حدیث قارورہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث قارورہپیغمبر اکرم(ص) کی حدیث ہے اور اس کی مخاطب ام المومنین ام سلمیٰ ہیں جس میں آپ(ص) نے انہیں امام حسین(ع) کی شہادت کے بارے میں بتایا. قارورہ کا معنی برتن یا شیشی ہے، بہت سے اہل سنت محدثین اور مؤلفین نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے.

اصلی حدیث

پیغمبر اکرم(ص) نے کچھ خاک کربلا ام سلمیٰ کو دی اور انہوں نے اسے ایک شیشی میں ڈال کر رکھ لیا. آپ(ص) نے فرمایا تھا کہ جس وقت بھی دیکھو کہ یہ خاک خون میں تبدیل ہو گئی ہے تو سمجھ جانا میرا بیٹا امام حسین(ع) شہید ہو گیا ہے. ایک دن ام سلمیٰ نے رسول خدا(ص) کو خواب میں دیکھا کہ آپ کا چہرہ سخت غمگین اور لباس خاک آلود ہے اور آپ(ص) نے فرمایا: میں کربلا سے اور شہدا کو دفن کر کے آ رہا ہوں. فوراً نیند سے اٹھی اور اس شیشی کو دیکھا، خاک خونی ہو چکی تھی، سمجھ گئیں کہ حسین(ع) شہید ہو گئے ہیں. اس کے بعد گریہ و زاری کرنے لگی ہمسائے جمع ہو گئے تو اس نے سب کو یہ ماجرا سنایا.[1]

ہمسایوں کے رونے کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ پورے شہر کو ان آوازوں نے لپیٹ میں لے لیا پہلے کبھی ایسا نہ دیکھا گیا تھا. [2] یہ قصہ روایات میں، حدیث قارورہ سے مشہور ہے.

اہل سنت کے مآخذ

اہل سنت کے مآخذ میں بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے، اہل سنت کے بعض مآخذ کے مطابق، ابن عباس کہتا ہے: ایک دن پیغمبر اکرم(ص) ظہر کے وقت سوئے، اچانک بیدار ہو گئے جب کہ بہت پریشان تھے اور آپ(ص) کے ہاتھ میں ایک برتن تھا جس میں خون تھا، جب میں نے اس کی وجہ پوچھا تو فرمایا: یہ حسین(ع) کا خون ہے. [3]

بعض نے ام سلمیٰ سے قول نقل کیا ہے کہ ایک دن امام حسین(ع) حضرت پیغمبر(ص) کی خدمت میں آئے. میں اس وقت دروازے کے پاس کھڑی تھی، اچانک میں نے دیکھا کہ پیغمبر(ص) کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے اور آپ(ص) اسے چوم رہے ہیں حالانکہ امام حسین(ع) آپ(ص) کے زانو مبارک پر سو رہے تھے، میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے جسے آپ(ص) چوم رہے ہیں اور رو رہے ہیں؟ حضور(ص) نے فرمایا: جبرئیل نے ایک خاک لائی ہے کہ جس خاک پر میرا حسین(ع) میری امت کے ہاتھوں شہید ہو جائے گا. [4] اس کے بعد وہ خاک مجھے دی اور فرمایا: اے ام سلمیٰ جس دن دیکھو کہ یہ خاک خون میں تبدیل ہو گئی ہے سمجھ جانا میرا بیٹا حسین(ع) شہید ہو گیا ہے. ام سلمیٰ نے اسے ایک برتن "قارورہ" میں ڈال دیا اور ہر روز اسے دیکھتیں. ام سلمیٰ کہتی ہیں: ایک غمگین دن کو، یہ خاک خون میں تبدیل ہو گئی. [5] اس حدیث میں حضور اکرم(ص) حتیٰ کہ زمین کربلا کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں. [6]

حوالہ جات

  1. مِنْ مُعْجِزَاتِه (حسین بن علی)صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیهِ أَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ الْعِرَاقَ قَالَتْ لَه‌ام سَلَمَةَ- لَا تَخْرُجْ إِلَی الْعِرَاقِ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ یقُولُ یقْتَلُ ابْنِی الْحُسَینُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَ عِنْدِی تُرْبَةٌ دَفَعَهَا إِلَی فِی قَارُورَةٍ فَقَالَ إِنِّی وَ اللَّهِ مَقْتُولٌ کذَلِک وَ إِنْ لَمْ أَخْرُجْ إِلَی الْعِرَاقِ یقْتُلُونِی أَیضاً وَ إِنْ أَحْبَبْتِ أَنْ أراک [أُرِیک] مَضْجَعِی وَ مَصْرَعَ أَصْحَابِی ثُمَّ مَسَحَ بِیدِهِ عَلَی وَجْهِهَا فَفَسَحَ اللَّهُ عَنْ بَصَرِهَا حَتَّی رَأَیا ذَلِک کلَّهُ وَ أَخَذَ تُرْبَةً فَأَعْطَاهَا مِنْ تِلْک التُّرْبَةِ أَیضاً فِی قَارُورَةٍ أُخْرَی وَ قَالَ ع إِذَا فَاضَتْ دَماً فَاعْلَمِی أَنِّی قُتِلْتُ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَلَمَّا کانَ یوْمُ عَاشُورَاءَ نَظَرْتُ إِلَی الْقَارُورَتَینِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَإِذَا هُمَا قَدْ فَاضَتَا دَماً فَصَاحَتْ. وَ لَمْ یقَلَّبْ فِی ذَلِک الْیوْمِ حَجَرٌ وَ لَا مَدَرٌ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عَبِیطٌ. (بحارالانوار، ج۴۵، ص۸۹، ۲۲۷ و ۲۳۲، ج۴۴، ص۲۲۵، ۲۳۱، ۲۳۶ و ۲۳۹).
  2. تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص:۲۴۶
  3. الاستیعاب، ج۱، ص:۳۹۶؛ أسدالغابۃ، ج۱، ص:۵۰۰؛ الإصابۃ، ج۲، ص:۷۱
  4. إمتاع الأسماع، ج۱۲، ص:۲۳۸؛ الطبقات الکبری، خامسۃ۱، ص:۴۲۷
  5. إمتاع الأسماع، ج۱۲، ص:۲۳۸
  6. إمتاع الأسماع، ج۱۴، ص:۱۴۶


مآخذ

  • ابن اثیر، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت،‌دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹.
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۵/۱۹۹۵.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد بن صامل السلمی، الطائف، مکتبۃ الصدیق، ط الأولی، ۱۴۱۴.
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت،‌دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • مقریزی، إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدة و المتاع، تحقیق محمد عبد الحمید النمیسی، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۲۰.
  • مسعودی علی، اثبات الوصیۃ، قم، ۱۴۰۴ق.
  • یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا.