقرہ آیت نمبر 121 کے مطابق خدا نے قرآن کی تلاوت کے مختلف درجات معین فرمایا ہے ان میں سب سے اعلی مرتبہ "حق تلاوت" ہے۔[16]البتہ "حق تلاوت" کے معانی کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:[17] بعض مفسرین خضوع و خشوع کے ساتھ تلاوت کرنا اور قرآن کی آیات میں تحریف سے پرہیز کرنے کو حق تلاوت قرار دیتے ہیں۔[18] جبکہ ایک اور گروہ بہشتی اور جہنمی آیات کی تلاوت کے دوران خدا سے بہشت کی طلب اور جہنم سے پناہ کے لئے قدرے تأمّل کرنے کو "حق تلاوت" قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض مفسرین قرآن کو ترتیل یعنی قرآن کے الفاظ کو تجوید کی رعایت اور معانی میں غور و فکر کرتے ہوئے ادا کرنا اور ان پر عمل کرنے کو حق تلاوت مانتے ہیں۔[19] "ترتیل" قرآن پڑھنے کے ایک خاص طریقے کی طرف اشارہ ہے جس میں قرآن کو غور و فکر کے ساتھ تجوید کے قواعد اور رموز اوقاف کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کرنے سے قرآن کی حقیقی تلاوت محقق ہو گی۔[20]

تلاوت قرآن کی فضیلت

پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں

اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت کے ذریعے منور کرو اور انہیں قبرستان میں تبدیل مت کرو جس طرح یہود و نصاری کرتے ہیں، کلیساؤں اور عبادت گاہوں میں نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنے گھروں کو (عبادت اور قرآن پڑھنے سے) خالی رکھتے ہیں، کیونکہ جس گھر میں سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت ہو گی اس میں خیر و برکت کا اضافہ ہو گا اور اس گھر کے افراد سعادتمند ہونگے اور وہ گھر آسمان والوں کے لئے اس قدر منور دکھائی دے گا جس طرح آسمان کے ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے ہیں۔

کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص610

قرآن پیغمبر اکرمؐ اور اپنے مخاطبین کو قرآن کی تلاوت کی سفارش کرتا ہے۔[21] امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث میں نقل ہوا ہے کہ: جو شخص حتی نگاہ کرنے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو قرآن کی تلاوت کرے تو ہر ایک حرف کے بدلے میں خدا اسے ایک حسنہ عطا کرے گا اور اس کا ایک گناہ بخش دے گا اور اس کے رتبے میں ایک درجہ اضافہ کرے گا اور جو شخص قرآن کی ایک آیت نماز میں پڑھے گا تو ہر حرف کے بدلے میں اسے 100 حسنے عطا کرے گا اور اس کے 100 گناہوں کو معاف کرے گا اور اس کے مرتبے میں 100 درجے کا اضافہ کرے گا۔[22] دوسری احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص قرآن کو مکمل پڑھ کر ختم کرے گا خدا اس کی دعا قبول کرے گا۔[23] اسی طرح قرآن کی بعض سورتوں‌ اور آیتوں‌ کی تلاوت کے لئے مخصوص ثواب اور فضیلت احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔[24] حضرت امام صادقؑ نے امام علیؑ سے نقل کی ہیں کہ: جس گھر میں قرآن کی زیادہ تلاوت ہو گی اس گھر میں برکت زیادہ ہوگی اور اس میں ملائکہ کی رفت و آمد ہوگی اور شیاطین‌ اس گھر سے دور ہونگے۔[25] کلینی نے قرآن کی تلاوت کی فضیلت سے مربوط احادیث کو ایک باب میں علیحدہ طور پر جمع کیا ہے۔[26]

خاص زمان و مکان میں تلاوت قرآن کی سفارش

حرم امام حسینؑ میں قرآن کی اجتماعی تلاوت کا منظر (رمضان 1443ق[27]

معصومینؑ کی احادیث کے مطابق مخصوص زمانوں اور مکانات میں قرآن کی تلاوت کرنے والے کے لئے خصوصی ثواب دیا جائے گا۔ امام سجادؑ دن کے شروع میں قرآن کی تلاوت کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔[28] اسی طرح ایک حدیث کے مطابق ماہ رمضان میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرنے کا ثواب دوسرے مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے۔[29] امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص مکہ میں قرآن کو مکمل پڑھ کر ختم کرے گا اس شخص کو موت نہیں آئے گی مگر یہ کہ وہ رسول خداؑ اور بہشت میں ان کے مقام کو دیکھے گا۔[30]

