ابو الہیثم بن تیہان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو الہیثم بن تیہان
معلومات
مکمل نام ابو الہیثم بن تیہان
وجہ شہرت صحابی
مہاجر/انصار انصار
اسلام لانا سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں
اصحاب پیغمبر (ص)، امیر المومنین (ع)
جنگ جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق، جنگ موتی
دیگر کارنامے زمانہ جاہلیت میں موحد، 12 نقباء میں سے، مخالف خلفائے ثلاثہ، اصحاب امام علی، راوی حدیث


ابو الہیثم بن تیہان (شہادت 37 ق، جنگ صفین) اصحاب پیغمبر (ص) اور اصحاب امیر المومنین (ع) میں سے ہیں۔ وہ اسلام سے پہلے بھی موحد تھے۔ وہ بیعت عقبی، جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور جنگ موتی میں موجود تھے۔

ابو الہیثم وفات پیغمبر (ص) کے بعد حضرت ابو بکر کی بیعت کے مخالفین میں سے تھے اور انہوں نے حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جنگ صفین میں وہ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔ حضرت علی (ص) نے نہج البلاغہ میں ان کے جیسے اصحاب کے نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

نام و نسب

ان کا مشہور ترین نام مالک ہے۔[1] بعض نے ان کے والد کا نام مالک اور ان کا لقب تیہان ذکر کیا ہے اور بعض نے ان کے والد کا نام تیہان بیان کیا ہے۔[2]

ان کے نسب کا سلسلہ واضح طور پر بیان موجود نہیں ہے بلکہ اس کے بارے میں مختلف باتیں ذکر ہوئی ہیں۔ زیادہ تر منابع میں انہیں قبیلہ اوس [3] کی شاخ بنی عبد الاشہل کے بنی اعور قبیلہ سے کہا گیا ہے۔ بعض نے انہیں قضاعہ قبیلہ کی شاخ بلی بن مالک اور حلیف بن عبد الاشہل سے ذکر کیا ہے۔[4]

ان کے بھائی عبید یا عتیک نے جنگ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ شرکت کی[5] اور جنگ احد میں شہید ہوئے۔[6] بعض نے ابو الہیثم کو ان کے بھائی کے ساتھ خلط کیا ہے۔[7]

ان کی زوجہ ملیکہ بنت سہل بن زید بن عامر بن عمرو بن جشم تھیں۔ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اکرم (ص) کے دست مبارک پر بیعت کی اور ابن تیہان سے ان کے یہاں اولاد ہوئی۔[8]

قبل از اسلام

وہ اسلام سے پہلے موحد اور یکتا پرست تھے[9] اور زمانہ جاہلیت میں بتوں اور اصنام سے اظہار برائت کرتے تھے۔[10]

زمانہ پیغمبر (ص) میں

وہ اور اسعد بن زرارہ انصار میں سب سے پہلے اسلام لانے والے افراد میں سے ہیں۔[11] ان کا شمار انصار کے اس گروہ میں ہوتا ہے جس نے عقبی کی دونوں بیعتوں میں پیغمبر اکرم (ص) کی نصرت کی۔[12]

اسی طرح سے ان کا شمار ان بارہ نقبا میں سے ہوتا ہے جنہیں بیعت کرنے والوں میں سے نشر اسلام کے لئے منتخب کیا گیا۔[13]

انہوں نے جنگ بدر، احد، خندق، موتی اور دیگر غذوات میں پیغمبر اکرم (ص) کی رکاب میں شرکت کی[14] اور جنگ موتی میں عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد پیغمبر نے ابو الہیثم کو ان کی جگہ پر خیبر کے خرمے کی محصول کی پیمائش و وزن اور اس میں یہودیوں کا حصہ ادا کرنے کے کام پر مقرر کیا۔[15]

ہجرت کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ابو الہیثم اور عثمان بن مظعون کے درمیان رشتہ اخوت استوار کیا۔[16]

ابو الہیثم نے رسول خدا (ص) سے حدیث نقل کی ہے۔[17]

خلفاء ثلاثہ کے دور میں

پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد وہ حضرت ابو بکر کی بیعت کے مخالفین میں سے تھے[18] اور انہوں نے آپ (ص) کی طرف سے دی گئی ذمہ داری کو جاری رکھنے کی ابو بکر کی درخواست کو مسترد کر دیا۔[19]

فضل بن شاذان سے نقل ہوا ہے کہ ابن تیہان ان لوگوں میں سے تھے جو وفات پیغمبر کے بعد سب سے پہلے امام علی (ع) کے ساتھ ہوئے۔[20]

