عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قبرستان باب الصغیر دمشق میں بلال حبشی سے منسوب قبر اور مقام عبداللہ بن جعفر
ذاتی کوائف
نام کامل عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب
مہاجرین/انصار مہاجرین، مدینہ
قبیلہ بنی ہاشم
کنیت ابو ہاشم
لقب بحر الجود
مشہور رشتہ دار ابو طالب، پیغمبر اکرم(ص) و امام علی
تاریخ پیدائش سنہ 2 یا 3 ہجری قمری، حبشہ
تاریخ شہادت 80 سے 90 ہجری کے درمیان
محل دفن جنۃ البقیع
اہم خدمات جنگ جمل اور صفین میں شرکت


عبداللہ بن جعفر بن ابی‌طالب فرزند جعفر بن ابی طالب، پیغمبر اکرم(ص) کے صحابی امام علی(ع) کے داماد، امام حسن(ع) کے حامیوں اور حضرت زینب(س) کے شوہر ہیں۔

آپ حبشہ میں پیدا ہونے والے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے بچپنے میں ہی پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کی۔ امام علی(ع) کی حمایت میں جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی۔

امام حسن(ع) کی معاویہ کے ساتھ صلح کرنے تک آپ امام حسن(ع) کے ساتھ تھے۔ معاویہ اور یزید کے دور حکومت میں حکومتی ہدایا کو قبول کرتے تھے نیز واقعہ کربلا میں بھی انہوں نے شرکت نہیں کی۔ لیکن ان کے دو فرزند عون اور محمّد روز عاشورا کربلا میں امام حسین(ع) کے رکاب میں شہید ہو گئے اور ان کے بعض دیگر فرزندان واقعہ حرہ میں شہید ہو گئے۔

حسب و نسب

عبداللّہ‌ بن جعفر بن ابی‌طالب ‌بن عبدالمطلب قرشی ہاشمی، کنیت ابوجعفر یا ابو ہاشم، رسول اکرم(ص)، امام علی(ع) اور امام حسن(ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ آپ کے والد جعفر امام علی علیہ‌السلام کے بھائی اور آپ کی والدہ اسماء بنت عمیس تھیں۔



تاریخ پیدائش اور بچپن

جعفر بن ابی‌طالب حبشہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کے وقت اپنی بیوی اسماء بنت عمیس کو بھی اپنی ساتھ لے گئے، [1] اور عبداللّہ بن جعفر نے حبشہ میں پہلے مسلمان نو مولود کے عنوان سے اس دنیا میں قدم رکھا۔[2]

عبداللہ ساتویں سنہ ہجری قمری کو غزوہ خیبر کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ چلے گئے اور پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کی۔ [3]

احادیث کے مطابق جب جعفر بن ابی طالب جنگ موتہ میں شہید ہو گئے تو پیغمبر اکرم(ص) نے ان کے بچوں منجملہ عبداللہ کو مورد لطف قرار دیا۔ [4] جنگ کے اختتام پر عبداللّہ کو جعفر سے متعلق پیغمبر اکرم(ص) کی ایک حدیث جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ جعفر جنگ میں ہاتھوں سے محروم ہونے پر خدا نے جنت میں اسے دو پر دئے ہیں اور وہ ان کے ذریعے جنت میں پرواز کرینگے، کی بنا پر ابن‌ ذی‌الجناحین کہا جاتا تھا۔[5]

خلفا کے دور خلافت میں

اکثر تاریخی کتابوں میں صدر اسلام کے جنگوں اور فتوحات میں ان کی حاضری کے بارے میں کوئی معلومات مذکور نہیں، کتاب فتوح الشام کے مطابق عبداللّہ نے حضرت عمر کے دور خلافت میں فتوحات شام میں شرکت کی ہے اور ابوعبیدہ نے انہیں ۵۰۰ سپاہیوں کی کمانڈ دی تھی۔[6]

عثمان کے دور خلافت میں ابوذر غفاری کی ربذہ جلاوطنی کے موقع پر عبداللّہ امام علی(ع) کی پیروی میں ابوذر کو مدینہ سے باہر تک خداحافظی کیلئے آئے۔[7]

