خوارج

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خوارج اس گروہ کو کہا جاتا ہے جنہوں نے حکمیت کی وجہ سے جنگ صفین کے دوران اور اس کے بعد امام علی(ع) کے خلاف خروج کیا اور پھر ناامنی پھیلا کر جنگ نہروان چھیڑ دی۔ جنگ نہروان میں شکست کھانے کے بعد اس گروہ نے اپنے نظریات کے مطابق ایک معاشرتی، سیاسی، نظامی اور اعتقادی تحریک وجود میں لے آیا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف گروہوں میں بٹ گئے اور اسلامی سرزمین کے بعض علاقوں پر قابض ہو گئے۔ خوارج کے فرقے ایک ایک کرکے ختم ہوگئے اور اب صرف اباضیہ باقی ہے جو عمان جیسے بعض علاقوں میں باقی ہے اور ان کے عقا‎ئد دوسرے مسلم فرقوں کے قریب ہیں۔

خوارج کی پیدا‎‎یش

بعض مؤرخین مطابق خوارج جنگ جمل اسی طرح جنگ صفین میں حکمیت کے واقعہ سے پہلے امام علی(ع) کی فوج میں تھے۔[1] مؤرخین معمولا خوارج کے ظہور کو حکمیت کے بعد سے قرار دیتے ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق خوارج، حکمین کی ر‎ای کےاعلان کے بعد وجود میں آئے ہیں۔

جنگ صفین

اصل مضمون: جنگ صفین

معاویہ کی فوج کی طرف سے قرآن کو نیزوں پر اٹھا کر کی قرآن کو حاکم قرار دینے کی تجویز کے بعد امام علی(ع) کی فوج نے حکمیت کی درخواست کی جبکہ امام اور بعض اصحاب حکمیت کے مخالف تھے۔[2] حکمیت کیلئے جنگ بند کی گئی تھی لیکن حکمیت کی ناکامی اور عمروعاص کی دھوکہ دھی کے بعد بعض لوگوں نے دوبارہ جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور حکمیت کو قبول کرنے کو موجب کفر قرار دیتے ہوئے امام سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن امام نے حکمیت کی بات ٹھکرانے سے انکار کردیا۔ امام کی کوفہ واپسی پر حکمیت کے مخالفین، کوفہ کے نزدیک حروراء نامی جگہے پر چلے گئے۔[3] اور اس طرح سے ایک گروہ خواج کے نام سے وجود میں آیا۔

خوارج کو واپس لانے کیلئے امام کی کوششیں

امام علیہ السلام نے عبداللہ بن عباس کو شروع میں مناظرے کے لئے بھیجا۔ بعض اقوال کے مطابق دو یا چار ہزار لوگ کوفہ واپس لوٹے۔ ایک اور نقل کے مطابق کسی نے بھی نہیں مانا۔ پھر امام علیہ السلام خود حروراء چلے گئے اور ان سے گفتگو کی جس کے نتیجے میں بہت سارے لوگ جن کے سربراہ عبداللہ بن کواء یشکری، شبث بن ربعی و یزید بن قیس ارحبی تھے، کوفہ واپس آگئے۔[4] خوارج نے کوفہ میں ایک بار پھر سے سر اٹھایا اور تمام ان لوگوں کو جنہوں نے حکمیت کو قبول کیا تھا اور ان کے علاوہ جو علی کو کافر نہیں سمجھتے تھے انکو بھی کافر قرار دیا۔[5] اور نہ صرف دونوں حَکم کو بلکہ اسلامی حاکم کے وجود کو بھی رد کر دیا۔[6] ان لوگوں نے عمومی جگہوں پر خاص کر مسجد کوفہ میں حکمیت کی صریح الفاظ میں مخالفت شروع کی اور امام پر کفر کے فتوے لگانے کے ساتھ ساتھ قتل کی دھمکی بھی دی اور امام کے خطبے کے دوران مخالفت میں نعرے بازی کی اور بہت کوشش کی کہ امام حکمیت کے وفد کو نہ بھیجے اور امام کو جنگ کرنے پر تیار کرے۔ اس کے باوجود امام علیہ السلام نے ان سے نرم برتا‎‎‎ؤ کیا اور جب تک وہ جنگ اور خونریزی کا اقدام نہ کرے امام ان سے نہیں لڑے۔[7]

حکمیت

اصل مضمون: حکمیت

حکمیت، ۳۷ ھ ق کو ابوموسی اشعری اور عمرو بن عاص کے درمیان شعبان یا رمضان کے مہینے میں واقع ہوا جسمیں ابوموسی کو عمرو عاص نے فریب دیا یوں حکمیت بغیر کسی نتیجہ کے اختتام کو پہنچا۔ امام علی علیہ السلام نے حکمین کے حکم کو قرآن کے منافی قرار دے کر ایک بار پھر معاویہ کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہوا اور خوارج کے دو سرکردگان عبداللہ بن وہب راسبی اور یزید بن حصین اور انکے ساتھیوں کو ایک خط لکھا اور اس میں اعلان کیا کہ حَکمین نے قرآن کے مطابق صحیح فیصلہ نہیں کیا ہے اس لئے دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے مجھ سے ملحق ہوجا‎‎‎ؤ۔ ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ پہلے اپنے کفر کا اعتراف کر کے توبہ کرو وگرنہ آپ سے ملحق نہیں ہونگے۔ حکمین کی رای کے اعلان کے بعد خوارج کی امام کی مخالفت میں مزید شدت آگئی۔[8]

جنگ نہروان

اصل مضمون: جنگ نہروان

10 شوال کو خوارج نے عبداللہ ابن وہب کی بعنوان امیر بیعت کی اور کوفہ سے باہر جاکر نہروان میں رہنے پر متفق ہوگئے۔[9] راستے میں خوارج نے بہت سارے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ امام نے ان کو حق کی دعوت کی اور حجت تمام کرنے کے بعد ان سے جنگ کرنے پر مجبور ہوگئے اور 38 ہجری کو ان میں سے اکثر جنگ نہروان میں مارے گئے۔ اور ان میں سے ایک گروہ، فروۃ بن نوفل کی سربراہی میں امام علیہ السلام سے جنگ لڑنے میں مردد ہوگئے اور شروع سے ہی جنگ سے کنارہ کشی کی۔ [10] بعض روایات میں خوارج کی تعداد چار ہزار سے 16 ہزار اور ایک مبالغہ آمیز روایت میں 24 ہزار تک لکھا گیا ہے۔

نہروان کے بعد امام علی علیہ السلام کی کامیابی کے باوجود خوارج ایک سیاسی، فکری اور نظامی تحریک کی صورت میں باقی رہے۔ امام حسن علیہ السلام نے شیعوں کو اپنے بعد خوارج سے جنگ لڑنے سے منع کیا۔[11] امام نے معاویہ سے صلح کرنے کے بعد معاویہ کی طرف سے خوارج سے جنگ لڑنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔[12]

خوارج وجود میں آنے کے علل و اسباب

  • بادیہ‌نشینوں کی نفسانی کیفیت

بعض مصنفین نے خوارج کے وجود میں آنے کے منشاء کو زمانہ جاہلیت اعرابی قرار دیا ہے جو اپنے سرداروں، خاندانی اقدار اور رسم و رواج کی خاطر بغاوتیں کرتے تھے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جذباتی ہوتے اور جھنگ پر اتر آتے تھے۔[13] خوارج کی اکثر بڑی شخصیات بھی انہی اعرابیوں میں سے تھے جن کا عرب کے مشہور قبا‎ئل میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہیں تھا۔[14] خوارج اکثر یمن کا قبیلہ ربیعہ کے تمیم اور بکر طا‌‎ئفے کے اعرابی تھے [15]۔ مہاجرین اور انصار میں کو‎ئی ایک صحابی بھی خوارج کے ساتھ نہیں تھا۔[16]

  • قبا‎ئلی نظام اور قریش سے دشمنی

قبا‎یلی تعصب اور قبایلی سرداروں کی پیروی خوارج کے وجود میں آنے اور اسے استمرار دینے کے عوامل میں سے ہے۔ اشعث بن قیس کندی جیسے قبایلی سردار نے امام کو حکمیت اور جنگ بندی نیز ابو موسی اشعری کی نمایندگی پر مجبور کر دیا۔[17] شروع میں حاکم قریشی ہونے کے بارے میں خوارج کا کو‎ئی نظریہ نہیں تھا لیکن بعد میں مسلمانوں کے امورمیں قریش کے تسلط پر نارضایتی کا اظہار کر کے خلافت میں قریشی ہونے کی شرط کو مسترد کردیا۔[18] قریشی کو‎ئی بھی خوارج سے ملحق نہیں ہو‎ئے۔[19]

  • عثمان کے خلاف بغاوت

بعض نے خوارج کے ظہور کو عثمان کے خلاف ہونے والی بغاوت کا تسلسل قرار دیا ہے۔[20]عثمان کے قتل اور صحابہ کا آپس میں اختلاف کی وجہ سے باب خلافت میں یہ نظریہ بھی پیش ہوا کہ خلیفہ کو لوگوں کے نظریے کی مخالفت کی صورت میں یا دینی احکام کی مخالفت کی صورت میں یا بے تدبیری اور عدل و انصاف کی رعایت نہ کرنے کی صورت میں اسے برطرف یا قتل کیا جاسکتا ہے۔[21] عثمان کی سیاست کے مخالف سرکردگان جو تقریبا 30 آدمی تھے انہوں نے خوارج کی مرکزیت کو تشکیل دیا۔[22]

  • غلاموں اور موالیوں کے ساتھ مساوات

خوارج کی مساوات طلبی نے غیر عرب کو ان کی طرف جذب کیا۔ بعض ساسانی سپاہی شکست کے بعد، بصرہ میں رک گئے اور بنی تمیم کے موالیوں میں شمار ہو‎ئے۔ بعد میں خوارج کے بہت سارے سرکردگان اسی قبیلہ سے نکلے۔[23]نمونہ کیلئے مراجعہ فرمائیں[24]۔ لیکن بعض لوگ خوارج میں موالیوں کی شمولیت کو قبول نہیں کرتے اور خوارج کو ایسے متعصب اعرابی سمجھتے جو موالیوں کی تحقیر کرتے تھے۔[25] فقط دین اور عقیدہ خواج کے اتحاد کا عامل نہیں تھا بلکہ غلام، ڈاکو، اور خراج سے بھاگنے والے لوگ بھی خوارج میں شامل ہو‎ئے تھے۔[26]

  • قاریان قرآن کا خوارج سے ملنا

گزشتہ بعض کتابوں میں آیا ہے کہ بہت سارے قاری جنگ صفین میں امام علی علیہ السلام اور معاویہ کی فوج میں تھے اور ان میں سے 7 قاری خوارج میں شامل ہو‎ئے۔[27] اسی لئے ان کو قاری کہا گیا ہے یا ان دو گروہ کو ایک دوسرے کے ہمراہ ذکر کیا ہے۔[28]

اس کے مقابلے میں خوارج کے بعض منابع اور متاخر روایات کی روشنی میں صفین کی جنگ بندی اور حاکمیت کے قبول کرنے کی ذمہ داری کو قاریان قرآن سے نفی کیا ہے۔[29] بعض نے کہا ہے کہ حکمین کی گفتگو ناکام ہونے کے بعد قراء خوارج سے مل گئے تھے۔[30]

  • دوسرے عوامل

ان عوامل کے علاوہ دوسرے عوامل جیسے غنیمت اور عطیہ کی تقسیم میں امام علی علیہ السلام کے مساواتی رفتار سے ناخشنودی اور داخلی جنگیں؛ جیسے جمل اور صفین جن میں مسلمان ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوگئے اور اسی طرح جنگ جمل میں غنیمت نہ لینے کا حکم اور حروریہ کا اعتراض، خوارج کی تشکیل کے موثر عوامل میں سے ہیں۔[31]

