حکیم بن جبلہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حکیم بن جبلہ
معلومات شخصیت
نام: حکیم بن جبلہ عبدی
نسب: عبد القیس
مشہور اقارب: اشرف بن جبلہ (بھائی)
اصحاب: امام علی (ع)
سماجی خدمات: حکومت امام علی (ع) میں بصرہ کی فوج کے سردار۔
مذہب: اسلام

حُکَیم بن جَبَلہ (شہادت 36 ھ)، امام علی (ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ عثمان کے خلاف بغاوت میں ان کا کردار رہا ہے۔ انہوں نے قتل عثمان کے بعد زبیر کو حضرت علی (ع) کی بیعت کی طرف راغب کیا۔ جنگ جمل سے پہلے تک بصرہ میں حضرت علی کے لشکر کی کمانڈ ان کے ذمہ تھی۔ حکیم بن جبلہ نے طلحہ و زبیر کے لشکر کے ساتھ بصرہ یا اس سے قریب کسی مقام پر جنگ کی اور اس میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت علی (ع) نے ان کی مدح میں شعر پڑھے اور انہیں رجل صالح کا لقب عطا کیا۔

نسب

حکیم بن جبلہ (جبل) کا نسب عبد القیس تک پہچتا ہے۔ اسی اعتبار سے ان کی شہرت عبدی قرار پائی۔[1] ان کی ولادت پیغمبر اکرم (ص) کے عہد میں ہوئی لیکن اس سلسلہ میں کہ انہوں نے آنحضرت (ص) سے کوئی حدیث نقل کی ہو یا انہیں دیکھا ہو، کوئی بات نقل نہیں ہوئی ہے۔[2] وہ صالح اور دیندار انسان تھے اور ان کی قوم ان کی بات کو تسلیم کرتی تھی۔[3] ان کے بھائی اشرف بن جبلہ بھی اصحاب امام علی (ع) میں سے تھے اور وہ جنگ جمل سے پہلے اصحاب جمل سے جنگ میں شہید ہوئے۔[4]

عثمان کی خلافت کے دور میں

سن 23 ھ میں جب عثمان کو خلافت ملی انہوں نے عبد اللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر معین کیا اور عبد اللہ سے درخواست کی کہ وہ کسی کو تحقیقات کے لئے سندھ بھیجیں۔ انہوں نے حکیم بن جبلہ کو اس کام کے لئے مامور کیا۔ حکیم وہاں گئے[5] جب وہ واپس بصرہ آئے تو عامر انہیں عثمان کے پاس لے گئے۔ انہوں نے حکیم سے وہاں کے حالات پوچھے حکیم نے حالات بیان کئے۔ اس کے بعد عثمان نے کسی کو وہاں نہیں بھیجا۔[6]

طبری نے سیف بن عمر ضبی سے سن 23 ھ کے واقعات میں نقل کیا ہے کہ حکیم لشکر اسلام کے ساتھ جنگ کے لئے روانہ ہوئے اور ان کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے جدا ہو گئے اور سر زمین فارس میں ذمی اہل کتاب کو اذیت و آزار اور ان میں غارت انجام دینے کے بعد بصرہ لوٹ گئے۔ وہاں کے لوگوں نے عثمان سے ان کی شکایت کی تو انہوں نے عبد اللہ بن عامر سے درخواست کی کہ وہ حکیم اور ان کے جیسے افراد کو جنہوں نے عوام کو اذیت و آزار پہچایا ہے، قید کر لیں اور ان کے جیسے لوگ بصرہ سے خارج نہ ہوں۔[7] ابن عامر نے انہیں جیل میں ڈال دیا یہاں تک کہ عبد اللہ بن سبا بصرہ میں وارد ہوا اور حکیم اس سے ملحق ہو گئے۔[8] البتہ بعض لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ چونکہ حکیم کا نام عثمان کے خلاف بغاوت کرنے والوں میں آتا ہے لہذا یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ سیف بن عمر نے ان کی تخریب کے لئے یہ داستان جعل کی ہے۔[9]

