اویس قرنی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اویس قرنی
حرم اویس قرنی و عمار یاسر در سوریه.jpg

شام میں اویس قرنی اور عمار یاسر کا مقبرہ
معلومات
مکمل نام اویس بن عامر بن جزء قرنی مرادی یمنی
وجہ شہرت امام علی(ع) اور امام حسن(ع) کے اصحاب میں سے
محل زندگی یمن، کوفہ
مدفن شام میں مقام رقہ


اُوِیس بن عامر قَرَنی (شہادت ۳۷ق)، تابعین میں سے ہیں جو امام علی کے اصحاب میں سے تھے۔ انہیں انکے زہد اور پارسائی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ امام علی کی بیعت کی اور جنگ صفین میں امام کی رکاب میں لڑے اور شہادت نصیب ہوئی۔

نسب

ابو عمرو اویس بن عامر بن جزء قرنی مرادی یمنی[1] یمن کے قبیلہ بنی مراد کی قرن نامی شاخ سے تعلق ہے ۔[2]باپ کا نام عامر بعض منابع میں انیس، خلیص یا عمرو بھی آیا ہے ۔ [3]

دیدارِ پیامبر(ص)

رسول اللہ کے زمانے میں اویس موجود تھے لیکن آپکی زیارت کا شرف حاصل نہیں کر سکے ۔

شتر بانی سے اپنی نابینا والدہ کی دیکھ بھال کرتے ۔جب پیغمبر کی دعوت سے آشنا ہوئے تو ماں سے رسول خدا کے دیکھنے کی اجازت مانگی کہ مدینے چلا جاؤں۔ماں نے آدھے دن سے زیادہ وہاں رہنے کی اجازت نہیں دی ۔اویس مدینہ رسول اللہ کے گھر آئے لیکن آپ موجود نہیں تھے لہذا ناچار ماں کی اجازت کے مطابق مدینہ چھوڑ کر یمن واپس آگئے ۔

جب رسول خدا واپاس آئے تو تو فرمایا :یہ گھر میں کیسا نور ہے ؟کہا گیا : اویس نام کا شتربان آیاتھا اور جلد چلا گیا ۔ فرمایا:یہ نور ہمارے گھر ہدیہ دے کر چلا گیا ۔ [4]

غیر موثق روایات کی بنا پر اویس یمن یا کوفہ سے ایک ہیئت کے ہمراہ مدینے آئے ۔ کہتے ہیں کہ پیغمبر کی بتائی ہوئی علامات کی بنا پر حضرت عمر بن خطاب نے انہیں پہچان لیا ۔[5]

شہادت

ایسا ظاہرا ہوتا ہے مدینے سے واپسی کے بعد کوفہ آ کر آباد ہوگئے ۔ [6] اور سال ۳۷ قمری/ ۶۵۷میلادی در ۶۷ سال کی عمر کر کے جنگ صفین میں شہادت پائی [7]

ان کے مقام وفات کے معلق مختلف اقوال موجود ہیں[8] جیسا کہ شام میں رقہ کے مقام پر اس نام سے ایک قبر موجود یے نیز شام کے شہر دمشق کے باب الصغیر نامی قبرستان میں ،اسکندریہ اور دیار بکر میں میں بھی اس سے منسوب مزار ہیں ۔[9] ان تمام باتوں کے باوجود اکثر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جنگ صفین میں امام علی کے ساتھ شریک رہے اور ان کا جسد شہدا کے درمیان پایا گیا ۔[10]

شام کے شہر رقہ میں مزار اور قبر موجود ہے یہ قبر عمار یاسر کی قبر کے بائیں جانب ہے۔انکا مزار گنبد اور صحن پر مشتمل ہے ۔قبر پر نصب پتھر پر کوفی خط میں اویس نام لکھا ہے [11]

احوال

اویس قرنی کی شخصی زندگی کے متعلق اختلاف نظر پایا جاتا ہے ۔ یہاںتک کہ ابتدائی صدیوں میں کچھ اس شخص کے وجود میں شک تردید کا شکار ہیں ۔[12]

اسکے باوجود کہتے ہیں کہ اس نے امیرالمؤمنین علی(ع) اور عمر بن خطاب سے روایت کی ۔بعض افراد اور محدثین کہ جن میں سے اکثر کوفہ سے ہیں ، نے ان سے روایت سنی ہے ۔[13]

عبادت

عمار یاسر اور اویس قرنی کے مزار میزائل کے حملوں کی زد میں

اس کے عرفانی حالات میں کہتے ہیں: کسی رات کے متعلق کہتا: آج رکوع کی رات ہے اور رکوع میں رات گارتاکبھی کہتا آج سجدے کی رات ہے تمام رات سجدے میں گزار دیتا۔جب اسےکہتے :اپنے آپکو اتنی زحمت کیوں دیتے ہو؟ و جواب دیتا کاش تمام عمر ایک رات ہوتی تو میں اسے سجدے میں گزار دیتا۔[14]