تلاوت قرآن کے احکام

آیا روزانہ قرآن کی تلاوت کرنا واجب ہے؟

نماز اور غیر نماز میں قرآن کی تلاوت کرنے کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:

  1. بعض مفسرین سورہ مزمل کی آیت نمبر 20 میں "فأقروا ما تیسّر منہ" کی عبارت سے قرآن کی تلاوت کرنے کو واجب ہونے کا نتیجہ لیتے ہیں۔[31] لیکن اس واجب کو ادا کرنے کے لئے روزانہ کتنی مقدار میں قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے اس سلسلے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔[32] اس سلسلے میں بعض روزانہ 50 آیت (نماز میں پڑھنے والی آیات کے علاوہ) پڑھنے کو واجب قرار دیتے ہیں۔[33] البتہ فاضل مقداد کہتے ہیں کہ بعض فقہاء کے مطابق یہ واجب واجبات کفایی میں سے ہے۔[34]
  2. بعض قرآن پڑھنے کو صرف نمازوں میں واجب قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس اشکال کے جواب میں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مستحب نماز ایک واجب جزء (قرآن کی قرأت) پر مشتمل ہو سکتی ہے؟ کہتے ہیں کہ یہ چیز اس معاملے کی طرح ہے جس کو انجام دینے میں متعلقہ شخص مخیر ہے لیکن جیسے ہی وہ اس معاملے کو انجام دے گا اس معاملے کے مطابق عمل کرنا اس پر واجب اور ضروری ہے۔[35] اسی طرح خویی،[36] فاضل مقداد[37] اور علامہ حلّی[38] جیسے فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ قرآنی آیات اور معصومینؑ کی احادیث کے مطابق قرآن پڑھنا صرف یومیہ نمازوں میں واجب ہے۔ لیکن کتاب جواہر الکلام کے مصنف محمد حسن نجفی اس بات کے معتقد ہیں کہ نماز میں قرآن پڑھنے کا وجوب سنت یعنی احادیث سے ثابت ہوتا ہے نہ اس آیت سے۔[39] تلاوت قرآن کی مقدار سے مربوط احادیث کو "بَابٌ فِی کَمْ یُقْرَأُ الْقُرْآنُ وَ یُخْتَمُ" نامی باب میں کتاب الکافی میں جمع کیا گیا ہے۔[40]

قرآن کا واجب سجدہ

شیعہ فقہاء کے مطابق قرآن کی بعض آیات پڑھنے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان آیات میں سورہ سجدہ آیت نمبر 15، سورہ فصلت آیت نمبر 37، سورہ نجم آیت نمبر 62 اور سورہ علق آیت نمبر 19 شامل ہیں۔[41] اسی طرح صاحب جواہر کے مطابق مزید 11 آیات ایسی ہیں جن کے پڑھنے سے سجدہ کرنا مستحب ہے۔[42]

جنب و حائض پر سور عزائم کی تلاوت کا حرام ہونا

شیعہ فقہاء کے مطابق سور عزائم کا پڑھنا جُنُب[43] اور حائض[44] پر حرام ہے۔ آیا واجب سجدہ پر مشتمل آیت والی تمام سورت کا پڑھنا حرام ہے یا صرف متعلقہ آیت پڑھنا حرام ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[45] علامہ حلی کے مطابق ان سورتوں میں سے حتی ایک حرف بھی پڑھنا مذکورہ اشخاص پر حرام ہے۔[46]

قرآن کی حرمت کا پاس رکھنا واجب ہے

فقہاء کے مطابق قرآن کی حرمت کا لحاظ رکھنا واجب ہے اور اس کی بے احترامی یا ہتک حرمت حرام ہے۔ قرآن کو اس انداز میں پڑھنا جس انداز میں پڑھنا قرآن کی شأن کے مطابق نہیں یا قرآن کو موسیقی کے ساتھ پڑھنا قرآن کی ہتک حرمت کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔[47] اسی طرح دینی منابع میں بعض مقامات جیسے حمام یا ٹائلٹ وغیرہ میں قرآن پڑھنے کی ممانعت ہوئی ہے۔[48]

