مروان بن حکم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مروان بن حکم
معلومات
مکمل نام مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ
کنیت ابو عبدالملک
لقب خیط باطل
وجہ شہرت شہر بدری
پیدائش ہجرت کے دوسرے سال
محل زندگی طائف، مدینہ، شام
مہاجر/انصار مہاجر
نسب بنی امیہ
مشہوراقارب حکم بن ابی العاص
شہادت/وفات ۶۵ ہجری قمری
کیفیت شہادت مسموم



مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ مروانی بادشاہوں کا چوتھا خلیفہ تھا۔

مروان بچپن میں اپنے باپ حکم بن ابی‌العاص کے ہمراہ طائف وطن بدر کیا گیا۔ پھر تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے توسط سے مدینہ واپس آیا اور خلافتی مشینری میں مشغول ہو گیا۔ اس نے جنگ جمل و صفین میں حضرت امام علی(ع) کے مقابل شرکت کی نیز امام حسن(ع) کے جسد مبارک کو رسول اللہ کے کنارے دفن ہونے میں رکاوٹ بنا۔اسی طرح یزید کی بیعت نہ کرنے میں امام حسین(ع) کے ساتھ مجادلہ اختیار کیا۔ مروان معاویہ بن یزید کے خلافت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد خلافت پر پہنچا اور دس مہینے خلافت کرنے کے بعد سال ۶۵ قمری میں اپنی بیوی کے ہاتھوں مسموم ہو کر مر گیا۔

زندگی‌ نامہ

مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ہجرت کے دوسرے سال پیدا ہوا۔ اسکی کنیت ابو عبد الملک تھی۔ [1] بلند قد اور غیر متناسب جسم رکھنے کی وجہ سے خیط باطل کے نام سے بھی معروف تھا۔ [2] حکم بن ابی العاص کی اولاد میں سے سب سے پہلا خلافت تک پہنچا۔ بنی‌ مروان اسی سے منسوب ہیں۔[3]

شہر بدری سے عثمان کے خلاف بغاوت تک کا دور

مروان کے باپ حکم بن ابی العاص بن امیہ کو قریش سرداروں کے پاس راز افشا کرنے کے جرم میں رسول اللہ نے اسے مدینہ سے نکال دیا اور اس پر لعنت کی [4] اسی وجہ سے نزد علمائے اہل سنت یہ صحابہ سے شمار نہیں ہوتا ہے۔[5] بعض نے مروان کی جائے پیدائش طائف ذکر کی ہے۔ شہر بدری کے بعد مروان اپنے باپ کے ہمراہ طائف میں ساکن ہو گیا اور ابوبکر و عمر کے زمانے میں بھی اسی طرح مدینہ بدری کے حکم پر باقی رہا۔ [6]

عثمان کے پاس خلافت پہنچنے کے بعد اپنے باپ کے ہمراہ مدینہ واپس لوٹ آیا۔[7] اور حکومت عثمان کے خواص میں سے شمار ہونے لگا اور اس کا کاتب قرار پایا۔[8] نیز اس کا داماد بھی ہوا[9] مروی ہے کہ امام علی(ع) نے اسے کہا تھا: وای بر تو و وای بر امت محمد(ص) از دست تو.[10]

تاریخی مصادر حضرت عثمان کے خلاف شورش برپا کرنے اور اسے قتل کرنے کے اقدامات اور عوامل میں سے شمار کرتے ہیں۔ [11] اس نے عمار بن یاسر کی طرف سے حکومت وقت کے خلاف شر انگیزی برپا کرنے کی خبر دی جس کے نتیجے میں عثمان بن عفان نے اسے ضرب و شتم کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے وہ فتق کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ [12]

امام علی (ع) کے مقابل

حضرت علی(ع) کو خلافت منتقل ہونے کے بعد سال سال 35 ہجری قمری میں مروان بن حکم نے امام کی بیعت کی اور پھر مدینہ سے مکہ جا کر حضرت عائشہ سے ملحق ہو گیا۔[13]

یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے طلحہ و زبیر کو بغاوت پر اکسایا اور انہیں تشکیل حکومت کی ترغیب دی اور انہیں کہا کہ وہ لوگوں کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیں۔[14] جنگ جمل میں یہ طلحہ و زبیر کے لشکر کا حصہ تھا۔[15] اور خون عثمان کا مطالبہ کرنے والوں میں سے تھا۔[16] البتہ اس جنگ میں طلحہ کو قتل کیا اور اسے قتل عثمان کے انتقام کا نام دیا۔ البتہ بعض مؤرخین کے نزدیک اس کے قتل کے علت یہ تھی کہ اس نے جنگ سے کنارہ کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔[17]