جس وقت حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں خیبر کے یہودیوں کے جلا وطن کا حکم دیا، ابن تیہان اور بعض دوسرے افراد کو ان کے اموال کی قیمت گزاری جس میں فدک بھی شامل تھا، کے لئے ان کے پاس بھیجا گیا۔[21]

حضرت علی (ع) کے زمانہ میں

شیخ طوسی کے قول کے مطابق، ابن تیہان عمار یاسر کے ہمراہ لوگوں سے حضرت علی علیہ السلام کے لئے بیعت طلب کرتے تھے اور کہتے تھے:

ہم آپ سے بیعت لیتے ہیں اطاعت الہی اور سنت نبوی (ص) کی پیروی کے لئے اور اگر ہم اس پر پابند نہ رہے تو تمہاری گردن پر کوئی اطاعت و بیعت نہیں رہے گی اور قرآن ہمارا اور تمہارا امام ہے۔[22]

ابن بابویہ نے ان کا شمار امام علی (ع) کے اصحاب میں سے کیا ہے[23] اور جنگ جمل میں ان کے امیر المومنین (ع) کے ساتھ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[24]

ابو الہیثم جنگ صفین کے آغاز میں عراق کے لشکر کی صف آرائی اور انہیں جنگ کے لئے تشویق کر رہے تھے۔ البتہ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے سالہا پہلے سن 20 ہجری قمری میں حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں ان کی وفات ہو چکی تھی۔[25] اسی وجہ سے بعض افراد جنگ صفین میں انکے موجود ہونے کو صحیح نہیں مانتے ہیں۔[26]

نصر بن مزاحم سے ابن ابی الحدید کی روایت، اگر چہ یہ روایت ان کی کتاب کے موجودہ نسخوں میں دیکھنے میں نہیں آتی ہے لیکن ابو الہیثم کے لئے ایک مرثیہ کا وجود، جنگ صفین میں شہید ہونے والے افراد کے مرثیہ کے طور پر نصر بن مزاحم کی کتاب ذکر ہوا ہے وہ اول تو ہو سکتا ہے کہ نصر [27] کی کتاب کے موجودہ نسخہ میں شامل نہ ہوا ہو اور ابن ابی الحدید کا ان سے یہ روایت نقل کرنا صحیح ہو اور دوسرے یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ احتمالا ابو الہیثم قتل کر دیئے گئے ہوں اور ان کا صفین کی جنگ میں شریک ہونا اس اختلاف کے سبب ہو کہ جو حضرت علی (ص) کی جنگوں میں اصحاب بدر کے شریک ہونے کی کیفیت کی طرف پلٹتا ہے۔ جیسا کہ یہی اختلاف خزیمہ بن ثابت کے سلسلہ میں جو ذو الشہادتین مشہور ہیں، بھی پایا جاتا ہے۔[28]

شیخ کلینی نے ایک خطبہ (خطبہ طالوتیہ) کو ان کے نقل کے مطابق حضرت علی (ع) سے نقل کیا ہے۔[29]

وفات

وہ جنگ صفین میں موجود تھے اور عمار یاسر کی شہادت کے بعد شہید ہوئے ہیں۔[30]

امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں ان کے جیسے اصحاب و انصار کے نہ ہونے کے سلسلہ میں افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں یاد کرتے ہوئے فرمایا: کہاں ہیں عمار؟ کہاں ہیں ابن تیہان؟ کہاں ہیں (خزیمہ بن ثابت) ذو الشہادتین؟[31]