ابن ابی‌الحدید کے مطابق کوفہ میں عثمان کا حاکم ولید بن عقبہ کی شراب خواری کے معاملے میں عبداللہ نے امام علی(ع) کے حکم سے ولید پر حد جاری کی۔ سنہ ۳۵ق میں جب مخالفین نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تو عبداللّہ بھی ان افراد میں شامل تھے جنہیں حضرت علی(ع) نے مخالفین کے ہاتھوں عثمان کی حفاظت کیلئے مأمور کیا ہوا تھا۔ [8]

امام علی(ع) کے دور خلافت میں

عبداللہ امام علی(ع) کے دور خلافت کے اکثر حوادث میں موجود رہا اور آپ کی بیعت کی تھی۔ [9] آپ امام علی(ع) کی طرف سے جنگ جمل میں بھی شرکت کی [10] اور شاید اسی جنگ کے بعد آپ حضرت علی(ع) کے ساتھ کوفہ میں ہی مقیم ہوئے۔[11]

جنگ صفین میں بھی آپ نے امام علی(ع) کا ساتھ دیا اور قریش، اَسَد اور کنانہ جیسی قبائل کی سرداری [12] اور امام علی(ع) کے لشکر کی دائیں بازو کی کمانڈ آپ کے ہاتھوں میں تھی۔[13] اسی جنگ میں انہوں نے قریش اور انصار کے بعض دیگر افراد کے ساتھ عمرو بن عاص پر حملہ کیا۔[14]

حکمیت کے واقعے میں امام علی(ع) کی طرف سے اسے قبول کرنے کی علت کو امام علی(ع) نے عبداللہ‌ بن جعفر جیسے افراد کا زندہ رہنا قرار دیا ہے۔ [15] عبداللّہ منجملہ ان افراد میں سے تھا جنہوں نے عراقیوں کی طرف سے حکمیت کے عہدنامہ کی پاسداری کرنے کی گواہی دی تھی۔ [16]

امام علی(ع) نے عبداللہ بن جعفر کی تجویز پر محمد بن ابی‌بکر کو جو عبداللہ کا مادری بھائی تھا، قیس‌ بن سعد کی جگہ مصر کی گورنری پر منصوب کیا۔[17]

ابن ابی الحدید کے مطابق جب امام علی(ع) عبداللہ کو اپنے اموال میں اسراف اور تبذیر سے منع کرنا چاہا تو وہ زبیر کے ساتھ شریک ہوئے یوں امام نے اس کے بعد اسے منع نہیں فرمایا۔[18]

امام علی(ع) کی شہادت کے بعد

ابن سعد اور مسعودی کے مطابق عبداللہ نے ابن ملجم کے ہاتھوں امام علی(ع) کی شہادت کے بعد قاتل سے امام(ع) کا قصاص لیا۔[19]، البتہ یہ بات مشہور کے خلاف ہے جہاں خود مسعودی کہتا ہے: "و قتل الحسنُ عبدالرحمن بن ملجمَ علی حسب ما ذکرنا"[20] یعنی ابن ملجم کو امام حسن (ع) نے قصاص کیا اور یہی مشہور کا نظریہ بھی ہے۔ [21]

عبداللہ صلح امام حسن تک امام کے ساتھ تھا۔[22]

معاویہ کے دور حکومت میں

معاویہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد عبداللہ نے دمشق میں معاویہ کے دربار کے ساتھ رابطہ قائم کیا[23] اور قریش کے دیگر کئی افراد کے ساتھ معاویہ کے ہاں چلا گیا جہاں معاویہ نے انہیں سالانہ دس لاکھ درہم وظیفہ مقرر کیا۔ [24] جب یزید کی حکومت آئی تو اس نے اس رقم کی مقدار کو دو برابر یعنی 20 لاکھ درعم کر دیا۔ لیکن ان کی حالت یہ تھی کہ معاویہ اور یزید کی طرف سے اتنے بذل و بخشش کے باوجود سال پورا ہونے سے پہلے انہیں تمام فقراء میں تقسیم کر دیتے تھے بلکہ سال کے آخر تک خود مقروض بھی ہو جاتا تھا۔ [25]