جنگ جمل میں عائشہ، عمرو بن عثمان، موسی بن طلحہ اور عمرو بن سعید بن ابی العاص کے ساتھ اسیر ہوا۔ لیکن حضرت علی(ع) نے انہیں معاف کر دیا۔[18] البتہ بعض تاریخی مصادر کے مطابق مروان نے اپنے ساتھیوں کے فرار کے بعد جنگ کے آخر میں شام جا کر معاویہ کے پاس پناہ حاصل کی۔[19]

مروان جنگ صفین میں اموی لشکر کی صفوں میں حضرت علی کے مقالے میں کھڑا ہوا[20] اس جنگ میں معاویہ نے مروان سے چاہا کہ وہ مالک اشتر کے مقابلے میں جائے لیکن اس نے بہانہ کر کے اس کے مقابلے میں آنے سے اپنے آپ کو بچا لیا۔[21] ایک قول کے مطابق جنگ صفین کے بعد امام نے اسے امان دی اور اس نے حضرت علی کی بیعت کرنے کے بعد مدینہ واپس آ کر دوبارہ یہیں ساکن ہو گیا۔[22]

حکومت مدینہ

۴۱ ہجری قمری میں معاویہ کو حکومت ملنے کے بعد مروان مدینہ کا حاکم منصوب ہوا۔[23] کچھ مدت کے بعد معاویہ نے مکہ اور طائف کو بھی حکومت مروان کی حدود میں شامل کر دیا۔[24] ایک مدت گزرنے کے بعد معاویہ نے اسے معزول کر کے سعید بن ابی العاص کو ان علاقوں کی حاکمیت دے دی۔ بعض اسے اس حکومت سے ہٹانے کی وجہ یزید بن معاویہ کیلئے بیعت لینے سے انکار بتاتے ہیں۔[25]

مروان دوبارہ سال ۵۴ ہجری قمری میں مدینہ کا حاکم منصوب ہوا پھر اس کے کچھ عرصہ بعد معزول ہوا اور ولید بن عتبہ اس کی جگہ آیا [26] اس نے اس دوران ائمہ کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا جیسے امام حسن(ع)، کے جنازے کو رسول اللہ کے پاس دفن ہونے میں رکاوٹ بنا۔[27] اسی طرح یزید کے خلیفہ بننے کے بعد امام حسین سے بیعت لینے بہت زیادہ کوشش کی یہاں تک کہ ولید بن عتبہ (حاکم مدینہ) کے پاس امام سے مجادلہ کیا۔[28]

واقعہ کربلا کے بعد یزید کے خلاف مدینہ میں ہونے والی شورش میں مدینہ سے نکال دیا گیا اور اس نے عبداللہ بن عمر سے اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال کی درخواست کی لیکن ابن عمر نے اس سے انکار کیا تو اس نے یہی درخواست امام سجاد(ع) سے کی امام نے اس درخواست کو قبول کیا۔[29] مروان اس کے بعد شام چلا گیا اور معاویۃ بن یزید بن معاویہ کی وفات تک وہیں رہا۔[30] تاریخی روایات کے مطابق مروان اور دیگر امویوں کے مدینہ سے اخراج، ان کی یزید سے مدد کی درخواست کے جواب میں مدینہ لشکر بھیجے جانے کے بعد واقعہ حرّہ رونما ہوا۔[31]

خلافت

معاویہ بن یزید بن معاویہ کے خلافت سے کنارہ کشی کرنے کے بعد امویوں نے مروان کو خلیفہ منتخب کیا۔[32] مروان حکومت کو استحکام بخشنے کیلئے شروع میں جابیہ ( شمال حوران) گیا اور وہاں کے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی۔ اردن کے لوگوں نے ۶۴ قمری میں اسکی بیعت کی۔ پھر وہ شام واپس آیا اور حکومت کے ترقیاتی کاموں میں مشغول ہو گیا۔ شام میں ضحاک بن قیس فہری نے لوگوں کو عبداللہ بن زبیر کی بیعت کی دعوت دی تو اسی وجہ سے مروان بن حکم سے اس کی جنگ کا آغاز ہوا جس میں ضحاک نے شکست کھائی اور مارا گیا۔[33]

