قصاص

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

قِصاص اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو کہا جاتا ہے۔ قصاص دو قسم کے ہیں قصاص نَفْس اور قصاص عضو۔ قصاص کے حکم کو دین اسلام کے مسلّم احکام میں شمار کیا جاتا ہے اور قرآن کی متعدد آیات، متواتر احادیث اور اجماع اس پر دلالت کرتی ہیں۔ غلام اور آزاد ہونے میں مساوی ہونا، دین کا ایک ہونا، بالغ ہونا اور عاقل ہونا قصاص کے تحقق کے شرائط میں سے ہیں۔ قصاص، دیہ، حَدّ اور تعزیر جمہوری اسلامی ایران کے قانون مجازات اسلام کے چار اصلی مجازات میں سے ہیں۔

جوابی قانونی کاروائی

عمدی جرائم میں جوابی کاروائی کو قصاص کہا جاتا ہے۔[1] اگر کسی قاتل کو قتل یا کسی پر کوئی چوٹ لگانے والے پر وہی چوٹ لگا دی جائے تو اسے قصاص لینا کہے گا۔[2] فقہی اور حقوقی کتابوں میں جرم انجام دینے والے کو مجرم اور جس پر یہ جنایت واقع ہوئی ہے اسے مَجْنیٌّ‌علیہ کہا جاتا ہے۔[3]

مشروعیت قصاص کے دلائل

فقہا قصاص کو اسلامی فقہ کے مسلم احکام میں شمار کرتے ہیں جس پر بہت ساری آیات اور متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں اس کے علاوہ اس پر فقہاء کا اجماع بھی ہے۔[4] قصاص پر دلالت کرنے والی بعض قرآنی دلائل محمدحسن نجفی صاجب جواہر کی کتاب جواہر الکلام کے مطابق درج ذیل ہیں:[5]

  • وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(ترجمہ: اے صاحبانِ عقل! تمہارے لئے قصاص یعنی جان کے بدلے جان والے قانون میں زندگی ہے تاکہ تم (خون ریزی سے) بچتے رہو۔)[6]
  • يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ(ترجمہ: اے ایمان والو! ان کے بارے میں جو (ناحق قتل کر دیئے گئے ہوں) تم پر قصاص (خون کا بدلہ خون) لکھ دیا گیا ہے یعنی آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔)[7]
  • وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ(ترجمہ: اور ہم نے اس (توراۃ) میں ان (یہودیوں) پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے۔ پھر جو (قصاص) معاف کر دے، تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوگا)[8]
  • وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ(ترجمہ: اور حرمتوں میں بھی قصاص (ادلا بدلا) ہے لہٰذا جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے)[9]

قصاص نفْس اور قصاص عضو

قصاص دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے؛ قصاص نَفْس اور قصاص عضو(فقہی اصطلاح میں قصاص طَرَف)۔ قصاصِ نَفْس سے مراد اس شخص کو قتل کر ڈالنا ہے جس نے عمدا کسی کا قتل کیا ہو۔[10] قصاص عضو یا طَرَف قتل کے علاوہ دوسرے جرائم میں متعلقہ شخص سے اسی طرح کا بدلہ لینے کو کہا جاتا ہے۔[11]

شرایط

قصاص کا تحقق بعض شرائط پر مبتنی ہے جو درج ذیل ہیں:

  • غلام اور آزاد ہونے میں مساوی ہونا؛[12] یعنی اگر کوئی آزاد انسان کسی غلام پر کسی جرم کا مرتکب ہو تو اس آزاد شخص سے قصاص نہیں لیا جا سکتا؛[13] بلکہ اس شخص سے دیہ لیا جائے گا۔[14]
  • دین کا ایک ہونا؛ اس بنا پر اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلمان سے متعلق کسی جرم کا مرتکب ہو تو اس کا قصاص نہیں ہوگا؛[15] بلکہ اس کی سزا تعزیر اور دیہ ہے۔[16]
  • مجرم باپ نہ ہو؛ یعنی اگر باپ اپنے بیٹے پر کسی جرم کا مرتکب ہو تو باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔[17] یہاں پر باپ پر کفارہ، دیہ اور تعزیر ہے۔[18]
  • بالغ اور عاقل ہونا؛ نابالغ اور دیوانہ سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔[19] اسی طرح اگر کوئی بالغ اور عاقل شخص کسی دیوانے پر جرم کا مرتکب ہو تو اس سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا لیکن دیہ دینا پڑیگا۔[20]
  • مَجنیّ علیہ کا مہدورالدم نہ ہونا؛ یعنی اگر کسی نے ایسے انسان پر کوئی جرم انجام دیا ہو جس کا خون کسی وجہ مثلا مرتد ہونے کی وجہ سے مباح ہو تو اس شخص سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔[21]

قصاص عضو کے مخصوص احکام

قصاص عضو، قصاص نفس کے شرائط کے علاوہ بھی مخصوص احکام اور شرائط کا حامل ہے جو درج ذیل ہیں:

