جابر بن عبداللہ انصاری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جابر بن عبد اللہ انصاری
تصویری از قبرستان بقیع.jpg
جنت البقیع ،جابر بن عبد اللہ کا مقام دفن
معلومات
مکمل نام جابر بن عبد اللہ بن عَمْرِو بن حَرَام انصاری
کنیت ابو عبد اللہ
وجہ شہرت صحابی، مرقد امام حسین(ع) کا پہلا زائر
محل زندگی مدینہ، مکہ
مہاجر/انصار انصار
نسب بنی خزرج
مشہوراقارب عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرِو بنِ حَرَامٍ
مدفن جنت البقیع
اسلام لانا دوسری بیعت عقبہ
جنگ بدر و احد کے علاوہ انیس غزوات


جابر بن عبداللہ انصاری، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وہ صحابی ہیں جنھوں نے عقبہ کی دوسری بیعت میں آپ (ص) کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ کثیر الحدیث صحابی اور "حدیث لوح" کے راوی ہیں۔ حدیث اللوح میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شیعہ ائمہ (ع) کے اسماء مبارک کو ذکر فرمایا ہے۔ جابر کے والد رسول(ص) سے پہلے مسلمان ہوئے اور دوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا(ص) کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ(ص) نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔[1] ایک قول کے مطابق جابر واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد یعنی "اربعین حسینی" کو کربلا پہنچے۔ آپ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے 'پہلے زائر ہونے کا شرف حاصل ہے۔[2] اسی طرح آپ ہی نے امام محمد باقر علیہ السلام کو حضرت ختمی مرتبت (ص) کا سلام پہنچایا۔[3]

زندگی نامہ

  • نسب اور کنیت
ان کے پردادا [[عمرو بن حرام بن کعب بن غنم تھے اور ان کا سلسلہ نسب خَزْرَج سے جا ملتا ہے۔[4]
جابر کے والد ہجرت رسول(ص) سے پہلے مسلمان ہوئے اور دوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا(ص) کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ(ص) نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔[5]
جابر کی کنیت ان کے بیٹوں کے ناموں کی مناسبت سے مختلف تاریخ منابع میں مختلف ہے لیکن ان کی صحیح تر کنیت "ابو عبداللہ" مانی گئی ہے۔[6]
  • بیعت رسول اکرم
جابر کی زندگی سے موصولہ سب سے پہلی اطلاعات کا تعلق دوسری بیعت عقبہ سے ہے جو بعثت کے تیرہویں سال انجام پائی۔ اس بیعت میں وہ اپنے والد کے ساتھ تھے۔ وہ رسول اللہ(ص) کے ہاتھ پر اوس اور قبیلۂ خزرج کی بیعت کے کم سن ترین شاہد و گواہ ہیں۔[7] ان کی مدتِ عمر اور سال وفات [8] کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیعت عقبہ میں ان کی عمر 16 برس ہوگی۔
  • ازدواج
سنہ 3 ہجری میں ـ غزوہ ذاتُ الرَقاع، سے پہلے، جابر نے سُہَیمہ، بنت مسعود بن اوس، نامی بیوہ خاتون سے شادی کی تا کہ والد کی شہادت کے بعد اپنی 9 بہنوں کی بہتر سرپرستی کرسکیں۔[9]
اس زمانے میں جابر کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور انہیں والد کے کچھ قرضے ادا کرنے تھے۔ کچھ عرصہ بعد (سنہ 4 ہجری میں) غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت رسول اللہ(ص) نے جابر کا حال پوچھا اور آبرومندانہ انداز سے ان کے قرضے ادا کئے اور ان کے لئے طلب مغفرت کی۔ [10]
  • اولاد
جابر کی اولاد میں عبدالرحمن، محمد[11] محمود، عبداللہ[12] اور عقیل[13] شامل ہیں۔
افریقہ[14] اور بخارا [15] میں جابر سے منسوب افراد اور خاندانوں کے بارے میں روایات موجود ہیں۔ ان کی نسل ایران میں موجود ہے اور اس خاندان کے مشہور ترین فرد معاصر دور کے عظیم المرتبت شیعہ فقیہ اور اصولی شیخ مرتضی انصاری، تھے۔[16]
  • جابر کی وفات
جابر عمر کے آخری سالوں میں ایک سال تک مکہ میں بیت اللہ کی مجاورت میں مقیم رہے۔ اس دوران عطاءبن ابی رَباح اور عمرو بن دینار سمیت تابعین کے بعض بزرگوں نے ان سے دیدار کیا۔ جابر عمر کے آخری برسوں میں نابینا ہوئے اور مدینہ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔[17] مِزّی[18] نے جابر کے سال وفات کے بارے میں بعض روایات نقل کی ہیں جن میں جابر کے سال وفات کے حوالے سے اختلاف سنہ 68 تا سنہ 79 ہجری تک ہے۔ بعض مؤرخین اور محدثین سے منقولہ روایت کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری نے سنہ 78 میں، 94 سال کی عمر میں وفات پائی اور والی مدینہ ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔[19]