معاویہ نے انہیں بنی‌ہاشم کا سردار لقب دیا لیکن عبداللّہ اس لقب کو صرف اور صرف حسنین شریفین علیہم السلام کے ساتھ مختص جانتے تھے۔ [26] بعض مورخین کا خیال ہے کہ معاویہ کی طرف سے عبداللّہ‌ بن جعفر کا اتنی عزت و احترام کی وجہ یا دوسرے قبائل کے بزرگان اور سرداروں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے تھا یا حضرت علی(ع) کے جانشینوں کی شان و مقام کو گھٹانے کیلئے تھی۔ [27]

معاویہ کی دربار میں عمرو بن عاص اور یزید، عبداللّہ‌ بن جعفر کے ساتھ مفاخرت کیا کرتے تھے۔[28] ایک دفعہ حسنین شریفین(ع) کی موجودگی میں معاویہ اور عبداللّہ کے درمیان مشاجرہ‌ ہوا اس موقع پر عبداللّہ نے امام علی(ع) اور ان کے خاندان کی فضلیت بیان کی۔[29]

ابن ابی‌الحدید کے مطابق جب امام حسن(ع) شہید ہوئے اور مروان نے انہیں پیغمبر اکرم(ص) کے مرقد مطہر کے قریب دفن کرنے سے منع کیا۔ اس موقع پر عبداللّہ نے امام حسین(ع) کو مروان کے ساتھ مشاجرہ کرنے سے باز رکھا۔[30]

واقعہ کربلا

جب امام حسین(ع) نے مکہ سے کوفہ کی طرف سفر شروع کیا تو عبداللّہ نے اپنے دو بیٹے عون اور محمد کے ساتھ ایک خط لکھا اور امام حسین(ع) کو کوفہ جانے سے منع کرتے ہوئے کہا اس خط کے بعد وہ خود بھی امام کی طرف آئیں گے۔ انہوں نے مکہ کے حکمران عمرو بن سعید سے امام حسین(ع) کیلئے امان‌نامہ لیا تھا۔[31]

عبداللہ واقعہ کربلا میں حاضر نہیں تھا لیکن ان کے دو بیٹے عون اور محمّد اور ایک اور قول کے مطابق عبیداللہ‌ روز عاشورا امام حسین(ع) اور انکے دیگر باوفا ساتھیوں سمیت شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔[32]

سنہ63 ہجری قمری کو واقعہ حرہ میں عبداللہ بن جعفر نے مدینہ والوں کیلئے یزید سے گفتگو کیا اور یہ انہیں مدینہ والوں کے ساتھ تشدد اور خون ریزی سے پرہیز کرنے کی درخواست کی۔ یزید نے کہا اگر مدینہ والوں نے میری اطاعت کی تو میں تمہاری درخواست پر عمل کروںگا۔ اسی وجہ سے عبداللہ نے مدینہ کے بعض سرداروں کے نام خط لکھا اور انہیں یزید کے سپاہیوں کا راستہ نہ روکنے کی درخواست کی۔ [33]

واقعہ حرّہ میں یزید کے سپاہیوں کے ہاتھوں عبداللہ کے دو بیٹے ابوبکر اور عون اصغر شہید ہو گئے۔ [34]

عبداللہ بن زبیر کی بیعت

بلاذری کے مطابق یزید کی موت کے بعد عبداللّہ‌ بن جعفر نے عبداللّہ‌ بن زبیر کی بیعت کی۔[35] وہ دمشق میں عبدالملک‌ بن مروان کے دربار میں بھی رفت و آمد رکھتے تھے[36]، لیکن عبدالملک کی جانب سے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی گئی وہ عمر کے آخری سالوں میں تنگدستی اور فقر میں مبتلا ہو گئے تھے۔[37]

عبداللّہ‌ بن جعفر نے اپنی عمر کے کئی سال بصرہ، کوفہ اور شام میں گزارا اور آخر کار مدینہ میں مقیم ہوئے۔[38]

ذاتی خصوصیات

کہا جاتا ہے کہ عبداللّہ بن جعفر موسیقی کا شیدا تھا اور موسیقی سننے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ وہ بُدَیح، سائب خاثر اور نشیط جیسے گلوکاروں کی حمایت کرتے تھے۔[39]

