سودہ بنت زمعہ بن قیس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سودہ بنت زمعہ
معلومات
مکمل نام سودہ بنت زمعہ بن قیس
وجہ شہرت زوجۂ رسول خدا (ص)، راوی حدیث
محل زندگی مدینہ، حبشہ
مہاجر/انصار مہاجر
مشہوراقارب سکران بن عمر
شہادت/وفات ۲۳ یا ۵۴ ہجری
مدفن جنت البقیع، مدینہ
ہجرت مدینہ و حبشہ


سودہ بنت زمعہ بن قیس (متوفی ۲۳ یا ۵۴ ھ) رسول خدا (ص) کی زوجہ ہیں جن سے حضور نے حضرت خدیجہ (س) کے بعد اور حضرت عائشہ سے پہلے عقد کیا۔ وہ فتح خیبر میں موجود تھیں اور انہوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے روایت نقل کی ہے۔

سوانح حیات

ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: ۲۵ عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: ۱ یا ۲ یا ۴ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: ۳ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: ۳ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: ۴ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: ۵ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: ۵ یا ۶ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: ۶ یا ۷ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: ۷ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: ۷ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: ۷ہجری)


سودہ کی والدہ شموس قیس بن زید ۔۔۔ بن عدی بن نجار انصاری کی بیٹی ہیں۔ سودہ نے جب اسلام قبول کیا اور رسول خدا (ص) کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان کے شوہر سکران بن عمر جو ان کے چچا زاد تھے، نے بھی اسلام قبول کر لیا اور ان دونوں نے ساتھ میں حبشہ ہجرت کی۔ سکران کی وفات کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے سودہ سے عقد کیا۔ حضور سے ان کا عقد عائشہ سے پہلے ہوا ہے۔

سودہ نے بعض مسلمان خواتین اور مردوں کے ہمراہ مدینہ ہجرت کی اور راستے میں رسول خدا کے قافلہ سے ملحق ہو گئیں۔[1]

ابن سعد تحریر کرتے ہیں: پیغمبر اکرم (ص) نے خیبر میں سودہ کو ۸۰ وسق (۶۰ صاع) کھجور، ۲۰ وسق جو یا گندم طعام کے لئے عطا کیا۔[2] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خیبر میں موجود تھیں۔

رسول خدا کی بیٹی زینب کے انتقال کے بعد سودہ نے بعض دوسری خواتین کے ساتھ مل کر انہیں غسل دیا۔[3]

ابن عبد البر و ابن اثیر کے مطابق، سودہ کے حضرت عمر کی خلافت کے آخری ایام (۲۲ ھ کے آخر یا ۲۳ ھ کے شروع) میں مدینہ میں وفات پائی۔[4] ابن سعد نے عبد اللہ بن مسلم کی روایت کے ضمن میں ان کی وفات شوال ۵۴ ھ میں معاویہ کے دور حکومت میں مدینہ میں ذکر کی ہے اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔ ابن حجر نے ابن ابی خثیمہ سے نقل کیا ہے کہ ان کی رحلت عمر کی خلافت کے زمانہ میں ہوئی ہے۔ واقدی سن ۵۴ ہجری کے قول کو ترجیح دیتے ہیں۔ زرکلی نے بھی سودہ کی وفات سن ۵۴ ہجری میں ذکر کی ہے۔[5]

اخلاقی خصوصیات

ابن سعد نے اپنی سند کے ساتھ ابن سیرین سے روایت کی ہے: رسول خدا (ص) حجۃ الوداع کے لئے اپنی تمام ازواج کو لے کر گئے اور آپ کی وفات کے بعد بھی ازواج پیغمبر حج کے لئے جایا کرتی تھیں۔ لیکن سودہ حج پر نہیں گئیں۔ وہ کہتی تھیں: میرا حج یہ ہے کہ میں اپنے گھر سے باہر نہ نکلوں۔ جیسا کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

وَ قَرْنَ فِی بُیوتِکنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیةِ الْأُولَیٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِینَ الزَّکاةَ وَأَطِعْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا یرِیدُ اللَّـهُ لِیذْهِبَ عَنکمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَیطَهِّرَکمْ تَطْهِیرًا ﴿۳۳﴾