حوالہ جات

  1. کلبی ج۲، ص۲۵: ابن هشام، ج۱، ص۴۳۳: یحیی بن معین، ج۲، ص۵۴۶:‌ دارقطنی، ج۱، ص۲۹۹، ابونعیم، ص۱۷۴.
  2. ابن نقطه، ج۱، ص۴۷۵؛ ابن قدامه؛ ص۲۲۸؛ ابن حجر، ج۴، ص۲۱۲.
  3. عروه بن زبیر، ص۱۲۲؛ ابن هشام ج۱، ص۴۳۳-۴۴۵؛ کلبی ج۲، ص۲۵؛ بلاذری،انساب، ج۱، ص۲۴۰؛ صالحی، ج۴، ص۳۰۴-۳۰۵
  4. واقدی، ج۱، ص۱۵۸، ابن سعد، ج۳، ص۴۴۷، احمد بن حنبل، مسند، ج۳، ص۴۶۲؛ طبری، ج۲، ص۳۵۶، ۳۶۳؛ ابن عبدالبر، ج۳، ص۱۳۴۸؛ ابن حزم، ص۳۴۰.
  5. واقدی، ج۱، ص۲ ۱۵۸؛ کلبی ج۲، ص۲۵.
  6. واقدی، ج۱، ص۳۰۱؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۳۲۹؛ ابن نقطه، ج۱، ص۴۷۶.
  7. خلیفه، ج۱، ص۱۴۶؛ ابن اثیر، اسدالغابه، ج۴ ص۲۷۴.
  8. ابن سعد، طبقات (۱۴۱۰ق)، ج۸، ص۲۴۸.
  9. ابن جوزی، ج۱، ص۴۶۲-۴۶۳؛ ذهبی، ج۱، ص۱۹۰ به نقل از واقدی
  10. ابن سعد، ج۳، ص۴۴۸.
  11. ابن جوزی، ج۱، ص۴۶۲-۴۶۳؛ ذهبی، ج۱، ص۱۹۰ به نقل از واقدی
  12. ابن هشام، ج۱، ص۴۳۳-۴۴۷؛ ابن سعد، ج۳، ص۶۰۷.
  13. ابن حبیب، ص۷۴؛ ابوزرعه، ج۱، ص۵۷۵؛ بلاذری، انساب، ج۱، ص۲۴۰ -۲۵۲
  14. واقدی، ج۱، ص۱۵۷-۱۵۸؛ ابن سعد، ج۳، ص۴۴۸، ۶۰۷.
  15. واقدی، ج۲، ص۶۹۱.
  16. ابن حبیب، ص۷۴، بلاذری، انساب، ج۱، ص۲۷۱. ذهبی، ج۱، ص۱۹۰.
  17. ابو نعیم، ص۱۷۵، ابوالبشر، ج۱، ص۶۱، ذهبی، ج۱، ص۱۹۱.
  18. برقی، ص۶۳؛ ابن بابویه، الخصال، ج۲، ص۵۴۱؛ ابن ابی الحدید، ج۱، ص۱۴۳-۱۴۴؛ علی خان مدنی، ص۳۲۱
  19. ذهبی، ج۱، ص۱۹۰.
  20. الطوسی، اختیار معرفة الرجال، ج۱، ص۱۷۷-۱۸۳.
  21. ابن شبه، تاریخ المدینة المنورة، ج۱، ص۱۹۴-۱۹۵
  22. الطوسی، الأمالی، ص۷۲۸.
  23. عیون الاخبار، ج۲، ص۱۲۶؛ کشی، ص۳۸.
  24. طبری، ج۴، ص۴۴۷ به نقل از سیف بن عمر تمیمی.
  25. ابن حبان، ص۱۲، حاکم نیشابوری، ج۳، ص۲۸۶
  26. احمد بن حنبل، العلل، ج۱، ص۴۳۲؛ خلیفه، ج۱، ۱۴۶؛ ابن قتیبه، ص۲۷۰.
  27. نصر بن مزاحم، ص۳۶۵.
  28. سیف بن عمر، ص۱۱۰، ابن حجر، ج۲، ص۱۱۲
  29. کلینی، ج۸، ص۳۱.
  30. ابن حبیب، ص۲۷۲؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۱۹؛ ابن قدامه، ص۲۲۸؛ ابن حجر، ج۴، ص۲۱۳.
  31. نهج البلاغه، خ۱۸۲.


