طرماح بن عدی طائی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انفرادی مشخصات
مکمل نام طرماح بن عدی طائی
دینی مشخصات
وجہ شہرت امام علیؑ و امام حسینؑ کے صحابی۔


طرماح بن عدی طائی کا نام کربلا کے اصحاب امام حسینؑ میں سے ہے۔ آپ حضرت علیؑ کے اصحاب اور شیعہ شاعروں میں سے ہیں۔ انہوں نے حضرت علیؑ کا لکھا ہوا خط معاویہ بن ابی سفیان تک پہنچایا اور انکے درمیان باہمی گفتگو ہوئی۔ آپ نے عذیب الہجانات کے مقام پر حضرت امام حسین ؑ سے ملاقات کی، قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر دی، کوفیوں سے حال کی آگاہی اور امام حسینؑ کو مشورے دیے جنہیں امام نے قبول نہیں کیا۔ آپ امام کی اجازت سے اپنے اہل و عیال کی خبر لینے گئے لیکن جب واپس آئے تو عذیب الہجانات کے مقام پرامام کی شہادت کی خبر آپ نے سنی۔

تعارف

آپ کا تعلق طرماح نامی قبیلے سے ہے اور آپ حجر بن عدی کے بھائی ہیں آپ سے چند اشعار منقول ہیں۔ ابن کثیر دمشقی نے انہیں الطرماح بن عدی الشاعر کہہ کر خطاب کیا ہے[1] ۔شیخ طوسی نے انہیں حضرت امام علی ؑ اور امام حسین ؑ کی اصحاب سے شمار کیا ہے۔[2] ۔

خلافت علیؑ

جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے ان کے حوالے نامہ کیا جو انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان تک پہنچایا[3]۔ جب معاویہ کے پاس پہنچے تو آپ نے کہا :السلام علیک ایها الملک اے بادشاہ ! تم پر سلام ہو۔معاویہ نے کہا مجھے امیر المؤمنین کہہ کر کیوں خطاب نہیں کیا ۔جواب میں کہا :مؤمنین تو ہم ہیں تجھے کس نے امارت دی ہے کہ میں تجھے امیر المؤمنین کہوں۔آپ نے معاویہ سے گفتگو کے دوران فصاحت سے کلام کیا[4]۔بزرگ تہرانی نے معاویہ سے اس کا مناظرہ بیان کیا ہے [5]۔

جرمنی کے ایک محقق نے ابو طفیل کے دیوان کے ساتھ طرماح بن عدی طائی کا دیوان بھی چھپوایا ہے اور کرنوکر نے ان کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔[6] ۔

امامت حسینؑ

کربلا کے راستے میں کوفہ کی جانب سے آنے والے چار افراد امام حسینؑ کے کاروان میں شامل ہوئے جن کا راہنما طرماح بن عدی طائیتھے ۔جب حر بن یزید نے انہیں گرفتا کرنا چاہا تو امام نے انہیں اہنا ساتھی کہہ کر ان کی محافظت کی۔ امام حسینؑ کی جانب آتے ہوئے طرماح نے یہ اشعار پڑھے[7] :

یا ناقتی لا تذعری من زجری و شمری قبل طلوع الفجر
بخیر ركبان و خیر سفری حتی تجلی بكریم النجر
أتی به الله بخیر أمری ثمت أبقاه بقاء الدهر[8]

طرماح نےقیس بن مسہر کی شہادت کی خبر امام کو دی[9] ۔ کوفے کی جانب کاروانِ امام حسین ؑ کے سفر کے دوران آپ کاروان کی فضیلت اور بنی امیہ اور امام حسین کے دشمنوں کی مذمت میں اشعار گنگاتے رہے۔ [10]۔

مشورے

  • طرماح بن عدی طائی نے امام حسینؑ سے کہا : آپ کی افرادی قوت کم ہے لہذا خدا را! جہاں تک ہو سکے آپ حر بن یزید ریاحی کے نزدیک ہونے سے پرہیز کریں نیز میں نے کوفہ سے نکلنے سے پہلے ایک بہت بڑی جماعت کو دیکھا جو آپ کی نصرت میں جنگ کرنے کیلئے آمادہ تھی[11] ۔
  • اگر آپ چاہیں تو میرے قبیلے کے پاس چلے آئیں کیونکہ اس میں ایسے افراد موجود ہیں جو آپکی حمایت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ امام نے جواب میں فرمایا:

فرار کرنا،عورتوں اور بچوں کو چھوڑنا میرے لئے عار ہے۔

  • کوہ بنی طی کی جانب چلیں جہاں 20000 کی تعداد میں طائی قبیلہ کے افراد کو میں جنگ کیلئے لے آتا ہوں[12]۔امام نے جواب میں فرمایا خدا تمہیں اور تمہارے قبیلے کو جزائے خیر عطا کرے۔ میں نے حر کے گروہ سے ایک پیمان باندھا ہے میں اس کی مخالفت نہیں کر سکتا [13]۔

پس اس نے امام سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنے اہل و عیال کیلئے غذا کا بندوبست کر لے تو پھر واپس آجاؤں گا۔ امام نے اسے اجازت دی وہ چلا گیا۔ جب امام حسین ؑ کی طرف واپس آرہا تھا تو عذیب الہیجانات کے مقام پر اس نے امام حسینؑ کی شہادت کی خبر سنی [14]۔

حوالہ جات

  1. البدایہ و النہایہ، ج۹، ص۲۶۵ استیعاب، ج۳، ص۲۸۴
  2. طوسی، رجال، ص۷۰، ۱۰۲
  3. اختصاص، ص۱۳۸؛ بحارالانوار، ج۳۳، ص۲۸۹
  4. نمازی، ج۴، ص۲۹۴
  5. اختصاص، ص۱۳۸
  6. الذریعہ، ج۹ قسم۱، ص۴۴
  7. الکامل، ج۴، ص۴۹؛ انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۲؛البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۱۷۳
  8. بلاذری، ج۳، ص۱۷۲
  9. وقعہ الطف، أبومخنف، ص۱۷۴
  10. الفتوح، ج۵، ص۷۹-۸۰
  11. الکامل، ج۴، ص۵۰؛ انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۳
  12. لکامل، ج۴، ص۵۰؛ انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۳
  13. البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۱۷۴
  14. الکامل، ج۴، ص۵۰


مآخذ

  • بلاذری، احمد بن یحیی، كتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زكار و ریاض زركلی، بیروت، دارالفكر، ط الأولی، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفكر، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
  • شیخ طوسی، رجال الطوسی‏، جامعہ مدرسین‏، قم‏، ۱۴۱۵ق‏.
  • کوفی، احمد بن اعثم، كتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، دارالأضواء، ط الأولی، بیروت، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م.
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفہ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ط الأولی، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن اثیر جزری، علی بن ابی الکرم،الكامل فی التاریخ، دارصادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • شیخ مفید، الاختصاص،‏ كنگره شیخ مفید، قم،‏ ۱۴۱۳ق.‏
  • نمازی، علی، مستدركات علم رجال الحدیث، ابن المؤلف، طہران، ۱۴۱۴ق.
  • آقا بزرگ طہرانی، الذریعه، دارالأضواء، بیروت.
  • ابومخنف کوفی، وقعہ الطف، جامعہ مدرسین، قم،۱۴۱۷ق.