فاقد خانہ معلومات
حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
غیر جامع

اوس بن معیر بن لوذان جمحی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معلومات شخصیت
مکمل نام اوس بن معیر بن لوذان جمحی
کنیت ابومَحذورہ
تاریخ وفات اور مقام وفات متوفی سنہ ۵۹ہجری، مکہ
دینی مشخصات
وجہ شہرت آذان دینا


اَوْس بْن مِعْیَر بْن لَوْذان جُمَحی (متوفی 59ھ) ابومَحْذورہ کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ صحابی اور مکہ میں پیغمبر اسلامؐ کے مؤذن تھے۔ باب آذان و اقامت میں ابومحذورہ کی روایات فقہی اعتبار سے شایان توجہ اور احکام کے استنباط میں فقہا کیلئے ایک اہم مبنیٰ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

نام و نسب

آپ اور آپ کے والد کے ناموں میں اختلاف ہے۔ مورخین اور نسب شناسوں کی روایات میں موجود اس اختلاف کے سبب آپ کے نام کی دقیق تعیین مشکل ہے۔ بعض منابع میں آپ کا نام سمرہ وغیرہ بھی وارد ہوا ہے۔ بعض کتابوں میں آپ کو ابومحذورہ کے بھائی اوس یا انیس قرار دیا گیا ہے کہ جو جنگ بدر میں کافروں کی صفوف میں مارے گئے تھے اور ابن عباس کے بقول سورہ حجر کی آیت نمبر 90 میں وارد ’’مقتسمین‘‘ کا مصداق تھے۔[1] البتہ ان کے والد کے بارے میں اختلاف تصحیفِ لفظ (یعنی ثبت و کتابت میں اشتباہ یا رد و بدل) کی حد تک ہے۔[2]

مکہ کے مؤذن

ابومحذورہ کی آواز بہت اچھی تھی اور ابو دہبل نے ایک شعر میں ان کی خوبصورت آواز کی تعریف کی ہے۔[3] کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا اور بعض کے بقول جنگ حنین کے بعد مسلمان ہوئے اور پیغمبر اسلام کے حکم پر مکہ کے اندر مؤذن کے عنوان سے متعین ہوئے۔[4] اسی طرح کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چند دیگر افراد کے ہمراہ پیغمبرؐ کے مؤذن کی تقلید میں آذان کہی اور جب حضرتؐ نے ان کی آواز کو سنا تو انہیں مکہ میں آذان دینے پر مامور کر دیا۔[5] ابن سعد[6] سے منقول روایت کے مطابق کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے تین مؤذن تھے: بلال ، ابومحذورہ اور عمرو بن ام مکتوم ۔ جب بلال نہ ہوتے تو ابومحذورہ آذان دیتے تھے۔ تاہم ابن سعد[7] کے مطابق ابومحذورہ مکہ میں رہائش پذیر تھے تو اس اعتبار سے بلال کی غیر موجودگی میں ان کی جانشینی قابل تردید ہو جاتی ہے۔

پیغمبرؐ کی وفات کے بعد آذان دینا

وفات پیغمبرؐ کے بعد ابومحذورہ پہلے کی طرح مکہ میں آذان دیتے رہے۔ جب معاویہ نے ان کی جگہ ایک دوسرا مؤذن متعین کیا تو ابومحذورہ نے اسے چاہ زمزم میں پھینک دیا۔[8] مسجد الحرام میں آذان دینے کا سلسلہ تیسری صدی ہجری تک ان کے خاندان میں جاری رہا۔[9] وہ زندگی کے آخری ایام تک مسجد الحرام میں مؤذن رہے اور آخر کار ان کا مکہ میں ہی انتقال ہوا۔[10]

آذان کی روایت

آذان و اقامت کے باب میں ابومحذورہ کی روایات فقہی اعتبار سے شایان توجہ اور استنباط احکام کیلئے فقہا کا ایک اہم مبنی ہیں۔ ابومحذورہ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے حرف بحرف انہیں آذان کی تعلیم دی اور فرمایا کہ آذان کے 19 جبکہ اقامت کے 17 کلمات ہیں۔[11] باب آذان میں ابومحذورہ سے ان کے بیٹے عبد الملک، عبد اللہ بن محیریز، صفیہ بن بحرہ، اسود بن یزید، عبد العزیز بن رفیع اور ابن ابی ملیکہ نے روایات نقل کی ہیں۔[12] بعض راویوں نے ان سے دو تکبیروں کیساتھ آذان نقل کی ہے۔ تاہم مشہور روایات میں چار تکبیروں کا ذکر ہے۔[13] عبد اللہ بن محیریز کی ابومحذورہ سے منقول روایت میں تثویب یعنی ’’الصلاہ خیر من النوم‘‘ بھی آیا ہے[14] لیکن شافعی اسے پیغمبرؐ سے منسوب نہیں سمجھتے اور اسے مکروہ قرار دیتے ہیں۔[15] اسی طرح زیدیہ کی ایک روایت میں عبد العزیز بن رفیع کے طریق سے آذان کے کلمات میں بھی ’’حی علی خیرالعمل‘‘ بھی وارد ہوا ہے۔[16]