جنگوں میں شرکت

مکہ سے رسول اللہ(ص) کی ہجرت مدینہ کے وقت جابر ان نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے جو آپ(ص) کے بیشتر غزوات اور سرایا میں شریک تھے اور صرف غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک نہيں ہوئے تھے۔[20] ان دو جنگوں میں عدم شرکت کا عذر والد کی اطاعت تھی جنہوں نے جابر کو اپنے بڑے کنبے کی سرپرستی سونپی تھی۔[21]

تاہم بعض روایات میں انہيں بدری کہا گیا ہے اور انھوں نے خود بھی کہا کہ "میں جنگ بدر میں آبرسانی پر مامور تھا"۔ [22]

جن غزوات میں جابر نے شرکت کی ہے ان کی تعداد مختلف منابع نے مختلف بتائی گئی ہے۔ انھوں نے خود کہا کہ رسول اللہ(ص) کے ستائیس غزوات میں سے انیس میں شریک رہے ہیں"۔[23] جابر نے بعض سرایا میں بھی شرکت کی ہے اور ان سرایا کی روداد بھی نقل کی ہے۔[24]

  • غزوہ حمراء الاسد
غزوہ حمراء الاسد، جو سنہ 4 ہجری اور غزوہ احد کے بعد واقع ہوا اور یہ جابر کا پہلا جنگی تجربہ تھا۔ رسول اللہ(ص) کے فرمان پر احد کے شرکاء کے سوا کسی کو بھی حمراء الاسد میں شرکت کی اجازت نہ تھی تاہم جابر غزوہ احد میں شریک نہ ہونے کے باوجود اس جنگ میں شریک ہوئے کیونکہ رسول اللہ(ص) نے جنگ احد میں ان کی عدم شرکت کا عذر قبول فرمایا تھا۔ [25]
  • جنگوں میں جابر کا کردار
مغازی اور جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں جابر کا کردار کچھ زيادہ بڑا نہ تھا۔ وہ ایک نوجوان مؤمن تھے جو دوسرے مجاہدین کے ہمراہ بعض غزوات میں رسول اللہ(ص) کے رکاب میں لڑتے تھے اور بعد میں بعض غزوات کے وقائع نگار کا کردار ادا کیا۔

رسول اللہ (ص) کے ساتھ رابطہ

بعض روایات کے مطابق رسول اللہ(ص) کے ساتھ جابر کا رابطہ ہمیشہ دوستانہ اور محبت آمیز تھا۔ ایک دفعہ جابر بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ(ص) ان کی عیادت کے لئے اس وقت تشریف لے گئے جب وہ اپنی تندرستی سے مایوس ہوچکے تھے۔ جابر نے بہنوں کے درمیان اپنے ترکے کی تقسیم کے بارے میں سوالات پوچھے۔ رسول اللہ(ص) نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں طویل عمر کی خوشخبری دی اور ان کے سوال کے جواب میں آیت نازل ہوئی جو آیت کلالہ کے نام[26] [27] سے مشہور ہوئی۔[28]

خلفا کا زمانہ

  • پہلی خلافت
جابر سے خلیفۂ اول کے بارے میں کوئی بات نقل نہیں ہوئی ہے۔ وہ شاید ابتداء میں مدینہ میں انصار اور مہاجرین کے ہمراہ تھے اور کچھ عرصہ بعد حضرت علی(ع) اور اہل بیت(ع) کے حامیوں سے جاملے ہیں۔[29]

خلفائے راشدین، کے دور میں جابر غالبا علمی اور تعلیمی امور میں مصروف تھے اور سیاسی اور عسکری معاملات سے دوری کرتے تھے۔ انھوں نے اس دور میں صرف ایک عسکری مہم میں شرکت کی جس کا تعلقات خلیفۂ ثانی کے دور کے آغاز میں اسلامی فتوحات سے تھا۔ جابر نے ایک روایت میں خالد بن ولید کی سرکردگی میں دمشق کے محاصرے کی روداد بیان کی ہے جس میں وہ شریک ہوئے تھے۔[30] لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ کیا جابر فتح عراق کے دوران بھی خالد کی سپاہ میں تھے یا نہیں۔

  • دوسری خلافت
جابر خلیفۂ ثانی کے دور میں عَریف تھے۔[31] عریف کسی بھی قبیلے کے ایسے فرد کو کہا جاتا تھا جو خلیفہ کی طرف سے اپنے قبیلے کے سربراہ کے طور پر مقرر کیا جاتا تھا یا قبیلے کے ہاں خلیفہ کا رابط یا نمائندہ ہوتا تھا۔
  • تیسری خلافت
خلیفۂ ثالث کے دور میں جابر کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی خاص اطلاع تاریخ نے ثبت نہیں کی ہے؛ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب مصری معترضین نے مدینہ کا رخ کیا تو جابر انصار کو دوسرے پچاس افراد کے ہمراہ خلیفہ کی طرف سے مامور ہوئے کہ معترضین کے ساتھ مذاکرات کرکے انہيں مصر کی طرف پلٹا دیں۔[32]

خلافت علی بن ابی طالب (ع) کا دور

وہ جنگ صفین میں امیرالمؤمنین(ع) کی سپاہ میں شامل تھے۔[33]

امیرالمؤمنین(ع) کی خلافت کے اواخر میں جب معاویہ کے گماشتوں نے شہروں کو غارت کرنا شروع کیا تو مدینہ بھی اس لوٹ مار اور قتل و غارت سے محفوظ نہ رہا۔ معاویہ کی طرف سے بُسر بن اَرْطاۃ نے سنہ 40 ہجری میں مدینہ پر حملہ کیا تو جابر کا قبیلہ بنو سَلَمہ بھی اس حملے کا نشانہ بنا اور بسر بن ارطاۃ نے اس قبیلے سے بیعت مانگی۔