عثمان کے خلاف بغاوت

بصرہ میں عثمان کے خلاف شورش کرنے والے ایک گروہ کی کمان حکیم کے ذمہ تھی۔[10] سن 35 ھ میں عثمان نماز کے بعد منبر پر گئے اورا انہوں نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والوں کو خطاب کرکے کہا: اہل مدینہ جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے تم پر لعن کیا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے ان کی اس بات کی تائید کی لیکن حکیم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھا دیا۔[11] البتہ جب مالک اشتر نے جن کے ذمے کوفہ کے باغیوں کی کمان تھی، عثمان کے گھر کے محاصرہ سے کنارہ کشی اختیار کی تو حکیم بھی اس کام سے منصرف ہو گئے۔[12]

حکیم نے عبد اللہ بن عامر جیسے بعض گورنروں کی وجہ سے عثمان کی مذمت کی۔[13]

حکومت امام علی (ع)

قتل عثمان کے بعد حکیم بن جبکہ نے زبیر کو جو امام علی (ع) کی بیعت سے انکاری تھے، اس امر کی طرف مائل کیا۔[14] بعد میں زبیر نے دعوی کیا کہ عبد القیس کے ایک چور نے میری گردن پر تلوار رکھ کر مجھے بیعت کرنے پر مجبور کیا۔[15] البتہ شیخ مفید نے زبیر کی اجباری سے بیعت کو رد کیا ہے۔[16]

اصحاب جمل سے جنگ و شہادت

حضرت علی (ع) کی طرف سے عثمان بن حنیف کو بصرہ کا گورنر معین کرنے کے بعد حکیم بن جبلہ کو وہاں کے لشکر کی کمان سونپی گئی۔[17]

سن 36 ھ میں جنگ جمل سے پہلے زبیر، طلحہ اور عائشہ نے بصرہ کی سمت حرکت کی۔ امام علی (ع) کی طرف سے عثمان بن حںیف بصرہ کے حاکم تھے۔ اصحاب جمل چاہ ابو موسی نامی مقام پر جمع ہوئے۔ جب یہ خبر بصرہ پہچی تو حکیم بن جبلہ نے ان کی طرف جانے کا ارادہ کیا لیکن عثمان بن حنیف نے انہیں جانے سے روک دیا۔[18] عثمان نے عمران بن حصین اور ابو الاسود دوئلی کو ان کے پاس بھیجا تا کہ وہ لوگ جنگ سے باز آ جائیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔[19] اس کے بعد انہوں نے حکیم بن جبلہ کی کمان میں ان سے جنگ کے لئے ایک لشکر روانہ کیا۔[20] نقل کے مطابق، نزاع کے بعد دونوں فریق میں یہ طے پایا کہ جب تک امام علی (ع) بصرہ نہیں آ جاتے وہ ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے۔[21] لیکن طلحہ اور اس کے ساتھیوں نے راتوں رات محل میں داخل ہو کر بیت المال کے 40 محافظوں کو قتل کر ڈالا اور عثمان بن حنیف کو قید کر لیا۔ اگلے روز شب میں حکیم بن جبلہ نے اپنے 700 کے لشکر کے ساتھ زابوقہ نامی مقام پر ان سے جنگ کی۔[22] اس جنگ میں ان کے قبیلہ عبد القیس کے 70 افراد شہید ہوئے۔ حکیم کا پیر قطع ہو گیا انہوں نے اپنے پیر کو قاتل کے اوپر مارا جس سے وہ زمین پر گر وہ اپنے آپ کو گھسیٹے ہوئے اس کے پاس پہچے اسے قتل کیا اور خود بھی شہید ہو گئے۔[23]

ابن زبیر کے ساتھ گفتگو

حکیم نے زابوقہ کے مقام پر عبد اللہ بن زبیر سے ملاقات کی۔ ابن زبیر نے ان سے پوچھا کہ کیا چاہتے ہو؟ حکیم نے جواب میں کہا: ہم بھی ان ارزاق سے استفادہ کریں اور عثمان بن حنیف کو رہا کر دیا جائے۔ جیسا کہ ہم پہلے توافق کر چکے ہیں کہ حضرت علی (ع) یہاں آ جائیں۔ حکیم نے قسم کھائی کہ اگر میرے لشکر افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہوتی تو میں معاہدہ کو قبول نہیں کرتا پھر انہوں نے ابن زبیر سے کہا کہ تم نے کیوں مسلمانوں کا خون حلال شمار کر لیا ہے؟ ابن زبیر کے فوجیوں نے جواب دیا کہ عثمان بن عفان کے خون خواہی کی وجہ سے۔ ابن زبیر نے ان کی دونوں باتوں کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ عثمان بن حنیف کو اس صورت میں آزاد کر سکتا ہوں کہ وہ باقاعدہ طور پر حضرت علی (ع) کو خلافت سے معزول کریں اور دار الامارہ کو ہمارے حوالے کر دیں۔[24]