خوارج کے نام

خوارج کا مشہور نام جو امام علی علیہ السلام کے کلمات میں بھی آیا ہے اس کے علاوہ دوسرے متعدد نام بھی ذکر ہو‎ئے ہیں۔[32]

  • خوارج: خوارج لغت میں خارجہ کا جمع مکسر ہے (خروج کرنے والا گروہ) جو خروج مصدر کے فعل خَرجَ سے بنا ہے۔ جس کا معنی نفاذ، ظہور، انفصال، انقلاب، نافرمانی، جنگ اور جہاد ہے۔[33]
خوارج نے اس نام کو متکلمین اور مؤرخین کے برخلاف کسی اور معنی میں تفسیر کیا ہے۔ انہوں نے خروج کو ظالم حاکمیت اور حکومت کا انکار سمجھتے ہو‎ئے اس کو پیغمبر اکرم(ص) اور مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے مقایسہ کیا ہے۔[34]
  • مُحَکِّمہ: یہ نام «لاحکم الا للہ‌» کے نعرے سے ماخوذ ہے جس کو خوارج نے حکمیت کی مخالفت میں بلند کیا تھا۔[35]
  • حروریّہ: امام علیہ السلام کی طرف سے حکمیت قبول کرنے اور فوج کوفہ لوٹنے کے بعد خوارج امام سے الگ ہو کر کوفہ سے دو میل باہر حرورا‌ء نامی گاوں چلے گئے۔ [36]
  • مارقہ: مارقہ و مارقون ایک برا نام ہے جو احادیث اور تاریخی گزارشات میں خوارج کیلئے استعمال ہوا ہے۔ [37] امام علیہ السلام نے پیغمبر اکرم کی ایک حدیث کی بنا پر خوارج کو مارقہ (=منحرف) کا نام دیا ہے۔[38] خوارج اپنے لئے اس نام کو پسند نہیں کرتے تھے۔[39]
  • شُراۃ: شراۃ کا معنی بیچنے والا ہے۔ اور خوارج نے یہ نام اپنے لئے دیا ہے۔[40] اور یہ نام قرآن مجید کی ایک آیہ (بقرہ: ۲۰۷؛ توبہ:۱۱۱) سے لیا ہے جس میں ذکر ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی جان کو اللہ تعالی کی اطاعت، خشنودی اور بہشت کے لئے بیچتے ہیں۔[41]
  • دوسرے نام: امام علی علیہ السلام کی دشمنی کی وجہ سے خوارج کو ناصبی بھی کہا گیا ہے۔[42]
خوارج کو مسلمانوں میں پہلی بار اپنے مخالف مسلمانوں کو کافر قرار دیکر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے مُکَفّرہ نام دیا گیا۔[43]
اہل النہر یا اہل النہروان بھی خوارج کے ناموں میں سے ہے۔[44]

خوارج کے اختلافات

61 ہجری قمری کو مرداس ابن دیہ مرنے کے بعد [45] خوارج، عبد اللہ ابن زبیر کی مکہ میں بنی امیہ کے خلاف کی جانے والی بغاوت میں شامل ہوگئے اور عبد اللہ ابن زبیر کی طرف سے خلافت کے ادعا کے بعد اس سے بھی الگ ہوگئے۔ پھر حاکموں سے کیسا سلوک کیا جا‎ئے اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہوگیا جس کے نتیجے میں کئی فرقوں میں بٹ گئے۔

  • 64 ہجری قمری کو بصرہ کے لوگوں کی عبیداللہ ابن زیاد کے خلاف بغاوت کے بعد نافع ابن ازرق اہواز چلا گیا۔ وہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتا تھا، بچوں کے قتل کو جا‎ئز اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے والوں کو کافر اور انکے خون کو جایز سمجھتا تھا اور میانہ رو خوارج سے بیزار تھا۔
  • عبداللہ بن اباض اور ابوبیہش ہیصم بن جابر نے خود ایک دوسرے سے اور نافع بن ازرق سے برا‎ئت کا اعلان کیا اور اسکا ساتھ نہیں دیا۔
  • نجدۃ بن عامر حنفی، جس نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد یمامہ میں بغاوت کیا تھا، میانہ روی کا راستہ اپناتے ہو‌ۓ ازرق سے جدا ہوا اور یمامہ لوٹا اور وہاں ابوطالوت نے خوارج کی رہبری کو جو چھوڑ دیا تھا اسے سنبھال لیا جس کے نتیجے میں قبیلہ کے سردار ابوطالوت اور ابوفدیک عبداللہ ابن ثور اور بنوحنیفیہ کے سردار بکر ابن وا‎ئل اور عطیہ بن اسود یشکری، نجدۃ سے جا ملے۔[46]

خوارج کا انتشار اور پراکندگی

کوفہ اور بصرہ خوارج کے ابتدا‎ئی دنوں میں ان کے اصلی مراکز سمجھے جاتے تھے۔ ۔[47] کوفہ کی نسبت بصرہ میں خوارج زیادہ تھے اور کوفہ کے اکثر خوارج امام علی علیہ السلام کے ساتھ گفت و شنید کے بعد آپ کی طرف لوٹ آ‎ئے۔ [48] اس کے بعد خوارج مختلف شہروں اور علاقوں میں بکھر گئے۔ اور چوتھی صدی کے پہلے نصف میں خوارج کے رہنے والے علاقوں میں ایران کے مختلف علاقے عمان، بحرین، حضرموت، یمن کے بعض علاقے جیسے خولان، زبید، صنعاء، زنجبار، شمالی افریقہ اور مراکش کے بعض علاقے جیسے تاہرت و سجلماسہ شامل ہیں۔[49] خوارج کے فرقے تاریخ کے گزرتے گزرتے سب ختم ہوگئے لیکن صرف اباضیہ، عمان کے علاقے سیوہ، حضر موت، جربہ، زنجبار، عربی طرابلس اور الجزایر میں موجود ہے اور ان کے عقا‎ئد دوسرے مسلمانوں سے کچھ ملتے ہیں۔ ۔[50]

خوارج کی خصوصیات

خوارج کی جو خصلتیں امام علی علیہ السلام نے بیان کی ہیں ان کے علاوہ ادبی، تاریخ، حدیثی اور ملل و نحل کی کتابوں میں بھی مولفین نے بہت ساری خصلتیں بیان کی ہیں۔ اور جو صفات ان کے لئے بیان ہو‎ئی ہیں اکثر بری صفات ہیں۔

  • تدبر کے بغیر قرآن کا حفظ اور قرائت
  • ایمان کی حقیقت سے عاری ڈھیر ساری عبادتیں [51]
  • زہد کا دکھاوا اور اس کی طرف رغبت[52]
  • جہل اور تنگ نظری (جیسے گناہ گار کو کافر سمجھنا اور اللہ تعالی کی رحمت کو محدود کرنا)
  • پیغمبر کی سنت اور دین کے احکام سے ناآشنایی [53]
  • سادہ لوحی اور سطحی نگری کے ساتھ ساتھ قرآن کو صحیح سے نہ سمجھنا اور آیات کو غلط موارد میں استعمال کرنا [54]
  • غرور اور خودبینی اور اپنے علاوہ سارے مسلمانوں کو کافر اور گمراہ سمجھنا[55]
  • عقیدے میں شک
  • جدل اور مناظرے کی طرف توجہ اور دلیل میں کمزوری [56]
  • عقا‎ئد اور نظریات میں جھگڑالوپنی، ضدیت، تعصب اور تندروی [57]
  • شدّت پسندی کے ساتھ نیک گفتاری اور بدکرداری [58]
  • دوستوں کے قتل کی جگہ کو مقدس قرار دینا اور اسے دار الہجرہ کا مقام دینا[59]
  • عدالت‌خواہی، امر بہ معروف، نہی از منکر اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنا بہترین معاشرتی آرزو [60] بعض دفعہ تو امر بہ معروف کے لئے قیام نہ کرنے اور جہاد نہ کرنے کو کفر سمجھتے تھے۔[61]
  • اہل قبلہ سے جہاد کرنے کو فضیلت سمجھنا، انکے بچے اور خواتین کو اسیر کرنا یا قتل کرنا اور مشرکوں اور کافر ذمی سے نرم برتا‎‎‎ؤ کرنا۔[62]
  • بےنظمی اور پےدرپے گروہوں میں بٹنا [63]
  • امام علی علیہ السلام سے بغض و کینہ، یہاں تک کہ شہادت کے بعد بھی۔ [64]
  • لڑاکو، دلیر، صابر اور فوجی نظم[65] اسی وجہ سے انکے سپاہی کم ہونے کے باوجود بنی امیہ کی فوج پر کئی بار غالب آ‌‎ئے۔ ان کا جنگ کے میدان سے بھاگنے کی گزارشات بھی صحیح ہیں۔[66] خوارج کبھی اپنے گھوڑوں کے پاوں کاٹتے تھے اور تلواروں کی نیام کو توڑ کر دلیری سے اور متحد ہوکر دشمن کی فوج پر حملہ کرتے تھے اور بہشت کی لالچ میں موت کی طرف چلے جاتے تھے۔[67] اسی وجہ سے خارجیوں کے حملوں کی خصوصیات سے مشہور ہوگئے۔ وہ لوگ بندگی اور موت کی تیاری اور جانبازی کی علامت سمجھ کر اپنے سر کے بال مونڈھتے تھے۔ اسی وجہ سے دوسرے مسلمان ان کی مخالفت میں سر کے بال چھوٹے نہیں کرتے تھے۔[68] اور کبھی اپنے سر کے درمیانی حصے کو مونڈہ کر اطراف میں بال رکھتے تھے۔[69]

تاریخ اسلام میں خوارج کی اہمیت اور تأثیر

  • امام علی علیہ السلام کی فوج میں گروہ بندی

خوارج کے آثار میں سے سب سے پہلا اثر امام علی علیہ السلام کی فوج میں دھڑہ بندی تھی۔ [70] خوارج تاریخ اسلام میں پہلی سیاسی پارٹی اور دینی فرقہ تھے۔[71] شروع میں خوارج کے اہداف صرف سیاسی تھے۔ اور عبد الملک ابن مروان کے دور میں اپنی سادہ تبلیغ اور سیاسی تعلیمات کو کلامی مباحث سے مخلوط کیا۔[72]

  • معاویہ کی حکومت کے لئے موقع فراہم کرنا اور بنی امیہ سے مقابلہ

خوارج امام علیہ السلام کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اورامام کو شہید کر کے معاویہ کی حکومت کے لئے موقع فراہم کیا۔[73] خوارج، معاویہ سے بھی جنگ لڑنا چاہتے تھے اس لئے امام حسن کی فوج میں شامل ہو‎ئے۔[74] امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد ان لوگوں نے معاویہ اور بنی امیہ سے جنگ جاری رکھا۔[75] خوارج، بنی امیہ اور ان کے طرف داروں کو کافر سمجھتے تھے اسی لئے ہر جگہ کو دار الکفر سمجھتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے کہ عدل و انصاف پھیلانے اور ظلم کو مٹانے کے لئے کافروں سے جہاد لڑنا ہوگا۔[76] پس خوارج کے اکثر محرکات اسلامی تھے۔ وہ لوگ لاحکم الا للہ کا نعرہ بلند کر کے اسلام کی اصلی حکومت الہی اور عدل اور انصاف کو قا‎ئم کرنا چاہتے تھے۔ البتہ خوارج کا مساوات اور برابری کا مطالبہ صحرا نشین قبایل سے مختلف تھا۔ خوارج کا امام، مذہبی صلاحیت اور شایستگی کی بنیاد پر ہوگا۔ نہ کہ بادیہ نشین قبایلی قوانین کی طرح خونی، نسبی رابطے اور اہم خاندان کے عضو ہونے کی بنا پر ہو۔ [77]۔ خوارج، بنی امیہ کی مخالفت میں کئے جانے والے قیام میں شامل ہوگئے اور اسی وجہ سے عبداللہ بن زبیر، زید بن علی اور ابومسلم خراسانی کی مدد کی۔[78]۔