جابر جو بُسر کی بیعت کو گمراہی اور ضلالت سمجھتے تھے، نے ام المؤمنین ام سلمہ کے گھر میں پناہ لی اور آخر کار ام سلمہ کے مشورے سے خونریزی کا سد باب کرنے کی غرض سے بیعت کی۔[34]

  • منبر رسول(ص) کی منتقلی
معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد (سنہ 50 ہجری میں) رسول اللہ(ص) کے منبر کو دمشق منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو جابر ان لوگوں میں سے ایک تھے جو معاویہ کے پاس گئے اور اسے اس عمل سے باز رکھا۔[35]

امویوں کی حکومت

جابر نے رسول اللہ(ص) کا دور دیکھا تھا اور قرآن و سنت سے واقف تھے چنانچہ وہ امویوں کی بدعتوں اور نہایت بھونڈے اعمال سے آزردہ خاطر تھے اور آروز کرتے تھے کہ کاش سماعت سے محروم ہوتے اور بدعتوں اور دینی اقدار میں تبدیلیوں کی خبریں نہ سن سکتے۔[36]

سنہ 74 ہجری میں حجاج بن یوسف (امویوں کی طرف سے) مدینہ کا والی بنا،[37] اور ہر طرف اس کی گستاخیوں کا چرچا، تھا۔ جہاں تک ممکن تھا اس نے مدنی عوام اور بزرگوں کی توہین کی اور جابر سمیت اصحاب رسول(ص) پر غلاموں کے طرح داغ لگا دیئے۔[38] اس کے باوجود جابر نے اپنے رویئے میں تبدیلی کے سوا حجاج کے اس عمل پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کیا۔ [39] اور وصیت کی کہ حجاج بن یوسف ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائے۔ [40]

جابر کے سفر

جابر نے سنہ 50 ہجری کے عشرے میں مصر کا سفر کیا۔ بعض مصریوں نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[41] ان دنوں جابر کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا مَسلَمۃ بن مُخَلَّد انصاری، مصر کا والی تھا اور ابن مَنْدَہ، کی روایت کے مطابق جابر نے مسلمہ کے ہمراہ شام اور مصر کا سفر اختیار کیا۔[42]

حدیث کے بعض منابع کے مطابق جابر نے عبداللہ بن أُنَیس سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث سننے کی غرض سے شام کا سفر کیا؛[43] جس کی تاریخ نامعلوم ہے۔ وہ معاویہ کے دور میں شام گئے جہاں انہیں معاویہ کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑا۔ جابر معاویہ کے اس رویئے سے سخت ناراض تھے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور معاویہ کی طرف سے 600 دینار کا ہدیہ قبول نہيں کیا۔[44] جابر کے ساتھ معاویہ کے طرز سلوک کو خلیفۂ ثالث کے قتل کے بموجب اہلیان مدینہ کی توہین و تذلیل کی اموی روش کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

حدیث میں جابر کا کردار

جابر صحابہ کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ جنہوں نے رسول اللہ(ص) سے کثیر احادیث نقل کی ہیں۔[45] حدیث و روایت اور سیرت و تاریخ کی کتب میں جابر کی روایات سے کثیر تعداد میں نقل ہوئی ہیں اور ان کی منقولہ روایات اسلامی مذاہب کے ہاں قابل توجہ ہیں۔ جابر فقہی احکام میں صاحب رائے تھے اور فتوی دیا کرتے تھے۔[46] چنانچہ ذہبی [47] نے انہیں صاحب فتوی مجتہد اور فقیہ فقیہ کا عنوان دیا ہے۔

جابر نے رسول اللہ(ص) سے حدیث نقل کرنے کے علاوہ صحابہ اور حتی بعض تابعین سے بھی روایت کی ہے۔ علی بن ابی طالب(ع)، طلحہ بن عبیداللہ، عمار بن یاسر، معاذ بن جبل، اور ابو سعید خدری ان صحابہ میں سے ہیں جن سے جابر نے روایت کی ہے۔[48]

جابر اس قدر دینی معارف و تعلیمات حاصل کرنے کے طالب و مشتاق تھے کہ انھوں نے ایک صحابی رسول(ص) سے براہ راست حدیث رسول(ص) سننے کے لئے شام کا سفر اختیار کیا۔[49]

اس شوق نے آخرِ عمر میں جابر کو خانۂ خدا کی مجاورت پر آمادہ کیا تاکہ وہاں رہ کر بعض حدیثیں سن لیں۔[50] وہ حدیث کے سلسلے میں نہایت بابصیرت اور نقاد تھے اور احادیث اور روایات نقل کرنے میں قبائلی مسابقتوں سے پرہیز کرتے تھے؛ مثال کے طور پر وہ خود خزرجی تھے لیکن اس بات کے معترف تھے کہ [[خزرجی راویوں نے بنو قریظہ کے فیصلے کے حوالے سے رسول اللہ(ص) کے اس کلام میں تحریف کی ہے جو آپ(ص) [[سعد بن معاذ کے حق میں ادا کئے تھے؛ صرف اس لئے کہ سعد بن مُعاذ قبیلۂ اوس کے ز‏عیم تھے۔[51]

