زیارت عاشورا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


زیارت عاشورا وہ زیارت ہے جسے شیعہ، امام حسین(ع) اور کربلا میں آپ کے باوفا اصحاب کی زیارت اور واقعہ عاشورا کی یاد تازہ کرنے کیلئے پڑھتے ہیں۔ یہ زیارت امام محمد باقر(ع) سے نقل ہوئی ہے اور شیعوں کے نزدیک اس کی خاص اہمیت ہے۔

زیارت عاشورا کی سند

زیارت عاشورا کا سب سے قدیم منبع کامل الزیارات ہے۔[1] ابن قولویہ نے اس کتاب میں زیارت عاشورا کو امام محمد باقر(ع) سے نقل کیا ہے۔

تیرہویں صدی ہجری کے مجتہد، ابوالمعالی محمّد کلباسی جنہوں نے زیارت عاشورا پر شرح بھی لکھی ہیں، کے بقول شیخ طوسی نے اپنی کتاب مصباح المتہجد میں اس زیارت کو کسی اور سند کے ساتھ امام باقر(ع) سے نقل کیا ہے۔[2] لیکن اس کے باوجود بعض معاصر مورخین کا خیال ہے کہ شیخ طوسی نے بھی زیارت عاشورا کو کامل الزیارات سے نقل کیا ہے۔ [3] حالنکہ زیارت عاشورا کے متن میں ابن قولویہ اور شیخ طوسی کے نقل میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح خود زیارت عاشورا کے مضامین سے یہ بات واضح اور آشکار ہو جاتی ہے کہ یا زیارت بنی امیہ کی حکومت کے آخری ادوار میں بیان ہوئی ہے[4]

زیارت عاشورا کے بعد ایک دعاء بھی نقل ہوئی ہے جسے دعائے علقمہ کہا جاتا ہے اور اس دعا کو علقمہ نے صفوان سے اور صفوان نے امام صادق(ع) سے نقل کی ہے۔[5]

زيارت عاشورا پڑھنے کا ثواب

زیارت عاشورا کے بارے میں معصومین سے کئی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ "علقمہ بن محمد حضر" امام محمد باقر(ع) سے نقل کرتے ہیں: جو شخص زیارت عاشورا پڑھے اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کا ثواب یہ ہے کہ اس مومن کے دس لاکھ گناہ معاف کئے جاتے ہیں اور بہشت میں اس کے دس لاکھ درجے بڑھا دئے جاتے ہیں۔ اسی طرح زیارت عاشورا پڑھنے والا اس شخص کی مانند ہے جو امام حسین(ع) کی رکاب میں شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہوئے ہوں اور ان کے درجات میں شریک ہوگا اسی طرح تمام انبیاء اور ان تمام افراد کے ثواب میں شریک ہوگا جنہوں نے امام حسین(ع) کی شہادت کے وقت زیارت کی ہیں۔[6]

چنانچہ علقمہ کہتے ہیں: امام باقر(ع) نے زیارت عاشورا کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: اے علقمہ: اگر اپنی زندگی میں ہر روز اس زیارت کے ذریعے امام حسین(ع) کی زیارت کرسکو تو ایسا ضرور کرو، اگر ایسا کروگے تو تمہیں مذکورہ بالا تمام زیارتوں کا ثواب ملے گا۔[7]