  • خوارج کی جنگ کے اہداف

خوارج کا خلفاء سے جنگ کرنے کے اہداف میں سے ایک، مال غنیمت حاصل کرنا تھا اور اس سے بھی بالاتر ہدف قدرت حاصل کرنا تھا۔ ان لوگوں نے بعض موارد میں بنی امیہ کے خلیفوں سے مذاکرات کر کے بعض علاقوں کی حکومت یا عہدے حاصل کئے۔[79] اور بعض دفعہ تو بعض شہروں میں مستقل طور پر حکومت بھی حاصل کی اور امام، امیر المومنین اور خلیفہ کے نام سے پکارے گئے۔[80] بنی امیہ نے خوارج کو خاص کر ایران اور عراق میں انتہا‎ئی ظلم اور تشدد کے ساتھ سرکوب کرنے کی کوشش کی۔[81] یہ جنگیں بنی امیہ کی حکومت کے سقوط اور کمزور ہونے کے اسباب میں سے تھیں۔[82] عباسیوں کی حکومت آنے کے بعد بھی خوارج مختلف علاقوں میں متعدد جنگیں ان کے ساتھ لڑے اور آخر کار انکے باقیماندہ لوگ بعض اطراف کے علاقوں میں سکونت پذیر ہو‎ئے۔

  • فقہاء کی نظر میں خوارج سے جنگ

اہل سنت کے علما اور فقہاء نے خوارج کے ساتھ لڑنے کو بغاوت کی بنا پر لازمی قرار دیا، لیکن ان میں سے اکثر نے ان کو کافر قرار نہیں دیا ہے اور صرف فاسق کہا ہے۔[83] ان کے مقابلے میں شیعہ فقہاء نے ا‌‎ئمہ علیہم السلام کی بعض روایات کی بنا پر [84] سب نے خوارج کو باغی قرار دیتے ہو‎ئے کفر کا حکم دیا ہے اور ہمیشہ کیلئے جہنمی قرار دیا ہے۔[85] ان کی نظر میں، خوارج کی گواہی قبول نہیں ہے، ان کا ذبح شدہ گوشت حرام ہے، ان کے ساتھ نکاح جا‎ئز نہیں، اور ان پر نماز میت پڑھنا واجب نہیں ہے۔[86]

علمی اور ادبی آثار

ابتدا‎ئی دور کے خوارج میں علمی مباحث کی طرف جھکا‎‎‎ؤ کم پایا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نافع بن ازرق نے بعض مسا‎ئل کے بارے میں عبد اللہ ابن عباس سے بحث و گفتگو کیا ہے۔[87] دوسری صدی کے دوسرے نصف سے آہستہ آہستہ خوارج جنگ کے بجا‎ئے دینی، فقہی اور تاریخی کتابیں لکھنے لگے اور ان سے بعض راوی، عالم اورفقہاء نکلے۔[88] وہ لوگ احادیث کو نقل کرنے سے اجتناب کرتے تھے اور تقریبا صرف قرآن کو ہی فقہ کا منبع سمجھتے تھے۔[89] اسی وجہ سے ان کے نظریات سادہ ہیں اور ان کا کو‎ئی فلسفی مکتب نہیں اور منظم و وسیع فقہ بھی نہیں ہے۔ اور صرف اباضیہ سے فقہی تعلیمات، عقا‎ئد اور اصول میں کچھ کتابیں ملتی ہیں۔[90] ابن ندیم[91]، نے خوارج کے فقہاء اور متکلمین کے بارے میں کہا ہے کہ لوگوں کے پریشر کی وجہ سے خوارج کی کتابیں مخفی ہیں۔ اس کے باوجود خوارج کے مصنفین؛ جیسے ابوفراس جبیر بن غالب، ابوالفضل قرطلوسی، ابوبکر محمد بن عبداللہ بردعی و ابوالقاسم حدیثی نے قرآنیات، کلام، فقہ اور اصول فقہ میں کچھ کتابیں لکھی ہیں۔ [92] خوارج کے متکلمین میں سے جو مولف بھی ہیں، یہ لوگ ہیں: یمان بن رباب، ابوعلی یحیی بن کامل بن طلیحہ جحذری، ابوعلی محمد بن حرب صیرفی، عبداللہ بن یزید اباضی، حفص بن اشیم، ابراہیم بن اسحاق اباضی، صالح ناجی، ہیثم بن ہیثم ناجی اور سعید بن ہاورن۔ کلام میں ان کے تالیف شدہ موضوعات درج ذیل تھے: توحید، مخلوق، مؤمن، امامت، استطاعت اور مخالفین یعنی معتزلہ، مرجئہ، شیعہ اور غالیوں کے رد میں۔[93] خوارج کے دوسرے مصنفین جنہوں نے کلام،‌ تاریخ، تراجم، فقہ اور فِرق میں کتابیں لکھی ہیں ان کے نام یہ ہیں: سالم بن عطیہ ہلالی (دوسری صدی کے ابتدا میں زندہ تھا)، ابوسفیان محبوب بن رحیل قرشی مخزومی (دوسری صدی کے اواخر میں متوفی)، ابوالحسن علی بن محمد بسیوی اباضی (چوتھی صدی)، دوسری صدی سے چوتھی صدی تک کے خوارج کے علماء کے کئی رسالے السیر کے نام سے جمع کیا، محمد بن سعید ازدی قلہاتی (چھٹی صدی)، الکشف و البیان کا مؤلف، ابوالعباس احمد بن سعید درجینی (متوفی ۶۷۰)، طبقات المشائخ بالمغرب کا مؤلف ، ابوالقاسم بن ابراہیم برادی (متوفی ۸۱۰)، الجواہر المنتقاۃ فی اتمام ما اخل بہ کتاب الطبقات اور رسالۃ فی کتب الاباضیۃ کا مؤلف ، اور احمد بن سعید شماخی (متوفی ۹۲۸)، السیر کا مؤلف جو کہ اباضیہ علماء اور بزرگوں کی زندگی نامہ پر مشتمل ہے۔[94] بعض علم اور ادب کے بزرگوں کا نام ان لوگوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو خوارج کے عقا‎ئد اور افکار کی طرف مایل تھے یا مایل ہونے کا الزام تھا ان میں: ابوعبیدہ معمر بن مثنی (متوفی ۲۰۹)، لغت‌ شناس، نسب ‌شناس، راوی اور بزرگ اخباری،[95] نصر بن عاصم لیثی (متوفی ۸۹-۹۰)، فقیہ، علم نحو کا عالم اور تابعین میں سے ہے [96]، شبیل بن عزرہ ضبعی (متوفی ۱۴۰ھ)، نسب‌شناس، راوی، خطیب اور شاعر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شروع میں شیعہ تھا اور اپنی عمر کے آخری ایام میں خوارج کی صفریہ مذہب کو ماننے لگا۔[97] بعض اشراف اور امراء اور عہدے دار بھی خوارج کی طرف مایل تھے۔[98] خوارج میں خطیب اور شاعر بھی تھے جن میں سے بعض مشہور بھی تھے۔[99] سب سے زیادہ قصیدے عمران بن حطان سے باقی رہے ہیں اور ان کے بعد قطری بن فجاءہ، عبیدۃ بن ہلال یشکری، حبیب بن خدرہ ہلالی، اعرج معنی اور ملیکہ شیبانی کے ہیں۔[100] خوارج کے اکثر اشعار وہ رجز ہیں جو جنگ کے دوران پڑھے ہیں۔[101] خوارج کے بعض خطبے اور خطوط بھی باقی ہیں جو ان کے 18 سربراہوں سے منسوب ہیں۔ اور ان میں سے بھی اکثر چند لکیروں سے زیادہ نہیں ہیں۔ اور ان میں سب سے مفصل اور طولانی ابوحمزہ خارجی کا ہے۔ جو دعوت اور خوارج کی دینی اور سیاسی رفتار، خروج اور جہاد کی طرف رغبت دلانا، امر بہ معروف اور اس جیسے بعض دیگر ایسے عناوین پر مشتمل ہے جو ان کے اشعار میں بھی ہیں۔[102]

نظریات اور عقا‎ئد

خوارج اسلامی دنیا میں ہمیشہ سے کلامی اور سیاسی اہم فرقوں میں سے شمار ہوتے تھے؛ لیکن مخصوص عقا‎ئد پر مشتمل فرقوں میں بٹنے کی وجہ سے ان کے عقا‎ئد کسی ایک مجموعے میں مرتب نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کے کچھ مشترک عقا‎ئد یا خوارج کے اکثر فرقوں کے مشترک عقا‎ئد کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ خوارج کے مسئلے کے بارے میں، سیاسی اور کلامی دو زاویوں سے تحقیق کیا جاسکتا ہے۔ بنی امیہ کے دور کے ابتدا‎ئی دنوں میں خوارج کا سیاسی پہلو غالب تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کلامی پہلو برجستہ ہوگیا۔[103] ابتدا‎ئی خوارج کے افکار اور عقا‎ئد کے بارے میں کچھ اباضیہ کی فقہی کتابوں[104] کے علاوہ کو‎ئی اور کتاب ہم تک نہیں پہنچی ہے۔ اسی لئے ان کے عقا‎ئد کو ملل و نحل کی کتابوں سے حاصل کرنا ہوگا۔

خوارج کے بعض مباحث جیسے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے والے کو کافر قرار دینا، علم کلام کے وجود میں آنے اور اس میں انقلاب آنے کے لئے موثر ثابت ہوا۔[105]

  • گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کو کافر قرار دینا : سب سے پہلا نظریہ جس پر سب خوارج متفق ہیں وہ گناہان کبیرہ کے مرتکب ہونے والے کی تکفیر ہے۔[106] ان لوگوں نے قلبی معرفت کے علاوہ زبانی اقرار اور جوارحی عمل کو بھی ایمان کی تعریف میں شامل کیا۔[107]ازارقہ نے تو اس نظریے میں افراط سے کام لیتے ہو‎ئے کہا: گناہان کبیرہ کا مرتکب دوبارہ ایمان بھی نہیں لاسکتا ہے اور مرتد ہونے کی وجہ سے بچوں سمیت قتل کیا جانا چاہئے اور ہمیشہ کیلئے جہنمی ہوگا۔[108] جبکہ دوسری طرف اباضیہ ایسے کفر کو کفران نعمت سمجھتے ہیں نہ ایمان سے خارج ہونا۔[109] خوارج نے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والے کی تکفیر پر دلا‎ئل [110] بھی پیش کیا ہے منجملہ ان دلائل میں سے ایک سورہ ما‎ئدہ کی آیت نمبر 44 ہے۔[111]
  • امامت: امامت کے بارے میں خوارج کا نظریہ، اسی گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص کی تکفیر والے نظریہ سے لیا گیا ہے۔ گناہان کبیرہ کا مرتکب شخص اسلامی معاشرے میں مسلمانوں کی امامت نہیں سنبھال سکتا ہے۔ اگر امامت سنبھالے بھی تو مومنوں پر واجب ہے کہ اس کے خلاف خروج کرے۔ خوارج کے لئے تکفیر ایک اہم حربہ تھا جس کے ذریعے سے پیغمبر اکرم کے بہت سارے اصحاب کے مقابلے میں بھی کھڑے ہوسکتے تھے۔ [112]

امام منصوب کرنے کے موضوع میں نجدیہ فرقہ کے علاوہ سارے خوارج نص یا خلافت دونوں نظریوں کے مخالف تھے اور قا‎ئل تھے کہ ہر وہ شخص جو قرآن و سنت پر عمل پیرا ہو اور ان کی نسبت علم رکھتا ہو وہ امامت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور امامت دو آدمی کی بیعت سے بھی منعقد ہوتی ہے۔[113] وہ لوگ امام کے منصوص من اللہ ہونے کو ضروری نہیں سمجھتے اور قائل تھے کہ امام کو لوگوں کے رائ کے ذریعے انخاب کیا جا سکتا ہے۔[114] عام را‌‎ئج بات کے خلاف، خوارج غیر قریش کی خلافت کو بھی ممکن سمجھتے تھے۔[115] اسی طرح اکثر خوارج کا عقیدہ تھا کہ امام منصوب کرنا واجب نہیں ہے اور امام کے بغیر بھی رہا جاسکتا ہے۔[116]