امام باقر(ع) نیز امام صادق(ع) اور امام کاظم(ع) نے بھی امام باقر(ع) کے حوالے سے چند احادیث نبوی جابر سے نقل کی ہیں۔ [52]

مشہور شیعہ احادیث کی اسناد میں جابر کا نام ذکر ہوا ہے؛ ان مشہور احادیث میں حدیث غدیر،[53] حدیث ثقلین، [54] حدیث انا مدینه العلم و علی بابہا،[55] حدیث منزلت، [56] حدیث رد الشمس،[57]اور حدیث سد الابواب [58] شامل ہیں۔

نیز جابر ان احادیث کے بھی راوی ہیں جن میں رسول اللہ(ص) نے اپنے بعد بارہ ائمہ کے اسمائے گرامی بیان فرمائے ہیں[59] اور حضرت حضرت مہدی(عج) کی خصوصیات متعارف کرائی ہیں۔[60]

حدیث لوح ان مشہور احادیث میں سے ہے جو جابر نے نقل کی ہے اور ان میں رسول اللہ(ص) کے جانشین ائمۂ اثناعشر کے اسمائے گرامی بیان ہوئے ہیں۔[61]

حلقۂ درس

جابر نے مسجد نبوی میں اپنا حلقۂ درس دائر کیا جہاں وہ حدیثیں املاء کرتے اور لکھواتے تھے اور تابعین کی ایک جماعت ان سے علم حاصل کرتے اور حدیثیں لکھتے تھے۔[62]

جابر سے بڑی تعداد میں راویوں نے حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سعید بن مُسیب، حسن بن محمد بن حنفیہ، عطاء بن أبی رباح، مجاہد بن جَبر، عمرو بن دینار مکی، عامر بن شراحیل شعبی، اور حسن بصری سر فہرست ہیں۔[63]

مفتئ مدینہ

الطبقات الکبیر میں ابن سعد کی درجہ بندی کے مطابق جابر مفتی اصحاب، اور مقتدی یا اہل العلم والفتوی کے زمرے میں نہیں ہیں تاہم ذہبی نے انہیں مدینے کے مفتیوں میں سے یاد کیا ہے۔

موسی بن علی بن محمد امیر جابر بن عبداللہ کی فقہی آراء کو مختلف منابع سے اخذ کرکے ایک جامع رپورتاژ کے مرتب کرکے جابر بن عبداللہ و فقہہ کے عنوان سے زیور طبع سے آراستہ کیا ہے۔[64]

تفسیر قرآن

قرآن کریم کی تفسیر میں جابر سے بہت سی روایات منقول ہیں جن سے تفسیری منابع میں استناد کیا گیا ہے۔[65] بعض آیات کے سلسلے میں جابر کی تفسیری آراء شیعہ تفسیری آراء سے ہم آہنگ ہیں۔[66]

امامیہ کے ہاں منزلت و مقام

امامیہ کے رجالی منابع میں جابر کی شخصیت کو محترم اور قابل احترام قرار دیا گیا ہے۔ اسے ائمہ(ع)، (امام علی(ع) سے امام باقر(ع) کے اصحاب میں سے شمار کئے گیا ہے ۔ [67]

تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جابر امام سجاد(ع) کے دور میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جبکہ امام باقر(ع) ابھی لڑکپن یا نوجوانی کی عمر میں تھے چنانچہ انہيں امام باقر(ع) کے اصحاب میں شمار نہيں کیا جا سکتا ہے۔[68]

بعض رجالی منابع میں جابر کی شہرت اور ان کی مدح میں منقولہ روایات کے پیش نظر، تاکید ہوئی ہے کہ "جابر کے لئے کسی توثیق کی ضرورت نہیں ہے"۔[69] گوکہ جابر سقیفہ کے واقعے میں امیرالمؤمنین(ع) ساتھیوں میں سے نہ تھے لیکن کچھ عرصہ بعد اہل بیت علیہم السلام کے سچے، وفادار اور مخلص اصحاب و انصار کے زمرے میں قرار پائے۔[70] کَشّی، [71] جابر را از اعضای گروہی دانستہ است کہ فدایی حضرت علی(ع) و ہموارہ گوش بہ فرمان آن حضرت بودند۔ این گروہ بہ «‌شرطۃ الخمیس‌» شہرت داشتند۔[72]

محبت اہل بیت(ع)

جابر کی نگاہ میں حضرت علی(ع) اس قدر بلند مقام و مرتبے کے مالک تھے جنہیں پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں میزان حق سمجھا جاتا تھا اور آپ(ع) کے ساتھ بغض اور دشمنی کو منافقین کی شناخت کا ذریعہ تھی۔[73]۔[74] جابر مدینہ کی گلیوں سے گذرتے تھے اور انصار کی مجالس میں شرکت کرتے تھے اور انہیں نصیحت کرتے تھے کہ اپنے فرزندوں کی تربیت حب علی(ع) کے ساتھ کیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو شخص علی(ع) کو اللہ کی برتر مخلوق نہ سمجھے وہ ناشکری کا مرتکب ہوا ہے"[75] جابر کا یہ کلام کہ "علی خیر البشر ہیں" جعفر بن احمد قمی نامی شیعہ مؤلف کی کتاب نوادر الاثر فی علی خیر البشر کا عنوان ٹہرا۔ قمی نے اس کتاب کی ایک تہائی روایات جابر سے نقل کی ہیں۔[76]