زیارت عاشورا کے مضامین

  • سلام: زیارت عاشورا کا آغاز امام حسین(ع) پر سلام سے ہوتا ہے اور آپ(ع) کے باوفا اصحاب پر سلام کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ اسی طرح اس زیارت کا اختتام بھی امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب پر سلام سے ہوتا ہے۔
  • شیعہ تاریخ کی یاد آوری: زیارت عاشورا میں شیعوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کو ضمیر متصل "كَ" اور "كُُم" کے ذریعے بیان کیا گیا ہے؛ ضمیر "كَُ" کا مرجع سیدالشہدا(ع) اور ضمیر "کُم" کا مرجع اہل بیت(ع) ہیں۔ عبارت "أُمَّة اَسَسَتْ اَساسَ الظُّلمِ وَ الجُورِ عَلَیكمْ اَهلِ البَیتِ"، "‌اُمَّة دَفَعَتْكمْ عَنْ مَقامِكمْ واَزالَتْكمْ عَنْ مَراتِبِكمُ الَّتی رَتَّبَكمُ الله فیها"، "المُمهدِینَ لَهمْ بِا لتَمكین مِنْ قِتالِكمْ(ترجمہ: "ان لوگوں سے جنہوں نے آپ اہل بیت پر ظلم و جور کی بنیاد رکھی ہے۔۔۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اپنے منصب اور الہی عہدے اور منصب سے روکے رکھا اور آپ کو ان مراتب و مدارج سے محروم رکھا جو اللہ تعالی نے آپ کے لئے مقرر فرمائے تھے۔۔۔ وہ لوگ جو آپ کے خلاف لڑے اور آپ کو قتل کیا اور آپ کے خلاف لڑنے کے لئے ظلم و جور کے حکمرانوں کی اطاعت کی")" جو اس زیارت کے آغاز میں آئی ہے اور فقرہ "النّاصِبینَ لَكُم الْحَرْب(ترجمہ: ۔ اور "آپ کے خلاف جنگ بپا کرنے والے" جو اس زیارت کے درمیانی حصے میں آیا ہے ، وہ الفاظ و عبارات ہیں جن سے ـ رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد اہل بیت(ع) کے خلاف ـ اسلام مخالف قوتوں کے تشدد آمیز اور غیر انسانی اقدامات کا اظہار ہوتا ہے۔ یا یہ فقرہ ـ کہ اُمة اَسْرَجَتْ وَالجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتالِك(ترجمہ: یعنی "وہ لوگ جنہوں نے گھوڑوں پر زینیں رکھ لیں اور باگیں کھینچ لیں اور آپ کی جنگ کے لئے نقاب پوش ہوئے")" ، ـ عاشورا کے حادثات و سانحات کی طرف اشارہ ہے۔ زیارت عاشورا میں دو اور فقرے ایسے ہیں جن میں سے ایک میں عاشورا کو امام حسین(ع) کی شہادت پر بنی امیہ اور ہند جگر خوار کے اولادوں کی جبکہ دوسرے فقرے میں آل زیاد اور آل مروان کی خوشی کے دن کے طور پر معرفی کی گئی ہے۔
زیارت عاشورا
  • لعن: زیارت عاشورا میں امامت کے مدمقابل قوتیں ـ جو ائمۂ شیعہ اور ان کی حاکمیت کے خلاف دشمنی اور جنگ کی راہ پر چلے ہیں ـ لعنت کے مستحق ٹہری ہیں۔ اس زیارت میں بنو امیہ، آل زیاد اور آل مروان کو ظالم اور ستم گر جماعتوں اور عبیداللہ بن زیاد، عمر بن سعد اور شمر کو ظالم و ستم گر اشخاص کے طور پر معرفی کی ہیں۔ اہل بیت رسول الله(ص) پر ظلم و ستم روا رکھنا ان ظالم گروہوں اور اشخاص کی مشرتکہ خصوصیات میں سے ہیں۔ زیارت عاشورا میں جابجا مذکورہ گروہوں اور اشخاص پر لعنت بھیجنے کے ساتھ ساتھ پرزور انداز میں ان سے بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے یہاں تک کہ زیارت کے دو اختتامی پیراگراف میں ان تمام ظالموں پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے جنہوں نے تاریخ کے کسی بھی مرحلے میں محمد و آل محمد(ص) پر ظلم روا رکھا ہو۔ ان لعنتوں کا مقصد یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو ـ خداوند متعال کی اطاعت کرتے ہوئے محمد و آل محمد(ص) پر ظلم روا رکھنے والی قوتوں ـ یعنی اہل بیت(ع) کے دشمنوں ـ سے برائت کا اظہار کرنا چاہئے اور اپنے راستے اور اہداف کو محمد و آل محمد(ص) کے مکتب سے ہمآہنگ کرنا چـاہئے۔
  • مہدویت اور انتقام خون حسین: زیارت عاشورا کے دو فقرے ایسے ہیں جن میں اللہ تعالی سے التجا کی گئی ہے کہ اہل بیت میں سے امام منصور (یا ہدایت دینے والے اور ناطق بالحق (حق بولنے والے) کی قیادت و رہبری میں امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے کو ممکن بنا دیا جائے۔ ان جملوں سے امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور آپ(عج) کے توسط سے سیدالشہدا(ع) کے خون کا بدلہ لینے کی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو در واقع عقیدہ مہدویت کی طرف اشارہ ہے جو زمانۂ غیبت میں شیعہ تفکر کے ڈھانچہ کو تشکیل دیتا ہے۔
  • دعا: زیارت عاشورا میں ایک اور اہم دعاء اس مضمون کے ساتھ آتی ہے: "اللهم اَجْعَلْ مَحياي مَحيا محمدٍ وآل مُحمد وَمَماتي مَماتَ مُحمدٍ وَآل مُحمدٍ(ترجمہ: خداوندا! مجھے زندگی دے محمد و آل محمد کے مکتب پر اور مجھے موت دے محمد و آل محمد کے مکتب پر)"، ۔ اس دعاء میں جو مفہوم بیان ہوا ہے حقیقتت میں یہ دنیاوی اور اخروی سعادت کے حصول کی تمنا اور آرزو کو ظاہر کرتا ہے۔ زیارت عاشورا کی آخری عبارت ـ یعنی: "ثَبِّتْ لي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَك مَعَ الْحُسَينِ وَاَصْحابِ الْحُسَينِ الَّذينَ بَذَلُوا مُهجَهمْ دُونَ الْحُسَينِ عليهالسلام میں بھی ـ اللہ تعالی سے درخواست و التجا ہے کہ وہ (سائل کو) حضرت سید الشہداء(ع) اور اصحاب حسین(ع) کی راہ میں ثابت قدمی عطا فرمائے ، وہ اصحاب جنہوں نے اپنی جانیں آپ(ع) کی خاطر قربان کردیں اور یہ دعاء درحقیقت سابقہ دعاء پر تاکید ہے۔

