مختار بن ابی عبید ثقفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قبر مختار.jpg
قبر مختار
ذاتی کوائف
نام کامل مختار بن ابی عبید ثقفی
کنیہ ابواسحاق
لقب کیسان
شہرت کی وجہ انتقام خون حسین(ع)
تاریخ و محل پیدائش پہلی صدی ہجری
محل زندگی طائف، مدینہ کوفہ
نسب قبیلہ ثقیف
مشہور اقرباء سعد بن مسعود، ابوعبید الثقفی، عمر بن سعد
شہادت 14 رمضان سنہ 67 ہجری قمری، کوفہ
کیفیت شہادت معصب بن زبیر کے ہاتوں
مدفن مسجد کوفہ
فعالیتیں
دینی انتقام خون حسین
اجتماعی قیام مسلم بن عقیل میں شرکت
سیاسی انتقام خون حسین(ع)

مختار بن ابی عبید ثقفی، پہلی صدی ہجری قمری کے تابعین میں سے طائف کے رہنے والے تھے۔ آپ امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کے خون کا انتقام لینے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ مسلم بن عقیل جب امام حسین(ع) کے سفیر کے عنوان سے کوفہ آئے تو مختار نے انکی میزبانی کی لیکن حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کے وقت مختار عبید اللہ بن زیاد جو اس وقت کے کوفہ کا والی تھا، کے زندان میں قید تھے۔

مختار نے اپنے قیام کے ذریعے واقعہ عاشورا اور امام حسین(ع) کے قتل میں ملوس بہت سارے مجرموں کو قتل کیا۔ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ ان کے قیام کو امام زین العابدین(ع) کی تائید بھی حاصل تھی۔ مختار نے قیام کی کامیابی کے بعد کوفہ پر اپنی حکومت قائم کی اور 18 ماہ حکومت کے بعد مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ان کی قبر مسجد کوفہ میں مسلم بن عقیل کی قبر کے ساتھ واقع ہے۔

نسب اور لقب

مختار بن ابی عبیدہ بن مسعود بن عمرو بن عمیر بن عوف بن عقدہ بن غیرۃ بن عوف بن ثقیف ثقفی جن کی کنیت ابو اسحاق اور [1] لقب کیسان تھا۔ [2]

کہا جاتا ہے کہ فرقہ کیسانیہ مختار سے منسوب تھا۔[3] کیسان زیرک و باہوش کے معنی میں ہے۔ اصبغ بن نباتہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی(ع) نے جب مختار بچپنے کی عمر تھا اپنے زانووں پر بٹھایا ہوا تھا اور اسے کیس کا لقب دیا۔[4] چون حضرت علی(ع) نے دو دفعہ اسے کیس کہہ کر پکارا اسی وجہ سے انہیں کیسان کہا جاتا تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ کیسان کا لقب ان کے کسیی کمانڈر اور مشاور کے نام سے لیا گیا ہے جسکی کنیت ابوعمرہ کیسان تھا۔[5]

مختار اہل طائف[6] اور قبیلہ ثقیف سے تھا۔ ان کا دادا مسعود ثقفی حجاز کے بزرگان میں سے تھا اور عظیم القریتین کے لقب سے مشہور تھا۔[7]

مختار کا والد ابو عبید پیغمبر اکرم(ص) کے بڑے صحابہ میں سے تھا۔[8] پیغمبر اکرم(ع) کی رحلت کے بعد عمر بن خطاب کے دور خلافت میں جنگ قادسیہ میں شہید ہو گئے۔[9]

انکی ماں ددومہ بنت عمرو بن وہب تھی۔ ابن طیفور نے انہیں بلاغت و فصاحت کا حامل قرار دیا ہے۔[10]

ان کے چچا سعد بن مسعود ثقفی، امام علی(ع) کی طرف سے مداین کا والی منصوب ہوا تھا۔[11][12]

ان کے بھائی وہب، مالک[13] اور جبر اپنے والد کے ساتھ جنگ قادسیہ میں شہید ہو گئے تھے۔[14]