زہد

تمام روایات اس نکتے پر متفق ہیں کہ وہ مسلمانوں کے درمیان ایک زاہد اور پارسا شخص کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا اور اسکے بعد صوفیوں میں ایک خاص مقام کے حامل قرار پائے جیسا کہ تابعین میں اسے زہاد ثمانیہ (زاہد ترین آٹھ افراد) میں سے گنا جاتا ہے ۔[15]

قدیمی ترین روایات اسے ایک مکمل طور پر صوفیانہ شخص بیان کرتی ہیں۔ جنہوں نے بھی ان روایات کو دیکھا انہوں نے ان روایات کی بنا پر عین شہرت میں فقر،تنگدستی کے ساتھ اسے اسکی تعریف کی ہے۔کہتے ہیں کہ اسکے پاس مناسب لباس نہ تھا یہی بات معاشرے سے گوشہ نشینی کے عوامل میں سے ایک ہے ۔[16]

مقام و منزلت

پیغمبر (ص)

فارسی ادبیات میں اویس کی زندگی کے احوال بیان ہوئے ہیں ۔ اس میں نبی اکرم سے یہ منسوب مشہور حدیث مذکور ہے:یمن کی طرف سے مجھے بوئے بہشت آرہی ہے ۔[17]

روایت کے مطابق اویس رسول خدا سے کافی دور تھا لیکن وہ رسول کے احوال سے آگاہ ہوتا تھا۔[18] امام علی(ع) ایک روایت میں پیامبر اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اویس کے متعلق فرمایا : وہ خدا اور رسول کے حزب میں سے ہے ۔اس کی موت خدا کے دین کے راستے میں شہادت پر ہو گی ۔بہت سے لوگ اس کے وسیلے سے شفاعت پائیں گے اور آتش جہنم سے رہائی حاصل کریں گے ۔[19]

تذکرۃ الاولیاء میں عطار نیشاپوری کے مطابق جب اویس کے متعلق بات ہوئی تو رسول اللہ نے اپنے اصحاب سے سفارش کی کہ جب وہ اسے دیکھیں تو میرا سلام اسے پہنچائیں اور آپکا لباس اسے دیں اور اس سے چاہیں کہ وہ رسول کی امت کے حق میں دعا کرے ۔رسول اکرم کے وصال کے بعد خلیفہ دوم نے اسے سرزمین عرفات میں دیکھا اور رسول کی سفارش کو انجام دیا ۔[20]

البتہ یہ مطالب کسی سند کے بغیر ہونے کی وجہ کوئی اعتبار نہیں رکھتے ہیں ۔خاص طور پر وہ صوفی اویس کو مشائیخ صوفیہ میں سے ہونے پر تاکید کرتے ہیں نیز یہ کتاب اویس کے متعلق عجیب و غریب روایات پر مشتمل ہے جن کا باطل ہونا بدیہی ہے ۔لہذا اسی وجہ سے اسطرح کے منقبت اور اس کی فضیلت کے مطالب میں جعل کئے جانے کا احتمال زیادہ ہے ۔

شیعہ کے نزدیک

امامیہ شیعوں کے نزدیک اویس قرنی امام علی کے صحابی اور مخصوص منزلت کے مالک ہیں ۔[21] شیخ مفید نے امام علی کی بیعت کرنے والوں میں اویس کا نام ذکر کیا ہے [22]

صوفیوں کے نزدیک

اویس کو پہلا عقلمند دیوانہ مانا جاتا ہے ۔[23] [24]معاشرے سے کنارہ گیریاور تنہائی،اسکے مکاشفے، راہ سلوک پر زیادہ سفر نہ کرنے کے باوجود سلوک کی منزلیں طے کیں،یہ ایسی باتیں ہیں جو صوفیوں میں بہت زیادہ مورد توجہ قرار پائی ہیں۔اسی اہمیت کے پیش نظر صوفیوں کی حیثیت زیادہ ہو گئی اور تصوف کے مسلک میں اویسیہ نام کا ایک مکتب ایجاد ہوا ۔