زیارت کے آخر میں لعنت کے بارے میں

بعض محققین نے زیارت عاشورا کے بعض عبارات کو معصومین سے منسوب ہونے میں شک و تردید کا اظہار کئے ہیں۔ سید مرتضی عسکری اور محمد ہادی یوسفی غروی، عبارت "اَللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی وَ ابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِی وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ اللَّهُمَّ الْعَنْ یزِیدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَیدَ اللَّهِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَی یوْمِ الْقِیامَةِ" کو معصومین(ع) سے منقول نہیں سمجھتے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ ابن قولویہ کی کتاب کامل الزیارات جس میں پہلی بار زیارت عاشورا کو نقل کیا گیا ہے، میں یہ عبارت موجود نہیں ہے۔[8]

اس کے باوجود آیت اللہ سید موسی شبیری زنجانی کے بقول علمائے امامیہ کا زیارت عاشورا کے سند کی وثاقت پر اجماع ہے اور سب کے سب اصل زیارت عاشورا کو قطعی اور مسلم سمجھتے ہیں۔[9] آیت اللہ شبیری اس بات کے بھی معتقد ہیں کہ زیارت عاشورا کی غیبی امداد کے علاوہ کتاب مصباح المتہجد میں درج شدہ سند بھی صحیح ہے۔ آپ اس زیارت کے سند کے دونوں واسطوں کو بیان فرماتے ہیں۔ [10]

زیارت عاشورا کے بارے میں لکھی گئی کتابیں

زیارت عاشورا کے بارے میں لکھی گئی بعض کتابیں درج ذیل ہیں:

مطبوعہ فارسی کتابیں

  1. بررسی اسناد زیارت عاشورا، جعفر سبحانی، یہ نسخہ آپ کے مجموعہ مقالات میں سیمای فرزانگان کے نام سے، ج ۲، ص ۴۹۵ -۵۰۶ مندرج ہے۔
  2. الدّر المنثور فی شرح زیارۃ العاشور، میرزا احمد بن عبدالرحیم، معروف بہ میرزا آقا تبریزی،تبریز: ۱۳۸۰ق، ۲۵۲ ص، رقعی.
  3. الدرۃ البیضاء فی شرح زیارۃ العاشورا، حاج سید عزیزاللّہ امامت کاشانی، کاشان: مجمع متوسلین بہ آل محمد، ۱۳۷۸ ش، ۵۵۹ص، وزیری.