قرآن کی تلاوت میں غنا کا حکم

شیعہ فقہاء قرآن کو غَنا کے ساتھ پڑھنے کے حرام ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف‌ نظر رکھتے ہیں۔[49] کہا گیا ہے کہ اکثر فقہاء غنا کو لہوی و لعب اور حرام سمجھتے ہیں اور اس حکم سے قرآن کی تلاوت کو بھی استثنا نہیں کرتے۔ اس نظریے کو ابن‌ادریس، فخرالمحققین، احمد بن محمد اردبیلی، سید جواد عاملی، ملا احمد نراقی اور شیخ انصاری جیسے فقہاء کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[50] اس طرح قرآن کی تلاوت میں غنا کے جائز ہونے کو کلینی، شیخ طوسی، سید عبدالاعلی سبزواری، مستند الشیعہ میں ملا احمد نراقی اور محمد ہادی تہرانی کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ یہ فقہاء کہتے ہیں کہ غنا ہمیشہ حرام نہیں ہے بلکہ غنا اس صورت میں حرام ہے جب یہ کسی حرام کام کے ساتھ انجام پائے۔[51] تلاوت میں غنا کو جائز سمجھنے والے فقہاء کے مستندات میں سے ایک حدیث "مَن لَم یَتَغَنَّ بالقُرآن فلیسَ مِنّا؛ جو شخص قرآن کو غنا کے ساتھ نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں" ہے۔[52] البتہ اس نظریے کے مخالفین اس حدیث کو "من لم یستغن بالقرآن فلیس منا؛ جو شخص خود کو قرآن سے بے نیاز سمجھے وہ ہم میں سے نہیں" کا معنا کرتے ہیں۔[53]

تلاوت قرآن کے آداب

قرآن کی آیات اور معصومینؑ کی احادیث کے مطابق قرآن کی تلاوت کے خاص آداب ہیں۔ جن میں وضوء کرنا، قبلہ رخ ہونا، آیات الہی میں غور و فکر کرنا،[54] قرآن کی تلاوت کے دوران خاموشی سے سننا،[55] اعوذ باللہ کہنا،[56] تلاوت کے وقت بعض اذاکار کا پڑھنا اور قرآن کی ابتداء اور انتہاء میں مخصوص دعاؤں کا پڑھنا تلاوت قرآن کے مستحببات میں سے ہیں۔[57] اسی طرح اخلاص، ریا سے دوری، خضوع و خشوع[58] اور پڑھی جانے والی قرآنی آیات کے مطابق عمل کرنا[59] ان آداب میں سے ہیں جن کے بارے میں احادیث میں سفارش اور تأکید ہوئی ہے۔[60]

پیغمبر اکرمؐ کی سفارش کے مطابق قرآن حزن اور اندوہ کے ساتھ پڑھنا چاہئے تاکہ انسان کے دل اور روح پر اس کا اثر زیادہ سے زیادہ ہو۔[61] اسی طرح قرآن کو عربی لب و لہجے میں پڑھنے اور قرآن پڑھتے وقت غیر عربی لب و لہجے سے پرہیز کرنے کی بھی تاکید ہوئی ہے۔[62]

پیغمبر اکرمؐ کی تلاوت کا طریقہ

امام باقرؑ سے منقول ہے کہ پیغمبر خداؐ قرآن کو بہت خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھتے تھے،[63] آپؐ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ ام المؤمنین حضرت اُم‌ّ سَلَمہ فرماتی ہیں کہ پغیمبر اکرمؐ قرآن کو حرف بحرف اور آیہ بآیہ اس طرح واضح تلاوت کرتے تھے کہ پڑھی جانے والے حروف اور آیات کو گنا جا سکتا تھا۔[64] امام علیؑ پیغمبر اکرمؐ کی تلاوت کے طریقے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپؐ ترجیع کے بغیر حروف کو کھیچ کر ترتیل کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔[65]