جابر اور واقعۂ عاشورا

واقعۂ کربلا اور شہادت امام حسین علیہ السلام کے وقت جابر بن عبداللہ انصاری مدینے کے معمر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے اور رسول اللہ(ص) کی ذریت کے لئے فکرمند تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے روز میدان کربلا میں عبید اللہ بن زیاد کی جانب سے بھیجے گئے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے جابر بن عبداللہ کا نام اپنے مدعا کے گواہ کے طور پر پیش کیا۔[77]۔[78] امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیسویں روز جابر آپ(ع) کے اولین زائر تھے۔[79]۔[80] امام زین العابدین علیہ السلام کی امامت کے آغاز پر، آپ(ع) کے اصحاب کی تعداد بہت کم تھی اور جابر ان ہی انگشت شمار اصحاب میں شامل تھے۔ وہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے حجاج بن یوسف ثقفی کے تعاقب سے محفوظ تھے۔[81]

امام باقر(ع) کی ملاقات

امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ جابر کی ملاقات کا واقعہ مآخذ و مصادر میں نقل ہوا ہے۔[82] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے جابر بن عبداللہ انصاری سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا: "اے جابر! تم اس قدر عمر پاؤگے کہ میری ذریت میں سے ایک فرزند کا دیدار کرو گے جو میرے ہم نام ہونگے؛ وہ علم کا چیرنے پھاڑنے والا ہے یبْقَرُالعلم بَقْراً؛ علم کی تشریح کرتا ہے جیسا کہ تشریح و تجزیہ کا حق ہے)، پس میرا سلام انہیں پہنچا دو[83]۔[84] جابر کو اس فرزند کی تلاش تھی حتی کہ مسجد مدینہ میں پکار پکار کر کہتے تھے "‌یا باقَرالعلم" اور آخر کار ایک دن امام محمد بن علی(ع) کو تلاش کیا ان کا بوسہ لیا اور پیغمبر اکرم(ص) کا سلام انہیں پہنچایا۔

[85]۔[86]۔[87]۔[88]

کاوشیں

اہل سنت کے منابع حدیث کے ذریعے منقولہ مسند جابر، 1540 احادیث پر مشتمل ہے جن میں سے 58 حدیثیں بخاری اور مسلم کے ہاں متفق علیہ ہیں۔[89] احمدبن حنبل نے جابر کی حدیثیں اپنی مسند میں [90] جمع کی ہیں۔ مسند جابر بن عبداللہ بروایت ابو عبدالرحمن بن احمد بن محمد بن حنبل، مراکش کے خزانۃ الرباط میں موجود ہے[91] جو غالبا مسند احمد بن حنبل میں منقولہ جابر بن عبداللہ انصاری کی روایات پر مشتمل ہے۔ حسین الواثقی نے بھی جابر کی روایات شیعہ کتب حدیث سے جمع کرکے اپنی کتاب جابر بن عبداللہ الانصاری حیاتہ و مسندہ میں شائع کی ہیں۔

