محمد بن ابی سعید بن عقیل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

محمد بن ابی سعید بن عقیل عاشورا کے دن شہید ہونے والے بنی ہاشم کے شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ کربلا میں ان کا سن سات سال تھا۔ حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد ان کی شہادت واقع ہوئی۔ ان کا نام زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔

نسب

علم رجال کے شیعہ ماہرین [1] انہیں محمّد بن سعید اور بعض محمّد بن ‌ابی سعد[2] ذکر کرتے ہیں لیکن بعض عبداللہ بن عقیل کی کنیت ابو سعید سمجھتے ہیں اور احتمال دیتے ہیں کہ محمّد بن ابی سعید اور محمد بن عبداللہ بن عقیل ایک ہی شخص ہے۔[3]

صاحب المجدی نے محمد کے باپ یعنی ابو سعید کو ابو سعید احول کہا نیز اسے شہدائے کربلا میں سے شمار کیا ہے۔[4]

ابصارالعین کے مطابق شہدائے کربلا میں پانچ افراد کا سن اس قدر کم تھا کہ وہ حد بلوغ کو نہیں پہنچے تھے۔ ان میں سے ایک محمد بن ابی ‏سعيد بن عقيل تھے کہ جن کا سن سات سال تھا۔[5]

کیفیت شہادت

حمید بن مسلم نے محمد بن ابی‌ سعید بن عقیل کی شہادت اس طرح نقل کی ہے:

امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد محمد بن ابی سعید بن عقیل کے نام کا ایک نوجوان خیمے سے باہر آیا جو حیرانی اور پریشانی کے عالم میں اپنے دائیں بائیں دیکھ رہا تھا کہ اسی دوران عمر بن سعد کے لشکریوں میں سے ایک شخص بنام لقیط بن ایاس (ناشر) جُهَنی نے اس پر ایسی ضرب لگائی کہ اسکی شہادت واقع ہو گئی۔

ہانی بن ثبیت حضرمی نے بھی اس واقعے کو روایت کیا ہے جو عمر بن سعد کے لشکریوں میں سے تھا۔[6]

البتہ بعض روایتوں میں اسی ہانی بن ثبیت حضرمی کو ان کا قاتل کہا گیا ہے اور انکی شہادت کی کیفیت یوں مذکور ہے کہ جب محمد بن ابی سعید خیام سے باہر آیا تو ان کے ہاتھ میں ایک چوب تھی۔ وہ اپنی ماں کے سامنے دشمن کی طرف بھاگا تو گھوڑے پر سوار ہانی بن ثبیت حضرمی اس کی طرف لپکا اور اس نے شمشیر کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں شہید کر دیا۔[7]

زیارت الشہداء میں ان کا تذکرہ یوں آیا ہے:السَّلامُ عَلی مُحَمَّد بن ابی سَعید بن عَقیل وَلَعَنَ‌ اللہ قاتِلَهُ لُقَیطِ بن ناشِر الجُهَنیّ.[8]

حوالہ جات

  1. حلی، ابن داود، رجال ابن داود، ج۱، ص۱۷۲؛ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم‌السلام، ج۳، ص۲۵۴.
  2. سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج۳، ص۳۴۳؛ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم‌السلام، ج۳، ص۲۵۹.
  3. کاشانی، حبیب، تذکرۃ الشہداء، ج۱، ص۱۵۴.
  4. علوی، علی بن محمد، المجدی فی انساب الطالبیین، ص۳۰۷.
  5. سماوی، محمد بن طاهر، ابصار العین فی انصارالحسین علیه‌السلام، ج۱، ص۹۱.
  6. سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی انصارالحسین علیہ السلام، ج۱، ص۹۱.
  7. طبری، تاريخ الطبري، ج۵، ص۴۴۹.
  8. سید ابن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج۳، ص۷۶.


منابع

  • حلی، ابن داود، رجال ابن داود، تہران، انتشارات دانشگاه تہران، بی‌ تا۔
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب (ع)، نجف، مطبعہ الحیدریہ، ۱۳۷۵ق۔
  • سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی انصارالحسین (ع)، تحقیق محمد جعفر طبسی، قم، مرکز الدراسات الاسلامیہ لحرث الثورة، ۱۴۱۹ق۔
  • سید ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنہ، محقق / مصحح: قيومى اصفہانى، جواد، قم، دفتر تبليغات اسلامى‌، ۱۳۷۶ش‌۔
  • طبری، تاریخ الطبری، بیروت، روائع التراث العربی، بی‌ تا۔
  • علوی، علی بن محمد، المجدی فی انساب الطالبیین، قم، کتابخانہ عمومی آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۳۸۰ش۔
  • کاشانی، حبیب اللہ، تذکرة الشہداء، مترجم: سیدعلی جمال‌اشرف، قم، مدین، ۱۳۸۵ش۔