بیت الاحزان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قبرستان بقیع

بیت الاحزان، شہر مدینہ کے قبرستان بقیع میں ایک مسمار عمارت کا نام ہے. کہا گیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ کچھ مدت اس مقام پر عبادت اور اپنے بابا کے سوگ میں عزاداری کرتیں تھیں. اس مقام پر ایک کمرہ تھا جس کے اوپر گنبد تھا جو سنہ ١٣٤٤ق، وہابیوں کے ہاتھوں ویران کیا گیا. ایک احتمال یہ ہے کہ بیت الاحزان حضرت فاطمہؑ کا محل دفن ہے. مدینہ کے اکثر زائرین، بالخصوص شیعہ اور ایرانی زائر، بقیع کے خراب ہونے سے پہلے، بیت الاحزان کی زیارت بھی کرتے تھے.

نامگذاری کی وجہ

عربی زبان میں گھر کو بیت کہتے ہیں اور احزان حزن کی جمع اندوہ کے معنی میں ہے. جس گھر میں حضرت یعقوبؑ اپنے فرزند حضرت یوسفؑ کی دوری کے وقت جایا کرتے تھے اس کو بیت الاحزان کہا جاتا تھا. لیکن تاریخ اسلام میں بیت الاحزان سے مراد قبرستان بقیع میں وہ جگہ ہے جہاں پر حضرت فاطمہ زہراءؑ عبادت کرتیں اور حضرت پیغمبر اکرمؑ کے فراق میں گریہ کرتیں تھیں.

اس مقام کی ظاہری اور جغرافیائی علامات

تاریخی منابع اور سفر نامہ لکھنے والوں کی گزارش کے مطابق، بیت الاحزان مدینہ کے قبرستان بقیع میں عباس بن عبدالمطلب کی قبر کے جنوبی حصے کی طرف واقع ہے. گزارشات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیت الاحزان، ایک کمرہ تھا کہ جس کہ اوپر گنبد بنا ہوا تھا اور ظاہراً ایک لکڑی سے بنی سبز رنگ کی ضریح بھی تھی. قاجار کے زمانے میں بہت سے سفرنامہ لکھنے والے ایرانیوں نے اس مقام کی زیارت کی ہے اور اس مقام کی مشخصات اور نشانیاں بیان کی ہیں. جیسے کہ حسام السلطنہ قاجار نے کہا ہے: حضرت فاطمہؑ کا بیت الاحزان بقیع میں چار اماموں کی بارگاہ کے پیچھے واقع ہے.[1] محمد حسین حسینی فراھانی نے سنہ ١٣٠٢قمری/١٢٦٤شمسی، حج کے سفر کے وقت بیت الاحزان کو دیکھا اور کہا کہ اس مقام پر ایک چھوٹی ضریح اور گنبد بھی ہے.[2] حاجی ایاز خان قشقائی وہ آخری فرد تھا جس نے بیت الاحزان کو خراب ہونے سے پہلے (١٣٤٤ق) سنہ١٣٤١ق/١٣٠١ شمسی میں دیکھا اور اس کے بارے میں اپنے سفر نامے میں گزارش درج کی ہے. [3]

تاریخچہ

بعض تاریخی بیانات کے مطابق حضرت پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد جب حضرت فاطمہؑ اپنے بابا کے فراق میں گریہ کرتیں اور اس زمانے کی سختیوں اور پریشانیوں کی وجہ سے امام علیؑ نے شہر مدینہ کے باہر قبرستان بقیع میں ایک مکان آپؑ کے لئے بنایا تا کہ اس مقام پر اپنے بابا کے لئے عزاداری کیا کریں. کہا گیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ دن کو امام حسنؑ اور امام حسینؑ اپنے ہمراہ بیت الاحزان میں لے جاتیں اور غروب کے وقت امیرالمومنینؑ آپ کو گھر واپس لاتے تھے. بعض روایات کے مطابق، رحلت پیغمبرؐ کے ٢٧ دن کے بعد حضرت فاطمہؑ بیماری کی وجہ سے بیت الاحزان میں نہ جا سکتی تھیں. [4]

اہل سنت کے منابع میں بھی اس مقام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، مثلاً سمہودی نے غزالی سے (متوفی٥٠٥ھ) زیارت بقیع کے آداب کے بارے میں نقل کیا ہے کہ مسجد بیت الحزن میں نماز پڑھنا مستحب ہے۔ یہاں حضرت فاطمہؑ اپنے بابا کی وفات کے بعد عزاداری کے لئے اس مقام پر آتیں تھیں. [5] اس بیان کے مطابق بعد میں اس جگہ پر مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی. اور اسی طرح بیت الاحزان کو پیغمبر اسلامؐ کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہؑ کی محل اقامت بھی کہا گیا ہے.[6] مسجد النبی اور قبرستان بقیع کے بعد بیت الاحزان وہ تیسرا مکان ہے کہ جہان حضرت فاطمہؑ کی قبر کا احتمال دیا گیا ہے. [7]