زندگی‌نامہ اور فعالیتیں

مختار ہجرت کے پہلے سال متولد ہوئے۔[15][16]مختار کی بچپن کے زمانے کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخ میں ثبت نہیں ہے اور ان کے بارے میں جو معلومات ثبت ہے ان میں سے اکثر کا تعلق امام حسین(ع) کا انتقام کی خاطر چلانے والی ان کی تحریک کے دوران سے ہے۔ اس لئے ان کی شخصی زندگی سے متعلق بہت ہی کم روایات نقل ہوئی ہیں۔

جنگوں میں شرکت

کہا جاتا ہے کہ مختار نے ۱۳ سال کی عمر میں جنگ جسر میں شرکت کی جسمیں انہیں اپنے والد اور تین بھائیوں سے ہاتھ دونا پڑا۔ کم عمری کے باوجود مختار اس جنگ میں میدان میں جانا چاہتے تھے لیکن ان کے چچا سعد بن مسعود نے انہیں اس کام سے روکے رکھا۔[17]

مدائن کی زندگی

مختار کے چچا سعد بن مسعود جو حضرت علی(ع) کی طرف سے مدائن میں گورنر منصوب ہوا تھا، نے خوارج کے ساتھ جنگ میں مختار کو مدائن میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود جنگ کیلئے نہروان کی طرف چلے گئے۔[18][19]

اصل مضمون: صلح امام حسن

امام علی(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن(ع) نے معاویہ کی ساتھ جنگ میں اپنے بعض سپاہیوں کی خیانت اور غداری کے سبب اپنے بعض اصحاب کے ساتھ مدائن تشریف لائے۔ امام حسن(ع) مدائن میں سعد بن مسعود ثقفی کے ہاں ٹہرے چونکہ وہ امام کی طرف سے مدائن پر حاکم تھا۔ بعض مورخین کے مطابق مختار نے اپنے چچا سے کہا:

- آیا مال ثروت اور مقام و منصب چاہتے ہو؟
- پوچھا گیا کس طرح؟
- کہا حسن بن علی(ع) کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کر دو اور جو چاہے لے لو!
- ان کے چچا نے کہا تم پر خدا کی لعنت ہو! تم کتنے برے آدمی ہو! کیسے ہم فرزند پیغمبر کو دشمن کے حوالے کر سکتے ہیں۔ [20]

آیت اللہ خویی اس حدیث کے مرسل ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ اگر حدیث صحیح بھی ہو تو ممکن ہے مختار نے جدی نہ کہا ہو بلکہ شاید وہ اپنے چچا کو آزمانے چاہتے تھے۔ [21] سید محسن امین نیز اس عقیدے سے متفق ہیں اور کہتے ہیں کہ مختار اپنے چچا سے امتحان لینا چاہتے تھے کہ کس قدر امام(ع) کے ساتھ دوستی اور محبت کرتا ہے۔[22]

معاویہ کا دور

شمس الدین ذہبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ معاویہ کے دور میں مختار امام حسین(ع) کے حق میں فعالیتیں انجام دیتا تھا۔ ذہبی کے بقول معاویہ کے دور میں بصرہ جا کر بصرہ والوں کو امام حسین(ع) کے حق میں آمادہ کرتے تھے۔ اس وقت عبیداللہ بن زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ میں بعنوان گورنر منصوب تھا، نے مختار کو گرفتار کر کے 100 کوڑے لگایا جس کے بعد مختار طائف واپس آگئے۔[23]

قیام امام حسین(ع)

مختار کے واقعہ کربلا میں شریک نہ ہونے کی بارے میں تاریخی منابع میں مختلف شایعات موجود ہیں لیکن جو چیز یقینی اور زیادہ اطمینان بخش نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس واقعے میں اس کی غیر حاضری اختیاری نہیں تھی بلکہ کوفہ میں امام حسین(ع) کے سفیر مسلم بن عقیل کا ساتھ دینے اور بنی امیہ کی حکومت کے خلاف اقدام کرنے کے جرم میں آپ کو عبیداللہ ابن زیاد نے قیل کر رکھا تھا۔