اہم ترین کاوش جو منابع میں جابر سے منسوب کی گئی ہے صحیفۂ جابر ہے۔ یہ صحیفہ جو تدوین حدیث کی قدیم ترین صورت ہے، سلیمان بن قیس یشْکری نے تالیف کیا ہے لیکن بعد کے راویوں نے ـ سلیمان کی اچانک وفات کی وجہ سے ـ یہ حدیثیں سماع اور قرائت کے بغیر مذکورہ صحیفے سے نقل کی ہیں۔[92] اس صحیفے کا ایک نسخہ استنبول کے مجموعے شہید علی پاشا میں موجود ہے۔[93]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص286؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208، 211؛ قس ابن حَبّان، مشاہیر علماء الامصار و اعلام فقہاء الاقطار، ص30 کہ از حضور عبداللہ و فرزندش جابر در بیعتِ عقبہ اول و دوم سخن گفتہ است۔
  2. الامین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46۔
  3. ہاشم معروف الحسنی، زندگي دوازدہ امام، ج 2، ص 206۔
  4. رجوع کریں: ابن سعد، طبقات الکبری، ج3، قسم 2، ص104ـ105؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208۔
  5. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص286؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208، 211؛ قس ابن حَبّان، مشاہیر علماء الامصار و اعلام فقہاء الاقطار، ص30 کہ از حضور عبداللہ و فرزندش جابر در بیعتِ عقبہ اول و دوم سخن گفتہ است۔
  6. رجوع کریں: ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220؛ ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص377۔
  7. ابن قُتَیبَہ، المعارف، ص307؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص192۔
  8. رجوع کریں: اسی مضمون کی آنے والی سطروں کی طرف۔
  9. رجوع کریں: ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8، ص248؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج4، ص99ـ100۔
  10. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص43ـ44۔
  11. رجوع کریں: ابن قتیبہ، المعارف، ص307۔۔
  12. رجوع کریں: ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359۔
  13. رجوع کریں: یوسف بن عبدالرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص446۔
  14. آج کا تیونس؛ رجوع کریں: ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359۔۔
  15. رجوع کریں: ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج10، ص545۔
  16. رجوع کریں: عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، ص40؛ ایران میں جابر کے اعقاب و احفاد کے سلسلے میں مزید آگہی کے حصول کے لئے رجوع کریں: واثقی، حسین واثقی، جابربن عبداللہ الانصاری، ص31ـ34۔
  17. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص191ـ192۔
  18. مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص453ـ545۔
  19. نیز رجوع کریں: ابن قتیبہ، المعارف، ص307۔
  20. ابن قتیبہ، المعارف، ص307۔
  21. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص191۔
  22. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص216ـ 217۔
  23. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص214، 216ـ217، قس ص219 جہاں 16 غزوات میں جابر کی شرکت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
  24. مثال کے طور پر انھوں نے سریۂ خَبَط میں شرکت کی ہے؛ رجوع کریں: طبری، تاریخ طبری، ج3، ص32ـ33۔
  25. رجوع کریں: ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص34؛بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص402ـ403۔
  26. رجوع کریں: سورہ نساء (4) 176۔ ارشاد ہوا: "يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّہُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَۃِ إِنِ امْرُؤٌ ہَلَكَ لَيْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَہُوَ يَرِثُہَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّہَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَۃً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّہُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ"۔ (ترجمہ: آپ سے حکم شرعی دریافت کرتے ہیں کہئے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم شرع بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بےاولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تواس کے لئے آدھا ترکہ ہوگا اور وہ اس(بہن) کا پورا وارث ہو گا اگر اس(بہن) کی اولاد نہ ہو۔ اب اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی متروکہ ملے گا اور اگر بھائیوں کی صنف میں مردعورت دونوں ہوں تو مرد کو دو عورتوں کے برابر ملے گا۔ اللہ تمہارے لئے صاف صاف بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے)۔
  27. رجوع کریں: طبری، جامع طبری؛ و محمد بن طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن، ذیل آیہ۔
  28. رجوع کریں؛ طبری، جامع طبری؛ و محمد بن طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن، ذیل آیہ۔
  29. رجوع کریں: محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38
  30. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص210؛ و ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص192۔
  31. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص194۔
  32. ابن شَبّہ نمیری، تاریخ المدینہ المنورہ: اخبار المدینہ النبویہ، ج3، ص1134ـ1136؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج3، قسم 1، ص44ـ 45؛ و احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص193۔
  33. رجوع کریں: امین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46؛ ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، ج1، ص232۔
  34. ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، ج2، ص602ـ607؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235۔
  35. رجوع کریں: طبری، تاریخ طبری، ج5، ص239۔
  36. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص193۔
  37. زبیریوں کی مکمل سرکوبی کے بعد حجاج نے مکہ، یمامہ اور یمن کی حکومت سنبھالی اور [اپنے ہاتھوں ویران شدہ] کعبہ کی مرمت کی؛ رجوع کریں: تاریخ یعقوبی، ترجمہ ابراہیم آیتی، ج2، ص207۔ کچھ عرصہ بعد عثمان کے آزاد کردہ طارق بن عمرو کی جگہ مدینہ کا والی بنا؛ تاريخ طبرى، ترجمہ ابوالقاسم پايندہ، تہران، اساطير، ج8، ص3490؛ اور پہلے ہی دن سے اہل مدینہ کے ساتھ بدسلوکی کا آغاز کیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ عثمان کے قاتل ہیں۔نویری، شہاب الدین احمد؛ نہایۃ الارب فی فنون الادب، ترجمہ مہدوی دامغانی، ج6، ص12۔ اس نے اصحاب رسول(ص) کی تذلیل کی غرض سے سہل بن سعد (رجوع کریں: طبری، ج 8، ص 3511)؛ سمیت متعدد صحابہ کی گردنوں پر سیسے کی پگھلتی مہریں لگا دیں۔ یعقوبی، وہی ماخذ، ج2، ص 222۔ یہ وہ سلوک تھا جو ان دنوں ذمیوں کے ساتھ روا رکھا جانے لگا تھا؛ ابن خلدون، العبر تاريخ ابن خلدون، ترجمہ عبد المحمد آيتى، ج2، ص70۔ اور اس کے کے اس عمل کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی تھی "صحابہ نے عثمان کو مدد نہيں پہنچائی تھی۔ طبری، ج8، ص3511۔
  38. رجوع کریں: بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص288؛ طبری، تاریخ طبری، ج6، ص195۔
  39. رجوع کریں: ابن عساکر، ج11، ص234۔
  40. ابن حَجَر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435۔
  41. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214۔
  42. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214۔