شیعہ عرفان کے عالم سید حیدر آملی نے اویس کا نام پیامبر(ص) کے مخصوص اصحاب جیسے سلمان ، ابوذر، عمار و اصحاب صفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ وہ اس طائفے اور بعد کے صوفی طبقہ کے درمیان تفاوت کے قائل ہے اور وہ اصحاب کے اس گروہ کو معصومین کے پیروکاروں میں سے جانتے ہیں ۔[25] [26] اویس قرنی اپنی مادی اور ظاہری زندگی میں مورد ملامت قرار پائے ہیں۔منقول ہے کہ وہ جس گلی کوچہ میں جاتا لوگ اس کے ساتھ دیوانوں جیسی رفتار سے پیش آتے اور کبھی است پتھر مارتے لیکن وہ صرف یہی جملہ کہتا :میری ٹانگیں پتلی ہیں چھوٹے پتھر مارو تا کہ میرے پاؤں خون آلود نہ ہو جائیں اور میں نماز نہ ادا کر سکوں نیز مجھے اپنی نماز کا غم ہے پاؤں کا نہیں ہے ۔[27]

مزار کا انہدام

۲۱ رمضان سال ۱۴۳۴ق جو مصادف شب قدر تھا، کو تکفیری گروہوں کی طرف سے شام میں رقہ پر قبضہ کے دوران عمار یاسر اور اویس قرنی کے صحن میزائلوں کا نشانہ بنانے کی وجہ کافی خراب ہوئے [28]

۶ فرودین ۱۳۹۳ش/ ۲۴ جمادی الاولی ۱۴۳۵ق کو داعش کے ٹیروریسٹی گروہوں نے مواد منفجر کے ذریعے عمار یاسر اور اویس قرنی کے مقابر کے میناروں کو منہدم کر دیا داعش نے دوبارہ ۲۵ اردیبہشت ۱۳۹۳/ ۱۵ رجب ۱۴۳۵ق کو انہوں نے اسے ممل طور منہدم کر دیا ۔ [29]

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، الجمل، ص۴۵۷
  2. رک: کلبی، ج۱، ص۳۳۴؛ ابن سعد، ج۶، ص۱۶۱؛ خلیفہ، ص۱۴۶
  3. ابن درید، ص۴۱۴؛ خلیلی، ج۲، ص۵۴۲-۵۴۳؛ رافعی، ج۱، ص۹۱
  4. مجلسی، ج ۴۲، ص۱۵۵؛ قمی، ص۲۳۹:[1]
  5. رک: ابن سعد، ج۶، ص۱۶۲-۱۶۳؛ ذہبی، ج۴، ص۲۰ بب
  6. احمد بن حنبل، ص۴۷۸
  7. طبری، ص۶۲۸؛ رک: نصر بن مزاحم، ص۳۲۴.
  8. ایضا، ص۴۷۹- ۴۸۰؛ ابن حبان، ج۴، ص۵۲؛ نیشابوری، ص۹۹
  9. یاقوت، ج۲، ص۵۹۶؛ ابن بطوطہ، ج۱، ص۱۱۴
  10. طبری، ص۶۲۸؛ رک: نصر بن مزاحم، ص۳۲۴.
  11. قائدان، ص۲۹: [2]
  12. رک: ابن حبان، ج۴، ص۵۳؛ نگاه کنید: ابن جوزی، ج۲، ص۴۳-۴۴
  13. ابن ابی حاتم ، ج۱(بخش۱)، ص۳۲۶؛ ابن حجر، ج۱، ص۱۱۵
  14. قمی، ص۲۳۹
  15. مثلاً رک: ابونعیم، ج۲، ص۸۷؛ کشی، ص۹۷- ۹۸
  16. ابن مبارک، ص۲۹۳؛ ابن سعد، ج۶، ص۱۶۱- ۱۶۵؛ احمد بن حنبل، ص۴۷۵-۴۷۷، ۴۸۰-۴۸۱
  17. رک: فروزانفر، ص۷۳؛ نیز رک: عین القضات، ص۳۲۶، ۳۴۹؛ موازنہ کریں: علاءالدولہ، ص۳۶۵-۳۶۶؛ ابونعیم، ج۲، صص۷۹-۸۷؛ عطار، صص۱۹ کے بعد.
  18. رک: کرمانی، ص۲۵-۲۶
  19. شیخ مفید، الارشاد، ج۱، ص۳۱۶
  20. عطار نیشابوری، ص۲۰-۲۱؛دانشنامہ جہان اسلام، ج۱۵، مقالہ خرقہ
  21. الاختصاص، ص۶-۷، ۶۱، ۸۱-۸۲؛ کشی، ص۹
  22. الجمل، ص۱۰۹
  23. عقلاءالمجانین
  24. نک: نیشابوری، ج۱، ص۴۷؛ نیز عین القضات، ص۳۴۹
  25. تلامذه للائمہ المعصومین
  26. ص ۵۰۳، ۶۱۴-۶۱۵
  27. عطار، تذکره الاولیاء، ص۲۸.
  28. داعش مرقد عمار یاسر و اویس قرنی را منفجر کرد، خبرگزاری مشرق.
  29. زيارتگاه عمار ياسر در سوريه تخريب شد، خبرگزاری حج و زیارت.