ترجمہ: اور اپنے گھر میں بیٹھی رہو اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگھار نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو - بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہم السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

وہ آخر عمر تک اپنے حجرہ سے جو رسول خدا (ص) نے ان کے لئے معین کیا تھا، باہر نہیں نکلیں۔[6]

روایت

شیخ طوسی، احمد بن حنبل، ابن مَنده، ابو نُعَیم، ابن اثیر اور دوسروں نے ان کا شمار پیغمبر کے اصحاب اور راویوں میں کیا ہے۔[7] اردبیلی و میرزا استر آبادی نے ان کا نام روات کے زمرہ میں ذکر کیا ہے۔[8] مامقانی نقل کرتے ہیں: میں انہیں حسن تسلیم کرتا ہوں اور ان کی روایت پر اعتبار کرتا ہوں۔[9]

سودہ سے روایت نقل کرنے والے

سودہ نے رسول خدا (ص) سے روایت نقل کی ہے[10] اور عبد اللہ بن عباس و یحیی بن عبد اللہ بن عبد الرحمن نے سودہ سے روایت نقل کی ہے۔ طبرانی نے ۱۳ احادیث سودہ کے راویوں سے نقل کی ہیں جن میں سے بعض ایک جیسی ہیں۔[11] بخاری، ابو داوود اور نسائی نے سودہ کی احادیث ذکر کی ہیں۔[12]

سودہ و حضرت علی

رسول خدا کی رحلت کے بعد کے دور میں جب ازواج پیغمبر دو گروہ میں تقسیم ہو گئیں تو اس وقت سودہ ظاہرا عائشہ کے گروہ میں شامل ہو گئیں اور وہ ان کی حمایت کرتی تھیں۔[13]

حوالہ جات

  1. انساب الاشراف، ج۱، ص ۴۱۴
  2. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۰ به نقل از الطبقات الکبری، ج۸، ص۵۵-۵۶
  3. انساب الاشراف، ج۱، ص ۴۰۰
  4. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۴۹ به نقل از الاستیعاب، ج ۴، ص۱۸۶۷؛ اسد الغابہ، ج ۵، ص۴۸۵
  5. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۴۹ به نقل از الطبقات الکبری، ج ۸، ص۵۷؛تہذیب التہذیب، ج۱۲، ص۴۲۷
  6. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۰
  7. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۰ به نقل از رجال طوسی، ص۳۲، الجامع فی العلل و المعرفة الرجال، ص۲۴۴، الاستیعاب، ج ۴، ص۱۸۶۷، اسد الغابہ، ج ۵، ص۴۸۴، تنقیح المقال، ج ۳، ص۸۰ از فصل النساء
  8. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۰ به نقل از جامع الرواة، ج ۲، ص۴۵۸، منہج المقال، ص۴۰۰
  9. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۰ به نقل از تنقیح المقال، ج ۳، ص۸۰
  10. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۱ به نقل از الجامع فی العلل و المعرفة الرجال، ص۲۴۴
  11. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۱ به نقل از المعجم الکبیر، ج ۲۴، ص۳۳-۳۷
  12. غروی نائینی، محدثات شیعہ، ص۲۵۱ به نقل از تہذیب التہذیب، ج ۱۲، ص۴۲۶
  13. آلاحاد و المثانی، ج۵ص ۳۸۸؛ المعجم الکبیر، ج۲۳ص ۵۰


مآخذ

  • ابن ابی عاصم آلاحاد و المثانی، نحقیق فیصل احمد الجوابره، دار الدرایہ، الریاض، ۱۹۹۱ ء
  • بلاذری، أحمد بن یحیی بن جابر، جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت،‌دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶ء
  • طبرانی، ابو القاسم، سلیمان بن احمد، معجم الکبیر، تحقیق حمدی عبد المجید، السلفی، مکتبہ ابن تیمیہ، قاہره
  • غروی نائینی، نہله، محدثات شیعه (چاپ دوم)، دانشگاه تربیت مدرس؛ مرکز نشر آثار علمی، تہران، ۱۳۸۶ش