ام وہب بنت عبد

ویکی شیعہ سے
(ام وہب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ام وہب بنت عبد
معلومات
مکمل نام ام وہب بنت عبد
وجہ شہرت شہدائے کربلا
محل زندگی کوفہ
نسب نمط بن قاسم
مشہوراقارب شوہر: عبد اللہ بن عمیر کلبی (شہید کربلا)
شہادت/وفات 61 ھ، واقعہ کربلا
اصحاب امام حسین (ع)



ام وہب بنت عبد (شہادت 61 ھ)، عبد اللہ بن عمیر کلبی کی زوجہ اور شہدائے کربلا میں سے ہیں۔

ام وہب اپنے شوہر کے ہمراہ شب میں کوفہ سے کربلا آئیں اور میدان کربلا میں امام حسین (ع) کے لشکر سے ملحق ہوئیں۔ روز عاشورا جب ان کے شوہر جنگ کے لئے چلے گئے تو انہوں نے امام جنگ کی اجازت طلب کی لیکن امام نے منع فرمایا۔ شوہر کی شہادت کے بعد وہ ان کے چہرے سے خون صاف کر رہی تھیں کہ شمر بن ذی الجوشن کے غلام رستم نے انہیں بھی شہید کر دیا۔

نسب

ام وہب بنت عبد کا تعلق نمر بن قاسم قبیلہ سے تھا جو کوفہ میں زندگی بسر کرتا تھا۔[1] وہ اور ان کے شوہر عبد اللہ بن عمیر کلبی دونوں شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ بعض نے انہیں وہب بن وہب یا وہب بن عبد اللہ کلبی شہید کربلا کی ماں تصور کیا ہے۔[2] لیکن واقعہ کربلا میں شہداء سے متعلق مآخذ کے مطالعہ اور ان کے مقائسہ سے واضح ہوتا ہے کہ مادر وہب دوسری خاتون ہیں اور ان سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔[3]

واقعہ عاشورا

ام وہب واقعہ کربلا سے پہلے اپنے شوہر کے ہمراہ شب کی تاریکی میں کوفہ سے روانہ ہو کر کربلا میں امام حسین (ع) کے انصار میں شامل ہو گئیں۔[4]

روز عاشورا جب ان کی شوہر جہاد کے لئے روانہ ہو گئے تو انہوں نے ایک چوپ اٹھائی اور میدان جنگ میں جانا چاہا۔ امام (ع) نے انہیں منع کیا اور فرمایا: عورتوں پر جہاد واجب نہیں ہے۔[5] شوہر کی شہادت کے بعد وہ میدان جنگ میں گئیں اور ابھی ان کے چہرے سے خون صاف کر رہی تھیں کہ شمر بن ذی الجوشن نے اپنے غلام کو ان کی طرف بھیجا۔ اس نے آہنی گزر سے ان کے سر پر وار کرکے انہیں بھی شہید کر دیا۔[6]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۲۹.
  2. طبری، تاریخ، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۲۹-۴۳۰.
  3. ناظم زاده قمی، اصحاب امام حسین از مدینہ تا کربلا، ۱۳۹۰، ص ۵۹۷(پاورقی)
  4. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۹.
  5. ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۶۶؛ طبری، ج۵، ص۴۳۰
  6. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۳۸.


مآخذ

  • ابن‌ اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، دار صادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ ع
  • ابن‌ اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، دار الأضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ ع
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبو الفضل ابراہیم، دار التراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷ ع
  • ناظم زاده قمی، سید اصغر، اصحاب امام حسین از مدینہ تا کربلا، قم، بوستان کتاب، ایران، ۱۳۹۰