منابع

  • آملی، حیدر، جامع الاسرار، به کوشش هانری کربن و عثمان یحیی، تہران، ۱۳۴۷ش/۱۹۶۹م.
  • ابن ابی حاتم، عبدالرحمان، الجرح و التعدیل، حیدرآباد دکن، ۱۳۷۲ق/۱۹۵۳م.
  • ابن بطوطہ، رحلہ، کوشش محمد عبدالمنعم عریان، بیروت، ۱۹۸۷م.
  • ابن جوزی، عبدالرحمان، الموضوعات، کوشش عبدالرحمان محمد عثمان، قاہره، ۱۳۸۶ق/۱۹۶۶م.
  • ابن حبان، محمد، الثقات، حیدرآباد دکن، ۱۳۹۸ق/۱۹۷۸م.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد، الاصابه، قاہره، ۱۳۲۸ق/۱۹۱۰م.
  • ابن درید، محمد، الاشتقاق، کوشش عبدالسلام ہارون، قاہره، ۱۳۷۸ق/۱۹۵۸م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دارصادر.
  • ابن سلام اباضی، بدءالاسلام، کوشش ورنر شوارتس و سالم بن یعقوب، بیروت، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • ابن مبارک، عبدالله، الزهد و الرقائق، کوشش حبیب الرحمان اعظمی، مجلس احیاء المعارف، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۶م.
  • ابونعیم اصفہانی، احمد، حلیۃ الاولیاء، قاہره، ۱۳۵۱ق/۱۹۳۳م.
  • احمد بن حنبل، الزہد، کوشش محمدسعید بن بسیونی زغلول، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۸م.
  • احمد جام، انس التائبین، کوشش علی فاضل، تہران، ۱۳۶۸ش.
  • الاختصاص، منسوب بہ شیخ مفید، کوشش علی اکبر غفاری، قم، ۱۴۰۲ق.
  • خلیفه بن خیاط، الطبقات، به کوشش اکرم ضیاء عمری، ریاض، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۲م.
  • خلیلی، خلیل، الارشاد، به کوشش محمدسعید عمر ادریس، ریاض، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • دایره المعارف بزرگ اسلامی، مدخل اویس قرنی: [3]
  • ذهبی، محمد، سیر اعلام النبلاء، به کوشش شعیب ارنؤوط و دیگران، بیروت، مؤسسه الرساله.
  • رافعی قزوینی، عبدالکریم، التدوین فی اخبار قزوین، به کوشش عزیزالله عطاردی، تہران، ۱۳۷۶ش.
  • شمس تبریزی، مقالات، کوشش محمدعلی موحد، تہران، ۱۳۶۹ش.
  • شیخ مفید، محمد، الارشاد، قم، مؤسسہ آل البیت (ع).
  • شیخ مفید، الجمل، کوشش علی میرشریفی، قم، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد، «المنتخب من کتاب ذیل المذیل»، ہمراه ج۱۱ تاریخ.
  • عطار نیشابوری، فریدالدین، تذکره الاولیاء، کوشش محمد استعلامی، تہران، ۱۳۶۶ش.
  • علاءالدوله سمنانی، احمد، العروه لاهل الخلوه و الجلوه، کوشش نجیب مایل ہروی، تہران، ۱۳۶۲ش.
  • عین القضات ہمدانی، تمہیدات، کوشش عفیف عسیران، تہران، ۱۳۴۱ش.
  • فروزانفر، بدیع الزمان، احادیث مثنوی، تہران، ۱۳۶۱ش.
  • قائدان، اصغر، تاریخ و اماکن زیارتی سوریہ، ۱۳۷۳ش.
  • قمی، عباس، منتہی الامال، انتشارات جاویدان علمی.
  • کرمانی، عبدالرزاق، «تذکره در مناقب حضرت شاه نعمت الله ولی»، مجموعہ در ترجمہ احوال شاه نعمت الله ولی کرمانی، کوشش ژان اوبن، تہران، ۱۳۶۱ش.
  • کشی ، محمد، معرفہ الرجال، اختیار شیخ طوسی، کوشش حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • کلبی ، ہشام، نسب معد و الیمن الکبیر، کوشش ناجی حسن، بیروت، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸م.
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، چاپ ایران.
  • نصر بن مزاحم، وقعہ صفین، کوشش محمد عبدالسلام ہارون، قاہره، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲م.
  • نیشابوری، حسن، عقلاء المجانین، کوشش عمر اسعد، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م.
  • یاقوت، بلدان.
  • خبرگزاری حج و زیارت.