مطبوعہ عربی کتابیں

  1. ذخیرۃ العباد لیوم المعاد، ناشناختہ مؤلف کے قلم سے، شیخ نصراللّہ شبستری کتاب اللؤلؤ النضید میں لکھتے ہیں: یہ کتاب منتشر بھی ہوئی ہے۔[11]
  2. رسالہ «‌شرح تایعت‌» ، زیارت عاشورا کی شرح، سید میرمحمدباقر حسینی استرآبادی میرداماد (م ۱۰۴۱ق)، یہ رسالہ زیارت عاشورا میں موجود کلمہ «‌تابعت‌» کی شرح اور کلمہ «‌تایعت‌» کے صحیح ہونے کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ کتاب شفاء الصدور، ج۲، ص۳۳۹، میں اس کتاب پر تنقید کی گئی ہے۔[12]
  3. رسالۃ فی زیارۃ العاشوراء و کیفیتہا، سید محمدباقر اصفہانی (حجۃالاسلام شفتی) (۱۱۶۰ ـ ۱۲۴۰ق)، یہ رسالہ کتاب شفاء الصدور، ج۱، ص۷۳ میں منظر عام پر آگئی ہے۔[13]

فارسی قلمی نسخے

  1. جملہ «یا ثاراللّہ وابن ثارہ» کی شرح، شیخ علی اکبر بن محمد امین لاری (ق ۱۳)،یہ رسالہ، مفصّل تھا اور سن ۱۲۸۴ ق، میں لکھا گیا تھا جس کا قلمی نسخہ کتابخانہ آیت اللّہ مرعشی میں ۴۰۸۶ نمبر پر موجود ہے۔
  2. شرح زیارت عاشورا، میراز محمدعلی مدرس چہاردہی نجفی (م ۱۳۳۴ق)، اس مختر کتاب کا قلمی نسخہ، کتاب خانہ آستان قدس رضوی میں ۱۲۳۷۰ نمبر پر موجود ہے۔[14]
  3. شرح زیارت عاشورا، شیخ عباس حایری تہرانی (۱۲۹۸ ۱۳۶۰ق)، اس کا قلمی نسخہ حاج شیخ مہدی حایری تہرانی کے بیٹے کے پاس موجود تھا۔[15]

عربی قلمی نسخے

  1. تحقیق فی زیارۃ العاشوراء، حسن بن ابراہیم حسینی ساوجی (ق ۱۳)، یہ نسخہ (کتابت: ۱۲۸۶ ق) کتابخانہ مسجد اعظم قم میں موجود ہے۔ [16]
  2. تذکرۃ الزائرین، سید ابو محمد حسن بن محمد طباطبایی ساروی (م ح ۱۳۵۱ ق)،[17]فہرست کتابخانہ مجلس، ج ۱۲، ص ۸۳.
  3. جنّۃ السرور فی تحقیق کیفیۃ زیارۃ العاشور، شیخ علی شریعتمدار استرآبادی تہرانی (م ۱۳۱۵ ق)، اس کا اصلی نسخہ کتابخانہ آیت اللّہ مرعشی میں ۳۰۹۰ نمبر پر موجود ہے۔(از ص ۱۱۵ تا ۱۵۶).[18] فہرست کتاب خانہ مرعشی، ج ۸، ص ۳۱۴ ۳۱۵.

