صفحۂ اول
منتخب مضمون

امام علی علیہ السلام شیعوں کے پہلے امام، صحابی، راوی، کاتب وحی، اہل سنت کے چوتھے خلیفہ، رسول خداؐ کے چچازاد بھائی و داماد، حضرت فاطمہؑ کے شوہر، امام حسن اور امام حسین کے والد ماجد اور باقی ائمہ کے جد امجد ہیں۔ حضرت ابو طالب آپ کے والد اور فاطمہ بنت اسد والدہ ہیں۔ شیعہ و اکثر اہل سنت مؤرخین کے مطابق آپ کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی۔ رسول اللہؐ نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے آپ ایمان لے آئے۔ شیعوں کے مطابق آپ بحکم خدا رسول اللہؐ کے بلا فصل جانشین ہیں۔
آپ کے سلسلہ میں بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں؛ آنحضرت نے دعوت ذوالعشیرہ میں آپ کو اپنا وصی و جانشین معین کیا۔ شب ہجرت جب قریش رسول خدا کو قتل کرنا چاہتے تھے، آپ نے ان کے بستر پر سو کر ان کی جان بچائی۔ اس طرح حضورؐ نے مخفیانہ طریقہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوا تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ شیعہ و سنی مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی تقریبا 300 آیات کریمہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ جن میں سے آیہ مباہلہ و آیہ تطہیر و بعض دیگر آیات آپ کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں۔
رسول خدا نے اپنے آخری حج سے واپسی پر آیہ تبلیغ کے حکم خدا کے مطابق، غدیر خم کے مقام پر لوگوں کو جمع کیا۔ خطبہ غدیر پڑھنے کے بعد حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کیا اور فرمایا؛ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں۔
آپ نے خلیفہ سوم کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قبول کیا۔ آپ اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو بطور خاص اہمیت دیتے تھے۔
امام علی دینی امور، قانون کے دقیق اجرا اور صحیح طریقے سے حکومت چلانے کے معاملے میں بےحد سنجیدہ تھے اور یہی سبب تھا جس نے آپ کو بعض افراد کے لئے ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ حضرت کو اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین سنگین داخلی جنگوں جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا۔
آخر کار محرام مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں ابن ملجم مرادی نامی ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہوئے اور مخفیانہ طور پر نجف میں دفن کئے گئے۔ روضہ امام علی شہر نجف میں شیعوں کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
دوسرے معیاری مضامین: غزوہ خیبر – خطبہ اشباح – بنی ہاشم
کیا آپ جانتے ہیں؟ ...

- ... کہ انہدام حرم عسکریین (تصویر میں) سنہ 2006 اور 2007ء کو سامراء میں امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے حرم پر تکفیریوں کا حملہ ہوا جس سے حرم کا گنبد منہدم ہو گیا تھا۔؟
- ... کہ زیارت جامعۂ کبیرہ ائمہ معصومینؑ کی اہم ترین اور کامل ترین زیارت ہے جس کے ذریعے دور یا نزدیک سے تمام ائمہ کی زیارت کی جا سکتی ہے۔؟
- ... کہ اَیّامُ البیض (سفید ایام)، قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو کہا جاتا ہے۔ احادیث میں ان ایام میں روزہ رکھنے پر تاکید ہوئی ہے۔؟
- ... کہ اِعْتِکاف اسلام میں ایک مستحب عبادت ہے جس کے معنی ایک معینہ مدت (کم از کم 3 دن) کیلئے روزے کے ساتھ مسجد میں ٹھہرنے کے ہیں۔ اعتکاف کرنے والے کو "معتکف" کہا جاتا ہے۔؟
مجوزہ مضامین
- تحویل قبلہ «رجب سنہ 2 ہجری میں مسلمانوں کا قبلہ مسجد الاقصیٰ سے خانہ کعبہ (تصویر میں) کی طرف تبدیل ہوا۔»
- ماه رجب «، اسلامی تقویم کا ساتواں مہینہ، جسے حرمت والے مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس میں مخصوص عبادات کی سفارش کی گئی ہے۔»
- لیلۃ الرغائب «رجب کے مہینے کی پہلی جمعرات کی رات جو خاص اعمال و عبادات کی حامل ہے۔»
- امام محمد باقرؑ «شیعوں کے پانچویں امام، جن کا لقب باقر العلوم ہے، یکم رجب کو آپ کی ولادت ہوئی۔ علم و دانش میں آپ کی عظیم شہرت اور شیعہ تعلیمات کی توسیع میں آپ کا کردار تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔»
- معراج «پیغمبر اسلامؐ کا راتوں رات مکہ سے مسجد الاقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی طرف سفر۔»
- بعثت «پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کے آغاز کی علامت ہے جو 27 رجب، ہجرت سے 13 سال قبل مکہ کے قریب غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے ساتھ شروع ہوئی۔»
- عمرہ رجبیہ «ایک قسم کا عمره مفرده ہے جو رجب کے مہینے میں انجام پاتا ہے۔ اسے نہایت فضیلت والا عمرہ سمجھا جاتا ہے جس کا ثواب حج کے قریب ہے۔»
نئے مضامین
- قرآن میں تدبر
- ان شاء اللہ
- سورہ نساء آیت نمبر 176
- میت کا ترکہ
- پیغمبر خدا کا زینب بنت جحش سے نکاح
- صبحی طفیلی
- خطبہ خوانی (رسم)
- الحیدریہ امام بارگاہ (کاظمین)
- قصد رجا
- عدۃ من اصحابنا
- انگوٹھی پہننا
- شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کا محاصرہ
- سورہ یوسف آیت نمبر 97
- مسواک کرنا
- محمود فرشچیان
- مولود کعبہ (فن پارہ)
- شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام (کتاب)
- توقیع اما الحوادث الواقعہ
- ہائنز ہالم
- سورہ نساء آیت 171
آئینہ تاریخ
آج منگل 6 جنوری 2026، ۱۶ رجب1447ھ/16 دی 1404 شمسی
- 659ء۔ ولادت امام زین العابدین؛ شیعوں کے چوتھے امام (5 شعبان 38ھ)
- 664ء۔ وفات عمرو بن عاص؛ معاویہ کے مشیر (1 شوال 43ھ)
- 696ء۔ امام موسی کاظم کی گرفتاری ہارون الرشید کے ذریعہ (20 شوال 179ھ)
- 884ء۔ وفات حسن بن زید بن محمد (3 رجب 279ھ)
- 1831ء۔ وفات ملا علی نوری؛ شیعہ فلاسفر اور فلسفہ مکتب تہران کے بانی (22 رجب 1246ھ)
- 1880ء۔ وفات ملا محمد مہدی نراقی؛ شیعہ فقیہ اور ملا احمد نراقی کے بیٹے (23 محرم 1297ھ)
- 1931ء۔ وفات ملا فیض محمد؛ المعروف کاتب ہزارہ، افغانستان کے شیعہ مورخ، وہ کابل کے حاکم حبیب اللہ کَلَکانی کے تشدد سے وفات پاگیا (17 شعبان 1349ھ)
- 2014ء۔ شہادت اعتزاز حسن؛ ہنگو پاکستان میں اسکول کے باہر خودکش حملہ آور کو روکتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسکول میں موجود سینکڑوں بچوں کی جان بچائی (4 ربیع الاول 1435ھ)
- 2019ء۔ وفات سید ابراہیم سید حاتمی ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے رکن (27 ربیع الثانی 1440ھ)
- 30 عام الفیل۔ فاطمہ بنت اسد امام علیؑ کی ولادت کے تین دن بعد کعبہ سے باہر آئی