عبداللہ زیرکی، نکتہ‌سنجی، خوش‌خلقی، پاک‌دامنی اور بخشندگی جیسے خصوصیا کا حامل تھا۔ اسی طرح وہ بحرالجود سے ملقب تھا[40] اور ان کا نام بنی‌ ہاشم کے چار سخی افراد میں ذکر کیا جاتا ہے۔[41] یعقوبی کے مطابق انہوں نے ایک بار اپنے جسم پر موجود کپڑوں تک کسی مستحق کو دے دیا۔[42]

عبیداللہ بن قیس نے ان کی جود اور بخشش پر اشعار بھی لکھا ہے۔ [43] ان کی جود و سخاوت سے متعلق کئی حکایات بھی منقول ہیں۔[44]

نقل حدیث

عبداللہ نے پیغمبر اکرم(ص)، امام علی(ع) اور اپنی والدہ اسماء بنت عمیس سے حدیث نقل کیا ہے۔ [45] اسی طرح بعض راویوں نے خود عبداللہ سے بھی حدیث نقل کئے ہیں۔[46]

انہوں نے آیہ تطہیر کے شان نزول اور حضرت زینب(س) کی طرف سے اہل بیت میں شامل ہونے کی درخواست پر پیغمبر اکرم(ص) کی طرف سے انکار سے متعلق بھی حدیث نقل کیا ہے۔[47]

زوجہ اور اولاد

عبداللّہ‌ بن جعفر نے زینب بنت علی‌ بن ابی‌طالب سے ازدواج کیا۔[48] اس شادی کا ثمرہ چار بیٹے (علی، عباس، عون، محمد) اور ایک بیٹی بنام ام کلثوم کی شکل میں عطا ہوا۔[49]

عبداللہ نے حضرت زینب(س) کی زندگی میں ہی لیلا بنت مسعود سے بھی شادی کیا[50]، اور حضرت زینب(س) کی وفات کے بعد آپ کی بہن ام کلثوم سے بھی شادی کیا۔[51]

وفات

عبداللہ کی وفات کی تاریخ اور مکان کے حوالے سے اختلاف‌ پایا جاتا ہے۔ مشہور قول کی بنا پر انہوں نے سنہ ۸۰ ہجری میں [52] اور ایک اور روایت کے مطابق [53] سنہ ۸۲ یا ۸۴ یا ۸۵ یا ۸۶ میں مدینہ میں وفات پائی۔ اَبان‌ بن عثمان جو اس وقت مدینہ کا والی تھا، نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں قبرستان جنۃ البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔[54] قبرستان باب الصغیر دمشق میں بھی ایک مقام ان سے منسوب ہے۔[55]