تخریب

حجاز پر وہابیوں کے دوسرے حملے کے وقت سنہ ١٣٤٤ق میں بیت الاحزان کو مسمار کیا گیا. وہابیوں نے اپنے پہلے حملے (١٢١٨-١٢٢١ق) میں بقیع کو ویران کیا، لیکن بعض مقامات جیسے کہ چار اماموں کی بارگاہ کو مسمار کرنے کے بعد دوبارہ تعمیر کی گئی تھیں.[8] بعض سفر نامہ لکھنے والوں کے بقول پہلے (١٢٢١ق) اور دوسرے (١٣٤٤ق) حملے کے درمیانی فاصلے میں بیت الاحزان کو دیکھا گیا اور زیارت کی گئی ہے. [9] اس سے ظاہر ہوتا ہے بیت الاحزان پہلے حملے کے وقت مسمار نہیں ہوا تھا یا اگر خراب ہوا تھا تو پھر تعمیر کیا گیا تھا. بعض گزارش کے مطابق سنہ ١٢٣٣ق، سلطان محمود عثمانی کے حکم سے، بیت الاحزان، زوجات رسول اور عثمان بن عفان کے گنبد کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے. [10] حاج ایاز خان قشقایی حج کے وقت سفر نامہ لکھنے والا وہ پہلا فرد تھا جس نے سنہ ١٣٤١ ق میں بیت الاحزان کا دیدار کیا اوراپنے سفر نامہ میں اس کے بارے میں گزارش لکھی.[11]

بیت الاحزان فارسی ادب میں

فارسی ادب اور تاریخ انبیاء کی کتب میں، بالخصوص حافظ کے اشعار میں، یہ لفظ اور اس جیسے دوسرے الفاظ (غم واندوہ کے مقام) استعمال ہوئے ہیں اور صوفی مسلک کے نزدیک معشوق سے دوری کی وجہ سے دل کے حزین ہونے سے کنایہ ہے.[12] شیعہ ادب میں بیت الاحزان کو ایک خاص مقام حاصل ہے. بعض خواب کے مطابق، حضرت مہدی(عج) بیت الاحزان کے بارے میں شعر پڑھ کر ہمیشہ غم و اندوہ کی حالت میں رہتے ہیں. [13] اس لئے بعض علماء شیعہ نے رحلت پیغمبرؐ کے بعد اور اہل بیتؑ بالخصوص حضرت فاطمہؑ کے مصائب کے بارے اپنی شرح میں بیانات درج کیے ہیں کہ جن میں سے مشہورترین درج ذیل ہیں: بیت الاحزان فی مصایب سیدہ النسوان، اثر شیخ عباس قمی (م١٣٥٩) بیت الاحزان، فی مصائب سادات الزمان الخمسہ الطاھرہ من ولد عدنان، عبدالخالق بن عبدالرحیم یزدی (م ١٢٦٨) [14]

حوالہ جات

  1. حسام السلطنہ، دلیل الانام، ص۱۵۲.
  2. فراہانی، سفرنامہ مکہ، ص۲۴۰.ہمچنین نک: محمد ولی میرزای قاجار، سفرنامہ مکہ، گزارش سفر حج سال ۱۲۶۰ قمری/ ۱۲۲۳ شمسی.
  3. قشقایی، سفرنامہ مکہ، پنجاہ سفرنامہ حج قاجاری، ص۴۵۵.
  4. مجلسی، بحارالانوار، ج۴۳، ص۱۷۸ـ ۱۷۷؛ سپپر، ناسخ التواریخ، ج۴؛ زندگانی حضرت فاطمہ زہرا، ص۷۱؛ مقرم، وفاة الصدیقہ الزہرا علیہاالسلام، ص۹۷.
  5. سمہودی، وفاءالوفاباخبار دارالمصطفی، ج۳، ص۹۰۷.
  6. رفعت باشا، مراة الحرمین او الرحلات الحجازیہ والحج و مشاعرہ الدینیہ، ج ۱، ص ۴۲۶.
  7. خلیلی، موسوعہ العتبات المقدسہ، قسم المدینہ المنورة، ص ۲۸۵ـ۲۸۴؛ سخاوی، التحفہ اللطیفہ فی تاریخ المدینہ الشریفہ، ج۱، ص۴۱.
  8. نک: پنجاہ سفرنامہ، ج۳، ص۱۹۶.
  9. ز جملہ: حسام السلطنہ، دلیل الانام فی سبیل زیارة بیت اللہ الحرام، ص۱۵۲.
  10. رآة الحرمین، ج۱، ص۴۲۶.
  11. قشقایی، سفرنامۀ حاج ایازخان قشقایی بہ مکہ، مدینہ و عتبات عالیات در روزگار احمد شاہ قاجار ، ص۴۵۵.
  12. شاد، فرہنگ جامع فارسی، ذیل بیت احزان؛ نفیسی، فرہنگ نفیسی، ذیل کلبة احزان؛ خرمشاہی، حافظ نامہ، بخش۲، ص۸۲۹ـ۸۲۸؛ تقی‌زادہ طوسی، قصص الانبیاء، ص ۱۰۴؛ عفیفی، فرہنگنامة شعری، ذیل بیت الحزن؛ اہور، کلک خیال انگیز: فرہنگ جامع دیوان حافظ، ج ۱، ص ۴۹۱ـ۴۹۰؛ تہانوی و دیگران، کشف اصطلاحات الفنون، ج۲، ص۱۵۶۱.
  13. مقرم، وفاة الصدیقة الزہرا علیہاالسلام، ص۹۷؛ سماوی، ظرافة الاحلام، ص۸۱؛ بحرانی، ریاض المدح و الرثا، ص ۱۹۳ـ ۱۹۶.
  14. آقابزرگ طہرانی، الذریعة، ج۲، ص۱۸۵.