عمر بن حسن بن علی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عُمَر بن حسن بن علی بن ابی طالب، امام حسن مجتبی (ع) کے فرزند ہیں کہ جو کربلا میں موجود تھے اور واقعہ کربلا کے بعد اسیر ہوئے۔

نام و نسب

بعض نے ان کا نام عَمْرو لکھا ہے۔[1] بعض انہیں امام حسین علیہ السلام کا بیٹا سمجھتے ہیں [2] لیکن مشہور یہ ہے کہ وہ حضرت امام حسن کے بیٹوں میں سے ہیں اور ان کی ماں ام‌ ولد تھیں۔[3]

کربلا میں حضور

بعض مورخین کے نزدیک وہ کم سنی میں ہی کربلا میں شہید ہوئے ہیں [4] لیکن بعض ان کی شہادت کو تردید کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔[5]

اکثر مؤرخین ان کی کربلا میں اسیری کے قائل ہیں جیسا کہ مقاتل الطالبیین میں آیا ہے : امام حسین علیہ السلام کے اہل بیت اسیر ہوئے اس میں عمر، زید اور حسن بن علی کے فرزند حسن بھی شامل تھے۔[6]

طبری کے بقول یزید نے کم سن عمر بن حسن کو طلب کیا اور کہا: میرے بیٹے کے ساتھ کشتی کرو گے؟ عمر نے جواب دیا: اس طرح خالی ہاتھ نہیں بلکہ دونوں کے ہاتھوں میں تیز دھار تلوار دو تا کہ باہم جنگ کریں اگر میں مارا جاؤں تو اپنے جد محمد مصطفے سے ملحق ہو جاؤں اور اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو وہ اپنے اجداد معاویہ و ابو سفیان سے ملحق ہو جائے گا۔[7]

اس بات کے پیش نظر دیگر مؤرخین نے انہیں کربلا کے شہیدوں میں سے شمار نہیں کیا لہذا ان کا شہید ہونا بعید نظر آتا ہے۔

مربوط لنکس

حوالہ جات

  1. ابن حبان، الثقات، ج۲، ص۳۱۱.
  2. ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم‌السلام، ج۳، ص۲۵۹.
  3. تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۲۲۸.
  4. خوارزمی، مقتل الحسین علیه‌السلام، ج۲، ص۴۸.
  5. ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم‌السلام، ج۳، ص۲۵۹.
  6. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۱۱۹.
  7. طبری ، ابوجعفر، تاریخ طبری، ج۵، ص۴۶۲.

منابع

  • ابن‌ حبان‌ محمد، کتاب‌ الثقات‌، ج۱، ص۱۳، بہ کوشش‌ عزیز بیگ‌ و دیگران‌، حیدرآباد دکن‌، ۱۳۹۳ق‌.
  • مازندرانی، محمد بن علی؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب. نجف: المکتبہ الحیدریہ، ۱۳۷۶ق.
  • يعقوبی، احمد بن اسحاق، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران، ۱۳۶۲ش.
  • خوارزمی، محمد بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، قم، انوار الہدی، ۱۴۲۳ق.
  • مازندرانی، محمد بن علی؛ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب. نجف: المکتبہ الحیدریہ، ۱۳۷۶ق.
  • اصفہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبیین، تحقيق سيد احمد صقر، بيروت، دار المعرفہ، بى تا.
  • تاریخ الامم و الملوک، طبری، موسسہ الاعلمی، بیروت، ۱۴۰۳ق.