  • مسلم(ع) مختار کے گھر میں: حضرت مسلم بن عقیل کی کوفہ آمد کے موقع پر مختاران افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے حضرت مسلم کی حمایت کا اعلان کیا۔[24] اسی وجہ سے حضرت مسلم جب کوفہ وارد ہوئی تو مختار کے گھر تشیرف لے گیا۔[25][26] جب عبیداللہ بن زیاد کو پتہ حضرت مسلم کی مخفی گاہ کا پتہ چلا تو آپ مختار کے گھر سے ہانی بن عروہ کے گھر منتل ہوئے۔[27][28]
  • مسلم(ع) کی حمایت : تاریخی شواہد بتاتی ہے کہ مختار ہمیشہ حضرت مسلم کی حمایت کیلئے تیار تھا اور حضرت مسلم کی شہادت کے دن بھی مختار خطرنیہ، کوفہ سے باہر ایک جگہ پر آپ کی حمایت اور دفاع کیلئے افراد کی جمع آوری میں مشغول تھا۔ جب کوفہ پہنچے تو معلوم ہوا حضرت مسلم اور ہانی بن عروہ دونوں شہید ہو چکے تھے۔[29][30]
  • روز عاشورا اور مختار کی عدم حضوری: حضرت مسلم اور ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد ابن زیاد مختار کو بھی شہید کرنا چاہتا تھا مگر عمرو بن حریث کی وساطت سے مختار کو امان مل گئی لیکن تازیانہ کے ذریعے مختار کی آنکھوں حملہ آور ہوئے اور انکی آنکھ کو زخمی کرکے اسے زندان روانہ کیا۔ یوں مختار امام حسین(ع) کے قیام کے اختتام تک کوفہ میں ابن زیاد کے زندان میں تھا۔[31][32]
  • سر امام حسین(ع) کی زیارت: واقعہ کربلا کے بعد جب اسراء کو کوفہ لایا گیا تو ابن زیاد نے امام حسین(ع) کے حامیوں منجملہ مختار کو امام حسین(ع) کے سر کو دکھانے کیلئے دربار میں بلایا۔ اس موقع پر مختار اور ابن زیاد کے درمیان تلخ کلمات کا تبادلہ ہوا اور مختار نے امام(ع) کا سر دیکھنے کے بعد بہت گریہ و زاری کیا اور اپنے سر پر مارنے لگا۔[33]

واقعہ کربلا کے بعد عبداللہ بن عمر کی وساطت سے یزید نے مختار کو آزاد کر دیا کیونکہ مختار کی بہن یعنی صفیہ بنت ابوعبید عبداللہ بن عمر کی زوجہ تھی اس کے کہنے پر اس نے یہ وساطت کی تھی.[34] البتہ عبیداللہ ابن عمر نے آزادی کے وقت مختار سے یہ شرط باندھی کہ تین دن سے زیادہ کوفہ میں قیام نہیں کریگا اور اگر تین دن کے بعد اسے کوفہ میں پایا گیا تو اس کا خون حلال ہے۔ [35]

عبداللہ بن زبیر کی بیعت

ابن زیاد کی قید سے آزادی کے بعد مختار مکہ چلا گیا اور وہاں پر ابتداء میں عبد اللہ بن زبیر کی بیعت کی اس شرط پر کہ کاموں میں ان سے مشورت کریگا اور تنہائی کوئی کام انجام نہیں دیگا[36] اور ان کی مخالفت نہیں کریگا۔[37]

جب یزید کی سپاہیوں نے مکہ پر حملہ کرکے اسے محاصرے میں لیا تو مختار نے عبداللہ بن زبیر کے ساتھ یزید کی فوج سے مقابلہ کیا۔ لیکن جب عبداللہ ابن زبیر نے خلافت کا دعوا کیا تو مختار اس سے جدا ہو گیا اور کوفہ جا کر اپنے قیام کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔ [38]

