عمرو بن قرظہ انصاری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گنج شہدا

عمرو بن قرظہ انصاری کوفہ کے ان شہدا میں سے ہیں جو 61 ہجری کی 10 محرم کو امام حسین کی نصرت کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ان کے والد حضرت علی کے اصحاب میں سے تھے ۔ان کا بھائی کربلا کے روز لشکر عمر سعد میں شامل تھا ۔

نسب

ان کے والد کا نام قرظہ بن کعب خزرجی تھا جو اصحاب پیغمبر اور حدیث کے راوی بھی ہیں نیز انہوں نے جنگ احد اور اس کے بعد ہونے والی جنگوں میں شرکت کی[1] ۔حضرت علی ؑ کے دور خلافت میں انہیں کوفہ کی گورنری سونپی گئی نیز انہوں نے جنگوں میں شرکت بھی کی [2]۔

واقعۂ کربلا

عاشورا سے چند روز پہلے امام حسین ؑ نے عمرو بن قرظہ انصاری کے ذریعے عمر بن سعد کو ملاقات کا پیغام بھیجا[3] ۔لہوف میں مذکور ہے کہ عاشور کے روز عمرو بن قرظہ انصاری امام حسین سے اجازت لے کر میدان جہاد میں گئے اور درج ذیل رجز[4] پڑھے:

قد علمت کتیبة الانصار أنی سأحمی حوزة الذمار
ضرب غلام غیر نکس شاری دون حسین مهجتی و داری

۔نیز انکے بارے میں منقول ہے اس روز جو تیر بھی امام کی جانب آتا یہ اسے روکتے تا کہ امام کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے ۔جان نچھاور کرنے سے پہلے امام سے سوال کیا : کیا میں نے اپنا عہد وفا پورا کیا ؟ امام نے جواب میں فرمایا : ہاں ،تو جنت میں میرے سامنے ہو گا رسول اللہ کو میرا سلام پہنچانا[5]۔

عمرو کا بھائی

انکے بھائی کا نام "علی" یا "زبیر"[6] نقل ہوا ہے یہ عمر بن سعد کے لشکر میں تھا ۔جب عمرو شہید ہوئے تو ان کے بھائی نے حضرت امام حسین ؑ کو مخاطب ہو کر کہا : میرے بھائی کو تو نے گمراہ کیا اور اسے دھوکہ دیا ۔ بالآخر اسے قتل کر وادیا۔ امام نے جواب میں ارشاد فرمایا :خدا نے اس کی ہدایت کی اور تجھے گمراہ کیا ۔ اس نے کہا : اللہ مجھے قتل کرے اگر میں تمہیں قتل نہ کروں ۔یہ کہہ کر امام کی طرف حملہ آور ہوا لیکن نافع بن ہلال نے نیزے سے اس پر وار کر کے زخمی کیا ۔وہ نیچے گر پڑا تو لشکری اسے اٹھا کر لے گئے [7]۔

حوالہ جات

  1. الاصابہ فی تمییز الصحابہ،ج۵، ص۳۲۹
  2. تاریخ الإسلام، ذہبی،ج‌۳، ص۶۶۲
  3. تاریخ طبری، ج۵، ص۴۱۳
  4. تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۳۴
  5. لہوف، ص۱۰۷-۱۰۸
  6. انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۲
  7. تاریخ طبری، ج۵، ص۴۳۴؛ وقعہ الطف، أبو مخنف، ص۲۲۳


مآخذ

  • الإصابہ في تمييز الصحابہ، ابن حجر عسقلانى‏، دار الكتب العلميہ، بيروت‏، اول، 1415ق‏.
  • تاريخ الإسلام و وفيات المشاہير و الأعلام‏، شمس الدين ذہبى‏، دار الكتاب العربى‏، بيروت‏، دوم، 1409ق‏.
  • تاريخ الأمم و الملوك‏، محمد بن جرير طبرى‏، دار التراث‏، بيروت‏، دوم، 1387 ق‏.
  • أنساب الأشراف، احمد بن یحیی بلاذری،‌دار الفکر، اول، بیروت،۱۴۱۷ق.
  • وقعہ الطف‏، ابومخنف كوفى‏، جامعہ مدرسين‏، قم‏، سوم، 1417ق.