  43. رجوع کریں: ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، ج3، ص495۔
  44. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص318ـ319۔
  45. رجوع کریں: ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 2، ص127؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220۔
  46. رجوع کریں: ابن قیم جوزی، اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج1، ص12 میں رقمطراز ہے کہ وہ ان صحابہ میں سے ہیں جن سے اوسط تعداد میں فتاوی نقل ہوئے ہیں۔
  47. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص189۔
  48. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208ـ209؛ مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444۔
  49. خطیب بغدادی، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، 1395، 1395، ص109ـ 118؛ ابن عبدالبرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، 1402، ص151ـ152۔
  50. رجوع کریں: ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص191۔
  51. رجوع کریں: ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص378۔
  52. برائے نمونہ رجوع کریں: ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، صص22، 44، 47؛ کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص532، ج2، ص373، ج3، ص233ـ234، ج5، ص528 ـ 529، ج8، ص144، 168ـ169؛ ابن بابویہ، عیون اخبارالرضا، 1404، ج1، ص47، ج2، ص74۔
  53. رجوع کریں: عبدالحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، ج1، ص57ـ60۔
  54. صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد «‌ص »، ص414۔
  55. رجوع کریں: ابن ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص34۔
  56. رجوع کریں: ابن بابویہ، معانی الاخبار، 1361 ش، ص74۔
  57. رجوع کریں: مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج1، ص345ـ346۔
  58. رجوع کریں: ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص189ـ190۔
  59. رجوع کریں: ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص258ـ259؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج1، ص282۔
  60. رجوع کریں: ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1363ش، ج1، ص253، 286، 288۔
  61. رجوع کریں: محمد بن یعقوب کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص527 ـ 528؛ ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص308ـ313۔
  62. رجوع کریں: ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص233؛ خطیب بغدادی، تقیید العلم، 1974، ص104؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435۔
  63. جابر سے نقل حدیث کرنے والے افراد کی مکمل فہرست کے لئے رجوع کریں: یوسف بن عبدالرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444ـ 448؛ حسین واثقی، جابر بن عبداللہ الانصاری، ص108ـ 118۔
  64. بیروت 1421۔
  65. نمونے کے طور پر رجوع کریں: عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی، تفسیر القرآن، ج1، ص89، 129، 131، ج2، ص211، 231ـ 232؛ محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج2، ص112، 302، ج4، ص155، 166۔
  66. رجوع کریں: طَبْرِسی، ذیل احزاب: 33؛ نساء: 24۔
  67. رجوع کریں: احمدبن محمد برقی، کتاب الرجال، ص3، 7ـ9؛ محمدبن حسن طوسی، رجال الطوسی، ص59، 93، 99، 111، 129۔
  68. رجوع کریں: خوئی، ج4، ص16؛ تستری، ج2، ص519 ـ521۔
  69. رجوع کریں: مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، ج2، ص212؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج4، ص12، 15۔
  70. رجوع کریں: محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38۔
  71. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص5۔
  72. رجوع کریں: احمدبن محمد برقی، کتاب الرجال، ص4۔
  73. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص40ـ41۔
  74. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص284۔
  75. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص44۔
  76. تستری، قاموس الرجال، ج2، ص525۔
  77. رجوع کریں: مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص97۔
  78. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج4، ص62۔
  79. طوسی، مصباح المتہجد، ص787۔
  80. محمدبن ابوالقاسم عمادالدین طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، ص74ـ 75۔
  81. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص123ـ124۔
  82. منجملہ رجوع کریں: ابن سعد، الطبقات الکبری، ج5، ص164۔
  83. رجوع کریں: کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص304، 450ـ469۔
  84. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص159۔
  85. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص41ـ42۔
  86. کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص469ـ470۔
  87. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج54، ص275ـ276۔
  88. ما رواہ ابن عساكر ان الامام زين العابدين(ع) ومعہ ولدہ الباقر دخل على جابر بن عبد اللہ الانصاري، فقال لہ جابر: من معك يا ابن رسول اللہ؟ قال: معي ابني محمد فاخذہ جابر وضمہ إليہ وبكى ثم قال: اقترب اجلي، يا محمد، رسول اللہ(ص) يقرؤك السلام فسئل وما ذاك؟ فقال: سمعت رسول اللہ (ص) يقول: للحسين بن علي يولد لابنى ہذا ابن يقال لہ علي بن الحسين، وہو سيد العابدين إذا كان يوم القيامۃ ينادي مناد ليقم سيد العابدين فيقوم علي بن الحسين، ويولد لعلي بن الحسين ابن يقال لہ محمد اذا رأيتہ يا جابر فاقرأہ منى السلام، يا جابر اعلم أن المہدي من ولدہ۔۔۔ (ترجمہ: ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ امام زین العابدین(ع) جابر بن عبداللہ انصاری پر وارد ہوئے جبکہ ان کے بیٹے محمد(ع) بھی آپ کے ساتھ تھے؛ پس جابر نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا(ص)! کون آپ کے ساتھ ہے؟ فرمایا: اے جابر یہ میرا بیٹا محمد ہے۔ جابر نے انہیں آغوش میں لیا اور اپنے سینے سے چپکایا اور روئے اور کہا: میری موت قریب ہوچکی ہے اور مزید کہا: اے محمد! رسول اللہ(ص) آپ کو سلام کہتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا: وہ کیسے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ(ص) کو امام حسین(ع) کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: میرے اس بیٹے کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا جو علی بن الحسین کہلائے گا وہ سید العابدین ہے؛ جب قیامت کے دن منادی ندا دے گا کہ "سید العابدین اٹھے"، تو وہی اٹھے گا اور علی بن الحسین کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوگا جو محمد کہلائے گا؛ اے جابر جب اسے دیکھو اس کو میری طرف سے سلام پہنچاؤ؛ اے جابر جان لو کہ امام مہدی(عج) اسی کی نسل سے ہیں؛ اے جابر! اس کے بعد آپ کی زندگی کم ہے)۔
    حياۃ الإمام محمّد الباقر عليہ السلام دراسۃ وتحليل - ج 1، ص25؛ بحوالہ:تاريخ ابن عساكر 51 / 41 من مصورات مكتبۃ الامام أمير المؤمنين۔
  89. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص194۔
  90. مسنداحمدبن حنبل، ج3، ص292ـ 400۔
  91. خیرالدین زرکلی، الاعلام، ج2، ص104۔
  92. رجوع کریں: خطیب بغدادی، الکفایۃ فی علم الروایۃ، 1406، ص392؛ سزگین، ج1، ص85؛ ترجمہ عربی، ج1، جزء 1، ص154ـ 155۔
  93. رجوع کریں: نجم عبدالرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، ص32۔


مآخذ

  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت: چاپ عادل احمد رفاعی، 1417/1996۔
  • ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ، بیروت: 1385ـ 1386/ 1965ـ1966۔
  • ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، چاپ سنگی، تہران: مکتبۃ نینوی الحدیثہ، بی‌تا۔
  • ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، بیروت: چاپ حسین اعلمی، 1404/1984۔
  • ابن بابویہ، کتاب من لا یحضرہ الفقیہ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1414۔
  • ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1363 ہجری شمسی۔
  • ابن بابویہ، معانی الاخبار، چاپ علی‌اکبر غفاری، قم 1361 ہجری شمسی۔
  • ابن حبّان، مشاہیر علماء الامصار و اعلام فقہاء الاقطار، بیروت: چاپ مرزوق علی ابراہیم، 1408/1987۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام، قاہرہ: چاپ احمد شاکر، بی‌تا۔
  • ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ، 1982۔
  • ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، بی‌تا۔
  • ابن سعد (لیدن)؛
  • ابن شبّہ نمیری، کتاب تاریخ المدینۃ المنورۃ: اخبار المدینۃ النبویۃ، جدّہ: چاپ فہیم محمد شلتوت، 1399/ 1979، قم: چاپ افست، 1368 ہجری شمسی۔
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، قم: چاپ ہاشم رسولی محلاتی، بی‌تا۔
  • ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن عبدالبرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، قاہرہ: 1402/1982۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، بیروت: چاپ علی شیری، 1415ـ1421/ 1995ـ 2000۔
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ 1960؛
  • ابن قیم جوزیہ، اعلام الموقعین عن رب العالمین، بیروت: چاپ طہ عبدالرؤف سعد، 1973۔
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت: چاپ علی شیری، 1408/ 1988۔
  • عبدالحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم: 1416ـ1422/ 1995ـ2002۔
  • احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، تہران: 1383۔
  • احمدبن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، دمشق: چاپ محمود فردوس العظم، 1996ـ2000۔
  • تستری، قاموس الرجال؛
  • ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، تہران: چاپ جلال الدین محدث ارموی، 1355 ہجری شمسی۔
  • احمد بن علی خطیب بغدادی، تقیید العلم، بیروت: چاپ یوسف عش، 1974۔
  • خطیب بغدادی ، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، بیروت: چاپ نورالدین عتر، 1395/1975۔
  • خطیب بغدادی ، الکفایۃ فی علم الروایۃ، بیروت: چاپ احمد عمر ہاشم، 1406/1986۔
  • نجم عبدالرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، بیروت: 1421/2000۔
  • ابوالقاسم خوئی، معجم رجال الحدیث؛
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء؛
  • خیرالدین زرکلی، الاعلام، بیروت: 1986۔
  • فؤاد سزگین، تاریخ التراث العربی، ج1، جزء 1، نقلہ الی العربیۃ محمود فہمی حجازی، ریاض: 1403/ 1983۔
  • محمدبن حسن صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، قم: چاپ محسن کوچہ باغی تبریزی، 1404۔
  • عبدالرزاق بن ہمام صنعانی، تفسیرالقرآن، ریاض: چاپ مصطفی مسلم محمد، 1410/1989۔
  • طبرسی؛ طبری، تاریخ (بیروت)۔
  • طبرسی، جامع؛ محمدبن حسن طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت بی‌تا۔
  • طبرسی، رجال الطوسی، قم: چاپ جواد قیومی اصفہانی، 1415۔
  • طبرسی، کتاب الخلاف، قم 1407ـ1417۔
  • طبرسی، مصباح المتہجد، بیروت 1411/ 1991۔
  • محمد بن ابو القاسم عماد الدین طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، نجف: 1383/1963؛
  • محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، بیروت: 1405/1985۔
  • عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، تہران 1369۔
  • محمد بن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، [تلخیص] محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد: 1348 ہجری شمسی۔
  • کلینی؛ محمدبن اسماعیل مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، قم: 1416۔
  • یوسف بن عبدالرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، بیروت: چاپ بشار عواد معروف، 1422/2002۔
  • مسعودی، مروج (بیروت)؛ محمد بن محمد مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم: 1413۔
  • حسین واثقی، جابر بن عبداللہ الانصاری: حیاتہ و مسندہ، قم: 1378 ہجری شمسی۔

بیرونی ربط

مضمون کا ماخذ: دانشنامہ جہان اسلام