مختار یزید کی ہلاکت کے۶ ماہ بعد اور ماہ مبارک رمضان کی 15 تاریخ کو کوفہ آ پہنچا۔[39]

ابن زبیر نے عبداللہ بن مطیع کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو مختار نے ان سے مقابلہ کرکے کوفہ پر اپنی حکومت قائم کی۔ [40][41]

مختار اور توابین کا قیام

اصل مضمون: قیام توابین

مختار توابین کے قیام کو بے فائدہ سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ مختار سلیمان بن صرد خزاعی کو جنگی فنون سے ناآشنا اور ساد لوج سمجھتے تھے۔[42]

جب مختار نے توابین کا ساتھ نہ دیا تو توابین کے۱۶۰۰۰ نفر جنہوں نے سلیمان بن صرد خزاعی کی بیعت کی تھی، میں سے تقریبا 4000 ہزار نفر نے بھی سلیمان سے اپنی بیعت واپس لے لیا چونکہ یہ لوگ بھی سلیمان کو جنگی فنون ماہر نہیں سمجھتے تہے۔[43]

البتہ مختار توابین کے قیام کے دوران دوبارہ زندان میں تھے۔ توابین کے سرکردگان اسے زندان سے طاقت کے زور پر آزاد کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ان کو منع کیا اور کہا وہ عنقریب زندان سے آزاد ہو گا۔ اس دفعہ بھی مختار عبداللہ ابن عمر کے وساطت سے آزاد ہوا تو اس وقت توابین شکست سے دوچار ہو گئے تھے یوں مختار نے خطوط کے ذریعے توابین کے بازماندگان سے اظہار ہمدردی کیا۔[44] [45]

قیام مختار

اصل مضمون: قیام مختار

14 ربیع الاول سنہ ۶۶ہجری قمری کو مختار نے امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کے خون کا بدلہ لینے کی قصد سے قیام کا آغاز کیا [46] تو کوفہ کے شیعوں نے بھی مختار کا ساتھ دیا۔ مختار کہا کرتا تھا کہ خدا کی قسم اگر قریش کا دو تہائی حصہ بھی قتل کیا جائے تو امام حسین(ع) کی ایک انگلی کے برابر بھی نہیں ہوگا۔[47]

مختار نے اس قیام کے دوران شمر بن ذی الجوشن، خولی بن یزید، عمر بن سعد اور عبیداللہ بن زیاد جیسے کئی دوسرے افراد کو جو کربلا کے واقعے یا اس سے مربوط وقایع میں ملوس تھے کو واصل جہنم کیا۔[48]

اس قیام میں ابراہیم بن مالک اشتر نے بھی مختار کا ساتھ دیا اور وہ مختار کے فوج کا سپہ سالار تھا اور انہوں نے عبیداللہ بہ زیاد کو موصل میں واصل جہنم کیا۔ [49]

جب مختار نے عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کا سر محمد بن حنفیہ کے لئے بھیجا تو اس وقت آپ مسجد الحرام میں کھانا کھانے میں مصروف تھے آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ جس وقت امام حسین(ع) کا سر عبیداللہ ابن زیاد کے پاس لے گیا تھا تو وہ کھانا کھانے میں مصروف تھا اور جب ابھی اس کا سر ہمارے پاس بھیجا گیا ہے تو ہم بھی ایسی ہی حالت میں تھے۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ اس کا سر مسجد الحرام میں لٹکایا جائے تاکہ ہر ایک اسے مشاہدہ کیا جا سکے۔[50]

نعرہ

مختار نے اس قیام میں دو نعروں یا لثارات الحسین اور یا منصور امت کا استعمال کیا۔ مختار نے جنگی لباس زیب تن کرتے وقت انہی دو نعروں کے ساتھ اپنی سپاہیوں کو جنگ کی اطلاع دی۔[51] البتہ ان دو نعروں کا اس سے پہلے بھی استعمال ہوا تھا "یا منصور امت" پہلی بار جنگ بدر میں جبکہ "یا لثارات الحسین" کے نعرے کا استعمال اس سے پہلے توابین کے قیام میں استعمال ہوا تھا۔[52] اسی طرح جب عمر بن سعد مارا گیا تو کوفہ والوں نے بھی "یالثارات الحسین" کا نعرہ لگایا۔[53]

