حاجر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حاجر نام کی قرار گاہ مکہ سے کوفہ جاتے ہوئے آتی ہے ۔ کربلا میں پہنچنے سے پہلے اس جگہ سے حضرت امام حسین ؑ نے عبد اللہ بن یقطر یا قیس بن مسہر صیداوی کے ہاتھ کوفہ خط بھیجا۔

محل وقوع

حاجر کا معنی کاوٹ ہے خزیمیہ سے پہلے حاجز واقع ہے [1]۔۔

واقعات

امام حسین ؑ نے مسلم بن عقیل کے خط کے جواب میں کوفہ کے لوگوں کو خط لکھا جو عبد اللہ بن یقطر[2] یا قیس بن مسہر صیداوی[3] کے ہاتھوں روانہ کیا[4]۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ حضرت امام حسین ؑ کا یہ جملہ :وقَدْ خَذَلَنَا شِیعَتُنَا فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکمُ الِانْصِرَافَ فَلْینْصَرِفْ غَیرَ حَرِجٍ لَیسَ عَلَیهِ ذِمَام اسی مقام پر کہا ہے [5] ۔لیکن دیگر مآخذوں کے مطابق یہ جملہ زبالہ کے مقام پر کہا ہے[6] ۔

خط کا متن

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
مِن الْحُسَینِ بْنِ عَلِی إِلَی إِخْوَانِهِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُسْلِمِینَ

سَلَامٌ عَلَیکمْ فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیکمُ اللَّهَ الَّذِی لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ کتَابَ مُسْلِمِ بْنِ عَقِیلٍ جَاءَنِی یخْبِرُ فِیهِ بِحُسْنِ رَأْیکمْ وَ اجْتِمَاعِ مَلَئِکمْ عَلَی نَصْرِنَا وَ الطَّلَبِ بِحَقِّنَا فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ یحْسِنَ لَنَا الصَّنِیعَ وَ أَنْ یثِیبَکمْ عَلَی ذَلِک أَعْظَمَ الْأَجْرِ وَ قَدْ شَخَصْتُ إِلَیکمْ مِنْ مَکةَ یوْمَ الثَّلَاثَاءِ لِثَمَانٍ مَضَینَ مِنْ ذِی الْحِجَّةِ یوْمَ التَّرْوِیةِفَإِذَا قَدِمَ

عَلَیکمْ رَسُولِی فَانْکمِشُوا فِی أَمْرِکمْ وَ جِدُّوا فَإِنِّی قَادِمٌ عَلَیکمْ فِی أَیامِی هَذِهِ وَ السَّلَامُ عَلَیکمْ وَ رَحْمَةُ اللَّه”. [7]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
حسین بن علی کا اپنے مسلمان اور مومن بھائیوں کے نام خط

سلام علیکم :اسی خدا کیلئے حمد و سپاس ہے جس کے علاوہ کسی اور کیلئے سزاوار نہیں ہے ۔مسلم بن عقیل کا خط مجھے ملا کہ جس میں آپ کی نیک اندیشی اور میری مدد کیلئے تیار رہنے کی خبر دی گئی ہے ۔ میں بھی خدا سے آپکے بارے میں نیک تمنا کا طلبگار ہوں کہ خدا سے ہمارے لئے نیک قرار دے اور اچھی جزا دے ۔میں ترویہ کے دن 8ذی الحج کو مکہ سے تمہاری جانب سفر کا آغاز کروں گا ۔جیسے ہی میرا خط ملے اپنے کاموں کو جلدی نمٹانے کوشش کریں چونکہ میں جلد ہی آپ تک پہنچ جاؤں گا۔والسلام علیکم و رحمہ اللہ برکاتہ۔

حوالہ جات

  1. معجم البلدان، ج۲، ص۲۰۴.
  2. إبصارالعین، السماوی، ص۹۳؛ ارشاد، ج۲، ص۷۰.
  3. ارشاد، ج۲، ص۷۰؛ طبری، ج۵، ص۳۹۴-۳۹۵.
  4. ارشاد، ج۲، ص۷۰؛ طبری، ج۵، ص۳۹۴-۳۹۵.
  5. البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۱۶۹.
  6. ارشاد، ج۲، ص۷۵؛ طبری، ج۵، ص۳۹۸-۳۹۹.
  7. ارشاد، ج۲، ص۷۰.


مآخذ

  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبو الفضل ابراہیم، دار التراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ ع
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶ ع
  • شیخ مفید، الإرشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ ق
  • سماوی، محمد بن طاهر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیه‌السلام، دانشگاه شہید محلاتی، قم،۱۴۱۹ق
  • حموی بغدادی، یاقوت، معجم البلدان، دارصادر، بیروت، ۱۹۹۵ ع