قرآن کو مصحف میں دیکھ کر پڑھنا بہتر ہے یا زبانی؟

بعض احادیث کے مطابق قرآن کو مصحف میں دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے کی نسبت زیادہ فضیلت رکھتا ہے؛ امام صادقؑ اس امر کی علت قرآن کے متن کو دیکھ کر پڑھنے سے انسان کی آنکھوں کا قرآن سے مستفید ہونا بیان کیا ہے۔[66] اہل سنت مفسر زَرکَشی اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث کی چھان بین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں پر قرآن کی تلاوت کے دوران غور و فکر اور قاری کا زیادہ سے زیادہ حضور قلب ملاک ہے؛ پس اگر انسان زبانی پڑھتے وقت قرآن سے زیادہ بہرہ مند ہوتا ہو تو قرآن کو زبانی پڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے وگرنہ مصحف میں دیکھ کر پڑھنا بہتر ہے۔[67]

تلاوت قرآن کے مختلف طریقے

علوم قرآن کے ماہرین نے تلاوت قرآن کے مختلف طریقے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں، یہ تقسیمات تلاوت کے دوران تیزی سے پڑھنے یا ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی بنیاد پر کی گئی ہیں:

  1. تحدیر: تجوید کے قواعد کو مختصر کرتے ہوئے قرآن کو تیزی کے ساتھ پڑھنے کو تحدیر کہتے ہیں مثلا مد کو مختصر کرنا اور ساکن حروف کو متحرّک کرنا اس انداز سے کہ ترتیل کی حد سے خارج نہ ہو۔[68] جب قاری قرآن کو مختصر مدت میں ختم کرنا یا کم وقت میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنا چاہتا ہے تو قرأت کے اس طریقہ کار کو انتخاب کرتا ہے۔[69]
  2. تدویر: قرآن کی آیات کو ٹھہر ٹھہر کر ان کے معانی میں غور و فکر اور تمام تجویدی قواعد و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے پڑھنے کو کہتے ہیں۔[70] تلاوت کا یہ طریقہ تیز رفتاری کے حوالے سے تحقیق اور تحدیر کے درمیانی طریقہ ہے اس طریقے میں مدّ منفصل کو دو سے پانچ حرکت کی برابر نہیں کھینچتے۔ قرائت قرآن کا یہ طریقہ عام لوگوں میں "ترتیل» کے نام سے مشہور ہے۔[71] کتاب "علم تجوید میں ایک تحقیق" کے مصنف علّامی کے مطابق تلاوقت کا یہ طریقہ بہت سارے پیشواؤں کا شیوہ رہا ہے۔[72]
  3. تحقیق: ہر حرف کو اس کے مخارج کی رعایت کرتے ہوئے صحیح طور پر ادا کرنا کہ مد کو طولانی، ہمزہ کو باریک، حرکات کو مکمل ادا کرنا، حروف کو مکمل ادا کرنا، غنّہ‌ کی رعایت کرنا وغیرہ کو تحقیق کہا جاتا ہے۔ تلاوت کا یہ طریقہ تیز رفتاری کے حوالے سے سب سے آہستہ پڑھنے کو کہا جاتا ہے۔ گزر زمان کے ساتھ تلاوت کا یہ طریقہ "تلاوت مجلسی" کے نام سے مشہور ہوا ہے۔[73] تلاوت کے اس طریقے کو "تلاوت تَنْغیمی" بھی کہا جاتا ہے جس میں مخاطب کو زیادہ سے زیادہ جذب کرنے کے لئے نغمات اور موسیقی کے الحان سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔[74]