مختار کا انجام

قیام کے بعد ۱۸ ماہ کوفہ پر حکومت کرنے اور تین گروہ شام میں بنی امیہ، حجاز میں آل زبیر اور کوفہ کے سرداروں سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار 14 رمضان[54] سنہ ۶۷ ہجری قمری کو ۶۷سال کی عمر میں مصعب بن زبیر کے ہاتھوں قتل ہوا۔ [55][56] مصعب کے حکم پر مختار کا ہاتھ کاٹ کر مسجد کوفہ کے دیواروں کے ساتھ کیل لگایا گیا لیکن جب حجاج بن یوسف کوفہ پر قابض ہوا تو چونکہ وہ بھی قبیلہ ثقیف سے تھا اس بنا پر اس نے مختار کے ہاتھوں کو دفن کرایا۔ [57]

مختار کے بعد ان کے حامی جنکی تعداد ۶۰۰۰ تھی اور مصعب کے سامنے ہھیار ڈالے تھے اور مصعب نے امان دینے کا وعدہ دیا تھا، وعدے کی مخالف کرتے ہوئے مصعب نے سب کو قتل کر دیا۔[58] مصعب کا یہ کام اتنا وحشت ناک تھا کہ جب عبداللہ ابن عمر نے ان سے ملاقات کیا تو کہا کہ یہ 6000 ہزار کی تعداد اگر تمہارے باپ کی بھیڑ بکریاں بھی ہوتیں تو تب بھی اس کام کو انجام نہیں دینا چاہئے تھا۔ [59]

مختار کی بیوی کا قتل

مصعب نے نعمان بن بشیر کی بیٹی عمرہ جو کہ مختار کی بیوی تھی کو مختار سے بیزاری اختیار کرنے پر مجبور کیا لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا تو مصعب نے اسے قتل کر دیا۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ مصعب نے عمرہ سے کہا کہ مختار کے بارے میں تمہاری کیا رائ ہے؟ عمرہ نے کہا وہ ایک پرہیزگار آدمی تھا اور ہر روز روزہ رکھتا تھا۔ اس پر مصعب نے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیا اور اسلام میں یہ پہلی خاتون تھی جسے تلوار کے ذریعے گردن اڑا دی گئی۔ [60]

قیام مختار کے علل و اسباب

جیسا کہ ذکر ہوا اس قیام میں مختار کا یا لثارات الحسین تھا اور ظاہرا اس نے کربلا کی شہداء کے خون کا بدلہ لینے کیلئے قیام کیا تھا۔ لیکن بعض لوگوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مختار کیا یہ نعرہ صرف ایک بہانہ تھا اور اس نے اس نعرے سے سوء استفادہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کیلئے راہ ہمورا کیا تھا۔ اس حوالے سے مختار کے ساتھ اہل بیت اطہار(ع) کے بعض شخصیات کا رابطہ اور ان حضرات کا مختار کے بارے میں جو نظریات ہیں، اس تاریخی خدشے اور ابہام کو دور کر دیتی ہے۔

مختار کا امام سجاد(ع) سے رابطہ

امام سجاد(ع) کا مختار کے ساتھ رابطہ کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض روایات میں امام سجاد(ع) کا مختار کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہونے اور امام(ع) کا اس کے قیام کی حمایت نہ کرنے کی بات نظر آتی ہے یہ حضرات اس بات کی دلیل کو امام کی طرف سے مختار کے بھیجے ہوئی ہدیوں کی واپسی قرار دیتے ہیں۔[61][62] جبکہ اس کے مقابلے میں بعض اخبار اس بات پر زور دیتی ہے کہ امام(ع) نے مختار کے قیام کی تائید کی تھی۔ لیکن بنی امیہ اور آل زبیر نے جو حالات اسلامی ملکوں میں ایجاد کر رکھی تھی اس وجہ سے آپ(ع) کھل کر مختار کی حمایت نہیں کر سکتے تھے اسی لئے آپ(ع) نے اپنے چچا "محمد بن حنفیہ" کو اپنا نائب بنایا تھا اور مختار کو ان کی طرف رہنمائی کیا تھا۔