حوالہ جات

  1. المحبر، ص160-161؛ المعارف، ص306۔
  2. الطبقات الکبری، ج5، ص450؛ الطبقات، ج1، ص55؛ المعارف، ص306؛ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج4، ص176۔
  3. جمہرۃ النسب، ص100۔
  4. الطبقات الکبری، ج5، ص450؛ المعارف، ص306۔
  5. المعجم الکبیر، ج7، ص204-205۔
  6. الطبقات الکبری، ج3، ص234۔
  7. الطبقات الکبری، ج5، ص450۔
  8. المستدرک، ج3، ص515۔
  9. المستدرک، ج3، ص515۔
  10. مشاہیر علماء الامصار، ص31۔
  11. سنن ابوداوود، ج1، ص137-138؛ سنن ترمذی، ج1، ص366-367۔
  12. سنن ابوداوود، ج1، ص136-138؛ کتاب الاذان بحی علی خیر العمل، ص15۔
  13. ابن ماجہ، ج1، ص234-235؛ سنن ابوداوود، ج1، ص136، 138؛ سنن ترمذی، ج1، ص366۔
  14. سنن ابوداوود، ج1، ص137-138؛ سنن ترمذی، ج1، ص378۔
  15. الام، ج1، ص85۔
  16. کتاب الاذان بحی علی خیر العمل، ص15-16۔


مآخذ

  • ابن ابی حاتم، عبدالرحمن بن محمد، الجرح و التعدیل، حیدرآیاد دکن، 1372ھ/1952ء۔
  • ابن حبان، محمد، مشاہیر علماء الامساء، بہ کوشش فلایشہامر، قاہرہ، 1379ھ/1959ء۔
  • ابن حبیب، محمد، المحبر، بہ کوشش لیشتن اشتتر، حیدرآباد دکن، 1361ھ/1942ء۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، قاہرہ، 1328ھ۔
  • ابن خزیمہ، محمد بن اسحاق، صحیح، بہ کوشش محمد مصطفی اعظمی، بیروت، 1971ء۔
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر۔
  • ابن قتیبہ، عبداللہ بن مسلم، المعارف، بہ کوشش ثروت عکاشہ، قاہرہ، 1388ھ/1969ء۔
  • ابن ماجہ، محمد بن یزید، سنن، بہ کوشش محمدفؤاد عبدالباقی، قاہرہ، 1954ء۔
  • ابوداوود، سلیمان بن اشعث، سنن، بہ کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاہرہ، دار احیاء السنہ النبویہ۔
  • ابوعبداللہ علوی، محمد بن علی، کتاب الاذان بحی علی خیر العمل، بہ کوشش یحیی عبدالکریم فضیل، دمشق، 1399ھ/1979ء۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر، حیدرآباد دکن، 1378ھ/1959ء۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بہ کوشش محمد حمیداللہ، قاہرہ، 1959ء۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن، بہ کوشش احمد محمد شاکر، قاہرہ، 1356ھ/1937ء۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک، بیروت، 1398ھ/1978ء۔
  • خلیفہ بن خیاط، الطبقات، بہ کوشش سہیل زکار، دمشق، 1966ء۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام (عہد معاویہ بن ابی سفیان 40-60ھ)، بہ کوشش عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، 1409ھ/1989ء۔
  • شافعی، محمد بن ادریس، الام، بہ کوشش محمد زہری نجار، بیروت، دارالمعرفۃ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، بہ کوشش حمدی عبدالحمید سلفی، بغداد، 1400ھ/1980ء۔
  • کلبی، ہشام بن محمد، جمہرۃ النسب، بہ کوشش ناجی حسن، بیروت، 1407ھ/1986ء۔
  • مسلم بن حجاج نیشابوری، صحیح، شرح نووی، بیروت، 1392ھ/1972ء۔