متعلقہ مضامین

حفظ قرآن

حوالہ جات

  1. بیہقی، تاج المصادر، ذیل واژہ تلاوۃ۔
  2. عبدالباقی، معجم المفہرس، ذیل واژہ تلا۔
  3. رادمرد، «مراتب و آثار انس با قرآن در آیات و روایات»، ص35–38۔
  4. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  5. ملاحظہ کریں: «دربارہ ما»، جلسات خانگی قرآن کریم۔
  6. «10 ہزار جلسہ قرآن خانگی در سطح کشور فعال است»، خبرگزاری ایرنا۔
  7. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: «دورہ اول آموزش متوسطہ پایہ ہفتم»، پایگاہ کتاب‌ہای درسی۔
  8. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: «معرفی مرکز آموزش قرآن کریم»، مرکز آموزش قرآن آستان مقدس عبدالعظیم علیہ السلام۔
  9. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: سورہ مزمّل، آیہ20، سورہ عنکبوت، آیہ 45، سورہ اعراف، آیہ204۔
  10. ابن‌منظور، لسان العرب، ذیل واژہ التِلاوۃ و تَلا یَتلو۔
  11. راغب اصفہانی، مفردات ألفاظ قرآن کریم، ذیل واژہ تلاوۃ؛ ابن‌سیدہ، المحکم و المحیط الأعظم، ذیل واژہ التلاوۃ و تَلا یَتلو۔
  12. کوہی گرمی و بہزاد، «وجوہ اشتراک و افتراق قرائت، تلاوت و ترتیل از نظر ادبی و رویّۂ علمی قرّاء»، ص78و79۔
  13. طباطبایی، المیزان، 1374ش، ج20، ص574۔
  14. کوہی گرمی و بہزاد، «وجوہ اشتراک و افتراق قرائت، تلاوت و ترتیل از نظر ادبی و رویّۂ علمی قرّاء»، ص79۔
  15. ابن منظور، لسان العرب، ذیل واژہ تَلا یَتلو۔
  16. نہج البلاغہ، خطبہ 110؛ صحیفہ سجادیہ، دعای 47۔
  17. ملاحظہ کریں:دولتی، «تلاوت قرآن»، ص78۔
  18. کاشانی، تفسیر منہج الصادقین، 1336ش، ج1، ص271۔
  19. کاشانی، تفسیر منہج الصادقین، 1336ش، ج1، ص271؛ دولتی، «تلاوت قرآن»، ص78۔
  20. کوہی گرمی و بہزاد، «وجوہ اشتراک و افتراق قرائت، تلاوت و ترتیل از نظر ادبی و رویّۂ علمی قرّاء»، ص78و79۔
  21. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: سورہ مزمّل آیہ3، سورہ اسراء 106، کہف 27۔
  22. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  23. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  24. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص620–626۔
  25. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  26. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  27. «تصاویر/ مراسم جزءخوانی قرآن کریم در حرم امام حسین(ع)»، خبرگزاری حوزہ۔
  28. دیلمی، ارشاد القلوب، 1412ھ، ج1، ص83۔
  29. شیخ صدوھ، الامالی، 1376ش، ص93۔
  30. شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1365ش، ج5، ص468۔
  31. قطب‌الدین راوندی، فقہ القرآن، 1405ھ، ج1، ص106و107و127و130؛ فاکر میبدی، «فرایند استنباط وجوب قرائت قرآن از آیۂ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ»، ص81۔
  32. وحیدیان و دیگران، «مراد از قرائت قرآن در آیہ آخر سورہ مزّمّل و حکم شرعی آن»، ص314۔
  33. فاکر میبدی، «فرایند استنباط وجوب قرائت قرآن از آیۂ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ»، ص81۔
  34. فاضل مقداد، کنز العرفان، منشورات المکتبۃ المرتضویّۃ للإحیاء الآثار الجعفریّہ، ج1، ص118۔