منابع

  • ابن ابی الحدید، عبد الحمید، شرح نہج البلاغہ، بہ کوشش محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۸۴-۱۳۸۷ق.
  • ابن اثیر، علی، اسد الغابہ، قاہرہ، ۱۲۸۰ق.
  • ابن اثیر، علی، الکامل.
  • ابن بابویہ، محمد، الخصال، تہران، انتشارات علمیہ اسلامیہ.
  • ابن بابویہ، محمد، عیون اخبار الصفوہ، بہ کوشش محمود فاخوری، و محمد روّاس قلعہ جی، بیروت، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • ابن حبان، محمد، مشاہیر علماء الامصار، بہ کوشش فلایش ہامر، قاہرہ، ۱۳۷۹ق-۱۹۵۹م.
  • ابن حبیب، محمد، المحبر، بہ کوشش ایلزہ لیشتن اشتتر، حید آباد دکن، ۱۳۶۱ق-۱۹۴۲م.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد، الاصابہ، قاہرہ، ۱۳۲۸ق.
  • ابن حزم، علی، جمہرۃ انساب العرب، بیروت، ۱۴۰۳ق، ۱۹۸۳م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر.
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمدعبدالقادر عطا، درالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۹۹۰م-۱۴۱۰ق.
  • ابن شبہ، عمر، تاریخ المدینہ المنورہ، بہ کوشش فہیم محمد شلتوت، قم، ۱۴۱۰ق-۱۳۶۸ش.
  • ابن عبد البر، یوسف، الاستیعاب، بہ کوشش علی محمد بجاوی، ۱۳۸۰ق-۱۹۰م.
  • ابن قتیہ، عبداللہ، المعارف، بہ کوشش ثروت عکاشہ، قاہرہ، ۱۹۶۰م.
  • ابن قدامہ، عبد اللہ، الاستبصار فی نسب الصحابۃ من الانصار، بہ کوشش علی نویہض، بیروت، ۱۳۹۲ق-۱۹۷۲م.
  • ابن نقطہ محمد، تکملۃ الااکمال، بہ کوشش عبدالقیوم عبدالرب النبی، مکہ، ۱۴۰۸ق-۱۹۸۷م.
  • ابن ہشام عبد الملک، السیرۃ النبویۃ، بہ کوشش ابرہیم ابیاری، و دیگران، قاہرہ، ۱۳۷۵ق-۱۳۷۵م.
  • ابو البشر دولابی، محمد، الکنی و الاسماء، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۲ق.
  • ابو زرعہ دمشقی، عبدالرحمن، تاریخ، بہ کوشش شکراللہ قربانی، دمشق، ۱۴۰۰ ق- ۱۹۸۰م.
  • ابو نعیم اصفہانی، احمد، معرفۃ الصحابۃ، کتابخانہ احمد ثالث استانبول، شم۴۹۷.
  • احمد بن حنبل، العلل و معرفظ الرجال، بہ کوشش وصی اللہ عباس، بیروت، ۱۴۰۸ق- ۱۹۸۸م.
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہرہ، ۱۳۱۳ق.
  • اسکافی، محمد، المعیار و الموازنۃ، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت ۱۴۰۲ق- ۱۹۸۱م.
  • برقی، احمد، الرجال، بہ کوشش جلال الدین محدث ارموی.
  • بلاذری، احمد، الانساب الاشراف، ج۱، بہ کوشش محمد حمیداللہ، قاہرہ، ۱۹۵۹م، ج۲، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، ۱۳۹۴ق-۱۹۷۴م.
  • بلاذری، احمد، فتوح البلدان، بہ کوشش صلاح الدین منجد، قاہرہ، ۱۹۵۶م.
  • حاکم نیشابوری، محمد، المستدرک علی الصحیحن، حیدرآباد دکن، ۱۳۳۴ق.
  • خلیفۃ بن خیاط، تاریخ، بہ کوشش سہیل زرکار، دمشق، ۱۹۶۸م.
  • دارقطنی، علی، المؤتلف و المختلف، بہ کوشش موفق بن عبداللہ، بیروت، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • ذہبی، محمدبن احمد، سیر اعلام النبلا، بہ کوشش شعیب ارنؤوط و حسین اسد، بیروت ۱۴۰۵ق-۱۹۸۶م.
  • سیف بن عمر تمیمی، الفتنۃ و الوقعۃ الجمل، بہ کوشش احمد راتب عرموش، بیروت، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م.
  • صالحی شامی، محمد، سبل الہدی و الرشاد، بہ کوشش عبدالعزیز عبدالحق حلمی، قاہرہ، ۱۳۹۵ق-۱۹۷۵م.
  • طبری، تاریخ: عروق بن زبیر، مغازی رسول اللہ، بہ کوشش محمد مصطفی اعظمی، ریاض، ۱۴۰۱ق- ۱۹۸۱م.
  • الطوسی، الأمالی، تحقیق: قسم الدراسات الإسلامیۃ - مؤسسۃ البعثۃ، قم:‌دار الثقافۃ للطباعۃ والنشر والتوزیع، ۱۴۱۴.
  • الطوسی، اختیار معرفۃ الرجال، تصحیح و تعلیق: میرداماد الاسترآبادی، تحقیق: السید مہدی الرجائی، قم: مؤسسۃ آل البیت(ع)، ۱۴۰۴ق.
  • علی خان مدنی، الدرجات الرفیعہ، قم، ۱۳۹۷ق.
  • کشی، محمد، معرفۃ الرجال، اختیار طوسی، بہ کوشش حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • کلبی، ہشام، نسب معدّو الیمن و الکبیر، بہ کوشش محمود فردوس عظم، دمشق، دارالظیظہ.
  • کلینی، محمد، الروضۃ من الکافی، بہ کوشش علی اکبر غفاری، تہران، ۱۳۸۹ق-۱۳۴۸ش.
  • مفید، محمد، الجمل، نجف، ۱۹۶۰م.
  • نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، بہ کوشش عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ، ۱۳۸۲ق- ۱۹۶۲م.
  • /1/0 نہج البلاغہ.
  • واقدی، محمد، المغازی، بہ کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶م.
  • یحیی بن معین، التاریخ، بہ کوشش احمدمحمد نور سیف، مکہ، ۱۳۹۹ق-۱۹۷۹م.
  • یقوبی، احمد، تاریخ، بیروت، ۱۳۷۹ق-۱۹۶۰م.