بعض منابع میں حکیم اور اصحاب جمل کے نزاع کو جنگ جمل اصغر کے نام سے یاد کیا گیا ہے[25] اور ان دونوں واقعات کے نزدیک ہونے کے سبب بعض منابع میں ان کی شہادت کو جنگ جمل میں شمار کیا گیا ہے۔[26] امام علی (ع) نے حکیم بن جبلہ کی شہادت اور عثمان بن حنیف کو شکنجہ دیئے جانے کی خبر کو سن کر 12 ہزار کے لشکر کے ساتھ بصرہ کا رخ کیا اور حکیم کی مدح میں شعر پڑھے[27] اور انہیں رجل صالح کے لقب سے یاد کیا۔[28]

حوالہ جات

  1. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۶.
  2. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۶.
  3. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۶.
  4. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۸۳-۲۸۴.
  5. خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ، ۱۴۱۵ق، ص۱۰۷؛ حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۵، ص۱۸۰.
  6. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۶؛ خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ، ۱۴۱۵ق، ص۱۰۷.
  7. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۳۲۶.
  8. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۳۲۶-۳۲۷.
  9. دانش نامہ جہان اسلام، ج۱، ص۶۴۰۴. مدخل حیکم بن جبلہ.
  10. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۳۴۹؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۷.
  11. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۳۵۳.
  12. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴،ص۳۷۸
  13. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۶.
  14. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۴۳۴-۴۳۵.
  15. بلاذری، الانساب الاشراف، ج۲، ۱۳۴۹ق، ص۲۰۷؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۴۳۵.
  16. مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۱۱۱-۱۱۳.
  17. صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۰۸ق، ج۱۳، ص۱۲۹.
  18. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۷۳-۲۷۴.
  19. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۴۶۱-۴۶۳؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۷۴، ۲۷۵.
  20. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۴۶۶؛ شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۷۹.
  21. بلاذری، الانساب الاشراف، ۱۳۴۹ق، ج۲، ص۲۲۶؛ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۸۳-۲۸۴؛ الاستیعاب، ج۱، ص۶۷-۳۶۸.
  22. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۸-۳۶۷؛ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۲۸۳-۲۸۴.
  23. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۹-۳۶۸.
  24. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۹-۳۶۸.
  25. ابن ابی‌ الحدید، شرح نہج البلاغه، ۱۳۷۸/۱۳۸۳ش، ج۹، ص۳۲۲.
  26. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۷.
  27. بلاذری، الانساب الاشراف، ۱۳۴۹ق، ج۲، ص۲۳۰.
  28. مفید، الکافئہ، ۱۴۱۳ق، ص۱۸.


مآخذ

  • ابن ابی‌ الحدید، عبد الحمید بن ہبة الله، شرح نہج البلاغہ، قم، مکتبہ آیت الله المرعشی، ۱۳۷۸/۱۳۸۳ش
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفت الاصحاب، تحقیق: علی محمد بجاوی، قاہره، دار الجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲ع
  • بلاذری، احمد بن یحیی، الانساب الاشراف، تحقیق: محمد باقر محمودی، بیروت، مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۴۹ق/۱۹۷۴ ع
  • حموی، یاقوت بن عبد الله، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، ۱۹۹۵ ع
  • خلیفہ بن خیاط، تاریخ خلیفہ بن خیاط، تحقیق: فواز، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ ع
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، الجمل و النصره لسید التعرة فی حرب البصرة، قم، المؤتمر العالمی المفید، ۱۴۱۳ق
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، الکافئة فی ابطال توبة الخاطئہ، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق
  • صفدی، الوافی بالوفیات، ویسبادن، ۱۴۰۸ق
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ۱۹۶۷ع/۱۳۸۷ق
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال‌ الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، ۱۴۱۵ق
  • دانش نامہ جہان اسلام، مدخل، حکیم بن جبلہ