  35. وحیدیان و دیگران، «مراد از قرائت قرآن در آیہ آخر سورہ مزّمّل و حکم شرعی آن»، ص316۔
  36. خویی، موسوعۃ الامام الخوئی، 1418ھ، ج4، ص262۔
  37. فاضل مقداد، کنز العرفان، 1373ش، ج1، ص118۔
  38. علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج3، ص128۔
  39. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج9، ص284و285۔
  40. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص617۔
  41. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج2، ص577۔
  42. نجفی، جواہرالکلام، 1362ش، ج10، ص217۔
  43. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج1، ص510۔
  44. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج1، ص603۔
  45. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج1، ص510 و ص603؛ بنی‌ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، 1378ش، مسئلہ 355، ج1، ص225-227؛ مسئلہ 450، ج1، ص276۔
  46. علامہ حلی، مختلف الشیعہ، 1413ھ، ج1، ص333۔
  47. «حرمت قطعی تلاوت قرآن ہمراہ با موسیقی»، وبگاہ فقہ حکومتی وسائل؛ «مہندسی تلاوت قرآن کریم / آہنگ قرائت قرآن و ترجیع در قرائت»، پایگاہ بین‌المللی ہمکاری‌ہای شیعہ (شفقنا)۔
  48. شیخ صدوھ، الخصال، 1362ش، ج2، ص358۔
  49. اسماعیلی، «بررسی دیدگاہ اندیشمندان اسلامی دربارۂ تغنی در قرائت قرآن»، ص1۔
  50. اسماعیلی، «بررسی دیدگاہ اندیشمندان اسلامی دربارۂ تغنی در قرائت قرآن»، ص1۔
  51. اسماعیلی، «بررسی دیدگاہ اندیشمندان اسلامی دربارۂ تغنی در قرائت قرآن»، ص16-17
  52. ابن‌اثیر، النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر، 1399ھ، ج3، 391۔
  53. اسماعیلی، «بررسی دیدگاہ اندیشمندان اسلامی دربارۂ تغنی در قرائت قرآن»، ص1–3۔
  54. سبزواری، مہذب الاحکام، دارالتفسیر، ج7، ص128۔
  55. سورہ اعراف، آیہ24۔
  56. سورہ نحل، آیہ98۔
  57. دولتی، «تلاوت قرآن»، ص78۔
  58. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج 89، ص184 و 210
  59. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبۃ 110؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج 89، ص185۔
  60. دولتی، «تلاوت قرآن»، ص78۔
  61. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص614۔
  62. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص614۔
  63. طباطبایی، سنن النبی، 1387ش، ص311۔
  64. «ویژگی‌ہای قرائت پیامبر چیست؟ پیامبر و مسلمانان صدر اسلام چگونہ قرآن را تلاوت می‌کردند؟»، وبگاہ مؤسسہ قرآنی مشکات۔
  65. سخاوی، جمال القراء و کمال الاقراء، کتابخانہ آیہ اللہ مرعشی، ج2، ص525۔
  66. خوئی، البیان، دارالزہراء، ص26۔
  67. زرکشی، البرہان، 1376ھ، ج1، ص461۔
  68. علّامی، پژوہشی در علم تجوید، 1381ش، ص50۔
  69. علّامی، پژوہشی در علم تجوید، 1381ش، ص50۔
  70. علّامی، پژوہشی در علم تجوید، 1381ش، ص51۔
  71. موسوی بلدہ، حلیۃ القرآن سطح2، 1382ش، ص19۔
  72. علّامی، پژوہشی در علم تجوید، 1381ش، ص51۔
  73. علّامی، پژوہشی در علم تجوید، 1381ش، ص50۔
  74. صادقی مزیدی و فرحناک بوشہری، «نگرشی بر ماہیّت تغنّی در تلاوت قرآن»، ص197۔

مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم، مرکز البحوث الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • «مہندسی تلاوت قرآن کریم / آہنگ قرائت قرآن و ترجیع در قرائت»، پایگاہ بین‌المللی ہمکاری‌ہای شیعہ (شفقنا)، درج مطلب: 4خرداد 1400ش، بازدید: 18مہر1402ہجری شمسی۔
  • ابن‌اثیر، مبارک بن محمد، النہايۃ في غريب الحديث والأثر، بیروت، المكتبۃ العلميۃ، 1399ھ/1979ء
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دارالفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع، بی‌تا۔
  • اسماعیلی، سید محمد، بررسی دیدگاہ اندیشمندان اسلامی دربارۂ تغنی در قرائت قرآن، در دوفصلنامہ مطالعات قرآن و حدیث، شمارہ1، 1397ہجری شمسی۔
  • بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، 1378ہجری شمسی۔
  • بیہقی، احمد بن علی، تاج‌المصادر، تہران، ہادی عالم‌زادہ، 1375ہجری شمسی۔
  • «تصاویر/ مراسم جزءخوانی قرآن کریم در حرم امام حسین(ع)»، خبرگزاری حوزہ، 18 فروردین 1401ش، بازدید: بازدید: 20 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • «دربارہ ما»، جلسات خانگی قرآن کریم، بازدید: 20 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، قم، موسسۃ إحیاء آثار الامام الخوئی، 1418ھ۔
  • «حرمت قطعی تلاوت قرآن ہمراہ با موسیقی»، وبگاہ فقہ حکومتی وسائل، درج مطلب: 13 اردیبہشت 1396ش، درج بازدید: 18مہر1402ہجری شمسی۔
  • دولتی، کریم، «تلاوت قرآن»، در دانشنامہ جہان اسلام، تہران، بنیاد دائرۃ المعارف اسلامی، 1383ہجری شمسی۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، ارشاد القلوب الی الصواب، قم، الشریف الرضی، 1412ھ۔
  • رادمرد، محمد، «مراتب و آثار انس با قرآن در آیات و روایات»، در مجلہ سخن جامعہ، شمارہ4، 1399ہجری شمسی۔
  • «دورہ اول آموزش متوسطہ پایہ ہفتم»، پایگاہ کتاب‌ہای درسی، درج مطلب: 19 خرداد 1397ش، بازدید: 20 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ قرآن کریم، بیروت، الدار الشّامیہ، 1416ھ۔
  • زرکشی، ابوعبداللہ، البرہان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء الکتب العربیۃ عیسی البابی الحلبی وشرکائہ، 1376ھ۔
  • سبزواری، سید عبدالعلی، مہذّب الاحکام فی بیان حلال و الحرام، قم، دارالتفسیر، بی‌تا۔
  • سخاوی، علم‌الدین بن محمد، جمال القراء و کمال الاقراء، قم، کتابخانہ آیہ اللہ مرعشی، بی‌تا۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، خصال، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1362ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الأحکام، تہران، دار الکتب العلمیّہ، 1365ہجری شمسی۔
  • صادقی مزیدی، مجید و فرحناک بوشہری، حمید، «نگرشی بر ماہیت تغنّی در تلاوت قرآن، در دوفصلنامہ مطالعات قرائت قرآن»، شمارہ12، 1398ہجری شمسی۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ‌الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1419ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت، درالمعرفہ، 1408ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • عبدالباقی، محمد فؤاد، معجم المفہرس لألفاظ القرآن الکریم، بیروت، دار الفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1417ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام لإحیاء التراث، 1414ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف‌الشیعہ فی احکام‌الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1413ھ۔
  • علّامی، ابوالفضل، پژوہشی در علم تجوید، قم، انتشارات یاقوت، 1381ہجری شمسی۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، تہران، منشورات المکتبۃ المرتضویّۃ للإحیاء الآثار الجعفریّہ، بی‌تا۔
  • فاکر میبدی، محمد، فرایند استنباط وجوب قرائت قرآن از آیۂ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، در دوفصلنامہ آموزہ‌ہای فقہ عبادی، شمارہ1، 1399ہجری شمسی۔
  • قطب‌الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، فقہ القرآن فی شرح آیات الاحکام، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1405ھ۔
  • کاشانی، ملافتح اللہ، تفسیر منہج الصادقین فی الزام المخالفین، تہران، کتابفروشی محمد حسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • کوہی گرمی و بہزاد، «وجوہ اشتراک و افتراق قرائت، تلاوت و ترتیل از نظر ادبی و رویّۂ علمی قرّاء»، در مجلہ مطالعات علوم اسلامی انسانی شمارہ26، 1400ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، قم، دار إحیاء التراث، 1403ھ۔
  • موسوی بلدہ، محسن، حلیۃ القرآن سطح 2، تہران، احیاء کتاب، 1382ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن بن باقر، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربیّ، 1404ھ۔
  • وحیدیان اردکان، حمید و نقی‌زادہ، حسن و رستمی، محمدحسن، «مراد از قرائت قرآن در آیہ آخر سورہ مزمّل و حکم شرعی آن»، در نشریّہ علمی آموزہ‌ہای قرآنی، شمارہ34، زمستان1400ہجری شمسی۔
  • «معرفی مرکز آموزش قرآن کریم»، مرکز آموزش قرآن آستان مقدس عبدالعظیم علیہ السلام، بازدید: 20 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • «ویژگی‌ہای قرائت پیامبر چیست؟ پیامبر و مسلمانان صدر اسلام چگونہ قرآن را تلاوت می‌کردند؟»، وبگاہ مؤسسہ قرآنی مشکات، درج مطلب: 16آبان1401ش، بازدید: 18مہر1402ہجری شمسی۔
  • «10 ہزار جلسہ قرآن خانگی در سطح کشور فعال است»، خبرگزاری ایرنا، درج مطلب: 23 دی 1399ش، بازدید: 20 آبان 1402ہجری شمسی۔