مروان نے اپنی حکومت کو توسعہ دینے کیلئے مصر کی طرف لشکر کشی کی وہاں کے لوگ عبداللہ بن زبیر کی بیعت کرنے والے تھے اس نے انہیں اپنا مطیع بنا لیا اور اپنے بیٹے عبدالملک کو وہاں کی حکومت دے دی۔ پھر مروان شام واپس آ گیا اور تھوڑی سی گزارنے کے بعد مر گیا۔[34]

اس کی مختصر حکومت کے اہم اقدامات میں سے شامی دینار کا اجرا تھا جس پر «قل ہو اللہ احد» کی آیت کندہ تھی۔[35]

وفات

مروان نے یزید کی وفات کے بعد ام خالد بنت ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ ( یزید کی بیوی اور خالد بن یزید کی والدہ) کے ساتھ شادی کی تا کہ ام خالد اس کیلئے بچہ جنے۔[36] ایک دن مجمع میں خالد بن یزید کو خطاب کرتے ہوئے اس کی ماں کو کچھ ناسزا باتیں کہیں؛ یہ بات خالد کی نارضایتی کا موجب بنی اور اس نے ماں سے اس کی شکایت کی۔ ام خالد نے اس کے جواب میں خاموشی اختیار کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ مروان سے کوئی غیر پسندیدہ بات نہیں سنے گی۔ اس ماجرا کے بعد ام خالد نے مروان کو زہر دے مار دیا۔[37]

بعض تاریخی روایات کے مطابق اس نے سوتے میں مروان کے منہ پر تکیہ رکھ کر مار دیا۔[38] ایک اور نقل کے مطابق وہ طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوا اور اس سے مر گیا۔[39]

مروان کی حکومت ۹ یا ۱۰ مہینوں تک باقی رہی۔اس نے سال ۶۵ کے رمضان کے ابتدا میں ۶۴ سال کی عمر میں وفات پائی۔[40] اس نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے عبدالملک کو اپنا ولی عہد بنا دیا اور دوسرے بیٹے عبد العزیز کو دوسرا ولی عہد منصوب کیا۔مروان کی موت کے بعد عبدالملک کو خلافت ملی اور شام کے لوگوں نے اس کی بیعت کی۔[41]

حوالہ جات

  1. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  2. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۸؛ ابن الأثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۶۹.
  3. السمعانی، الأنساب، ۱۴۰۱ق، ج۱۲، ص۲۰۵
  4. ابن الأثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۶۸
  5. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۷
  6. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۵۹، ۳۶۰
  7. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۰
  8. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  9. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۳۷۹
  10. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۸
  11. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  12. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۵۱
  13. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۷۳
  14. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۷۸، ۷۹
  15. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  16. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  17. الدینوری، اخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۱۴۸
  18. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۹۷
  19. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  20. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  21. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۳۲
  22. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  23. دینوری، اخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۴
  24. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۸؛ ابن الأثیر الجزری، أسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۳۶۹
  25. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۹۷ و ۱۹۸
  26. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۸
  27. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۱.
  28. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۲۷
  29. ابن قتیبہ الدینوری، الإمامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۲۳۰، ۲۳۱
  30. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  31. ابن حجر العسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  32. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  33. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  34. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  35. ابن حجر العسقلانی، الإصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۲۰۴
  36. المقدسی، البدءوالتاریخ، مکتبہ الثقافہ الدینیہ، ج۶، ص۵۷
  37. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۵، ص۳۱؛ ابن الجوزی، المنتظم، ۱۴۱۲ق، ج۶، ص۴۹.
  38. ابن العمرانی، الإنباء، ۱۴۲۱ق، ص۴۹
  39. الزرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۷، ص۲۰۷
  40. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۸۹
  41. ابن قتیبۃ الدینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳


مآخذ

  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت،‌ دار الجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • الدینوری، احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۵/۱۹۹۵.
  • ابن الأثیر الجزری، علی بن محمد، أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت،‌ دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹.
  • الزرکلی، خیر الدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌ دار العلم للملایین، الطبعۃ الثامنۃ، ۱۹۸۹م.
  • السمعانی، عبدالکریم بن محمد، الأنساب، حیدر آباد، الطبعۃ الاولی، ۱۴۰۱ق.
  • ابن قتیبۃ الدینوری، عبد اللہ بن مسلم، الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰ق.
  • ابن العمرانی، محمد بن علی، الإنباء فی تاریخ الخلفاء، تحقیق قاسم السامرائی، القاہرۃ،‌ دار الآفاق العربیۃ، ط الأولی، ۱۴۲۱/۲۰۰۱.
  • ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبد القادر عطا، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰.
  • المقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، بور سعید، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، بی تا.