حوالہ جات

  1. ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج‌۶، ص‌۴۶۲
  2. ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص۸۸۰ـ۸۸۱؛ ابن‌اثیر، ج‌۳، ص‌۱۹۸
  3. ابن‌ہشام، ج۴، ص۱۱، ۲۴؛ ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۱؛ ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۵۷
  4. واقدی، المغازی، ج۲، ص‌۷۶۶ـ۷۶۷؛ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج‌۶، ص‌۴۶۲ـ۴۶۳
  5. ابن‌سعد، الطبقات‌ الکبیر، ج۶، ص‌۴۶۲، ۴۶۶؛ ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۶، ص‌۲۹۷
  6. واقدی، فتوح‌الشام، ج‌۱، ص۱۰۰ـ۱۰۸
  7. یعقوبی، ج‌۲، ص‌۱۷۲؛ مسعودی، مروج‌الذہب(بیروت)، ج‌۳، ص‌۸۴
  8. ابن‌ابی‌الحدید ج‌۱۷، ص‌۲۳۲، ۲۳۴؛ نک: مفید، الجمل، ص‌۴۳۵ـ۴۳۶
  9. مفید، الجمل، ص‌۱۰۷
  10. مسعودی، مروج الذہب(بیروت)، ج‌۳، ص‌۱۰۵
  11. بہ خلیفۃبن خیاط، ص‌۲۱۳
  12. ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۷۲
  13. ابن‌اعثم کوفی، ج‌۳، ص‌۲۴
  14. دینوری، ص‌۱۸۴
  15. نصر بن مزاحم، ص۵۳۰
  16. نصربن مزاحم، ص‌۵۰۷.
  17. طبری، ج‌۴، ص‌۵۵۴ـ۵۵۵؛ ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۶، ص‌۶۳
  18. ابن‌ابی‌الحدید ج‌۱، ص‌۵۳؛ نک: دینوری، ص‌۲۱۵
  19. ابن سعد، الطبقات‌الکبری، دارالفکر، ج۳، ص‌۳۹-۴۰؛ مسعودی، مروج‌الذہب (قم)،ج۲، ص۴۱۴-۴۱۶
  20. مسعودی، مروج‌الذہب(قم)، ج۲، ص۴۲۶
  21. مفید، الارشاد، ج‌۱، ص‌۲۲
  22. طبری، ج‌۵، ص‌۱۶۵
  23. ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج‌۶، ص‌۴۶۷
  24. بلاذری، ج‌۴، ص‌۱۰۱، ۳۲۰
  25. بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، تحقیق: محمدباقر المحمودی، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۴م، ص۴۵
  26. ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۶، ص‌۲۹۷
  27. مہدویان، ص‌۳۶
  28. ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۶۵ـ۲۶۶، ۲۶۸؛ ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۶، ص‌۲۹۵ـ۲۹۷، ج‌۱۵، ص‌۲۲۹
  29. نعمانی، ص‌۹۶ـ۹۷؛ طوسی، ص‌۱۳۷ـ۱۳۸
  30. ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۱۶، ص۵۰
  31. طبری، ج‌۵، ص‌۳۸۷ـ۳۸۸؛ قس ابن‌اعثم کوفی، ج‌۵، ص‌۶۷
  32. طبری، ج‌۵، ص‌۴۱۹، ۴۶۶؛ ابوالفرج‌اصفہانی، مقاتل‌الطالبیین، ص‌۹۱ـ۹۲
  33. ابن‌سعد،الطبقات‌الکبیر، ج‌۷، ص‌۱۴۵
  34. تستری، ج‌۶، ص‌۲۸۷
  35. بلاذری ج‌۴، ص‌۳۹۱
  36. ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۴۸
  37. ابن‌ابی‌الحدید، ج‌۱۱، ص‌۲۵۵
  38. خلیفۃبن خیاط، ص‌۲۹، ۳۱
  39. طبری، ج‌۵، ص‌۳۳۶ـ۳۳۷؛ ابوالفرج اصفہانی، کتاب الاغانی، ج‌۸، ص‌۳۲۱؛ ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۱
  40. ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۱.
  41. ابن‌عنبہ، ص‌۳۶؛ قس ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۱ـ۸۸۲
  42. یعقوبی ج‌۲، ص‌۲۷۷
  43. نک: ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۷۱ـ۲۷۲
  44. ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج‌۶، ص‌۴۶۶؛ ابن‌حبیب، ص‌۳۷۴ـ۳۷۹؛ ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۲
  45. ابن‌اثیر، ج‌۳، ص‌۱۹۸؛ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج‌۶، ص‌۴۶۴ـ۴۶۵
  46. نک:ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص‌۲۴۸
  47. کوفی، ج‌۲، ص‌۱۳۸
  48. ابن‌سعد،الطبقات‌الکبیر، ج۶، ص۴۶۱؛ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبیر، ج۶، ص۴۶۱ـ۴۶۲
  49. ابن عساکر،اعلام النسا،ص۱۹۰;ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۴۱و ترجمہ زینب کبری، ص۸۹
  50. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، بیروت: دار صادر، بی‌تا، ص۴۶۵.
  51. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، بیروت: دار صادر، بی‌تا، ص۴۶۳.
  52. یعقوبی، ج‌۲، ص‌۲۷۷؛ ابن‌اثیر، ج‌۳، ص۲۰۰
  53. خلیفۃبن خیاط، ص‌۳۱؛ ابن‌اثیر، ج‌۳، ص۲۰۰؛ ابن‌عساکر، ج‌۲۷، ص۲۹۶
  54. ابن‌عبدالبرّ، ج‌۳، ص‌۸۸۱؛ ابن‌اثیر، ج‌۳، ص۲۰۰
  55. فہری، مراقد اہل البیت فی الشام، ص۳۷.