  • خلفائے راشدین: چاروں خلیفوں کے دور میں رونما ہونے والے حادثات کو مدنظر رکھتے ہو‎ئے خوارج عمر اور ابوبکر کو امام اور رسول اللہ کے خلیفے قبول کرتے تھے لیکن عثمان کے صرف پہلے چھ سال کی حکومت اور امام علی علیہ السلام کی حکمیت قبول کرنے تک کی خلافت کو صحیح سمجھتے تھے اور ان دونوں کی باقی مدت میں ان کی تکفیر کرتے ہوئے انہیں خلافت سے معزول سمجھتے تھے۔[117]
  • فقہی نظریات: خوارج کے بعض فرقوں سے کچھ دوسرے فقہی نظریات بھی نقل ہو‎ئے ہیں؛ جیسے زانی کو سنگسار کرنے کو رد کرنا (چونکہ اس کا قرآن میں کہیں تذکرہ نہیں ہے) مخالفین کے بچوں اور خواتین کو قتل کرنا، اس عقیدے کے ساتھ کہ مشرکوں کے بچے بھی اپنے والدوں کے ساتھ جہنم میں ہونگے اور قول اور فعل میں تقیہ کو جا‎ئز نہ سمجھنا۔ [118]
  • خوارج اور غیر مسلم: خوارج میں سے ازارقہ والوں کا عقیدہ تھا کہ مسلمانوں میں سے جسکا بھی خوارج سے تعلق نہیں ان کو قتل کیا جا‎ئے۔ لیکن عیسا‎ئی، مجوسی یا یہودیوں کا قتل حرام ہے۔[119]

کچھ دوسرے نظریات کو بھی خوارج کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ لیکن ان کو خوارج کی ایجادات میں سے قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ انہیں دوسرے کلامی فرقوں کی طرف بھی منسوب کیا جاتا ہے؛ جیسے قرآن مجید کا مخلوق ہونا[120]، خدا کا ظلم پر قادر نہ ہونا [121]، شفاعت کو رد کرنا[122]، قبر کی عذاب کا انکار[123]، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اگر اور کو‎ئی چارہ نہ ہو تو تلوار کا استعمال [124]، اور نماز جماعت صحیح ہونے کے یے امام جماعت کو فاضل ہونے کی شرط[125]۔

خوارج کے فِرقے

خوارج کے فرقوں کے بارے میں ملل و نحل کے منابع کی گزارش متفرق اور ناسازگار ہے۔ اسی لئے اصلی فرقے اور فرعی فرقوں کے درمیان فرق ڈالنا مشکل ہے۔ بعض منابع میں ابتدا‎ئی خوارج کے صرف چار فرقوں المُحَکِّمة الاولی، (جو «لاحکمَ اِلّالِلّہ» کے قا‎ئل تھے)، نجدیه، بَیهسیه اور ازارقه کا ذکر ہوا ہے۔ [126]۔ بعض دوسرے منابع میں خوارج کے 5 سے 20 فرقے ذکر ہو‎ئے ہیں۔[127]۔ بعض منابع میں بعض فرقوں کو اصلی اور بعض کو فرعی قرار دیا ہے۔ ان منابع میں محکِّمۃ الاولی کے علاوہ دوسرے فرقوں کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ جیسے؛ ازارقہ، صُفریہ، بیھسیہ، ثعالبہ، عَجاردہ، نجدیہ، اباضیّہ و شبیبیّہ[128]

خوارج کے عقا‎ئد کا تنقیدی جائزہ

خوارج کے وجود میں آنے سے لیکر پوری تاریخ اسلام میں خوارج کے اقوال اور افعال پر بہت تنقید ہو‎ئی ہے۔ اور یہ تنقیدات تین گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں؛ حدیثی، تفسیری اور اعتراض۔ احادیث کے منابع میں بعض روایات پیغمبر اسلام کی خوارج کے بارے میں کی جانے والی پیشنگویاں اور ان کے دین سے خارج ہونے کے بارے میں حکایت ہو‎ئی ہیں۔ ان روایات میں خوارج کی سیاسی اور معاشرتی کارکردگی اور دینداری کے طرز کی مذمت ہو‎ئی ہے۔ اور ان سے جنگ کرنا اور انکو قتل کرنے میں اجر قرار دیا ہے[129]۔ اسی طرح شیعہ علماء بھی پیغمبر اکرم کی ایک حدیث کو مستند بنا کر، جس میں امام علی علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے: «اے علی! جس نے تجھ سے جنگ کی گویا اس نے مجھ سے جنگ کی ہے»، اس عقیدے کے قا‎ئل ہو‎ئے ہیں کہ جن لوگوں نے امام علی علیہ السلام سے جنگ کی ہے جیسے خوارج، وہ کافر ہیں۔[130] خوارج کی کتابوں پر تفسیری تنقیدات میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ خوارج نے اپنے مباحث کو قرآن سے ثابت کرنے کے لئے قرآن سے جو دلا‎ئل پیش کئے ہیں ان کا جواب دیا جا‎ئے۔ ان میں زیادہ تنقیدات گناہ کبیرہ مرتکب ہونے والے کی تکفیر پر ہیں۔ ان اعتراضات میں مفسرین اور متکلمین کا یہ شیوہ رہا ہے کہ خوارج جن آیات سے استفادہ کرتے تھے ان کی تفسیر میں نقص اور عیب کو بیان کرتے تھے۔ مثال کے طور پر گناہ کبیرہ کے مرتکب کی کفر کی تا‎ئید پر لانے والی دلیلوں میں سے ایک یہ آیہ شریفہ تھی۔لِلّہ عَلَی‌النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطاعَ إلَیہ سَبیلا وَ مَن کَفَرَ فَإنَّ اللّہ غَنِی عَنِ العالَمین(آل‌عمران: ۹۷) اس آیت کی روشنی میں خوارج معتقد تھے کہ جو بھی حج بجا نہ لا‎ئے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہ کافر ہے۔ اس استدلال کے جواب میں کہا گیا کہ آیت میں «مَنْ کَفَرَ» سے مراد وہ شخص ہے جو حج کی استطاعت رکھنے والے پر حج واجب ہونے سے انکار کرے۔ [131]اسی طریقے سے خوارج کی دوسری آیات کی تفاسیر کو بھی رد کیا گیا ہے۔ [132] بعض موارد میں خوارج کی تفسیر کو رد کرنے کے بجا‎ئے دوسری کچھ آیات کو پیش کیا گیا ہے جو خوارج کے مدعا کے خلاف دلالت کرتی ہیں۔ [133]۔