  • سالم ہونے میں یکساں ہونا؛ یعنی اگر مجرم نے کسی شخص کے معیوب ہاتھ کو کاٹ دیا ہو تو اس پر صرف اس صورت میں قصاص ہو گا جب اس کا اپنا ہاتھ بھی معیوب ہو۔ بصورت دیگر اس سے دیہ لیا جائے گا۔[22]
  • خود دونوں عضو میں مماثلت؛ یعنی اگر کسی نے دوسرے شخص کے دائیں ہاتھ کو کاٹ دیا ہو تو مجرم کا بھی دائیں ہاتھ کاٹا جائے گا مگر یہ کہ اس کا دائیں ہاتھ نہ ہو تو اس صورت میں مشہور کے مطابق اس کا بائیں ہاتھ کاٹا جائے گا۔[23]
  • مجرم کو کوئی اور نقصان نہ پہنچے؛ یعنی قصاص کی وجہ سے مجرم کی موت یا اسے کوئی اور نقصان نہ پہنچے۔ اس بنا پر اگر قصاص مجرم کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے تو یہ ساقط ہو گا اور اس سے دیہ یا اَرش لیا جائے گا۔[24]

جرم ثابت ہونے کی شرایط

کسی مجرم سے قصاص لینے کیلئے جرم کا ثابت ہونا ضروری ہے اور فقہی منابع کے مطابق جرم ثابت ہونے کے تین راستے ہیں:

  1. خود مجرم اپنے جرم کا اعتراف کرے۔[25] اس کیلئے اعتراف کرنے والے کا بالغ، عاقل اور مختار ہونا ضرروی ہے مجبور ہو کر اعتراف نہ کیا ہو۔
  2. دو عادل مرد جنہوں نے جرم کا مشاہدہ کیا ہو، گواہی دیں۔[26]
  3. مجرم کے خلاف قسم دلائی جائے؛ یعنی مقتول یا مجنیّ علیہ کے رشتہ داروں میں سے 50 آدمی متعلقہ شخص کے مجرم ہونے کی قسم کھائیں۔[27] کسی کے خلاف قسم دلانا صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی غیر یقینی دلائل اسے کے مجرم ہونے پر دلالت کرتی ہوں۔[28]

ایران کے اسلامی قانون میں قصاص کا حکم

جمہوری اسلامی ایران کے اسلامی قانون میں دیہ، حَدّ، تعزیر اور قصاصْ چار اصلی مجازات میں شامل ہیں۔[29] اس قانون کے مادہ 16 کے مطابق قصاص نفس، عضو اور منافع کے عمدی جرائم میں اصلی مجازات میں سی ہیں۔[30] قانون مجازات اسلامی کی تیسری کتاب میں ماده نمبر 289 سے 447 تک قصاص کی تفصیلات مذکور ہیں۔[31]

فلسفہ

سزاؤوں میں انصاف کی فراہمی، سماجی عدالت کا قیام اور فردی انتقام سے بچاؤ وغیره اسلام میں قصاص کے جائز ہونے کے علل و اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔[32] کہا جاتا ہے کہ قصاص کے قانون کے ذریعے جرائم اور ان کے مجازات میں انصاف فراہم کی جا سکتی ہے۔[33] اس طرح کے قوانین کی موجودگی جرائم پیشہ افراد کو جرم کے ارتکاب سے روک سکتی ہیں اور سماجی عدالت برقرار رہنے کا موجب بنتی ہے۔[34] اس کا تیسرا فایدہ یہ ہے کہ متعلقہ فرد یا اس کے وارثین کو قصاص کرنے کا حق دینے کے ذریعے ان میں انتقامی کاروائی کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔[35]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۷۔
  2. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔
  3. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۱؛ سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی، مادہ ۴۰۰۔
  4. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷۔
  5. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۴۲، ص۷تا۹۔
  6. سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۹۔
  7. سورہ بقرہ، آیہ ۱۷۸۔
  8. سورہ مائدہ، آیہ ۴۵۔
  9. سورہ بقرہ، آیہ ۱۹۴۔
  10. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۶۰۵۔
  11. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۵ش، ج۶، ص۵۹۹۔
  12. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۸؛ محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۸۹۔
  13. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۸؛ محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۰۔
  14. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۰۔
  15. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۸؛ محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۶۔
  16. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۶۔
  17. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۸؛ محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۹۔
  18. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۹۹۔
  19. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۸؛‌محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۰۔
  20. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۰و۲۰۱۔
  21. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۱۔
  22. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ج۶، ص۵۹۹۔
  23. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ج۶، ص۶۰۰۔
  24. مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ج۶، ص۵۶۰۔
  25. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۳۔
  26. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۳۔
  27. مشکینی، مصطلحات الفقہ و اصطلاحات الاصول، ۱۴۳۱ق، ص۴۲۳۔
  28. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۲۰۷۔
  29. سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی، مادہ ۱۴۔
  30. سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی۔
  31. سایت شورای نگہبان قانون اساسی، قانون مجازات اسلامی۔
  32. خسروشاہی، فلسفہ قصاص، ۱۳۸۰ش۔
  33. خسروشاہی، فلسفہ قصاص، ۱۳۸۰ش۔
  34. خسروشاہی، فلسفہ قصاص، ۱۳۸۰ش۔
  35. خسروشاہی، فلسفہ قصاص، ۱۳۸۰ش۔


مآخذ

سانچہ:حد و تعزیر