مآخذ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸ق.
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ۱۹۶۵م/۱۳۸۵ق.
  • ابن‌اثیر، اسدالغایۃ فی معرفۃ الصحابۃ، چاپ محمدابراہیم بنا، محمد احمدعاشور و محمود عبدالوہاب فاید، بیروت ۱۹۸۹م/۱۴۰۹ق.
  • ابن‌اعثم کوفی، کتاب‌الفتوح، چاپ علی‌شیری، بیروت ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م.
  • ابن‌حبیب، المنمق فی اخبار قریش، چاپ خورشید احمد فارق، بیروت ۱۹۸۵م.
  • ابن‌سعد، کتاب‌الطبقات‌الکبیر، چاپ علی‌محمد عمر، قاہرہ ۱۴۲۱ق/۲۰۰۱م.
  • ابن‌سعد، کتاب‌الطبقات‌الکبری، چاپ درالفکر- یا دارصادر، بیروت، قم ۱۴۰۵ق.
  • ابن عساکر، اعلام النسا،تحقیق محمد عبدالرحیم،بیروت، دار الفکر،۱۴۲۴/۲۰۰۴ق.
  • ابن‌عبدالبر، الستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، چاپ علی محمد بجاوی، بیروت ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی‌شیری، بیروت ۱۴۱۵ق.
  • ابن‌عنبہ، عمدۃالطالب فی انساب آل ابی‌طالب، چاپ محمدحسن آل طالقانی، نجف ۱۳۸۰م/۱۹۶۱ق.
  • ابن‌قتیبہ، المعارف چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ ۱۹۶۰م.
  • ابن‌ہشام، السیرۃالنبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری و عبدالحفیظ شلبی، قاہرہ ۱۹۳۶م.
  • ابوالفرج اصفہانی، کتاب الاغانی، قاہرہ ۱۳۸۳ق.
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، چاپ سیداحمد صقر، قاہرہ ۱۳۶۸ق.
  • بلاذری، انساب الاشراف، چاپ محمود فردوس عظم، دمشق ۱۹۹۷ـ۲۰۰۰م.
  • محمدتقی تستری، قاموس‌الرجال، قم ۱۴۱۵ق.
  • خلیفۃبن خیاط، کتاب‌الطبقات، چاپ سہیل زکار، بیروت ۱۴۱۴ق/۱۹۹۳م.
  • دینوری، الاخبارالطوال، چاپ عبدالمنعم عامر، قاہرہ ۱۹۶۰م.
  • طبری، تاریخ (بیروت).
  • محمد بن حسن طوسی، الغیبۃ، چاپ عباداللّہ طہرانی و علی احمد ناصح، قم ۱۴۱۱ق.
  • محمدبن سلیمان کوفی، مناقب الامام امیرالمؤمنین، چاپ محمدباقر محمودی، قم ۱۴۱۲ق.
  • مسعودی، مروج الذہب (بیروت).
  • مسعودی،مروج الذہب و معادن الجوہر، منشورات دارالہجرہ، قم،۱۴۰۴ق.
  • محبوب مہدویان، «عبداللّہ‌بن جعفربن ابی‌طالب» ، تاریخ اسلام، سال ۲، ش ۲، قم، تابستان ۱۳۸۰ق.
  • نصر بن مزاحم منقری، وقعۃ صفین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ ۱۳۸۲ق.
  • محمدبن ابراہیم نعمانی، کتاب الغیبۃ، چاپ فارس حسون کریم، قم ۱۴۲۲ق.
  • محمدبن عمر واقدی، فتوح‌الشام، بیروت، دارالجیل، بی‌تا.
  • محمد بن عمر واقدی، کتاب‌المغازی للواقدی، چاپ مارسدن جونس، قاہرہ ۱۹۶۶م،
  • یعقوبی، تاریخ.
  • مفید، محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، بیروت، دار المفید، ۱۴۱۴ق.
  • محمد بن محمدبن نعمان مفید، الجمل، چاپ علی میرشریفی، قم، ۱۳۷۴م.
  • فہری، سید اجمد، مراقد اہل البیت فی الشام، مکتب الامام الخامنئی، سوریہ، ۱۴۲۸ق.