متعلقہ لینک

مارقین

حوالہ جات

  1. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۳۴۹؛ طبری، تاریخ، ج ۴، ص ۵۴۱
  2. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۴۸۴؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۱-۱۱۲
  3. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۵۱۳-۵۱۴؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۳، ۷۲، ۷۸؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴
  4. محمد بن عبداللّہ اسکافی، المعیار و الموازنۃ فی فضائل الامام امیرالمؤمنین علی بن ابی‌طالب (صلوات‌اللّہ علیہ)، ص ۱۹۸-۱۲۰؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۶۵، ۱۸۱-۱۸۲؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۲۲-۱۲۳، ۱۳۳-۱۳۵؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۴-۶۶، ۷۳؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج ۷، ص ۲۷۸؛ ان مذاکرات کے بارے میں دوسری روایات: محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۱۰-۲۱۲
  5. مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۳۴
  6. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۴۸۹، ۵۱۷؛ ابن ابی شیبہ، المصنَّف فی الاحادیث و الآثار، ج ۸، ص ۷۳۵، ۷۴۱؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۳۴، ۱۵۱؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۶، ۷۲-۷۴؛ قس محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۰۶؛ امام کا جواب ملاحظہ کرنے کے لئے رجوع کریں: نہج البلاغہ، خطبہ ۴۰
  7. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۲۶، ۱۳۳؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۲-۷۴؛ مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۳، ص ۳۳۵
  8. نہج البلاغہ، خطبہ ۳۵؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۰۶؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۷-۷۸؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۸۵
  9. طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۴-۷۵؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۳، ص ۳۳۵-۳۳۶
  10. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۸۷، ۲۱۲-۲۱۳؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۱۶۹؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۹۳؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۸۰-۹۲؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج ۱، ص ۵۲۸
  11. نہج البلاغہ، خطبہ ۶۰؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، ج ۵، ص ۱۴، ۷۳
  12. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۷۸-۷۹؛ نیز: جعفر مرتضی عاملی، دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام، ج ۱، ص ۳۷
  13. احمد سلیمان معروف، قراءۃ جدیدۃ فی مواقف الخوارج و فکرہم و ادبہم، ص ۲۱-۲۳؛ احمد شلبی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی و الحضارۃ الاسلامیۃ، ج ۲، ص ۲۱۰-۲۱۱، نیز: اخبار الدولۃ العباسیۃ، ص ۳۳۵؛ ابن عبد ربّہ، العقد الفرید، ج ۱، ص ۱۸۶
  14. عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، ص ۱۴، ۲۱؛ یوسف بابطین، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و اسبابہا، ص ۲۵۰
  15. طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۶
  16. عمرو بن بحر جاحظ، کتاب الحیوان، ج ۶، ص ۴۵۵؛ طبری، تاریخ، ج ۷، ص ۳۹۶؛ ابن جوزی، تلبیس ابلیس، ص ۱۰۶، ۱۱۰؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی : نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۶۰
  17. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۴۸۹-۴۹۰، ۴۹۹-۵۰۰؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۸۸-۱۸۹؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۵۱-۵۹؛ نیز: جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل ، ج ۵، ص ۷۵؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۵-۲۶، احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۱۴-۱۵، ۳۰-۳۱
  18. عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، ص ۲۱؛ محمد ابوزہرہ، تاریخ المذاہب الاسلامیۃ، ج ۱، ص ۶۹
  19. نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی : نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۷-۲۸؛ احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۳۱
  20. یولیوس ولہاوزن، احزاب‌المعارضۃ السیاسیۃ الدینیۃ فی صدر الاسلام: الخوارج و الشیعۃ، ترجمہ عبدالرحمان بدوی، مقدمہ بدوی، ص ۱۳؛ احمد معیطہ، الاسلام الخوارجی، ص ۱۷؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۵۵؛ شوقی ضیف، التطور و التجدید فی الشعر الاموی، ص ۸۷
  21. عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، ص ۲۱-۲۳؛ محمد ابوزہرہ، تاریخ المذاہب الاسلامیۃ، ج ۱، ص ۷۰-۷۱؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۱
  22. طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۴۹؛ احمد سلیمان معروف، قراءۃ جدیدۃ فی مواقف الخوارج و فکرہم و ادبہم، ص۲۵-۲۶؛ قس لطیفہ بکّای، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و تطورہا الی نہایۃ العہد الاموی ص ۱۷
  23. احمد بن یحیی بلاذری، کتاب فتوح البلدان، ص ۶۶، ۲۸۰، ۳۷۵؛ نیز: عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، ص ۱۸
  24. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۳۵۵؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۷، ص ۴۱۵
  25. احمد امین، فجر الاسلام، ص ۲۶۱-۲۶۲
  26. مراجعہ کریں: عبدالملک ‌بن محمد ثعالبی، ثمارالقلوب فی المضاف و المنسوب، ص ۱۷۴، ۶۲۳-۶۲۴؛جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ،ج ۲، ص ۱۳۳
  27. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۱۸۸-۱۹۰؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۶، ص ۱۵۱-۱۵۹؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۱۱،۳۴
  28. برای نمونہ: مسعودی، مروج، ج ۳، ص ۱۴۴؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج ۷، ص ۲۷۲، ج ۷، ص ۲۳۸
  29. محمود اسماعیل عبدالرازق، جدل حول الخوارج و قضیۃ التحکیم، المجلۃ التاریخیۃ المصریۃ، ص ۵۷-۶۹
  30. احمد امین، فجر الاسلام، ص ۲۵۶؛ عبدالعزیز دوری، مقدمۃ فی تاریخ صدرالاسلام، ص ۵۹
  31. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۳۵-۳۶، ۵۶-۵۷، ۱۳۴-۱۳۵؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۱۵۱-۱۵۲، ۱۶۴-۱۶۵؛ طبری، تاریخ، ج ۴، ص ۵۴۱-۵۴۲؛ نیز: یوسف بابطین، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و اسبابہا، ص ۲۹۳، ۲۰۰-۳۰۲، ۳۰۴؛ لطیفہ بکّای، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و تطورہا الی نہایۃ العہد الاموی ، ص ۱۱-۱۵؛ جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ، ج ۱، ص ۱۳۴-۱۳۷
  32. نہج البلاغہ، خطبہ ۶۲؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۶
  33. ابن فارس، معجم مقاییس اللغہ؛ محمدبن یعقوب فیروزآبادی، القاموس المحیط، ذیل «خرج»؛ نیز: ناصر سابعی، الخوارج و الحقیقۃ الغائبۃ، ص ۱۵۱-۱۵۲؛ ۱۵۴
  34. عبدالرزاق بن ہمام صنعانی، المصنَّف، ج ۱۰، ص ۱۵۲؛ ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، ج ۱، ص ۱۲۱: احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۸، ص ۵۹؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۶۹؛ اشعری، ص ۸۸-۸۹
  35. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۰-۱۱۲؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۹۰؛ اشعری، ص ۱۲۸؛ محمدبن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج۱، ص ۱۱۵؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج۷، ص ۲۷۷
  36. ااحمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج۳، ص ۱۱۴، ۱۲۲؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج۳، ص ۱۸۲؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۹۱؛ سمعانی، شعرالخوارج، ج ۲، ص ۲۰۷؛ یاقوت حموى، کتاب معجم البلدان، ، حروراء کے ذیل میں
  37. یعقوبی، ج ۲، ص ۱۹۴؛ اشعری، ص ۱۲۷؛ ابن بابویہ، الامالی، ص ۴۶۴؛ مطہربن طاہر مقدسى، کتاب البدء و التاریخ، ج۵، ص ۱۳۵، ۲۲۴؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج۷، ص ۳۰۴، ج۸، ص ۱۲۷
  38. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ، ج۳، ص ۱۴۹؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص ۹۱؛ محمدبن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء و البدع، ص ۵۴؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج۶، ص ۲۱۶
  39. اشعری، ص ۱۲۷
  40. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۹، ص ۲۷۲؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۶۴، ۲۱۴
  41. اشعری، ص ۱۲۸؛ اسماعیل‌بن حماد جوہری، الصحاح: تاج‌اللغۃ و صحاح‌العربیۃ؛ ابن‌منظور، لسان العرب، ذیل شری: مقریزی، المواعظ و الاعتبار فى ذکر الخطط و الآثار، ج ۴، قسم ۱، ص ۴۳۳
  42. مقریزی، المواعظ و الاعتبار فى ذکر الخطط و الآثار، ج ۴، قسم ۱، ص ۴۲۸
  43. ابن‌تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج۴، جزء ۷، ص ۲۶۱؛ ج ۷، جزء ۱۳، ص ۲۰۸-۲۰۹
  44. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۱۵، ۲۴۷؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۸۳، ۱۶۶
  45. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۱۸۸-۱۹۳،
  46. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۷۵-۲۹۳؛ بلاذری، کتاب جمل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۴۷۹، ۴۹۷، ۵۰۱، ۵۶۳-۵۶۸؛ عبدالقاہربن طاہر بغدادی، الفرق بین‌الفرق، ص ۵۲؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۱۶۵-۱۶۸، ۲۰۱؛
  47. طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۶
  48. جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ،ج ۲، ص ۱۰۴
  49. خلیفۃ‌بن خیاط، تاریخ خلیفۃ‌بن خیاط، ص ۲۵۲؛ اشعری، ص ۱۲۸، مسعودی، مروج، ج ۴، ص ۲۷؛ محمدبن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء و البدع، ص ۵۵-۵۷؛ محمد بن احمد مقدسی، احسن التقاسیم فی معرفہ الاقالیم ، ص ۳۲۳؛ نشوان بن سعید حمیرى، الحورالعین، ص ۲۰۲-۲۰۳
  50. احمد امین، ضحی الاسلام، ج ۳، ص ۳۳۶؛ بل، ص ۱۵۰؛ جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ،ج ۲، ص ۱۱۰، ۲۷۰؛ جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل ،ج ۵، ص ۱۸۱
  51. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۴۹۱؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۲۱۲، ۴۱۷-۴۱۸؛ محمدبن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج۲، ص ۱۴۷-۱۴۸؛ محمدبن یوسف صالحی‌شامی، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، ج ۱۰، ص ۱۳۱-۱۳۲
  52. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۴۹۱؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۱۱؛ ابن‌ماکولا، الاکمال فی رفع الارتیاب، ج ۷، ص ۲۵۱-۲۵۲؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج ۹، ص ۱۱
  53. نہج البلاغہ، خطبہ ۳۶، ۱۲۷؛ جمیری، ص ۳۸۵، کلینی، الکافی، ج ۲، ص ۴۰۵؛ ابن‌تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج ۱۱، جزء ۱۹، ص ۳۹-۴۰؛ جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ،ج۲، ص ۱۳، ۱۳۷-۱۴۱، ۱۶۷-۱۷۱
  54. محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح‌البخاری، ج ۸، ص ۵۱؛ ابن‌تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج ۸، جزء ۱۳، ص ۱۶؛ احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۵۹-۶۱؛ عامر نجار، الخوارج: عقیدۃ و فکرآ و فلسفۃ، ص ۱۴۲
  55. ابن‌تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج ۱۶، جزء ۲۸، ص ۲۲۱؛ ناصربن عبدالکریم عقل، الخوارج: اول الفرق فى تاریخ الاسلام، ص ۳۲-۳۳
  56. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۶۵، ۲۳۸؛ ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، ج ۶، ص ۱۴۹: ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، ج ۴، ص ۱۳۶-۱۳۹، ۱۶۹
  57. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۴۵؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۰۷-۲۰۸؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۲۰؛ عامر نجار، الخوارج: عقیدۃ و فکرآ و فلسفۃ، ص ۱۴۱-۱۴۲؛ احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۵۷-۵۹
  58. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، ص ۳۹۴؛ احمد بن حنبل، ج ۳، ص ۲۲۴، ج ۵، ص ۳۶
  59. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۸، ص ۵۹، ۳۵۳
  60. ابن‌قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، ج ۱، ص ۱۲۱؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۰۲؛ عبدالقاہربن طاہر بغدادی، الفرق بین‌الفرق، ص ۴۵؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ص ۲۰۴
  61. اشعری ص ۸۷؛ ابن حوزی، ص ۱۱۰؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۱۶۷؛ ابن حجر عسقلانی، فتح‌الباری: شرح صحیح البخاری، ج ۱۲، ص ۲۵۱
  62. ابن‌شاذان، الایضاح، ص ۴۸؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۶۴-۱۶۵، ۲۱۲، ۲۹۳؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۷، ص ۱۴۴، ۱۴۶؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۱۷۴، ج ۶، ص ۱۲۴
  63. ابن شاذان، الایضاح، ص ۴۸؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۳۹۳، جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ، ج ۲، ص ۱۷، ۲۴-۲۶، ۱۵۰-۱۵۲؛ احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۶۸-۶۹؛ عامر نجار، الخوارج: عقیدۃ و فکرآ و فلسفۃ، ص ۱۴۳
  64. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳، ص ۱۲۸-۱۲۹، ۲۵۷-۲۵۸
  65. عمروبن بحر جاحظ، رسائل الجاحظ، ج ۱، ص ۴۱-۴۶؛ عمروبن بحر جاحظ، کتاب الحیوان، ج ۱، ص ۱۳۶، ۱۸۵-۱۸۷، عمروبن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۱، ص ۱۲۸-۱۲۹؛ ابن‌قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، ج ۱، ص ۱۲۸: احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۷۹؛ طبری، تاریخ، ج ۶، ص ۳۰۲؛ ابن عبد ربّہ، العقد الفرید، ج ۱، ص ۱۸۳؛ ابراہیم‌بن محمد بیہقی، المحاسن و المساوی، ج ۱، ص ۲۱۷، ج ۲، ص ۳۹۱؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج ۹، ص ۱۲
  66. جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ،ج ۲، ص ۷۷-۸۲، ۱۵۲-۱۵۳
  67. عمرو بن بحر جاحظ، کتاب الحیوان، ج ۱، ص ۱۸۵-۱۸۷؛ ابن‌قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، ج ۱، ص ۱۲۸؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۷۹
  68. احمد بن حنبل، ج ۳، ص ۶۴، ۱۹۷؛ ابن منظور، لسان العرب، ذیل سبت، سبد؛ ابن حجر عسقلانی، فتح‌الباری: شرح صحیح البخاری، ج ۸، ص ۵۴؛ محمود بن احمد عینی، عمدۃ‌القاری: شرح صحیح البخاری، ج ۲۲، ص ۶۸، ج ۲۵، ص ۳۰۱-۳۰۲
  69. ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، ج ۸، ص ۱۲۳
  70. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۳،ص ۱۱۳؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۶۲
  71. عامر نجار، الخوارج: عقیدۃ و فکرا و فلسفۃ، ص ۱۴۴؛ احمد معیطہ، الاسلام الخوارجی، ص ۱۴، ۱۷؛ ناصر بن عبدالکریم عقل، الخوارج: اول الفرق فى تاریخ الاسلام، ص ۲۴-۲۵
  72. عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، ص ۴۱، ۱۰۱-۱۰۲
  73. طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۷۸؛ ابن اعثم کوفی، کتاب الفتوح، ج ۵، ص ۵۷-۵۸
  74. محمد بن محمد مفید، الارشاد فى معرفۃ حجج اللّہ على العباد، ، ج ۲، ص ۱۰؛ علی بن عیسی بہاءالدین اربلی، کشف الغمّۃ فی معرفۃ الائمۃ، ج ۲، ص ۱۶۲
  75. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۱۶۹؛ طبری، تاریخ، ج ۵، ص ۱۶۵-۱۶۶؛ نیز جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ، ج ۲، ص ۵۱؛سہیر قلماوی، ادب الخوارج فی العصر الاموی، ص ۱۵۰-۱۵۱
  76. جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل ، ج ۵، ص ۱۵۸-۱۷۴
  77. اشعری، ص ۴۶۱؛ عبدالقاہربن طاہر بغدادی، الفرق بین‌الفرق، ص ۲۱۱؛ محمدبن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۱۶؛ نیز: مادلونگ، ص ۵۴-۵۵
  78. محمدبن اسماعیل بخاری، التاریخ الصغیر، ج ۱، ص ۱۹۲-۱۹۳؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۵، ص ۳۶۰، ۳۷۳؛ اخبار الدولۃ العباسیۃ، ص ۲۹۷-۳۰۰؛ نشوان بن سعید حمیرى، الحورالعین، ص ۱۸۵-۱۸۷
  79. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۶۱-۲۶۲؛ ابن اعثم کوفی، کتاب الفتوح، ج ۴۷ ص ۲۷۴؛ مفید، الاختصاص، ص ۱۲۲؛ جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ، ج ۲، ص ۷۱-۷۶، ۹۴-۹۶
  80. مسعودی، مروج، ج ۴، ص ۲۶-۲۷؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ص ۳۸۶؛ یاقوت حموی، معجم الادباء، ج ۱، ص ۲۸، ج ۶، ص ۲۴۹۷؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ، ج ۱۰، ص ۳۰
  81. احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۶، ص ۳۰؛ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، ص ۲۷۰-۲۷۷
  82. جعفر مرتضی عاملی، دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام، ج ۱، ص ۳۹-۴۰؛ نیز: اخبار الدولۃ العباسیۃ، ص ۲۵۱؛ مسعودی، مروج، ج ۴، ص ۷۹-۸۰
  83. عمرو بن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۳، ص ۱۳۰؛ ابن قدامہ مقدسی، الشرح الکبیر، ج ۱۰۷ ص ۷۶؛ ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، ج ۵، ص ۲۴۷-۲۴۸؛ ہمو، ۱۴۲۱، ج ۴، ص ۱۲۴؛ قس: ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ، ج ۶، ص ۲۱۶-۲۱۸؛ احمد بن على مَقریزى، امتاع الاسماع، ج ۹، ص ۲۱۴
  84. مثال کے طور پر: کلینی، الکافی، ج ۲، ص ۳۸۷؛ محمدباقر بن محمدتقی مجلسی، بحارالانوار، ج ۳۳، ص ۳۲۵-۳۴۲
  85. محمد بن محمد مفید، اوائل المقالات، ص ۴۳-۴۴؛ جعفر بن حسن محقق حلّی، الرسائل التسع، ص ۲۷۷؛ ہمو، ۱۴۰۹، قسم ۱، س ۴۲؛ زین‌الدین بن علی شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، ج ۲، ص ۴۰۷-۴۰۸
  86. محمد بن حسن طوسى، کتاب الخلاف، ج ۶، ص ۳۰۰؛ حسن بن یوسف علامہ حلّى، کشف المراد فى شرح تجرید الاعتقاد، ۱۴۲۰-۱۴۲۲، ج ۴، ص ۶۲۲؛ ہمو، ۱۴۱۴، ج ۲، ص ۲۵؛ زین‌الدین بن علی شہید ثانی، مسالک الافہام الی تنقیح شرائع الاسلام، ج ۷، ص ۴۳۲
  87. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۱۸۴، ۲۲۲-۲۳۰
  88. ماسہ، ص ۱۴۷؛ ایگناتس گولدتسیہر، العقیدۃ والشریعۃ فی الاسلام، ص ۱۹۳؛ نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۶۰؛ برای آثار کلامی و علمی آنان: محمد بن عمر کشّی، اختیار معرفۃ الرجال، ص ۲۲۹؛ محمد بن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء و البدع، ص ۵۷؛ محمد بن احمد مقدس، ص ۳۷؛ ابن خلدون، ج ۳، ص ۲۱۳-۲۱۴
  89. محمد بن محمد مفید، الجمل و النُصرۃ لسید العترۃ فى حرب البصرۃ، ۱۳۷۴ش، ص ۸۵
  90. احمد امین، ضحی الاسلام، ج ۳، ص ۳۳۴-۳۳۷
  91. ابن ندیم، الفہرست، ص ۲۳۳، ۲۹۵
  92. ابن ندیم، الفہرست، ص ۲۹۵
  93. اشعری، ص ۱۲۰؛ مسعودی، التنبیہ، ص ۳۹۵؛ ابن ندیم، الفہرست، ص ۲۳۳-۲۳۴
  94. ناصر سابعی، الخوارج و الحقیقۃ الغائبۃ، ص ۲۸-۳۹
  95. عمرو بن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۱، ص ۳۴۷؛ اشعری، ص ۱۲۰؛ ابن ندیم، الفہرست، ص ۵۹؛ یاقوت حموی، معجم الادباء، ج ۶، ص ۲۷۰۴-۲۷۰۵
  96. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۹۳؛ یاقوت حموی، معجم‌الادباء،ج ۶، ص ۲۷۴۹
  97. عمرو بن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۱، ص ۳۴۳؛ ابن ندیم، الفہرست، ص ۵۱؛ قس احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۹، ص ۲۶۳ کہا جاتا ہے کہ خوارج کی موافقت انہوں نے تقیہ کی وجہ سے کی ہے؛ ابن حجر عسقلانی، کتاب تہذیب التہذیب، ج ۳، ص ۵۹۸-۵۹۹ نے اسے خوارج میں سے سمجھا ہے اور بعد میں اس نظریے سے منصرف ہوگئے۔
  98. عمرو بن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۱، ص ۳۴۷؛ محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، ص ۲۱۵؛ اشعری، ایضا؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ص ۲۰۴؛ یاقوت حموی، معجم الادباء، ج ۴، ص ۲۴۹۹
  99. محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳۷ ص ۲۲۰؛ مُحَسّن بن علی تنوخی، نشوار المحاضرۃ و اخبار المذاکرۃ، ج ۳، ص ۲۹۱
  100. نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۴۷-۲۴۸
  101. نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی : نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۵۰-۲۵۲، ۲۵۶-۲۵۸؛ شعر الخوارج، ص ۱۰-۲۷؛ سہیر قلماوی، ادب الخوارج فی العصر الاموی، ص ۴۶-۴۸، ۵۰
  102. نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی: نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، ص ۲۹۳-۳۰۲؛ برای برخی خطبہ‌ہا و نامہ‌ہای خوارج: خلیفۃ بن خیاط، تاریخ خلیفۃ بن خیاط، ص ۲۵۱-۲۵۲؛ عمرو بن بحر جاحظ، البیان و التبیین، ج ۲، ص ۱۲۶-۱۲۹، ۳۱۰-۳۱۱؛ احمد بن یحیی بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۷، ص ۴۳۲-۴۳۵؛ طبری، تاریخ، ج ۷، ص ۳۹۴-۳۹۷
  103. ایزوتسو، ص ۳۴
  104. سالم بن ذکوان، ص ۳۷-۱۴۵
  105. یولیوس ولہاوزن، احزاب المعارضۃ السیاسیۃ الدینیۃ فی صدر الاسلام: الخوارج و الشیعۃ، ترجمہ عبدالرحمان بدوی، ص ۴۶؛ ابن فورک، مجرد مقالات الشیخ ابی الحسن الاشعری، ص ۱۴۹-۱۵۷
  106. ابوحاتم رازی، کتاب‌الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ العربیۃ، قسم ۳، ص ۲۸۲؛ بغدادی، کتاب اصول الدین، ص ۳۳۲؛ ہمو، الفرق بین الفرق، ص ۷۳؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۲، ص ۱۱۳؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۸، ص ۱۱۳
  107. ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۳، ص ۱۸۸
  108. سعد بن عبداللّہ اشعری، کتاب المقالات و الفرق، ص ۸۵-۸۶؛ علی بن اسماعیل اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، ج ۱، ص ۱۵۹؛ بغدادی، الفرق بین الفرق، ص ۸۲-۸۳؛ محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۸۶
  109. علی بن اسماعیل اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، ج ۱، ص ۱۷۵-۱۷۶، ج ۲، ص ۱۲۶؛ شہفور بن طاہر اسفراینی، التبصیر فی‌الدین و تمییز الفرقۃ الناجیۃ عن الفرق الہالکین، ص 26
  110. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۸، ص ۱۱۴-۱۱۸؛ علی بن محمد جرجانی، شرح المواقف، ج ۸، ص ۳۳۴-۳۳۸
  111. علی بن محمد جرجانی، شرح المواقف، ج ۸، ص ۳۳۴
  112. بغدادی، الفرق بین الفرق، ص ۷۳؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۲، ص ۱۱۳؛ شہفور بن طاہر اسفراینی، التبصیر فی الدین و تمییز الفرقۃ الناجیۃ عن الفرق الہالکین، ص ۲۶
  113. سعد بن عبداللّہ اشعری، کتاب المقالات والفرق، ص ۸؛ حسن بن موسى نوبختى، فرق الشیعۃ، ص ۱۰
  114. محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج۱، ص ۱۷۴-۱۷۵
  115. حسن بن موسى نوبختى، فرق الشیعۃ، ص ۱۰؛ علی ابن اسمعیل اشعری، ج ۱، ص ۱۸۹، ج ۲، ص ۱۳۴؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج۲، ض ۱۱۳؛ محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۷۵
  116. محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۷۵؛ علی بن محمد جرجانی، شرح المواقف، ج ۸، ص ۳۴۵
  117. ابوحاتم رازی، کتاب الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ العربیۃ، قسم ۳، ص ۲۸۲؛ علی ابن اسماعیل اشعری، ج ۱، ص ۱۸۹، ج ۲، ص ۱۲۸؛ محمد بن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء و البدع، ص ۵۱؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج ۲، ص ۲۷۴
  118. محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۸۶
  119. ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص ۱۸۹
  120. علی‌بن اسماعیل اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، ج۱، ص ۱۸۹
  121. اشعری، ج۱، ص ۱۸۹
  122. ابن‌حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص ۶۳
  123. ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص ۶۶
  124. ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص ۱۷۱
  125. ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص۱۷۶
  126. مراجعہ کریں، سعد بن عبداللّہ اشعری، کتاب المقالات و الفرق، ص۵، ۸، ۸۵؛ حسن بن موسى نوبختى، فرق الشیعۃ، ص۱۰، ۷۵
  127. مراجعہ کریں، ابوحاتم رازی، کتاب الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ العربیۃ، قسم ۳، ص ۲۸۲ـ۲۸۵؛ محمد بن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء والبدع، ص ۴۷ـ۵۴؛ بغدادی، الفرق بین الفرق، ص ۷۴ـ ۱۱۳؛ ہمو، کتاب اصول الدین، ص ۳۳۲ـ۳۳۳
  128. مراجعہ کریں، علی‌ بن اسماعیل اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، ج ۱، ص۱۵۷ـ ۱۸۹؛ شہفور بن طاہر اسفراینی، التبصیر فی‌الدین و تمییز الفرقۃ الناجیۃ عن الفرق الہالکین، ص۲۶ـ۳۶؛ محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، ج۱، ص۱۷۹ـ ۲۱۸؛ اور مزید معلومات کے لئے مراجعہ کریں، احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، ص ۲۰۷ـ ۲۸۱
  129. مراجعہ کریں، ابوحاتم رازی، کتاب‌الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ‌العربیۃ، قسم ۳، ص ۲۷۶؛ محمدبن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء و البدع، ص ۵۰ـ۵۱؛ ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۴، ص ۱۶۱؛ ابن‌ابی‌الحدید، ج ۲، ص ۲۶۵ـ۲۶۷
  130. مفید، ص ۴۳؛ نصیرالدین طوسی،تجرید الاعتقاد، ص ۲۹۵؛ حسن‌ بن یوسف علامہ حلّى، کشف‌المراد فى شرح تجرید الاعتقاد، ص ۵۴۰؛مقداد بن عبداللّہ فاضل مقداد، اللوامع الالہیۃ فى‌المباحث الکلامیۃ، ص ۳۷۲
  131. مراجعہ کریں، ابن ابی الحدید، ج ۸، ص ۱۱۴؛ جرجانی، ج ۸، ص ۳۳۵
  132. مراجعہ کریں، محمد بن احمد مَلَطى شافعى، التنبیہ و الرد على اہل الاہواء والبدع، ص ۴۷ـ۵۰؛ ابن ابی الحدید، ج ۸، ص ۱۱۴ـ ۱۱۸؛ جرجانی، ج ۸، ص ۳۳۴ـ۳۳۸؛ نیز رجوع کنید بہ یعقوب جعفری، خوارج در تاریخ، ص ۲۵۵ـ ۲۵۷
  133. مثلا گناہ کبیرہ کے مرتکب کے کفر کے باب میں۔ مراجعہ کریں، ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، ج ۳، ص ۲۳۵ـ۲۴۳؛ جرجانی، ج ۸، ص ۳۲۴ـ۳۲۵

مآخذ

اس مقالے کو جہان اسلام ویکی پیڈیا کے خواج عنوان سے لیا ہے۔

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ۱۳۸۵ـ۱۳۸۷/ ۱۹۶۵ـ۱۹۶۷، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[
  • ابن حزم، کتاب الفصل فی الملل والاہواء والنحل، مصر ۱۳۱۷ـ۱۳۲۰، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[
  • ابن‌فورک، مجرد مقالات الشیخ‌ابی‌الحسن الاشعری، چاپ دانیال ژیمارہ، بیروت ۱۹۸۷
  • ابوحاتم رازی، کتاب‌الزینۃ فی الکلمات الاسلامیۃ‌العربیۃ، قسم ۳، چاپ عبداللّہ سلوم سامرائی، در عبداللّہ سلوم سامرائی، الغلو و الفرق الغالیۃ فی‌الحضارۃ الاسلامیۃ، بغداد ۱۹۸۸؛
  • احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، بیروت ۱۴۲۶/۲۰۰۵؛
  • شہفوربن طاہر اسفراینی، التبصیر فی‌الدین و تمییز الفرقۃ‌الناجیۃ عن الفرق الہالکین، چاپ محمدزاہد کوثری، قاہرہ ۱۳۵۹/۱۹۴۰؛
  • سعدبن عبداللّہ اشعری، کتاب‌المقالات و الفرق، چاپ محمدجواد مشکور، تہران ۱۳۴۱ش؛
  • علی‌بن اسماعیل اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، چاپ محمد محیی‌الدین عبدالحمید، قاہرہ ۱۳۶۹ـ۱۳۷۳/ ۱۹۵۰ـ۱۹۵۴؛
  • عبدالقاہربن طاہر بغدادی، الفرق بین‌الفرق، چاپ محمد محیی‌الدین عبدالحمید، قاہرہ ]بی‌تا۔[؛
  • عبدالقاہربن طاہر بغدادی، کتاب اصول‌الدین، استانبول ۱۳۴۶/۱۹۲۸، چاپ افست بیروت ۱۴۰۱/۱۹۸۱؛
  • علی‌بن محمد جرجانی، شرح‌المواقف، چاپ محمد بدرالدین نعسانی حلبی، مصر ۱۳۲۵/۱۹۰۷، چاپ افست قم ۱۳۷۰ش؛
  • یعقوب جعفری، خوارج در تاریخ، تہران ۱۳۷۱ش؛
  • محمدبن عبدالکریم شہرستانی، الملل والنحل، چاپ احمد فہمی محمد، قاہرہ ۱۳۶۷ـ۱۳۶۸/ ۱۹۴۸ـ۱۹۴۹، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • محمدبن حسن طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیرعاملی، بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • محمدبن حسن طوسی، کتاب تمہیدالاصول فی علم‌الکلام، چاپ عبدالمحسن مشکوۃ‌الدینی، تہران ۱۳۶۲ش؛
  • حسن‌بن یوسف علامہ حلّی، کشف‌المراد فی شرح تجریدالاعتقاد، چاپ حسن حسن‌زادہ آملی، قم ۱۴۲۷؛
  • علی‌بن حسین علم‌الہدی، الذخیرۃ فی علم‌الکلام، چاپ احمد حسینی، قم ۱۴۱۱؛
  • مقدادبن عبداللّہ فاضل مقداد،اللوامع الالہیۃ فی‌المباحث الکلامیۃ، چاپ محمدعلی قاضی طباطبائی، قم ۱۳۸۰ش؛
  • محمدبن عمر فخررازی، اعتقادات فرق‌المسلمین والمشرکین، چاپ طہ عبدالرؤوف سعد و مصطفی ہواری، قاہرہ ۱۳۹۸/ ۱۹۷۸؛
  • محمدبن محمد مفید، اوائل‌المقالات، چاپ ابراہیم انصاری، قم ۱۴۱۳؛
  • محمدبن احمد مَلَطی شافعی، التنبیہ والرّد علی اہل الاہواء والبدع، چاپ محمدزاہد کوثری، قاہرہ ۱۴۱۸/۱۹۹۷؛
  • محمدبن محمد نصیرالدین طوسی، تجریدالاعتقاد، چاپ محمدجواد حسینی جلالی، ]قم[ ۱۴۰۷؛
  • حسن‌بن موسی نوبختی، فرق‌الشیعۃ، چاپ محمدصادق آل بحرالعلوم، نجف ۱۳۵۵/ ۱۹۳۶؛
  • یولیوس ولہاوزن، احزاب المعارضۃ السیاسیۃ الدینیۃ فی صدرالاسلام: الخوارج والشیعۃ، ترجمہ عن‌الالمانیۃ عبدالرحمان بدوی، کویت ۱۹۷۶؛
  • EI۲aKh, s۔v۔ "(ites" (by G۔ Levi Della Vida); Toshihikodjri Izutsu, The concept of belief in Islamic theology: a semantic analysis of(m(n and Isl(m, Tokyo ۱۹۶۵;
  • Martin J۔ McDermott, The theology of al-Shaikh al-Muf(d, Beirut ۱۹۷۸;
  • Salim ibn Dhakwan, The epistle of Sa(lim ibn Dhakwa(n, [ed۔] Patricia Crone and Fritz Zimmermann, Oxford ۲۰۰۱۔۳)

عقاید اور نظریات کے حصے کے مآخذ

  • ابن ابی شیبہ، المصنَّف فی الاحادیث و الآثار، چاپ سعید محمد لحّام، بیروت ۱۴۰۹/۱۹۸۹؛
  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، چاپ محمد ابراہیم بنا و محمد احمد عاشور، قاہرہ ۱۹۷۰ـ۱۹۷۳؛
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت ۱۳۸۵ـ۱۳۸۶/ ۱۹۶۵ـ۱۹۶۶، چاپ افست ۱۳۹۹ـ۱۴۰۲/ ۱۹۷۹ـ۱۹۸۲؛
  • ابن‌اعثم کوفی، کتاب الفتوح، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۱/۱۹۹۱؛
  • ابن‌بابویہ، الامالی، قم ۱۴۱۷؛
  • ابن‌تیمیہ، مجموع الفتاوی، چاپ مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت ۱۴۲۱/۲۰۰۰؛
  • ابن تیمیہ، منہاج‌السنۃ النبویۃ، چاپ محمد رشاد سالم، ]ریاض [۱۴۰۶/۱۹۸۶؛
  • ابن‌جوزی، تلبیس ابلیس، بیروت ۱۴۰۷/ ۱۹۸۷؛
  • ابن‌حجر عسقلانی، تبصیر المنتبہ بتحریر المشتبہ، چاپ محمدعلی نجار و علی‌محمد بجاوی، ]قاہرہ ?۱۳۸۳ـ۱۳۸۶/ ۱۹۶۴ـ ۱۹۶۷[؛
  • ابن حجر عسقلانی، فتح‌الباری: شرح صحیح البخاری، بولاق ۱۳۰۰ـ۱۳۰۱، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • ابن حجر عسقلانی، کتاب تہذیب التہذیب، چاپ صدقی جمیل عطار، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۵؛
  • ابن‌حزم، جمہرۃ انساب‌العرب، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ ] ۱۹۸۲[؛
  • ابن‌خلدون؛
  • ابن‌شاذان، الایضاح، چاپ جلال‌الدین محدث ارموی، تہران ۱۳۶۳ش؛
  • ابن عبد ربّہ، العقد الفرید، ج ۱ و ۲، چاپ مفید محمد قمیحہ، بیروت ۱۴۰۴/۱۹۸۳؛
  • ابن‌فارس، معجم مقاییس اللغۃ
  • ابن‌قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، چاپ طہ محمد زینی، ]قاہرہ ۱۳۸۷/ ۱۹۶۷[، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ ۱۹۶۰؛
  • ابن‌قدامہ مقدسی، الشرح الکبیر، در ابن‌قدامہ، المغنی، چاپ بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳؛
  • ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت ۱۴۰۷/۱۹۸۶؛
  • ابن‌ماکولا، الاکمال فی رفع الارتیاب عن المؤتلف و المختلف فی الاسماء و الکنی و الانساب، ج ۷، چاپ نایف عباس، بیروت: محمدامین دمج، ]بی‌تا۔[؛
  • ابن‌منظور، لسان العرب؛
  • ابن‌ندیم (تہران)، الفہرست؛
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری، و عبدالحفیظ شلبی، قاہرہ ۱۳۵۵/ ۱۹۳۶؛
  • ابوالفرج اصفہانی؛
  • احمدامین، ضحی‌الاسلام، بیروت: دارالکتاب العربی، ]بی‌تا۔[؛
  • احمد امین، فجرالاسلام: یبحث عن الحیاۃ العقلیۃ فی صدرالاسلام الی آخرالدولۃ الامویۃ، قاہرہ ۱۳۷۰/۱۹۵۰؛
  • احمدبن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، ]بی‌تا۔[؛
  • احمد سلیمان معروف، قراءۃ جدیدۃ فی مواقف الخوارج و فکرہم و ادبہم، دمشق ۱۹۸۸؛
  • احمد عوض ابوشباب، الخوارج: تاریخہم، فرقہم، و عقائدہم، بیروت ۱۴۲۶/۲۰۰۵؛
  • احمد معیطہ، الاسلام الخوارجی : قراءۃ فی الفکر و الفن و نصوص مختارۃ، دمشق ۲۰۰۶؛
  • اخبار الدولۃ العباسیۃ و فیہ اخبار العباس و ولدہ، چاپ عبدالعزیز دوری و عبدالجبار مطلّبی، بیروت: دارالطلیعۃ للطباعۃ و النشر، ۱۹۷۱؛
  • الاختصاص، ]منسوب بہ [محمدبن محمد مفید، چاپ علی‌اکبر غفاری، بیروت: مؤسسۃ‌الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۲/۱۹۸۲؛
  • محمدبن عبداللّہ اسکافی، المعیار و الموازنۃ فی فضائل الامام امیرالمؤمنین علی‌بن ابی‌طالب (صلوات‌اللّہ علیہ)، چاپ محمدباقر محمودی، بیروت ۱۴۰۲/۱۹۸۱؛
  • علی‌بن اسماعیل اشعری، کتاب مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلّین، چاپ ہلموت ریتر، ویسبادن ۱۴۰۰/۱۹۸۰؛
  • یوسف بابطین، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و اسبابہا، چاپ شاکر مصطفی، ]کویت[ ۱۴۰۹/۱۹۸۸؛
  • محمدبن اسماعیل بخاری، التاریخ الصغیر، چاپ محمود ابراہیم زاید، بیروت ۱۴۰۶/۱۹۸۶؛
  • محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح‌البخاری، ]چاپ محمد ذہنی‌افندی[، استانبول ۱۴۰۱/۱۹۸۱، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • عبدالقاہربن طاہر بغدادی، الفرق بین الفرق، چاپ محمد زاہد کوثری، ]قاہرہ [۱۳۶۷/۱۹۴۸؛
  • آلفرد بل، الفرق الاسلامیۃ فی الشمال الافریقی من الفتح العربی حتی الیوم، ترجمہ عن الفرنسیۃ عبدالرحمان بدوی، بیروت ۱۹۸۷؛
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جُمَل من انساب الاشراف، چاپ سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت ۱۴۱۷/۱۹۹۷؛
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب فتوح‌البلدان، چاپ دخویہ، لیدن ۱۸۶۶، چاپ افست فرانکفورت ۱۴۱۳/۱۹۹۲؛
  • علی‌بن عیسی بہاءالدین اربلی، کشف‌الغمّۃ فی معرفۃ الائمۃ، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵؛
  • ابراہیم‌بن محمد بیہقی، المحاسن و المساوی، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ?]۱۳۸۰/ ۱۹۶۱[؛
  • مُحَسّن‌بن علی تنوخی، نشوار المحاضرۃ و اخبار المذاکرۃ، چاپ عبود شالجی، بیروت ۱۳۹۱ـ۱۳۹۳/ ۱۹۷۲ـ۱۹۷۳؛
  • عبدالملک‌بن محمد ثعالبی، ثمارالقلوب فی المضاف و المنسوب، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ] ۱۹۸۵[؛
  • ابراہیم‌بن محمد ثقفی، الغارات، چاپ جلال‌الدین محدث ارموی، تہران ۱۳۵۵ش؛
  • عمروبن بحر جاحظ، البیان و التبیین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، بیروت ?] ۱۳۶۷/ ۱۹۴۸[؛
  • عمروبن بحر جاحظ، رسائل الجاحظ، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ ۱۳۸۴؛
  • عمروبن بحر جاحظ، کتاب الحیوان، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، مصر ?] ۱۳۸۵ـ۱۳۸۹/ ۱۹۶۵ـ ۱۹۶۹[، چاپ افست بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • جوادعلی، «عبداللّہ‌بن سبأ»، مجلۃ المجمع العلمی العراقی، ج ۶ (۱۳۷۸)؛
  • اسماعیل‌بن حماد جوہری، الصحاح: تاج‌اللغۃ و صحاح‌العربیۃ، چاپ احمد عبدالغفور عطار، بیروت ]بی‌تا۔[، چاپ افست تہران ۱۳۶۸ش؛
  • محمدبن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، و بذیلہ التلخیص للحافظ الذہبی، بیروت: دارالمعرفۃ، ]بی‌تا۔[؛
  • عبداللّہ‌بن جعفر حِمْیَری، قرب‌الاسناد، قم ۱۴۱۳؛
  • خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1417
  • خلیفۃ‌بن خیاط، تاریخ خلیفۃ‌بن خیاط، چاپ مصطفی نجیب فوّاز و حکمت کشلی فوّاز، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۵؛
  • عبدالعزیز دوری، مقدمۃ فی تاریخ صدرالاسلام، بیروت ] ۱۹۶۱[؛
  • احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطِّوال، چاپ عبدالمنعم عامر، قاہرہ ۱۹۶۰، چاپ افست قم ۱۳۶۸ش؛
  • ذہبی؛
  • ناصر سابعی، الخوارج و الحقیقۃ الغائبۃ، بیروت ۱۴۲۰/۲۰۰۰؛
  • جعفر سبحانی، بحوث فی الملل و النحل: دراسۃ موضوعیۃ مقارنۃ للمذاہب الاسلامیۃ، ج ۵، قم ۱۳۷۱ش؛
  • سمعانی، شعرالخوارج، جمع و تقدیم احسان عباس، بیروت: دارالثقافۃ، ۱۹۷۴؛
  • احمد شلبی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی و الحضارۃ الاسلامیۃ، ج ۲، قاہرہ ۱۹۸۲؛
  • شوقی ضیف، التطور و التجدید فی الشعر الاموی، قاہرہ ] ۱۹۸۷[؛
  • محمدبن عبدالکریم شہرستانی، الملل و النحل، چاپ محمد سیدکیلانی، قاہرہ ۱۳۸۷/۱۹۶۷؛
  • زین‌الدین‌بن علی شہیدثانی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، چاپ محمد کلانتر، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳؛
  • زین‌الدین‌بن علی شہیدثانی، مسالک الافہام الی تنقیح شرائع‌الاسلام، قم ۱۴۱۳ـ۱۴۱۹؛
  • محمدبن یوسف صالحی‌شامی، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، چاپ عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت ۱۴۱۴/۱۹۹۳؛
  • عبدالرزاق‌بن ہمام صنعانی، المصنَّف، چاپ حبیب‌الرحمان اعظمی، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳؛
  • طبری، تاریخ (بیروت)؛
  • محمدبن حسن طوسی، کتاب الخلاف، چاپ محمدمہدی نجف، جواد شہرستانی، و علی خراسانی‌کاظمی، قم ۱۴۰۷ـ۱۴۱۷؛
  • طہ حسین، الفتنۃ الکبری، ج ۲، قاہرہ ] ۱۹۷۵[؛
  • عامر نجار، الخوارج: عقیدۃ و فکرآ و فلسفۃ، قاہرہ ۱۹۸۸؛
  • جعفر مرتضی عاملی، دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام، بیروت ۱۴۱۴/۱۹۹۳؛
  • جعفر مرتضی عاملی، علی (ع) و الخوارج: تاریخ و دراسۃ، بیروت ۱۴۲۳/۲۰۰۲؛
  • مرتضی عسکری، عبداللّہ‌بن سبأ و اساطیر اخری، ج ۲، تہران ۱۳۹۲/ ۱۹۷۲؛
  • عبدالرحمان‌بن احمد عضدالدین ایجی، المواقف فی علم الکلام، بیروت: عالم‌الکتب، ]بی‌تا۔[؛
  • حسن‌بن یوسف علامہ حلّی، تحریرالاحکام الشرعیۃ علی مذہب الامامیۃ، چاپ ابراہیم بہادری، قم ۱۴۲۰ـ۱۴۲۲؛
  • ہمو، تذکرۃ الفقہاء، قم ۱۴۱۴ـ؛
  • علی‌بن ابی‌طالب (ع)، امام اول، نہج‌البلاغۃ، چاپ محمد عبدہ، بیروت ]بی‌تا۔[؛
  • عمر ابوالنصر، الخوارج فی الاسلام، بیروت ?] ۱۹۴۹[؛
  • محمودبن احمد عینی، عمدۃ‌القاری: شرح صحیح البخاری، چاپ عبداللّہ محمود محمد عمر، بیروت ۱۴۲۱/۲۰۰۱؛
  • محمدبن عمر فخررازی، اعتقادات فرق‌المسلمین و المشرکین، چاپ محمد معتصم‌باللّہ بغدادی، بیروت ۱۴۰۷/۱۹۸۶؛
  • محمدبن یعقوب فیروزآبادی، القاموس المحیط، چاپ یوسف الشیخ محمد بقاعی، بیروت ۲۰۰۵؛
  • سہیر قلماوی، ادب الخوارج فی العصر الاموی، ]قاہرہ[ ۱۹۴۵؛
  • محمدبن عمر کشّی، اختیار معرفۃ الرجال، ]تلخیص[ محمدبن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸ش؛
  • کلینی، الکافی؛
  • ایگناتس گولدتسیہر، العقیدۃ و الشریعۃ فی‌الاسلام، نقلہ الی العربیۃ و علق علیہ محمد یوسف موسی، علی حسن عبدالقادر، و عبدالعزیز عبدالحق، بغداد ?] ۱۳۷۸/ ۱۹۵۹[؛
  • لطیفہ بکّای، حرکۃ الخوارج: نشأتہا و تطورہا الی نہایۃ العہد الاموی (۳۷ـ۱۳۲ہ )، بیروت ۲۰۰۱؛
  • محمد بن یزید مبرّد، الکامل، ج ۳، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ]بی‌تا۔[؛
  • محمدباقربن محمدتقی مجلسی، بحارالانوار، ج ۳۳، چاپ محمدباقر محمودی، تہران ۱۳۶۸ش؛
  • جعفربن حسن محقق حلّی، الرسائل التسع، چاپ رضا استادی، قم ۱۳۷۱ش؛
  • ہمو، شرائع‌الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، چاپ صادق شیرازی، تہران ۱۴۰۹؛
  • محمد ابوزہرہ، تاریخ المذاہب الاسلامیۃ، ]قاہرہ ۱۹۷۱[؛
  • محمود اسماعیل عبدالرازق، جدل حول الخوارج و قضیۃ التحکیم، المجلۃ التاریخیۃ المصریۃ، ج ۲۰ (۱۹۷۳)؛
  • مسعودی، التنبیہ؛
  • مسعودی، مروج الذہب، بیروت۔
  • مرتضی مطہری، جاذبہ و دافعہ علی علیہ‌السلام، تہران ۱۳۷۰ش؛
  • محمدبن محمد مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج‌اللّہ علی‌العباد، بیروت ۱۴۱۴الف؛
  • محمد بن محمد مفید، اوائل المقالات، چاپ ابراہیم انصاری، بیروت ۱۴۱۴ب؛
  • محمد بن محمد مفید، الجمل و النُصرۃ لسیدالعترۃ فی حرب البصرۃ، چاپ علی میرشریفی، قم ۱۳۷۴ش؛
  • محمدبن احمد مقدسی، احسن التقاسیم فی معرفہ الاقالیم ؛ دار صادر، بیروت؛
  • مطہربن طاہر مقدسی، کتاب البدء و التاریخ، چاپ کلمان ہوار، پاریس ۱۸۹۹ـ۱۹۱۹، چاپ افست تہران ۱۹۶۲؛
  • احمدبن علی مَقریزی، امتاع الاسماع بماللنبی صلی‌اللہ‌علیہ و سلم من الاحوال و الاموال و الحفدۃ و المتاع، چاپ محمد عبدالحمید نمیسی، بیروت ۱۴۲۰/۱۹۹۹؛
  • احمد بن علی مقریزی، المواعظ و الاعتبار فی ذکر الخطط و الآثار، چاپ ایمن فؤاد سید، لندن ۱۴۲۲ـ۱۴۲۵/ ۲۰۰۲ـ۲۰۰۴؛
  • محمدبن احمد مَلَطی شافعی، التنبیہ و الرد علی اہل الاہواء و البدع، چاپ محمدزاہد کوثری، ]قاہرہ[ ۱۳۶۹؛
  • ناصربن عبدالکریم عقل، الخوارج: اول الفرق فی تاریخ الاسلام، ریاض ۱۴۱۹/۱۹۹۸؛
  • نایف محمود معروف، الخوارج فی العصر الاموی : نشأتہم، تاریخہم، عقائدہم و ادبہم، بیروت ۱۴۰۶/۱۹۸۶؛
  • نشوان بن سعید حمیری، الحورالعین، چاپ کمال مصطفی، چاپ افست تہران ۱۹۷۲؛
  • نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ ۱۳۸۲، چاپ افست قم ۱۴۰۴؛
  • سلیم نعیمی، «ظہور الخوارج»، مجلۃ المجمع العلمی العراقی، ج ۱۵ (۱۳۸۷)؛
  • حسن‌بن موسی نوبختی، فرق‌الشیعۃ، چاپ محمدصادق آل بحرالعلوم، نجف ۱۳۵۵/۱۹۳۶؛
  • یولیوس ولہاوزن، احزاب‌المعارضۃ السیاسیۃ الدینیۃ فی صدر الاسلام: الخوارج و الشیعۃ، ترجمہ عن‌الالمانیۃ عبدالرحمان بدوی، کویت ۱۹۷۶؛
  • عبدالعزیز صالح ہلابی، «عبداللّہ‌بن سبأ: دراسۃ للروایات التاریخیۃ عن دورۃ فی الفتنۃ»، حولیات کلیۃ الآداب، ج ۸، رسالہ ۴۵ (۱۴۰۷)؛
  • یاقوت حموی، کتاب معجم البلدان، چاپ فردیناند ووستنفلد، لایپزیگ، ۱۸۶۶ـ۱۸۷۳، چاپ افست تہران ۱۹۶۵؛
  • ہمو، معجم‌الادباء، چاپ احسان عباس، بیروت ۱۹۹۳؛
  • یعقوبی، تاریخ؛
  • aKhs۔v۔ "(ites" (by G۔ Levi Della Vida);djri Hichem EI۲, Dja(t, La grande discorde: religion et politique dans l'islam des origines, Paris ۱۹۸۹;
  • Wilferd Madelung, Religious trends in early Islamic Iran, Albany, N۔Y۔۱۹۸۸;
  • Henri Mass(, L'islam, Paris ۱۹۴۵;
  • Reynold Alleyne Nicholson, A literary history of the Arabs, Cambridge ۱۹۷۶۔۲)