اردو کتابیں

  1. زاد المؤمنين، سيدمحمدتقى نقوى ہندى، لکھنؤ: چاپخانہ نول كشور۔[19]
  2. زيارت عاشورا، نواب سيدحامد حسين خان۔[20]
  3. زيارت عاشورا كى تعليمات، جواد محدثى، مترجم: جعفرعلى نجم، قم: انتشارات عصمت، 1421ہ، 80 صفحات، رقعى۔
  4. زيارت جامعہ عاشورا، ترجمہ و تحقيق: سيد مرتضى حسين لکھنوی (1341 ـ 1407ہ)،پاكستان: شيخ اخترعلى بانگا۔
  5. شرح و ترجمہ زيارت عاشورا، سيد انصار حسين صدر الافاضل (متوفٰی 1387 ہ)۔
  6. شرح و ترجمہ زيارت عاشورا و علقمہ، سيد مقبول احمد، ط دہلى۔
  7. محرّم و عاشورا (ادعيہ، آداب و اعمال عاشورا)،شيخ محمدحسن بن ابوالقاسم نجفى كاشانى،بمبئى: 1359ہ۔
  8. ملامحمدبن مہدی بارفروشی (حاجی اشرفی)، شعائر الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام معروف بسئوال و جواب۔
  9. سبحانی، جعفر، سیمای فرزانگان، انتشارات موسسہ امام صادق(ع) قم، چاپ چہارم۔ (سال ‎1388ہجری شمسی)۔

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ص581۔
  2. طوسی، مصباح المتہجد، ص536۔
  3. زیارت عاشورا کے بارے میں علامہ عسکری کے موقف پر آقای یوسفی غروی کی تقریر
  4. زيارت عاشوراء کی حقیقت: تحریر حسن انصاری
  5. طوسی، مصباح المتہجد، ص543۔
  6. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ص۵۸۱
  7. طوسی، مصباح المتہجد، ص539۔
  8. مصاحبه با آیت اللہ محمدہادی یوسفی غروی، خبرگزاری شفقنا.
  9. شبیری زنجانی، استفتاء شمارہ ۴۳۸۳، تاریخ ثبت استفتاء ۱۳۸۶/۰۱/۳۰.
  10. شبیری زنجانی، جرعہ ای از دریا، ج۱، ص۲۵۱-۲۵۲
  11. اللؤلؤ النضید، ص۳۸؛ الذریعۃ، ج۱۰، ص۱۶
  12. الذریعۃ، ج۱۳، ص۱۳۲
  13. الذریعۃ، ج۱۲، ص۷۹
  14. الذریعۃ، ج ۱۳، ص ۳۰۸
  15. نقباءالبشر، ج ۴، ص ۹۹۰
  16. مجلہ پیام حوزہ، ش ۳۱، ص ۱۰۸
  17. یہ کتاب، زیارت عاشورا کی مختصر شرح پر مشتمل ہے اور یہ نسخہ کتابخانہ مجلس شورای اسلامی میں ۷ / ۴۳۷۳ نمبر پر موجود ہے، مؤلف نے اس نسخے کے بعد زیارت عاشورا پر مفصل شرح "صداق الحور" کے نام سے لکھی ہے۔
  18. الذریعۃ، ج ۵، ص ۱۵۸
  19. الذريعۃ، ج12، ص11۔
  20. اماميہ مصنفين، ج1، ص452۔


مآخذ

  • ابن قولویہ،جعفر بن محمد بن جعفر بن موسی بن قولویہ قمی، کامل الزیارات، مترجم سید محمد جواد ذہنی، تہران، انتشارات پیام حق، 1377.
  • طوسی، محمد بن حسن طوسی، مصباح المتہجد، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1418ہ۔
  • انصاری قمی، مقالہ كتابشناسى زيارت عاشورا ، علوم حديث، شمارہ 23، بہار1381.
  • کلباسی، ابی المعالی کلباسی، شرح زیارت عاشورا، قم، شریعت، 1428ہ۔
  • خواجہ سروی، غلامرضا، سامانہ ہویت اسلامی: بازخوانی زیارت عاشورا، دانشگاہ اسلامی، ویژہ نامہ امام حسین(ع)، زمستان 1381۔
  • حاج میرزا ابوالفضل تہرانی، شفاء الصدور فی شرح زیارۃ العاشور، تحقیق و پاورقی از سید ابراہیم شبیری زنجانی، انتشارات مرتضوی (تہران) چاپ دوم (سال 1383ہجری شمسی)۔