اس قول کی بنا پر مختار نے ۲۰۰۰۰ دینار امام(ع) کی خدمت میں بھیجا اور امام نے اسے قبول کیا اس کے ذریعے عقیل بن ابی طالب اور دوسرے بنی ہاشم کے خراب شدہ گھروں کی تعمیر فرمائی۔[63]

اسی طرح مختار نے ۳۰۰۰۰ درہم میں ایک کنیز خرید کر امام سجاد(ع) کو ہدیہ دیا جس کے بطن سے زید بن علی متولد ہوا۔[64]

اسی حوالے سے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ کوفہ کے اشراف میں سے بعض امام سجاد(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ(ع) سے مختار کے قیام کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انہیں بھی "محمد بن حنفیہ" کی طرف بھیجا اور فرمایا:‌ اے میرے چچا! اگر کوئی سیاہ فارم غلام بھی ہم اہل بیت(ع) کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے تو لوگوں پر واجب ہے کہ اس کی ہر ممکن حمایت کرے اس بارے میں جو کچھ مصلحت جانتے ہو انجام دیں میں اس کام میں آپ کو اپنا نمائندہ قرار دیتا ہوں۔[65][66]

آیہ اللہ خویی[67] اور عبداللہ مامقانی[68] نے قیام مختار کو امام زین العابدین کی خاص اجازت کے ساتھ انجام پانے کی تصریح کی ہے۔

مختار کا محمد بن حنفیہ سے رابطہ

بعض روایات کے ظاہر سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ مختار لوگوں کو محمد بن حنفیہ کی امامت کی طرف دعوت دیتے تھے اور اسے "امام مہدی" کے نام سے پکارتے تھے۔ لیکن اربلی نے اپنی کتاب کشف الغمہ میں اس رابطے کو ظاہری اور مختار کے قیام میں محمد بن حنفیہ کی دخالت کو امام زین العابدین(ع) کی مخصوص حالات کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔[69]

محمد بن اسماعیل مازندرانی حائری اپنی کتاب منتہی المقال میں مختار کی محمد بن حنفیہ کی امامت پر عقیدہ رکھنے کو قبول نہیں کرتے اور اسے امام سجاد(ع) کی امامت کے قائلین میں سے قرار دیتے ہیں۔[70]

نجات محمد بن حنفیہ

عبد اللہ بن زبیر کو جب مختار کے قیام پتہ چلا تو اس نے "محمد بن حنفیہ" اور ان کے قریبی افراد پر پریشر ڈالنے لگا تاکہ اس کی بیعت کرے بصورت دیگر انہیں زندہ جلائے جانے کی دھمکی دی گئی۔ محمد بن حنفیہ نے مختار کو ایک خط لکھا اور اس سے مدد کی درخواست کی۔[71] مختار نے 400 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو مکہ روانہ کیا اور محمد بن حنفیہ کو نجات دلا دی۔[72]

مختار کے بارے میں نظریات

مختار احادیث کی روشنی میں

مختار کے بارے میں موجود احادیث دو گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم میں مختار کی مدح سرائی کی گئی ہے تو دوسری قسم میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔

احادیث مدح

  • امام سجاد(ع) نے خدا سے مختار کے کام کے بدلے میں اسے جزائے خیر کی دعا کی ہے۔ [73][74]
  • امام باقر(ع) نے مختار کے بیٹے ابوالحکم" سے جب ملاقات کی تو اس کی عزت و احترام کے بعد مختار کی بھی تعریف و تمجید کی اور فرمایا تمہارے والد پر خدا کی رحمت نازل ہو۔[75] عبداللہ مامقانی امام(ع) کی مختار پر ترحم کو اس کے عقیدے کی صحت پر دلیل قرار دیتے ہوئی کہتے ہیں: ائمہ(ع) کی رضایت اور خوشنودی خدا کی رضایت اور خوشنودی کے تابع ہے۔ پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیدے کے لحاظ سے منحرف نہیں تھا اسی وجہ سے وہ ائمہ(ع) کی خوشنودی اور رضایت کے مستحق ٹھرے ہیں۔[76]
  • امام صادق(ع) نے مختار کے توسط سے عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کے سروں کو مدینہ بھیجنے کو موجب خوشنودی اہل بیت عصمت و طہارت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
واقعہ عاشورا کے بعد ہماری عورتوں میں سے کسی عورت نے خود کو زینت نہیں دی یہاں تک کہ مختار نے عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کا سر مدینہ بھیجا۔[77]

احادیث ذم

  • امام باقر(ع) سے روایت ہوئی ہے کہ امام سجاد(ع) نے مختار کے قاصد سے ملاقات نہیں کیا اور اسے کے بھیجے ہوئے تحفے تحائف کو واپس بھیج دیا اور اسے کذاب یعنی جھوٹا خطاب کیا۔ اس روایت کو علماء رجال نے ضعیف قرار دیا ہے۔[78]
  • امام صادق(ع) سے منقول ہے کہ مختار نے امام سجاد(ع) کی طرف جھوٹ کی نسبت دی ہے۔[79] یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔[80]
  • جس وقت امام حسن(ع) ساباط نامی جگہ پر تشریف فرما تھے تو مختار نے اپنے چچا سعد بن مسعود کو امام کو گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کرنے کی تجویز دی تاکہ ہمارا مقام و منصب متزلزل نہ ہو۔[81] آیۃ اللہ خویی نے اس حدیث کو مرسل ہونے کی وجہ سے اسے غیر قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو ممکن ہے مختار اس چیز میں جدی نہ ہو بلکہ شاید وہ اپنے چچا کی رائ دریافت کرنا چاہتا تھا کہ وہ امام کے ساتھ کتنا سچا ہے۔[82] سید محسن امین بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ مختار اپنے چچا کا امتحان لینا چاہتا تھا۔[83]
  • ایک اور روایت میں آیا ہے کہ مختار اہل جہنم ہے لیکن امام حسین(ع) کی شفاعت کے ذریعے نجات پائے گا۔[84] یہ حدیث بھی علم رجال کے ماہرین کے نزدیک ضعیف ہے۔[85]

شیعہ علماء کی نظر میں

شیعہ علماء میں سے بعض نے ان کی تعریف اور بعض نے ان کی مذمت کی ہے۔

حامی علماء

ابن نما حلی معتقد ہیں کہ شیعہ ائمہ(ع) نے مختار کی تعریف و تمجید کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ امام سجاد(ع) کا مختار کے حق میں جزائے خیر کی دعا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ امام(ع) کی نگاہ میں مختار ایک نیک اور پرہیزگار شخص تھا۔[86] عبداللہ مامقانی بھی مختار کو ائمہ معصومین(ع) کی امامت کا قائل تھا اور اس کی قیام اور حکومت کو امام سجاد(ع) کی حمایت حاصل تھی۔ اگر چہ اس کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔ ممقانی کے مطابق امام باقر(ع) کا مختار کیلئے طلب رحمت کرنا وہ بھی ایک ہی حدیث میں تین بار، مختار کی نیک نیتی اور نیک سیرتی کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔[87]

علامہ حلی بھی مختار کے حوالے سے مثبت نظریہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب کے پہلے حصے میں مختار کا ذکر کیا ہے اور چونکہ علامہ حلی کسی غیر امامیہ کو حتی وہ کتنا مورد وثوق ہی کیوں نہ ہو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیاہے۔ اس بنا پر یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ علامہ حلی کی نگاہ میں مختار شیعہ اور امامی تھا۔[88] سید بن طاووس نے بھی مختار کے مدح میں موجود روایت کو اس کی مذمت میں موجود روایات پر ترجیح دی ہے۔[89]

معاصر علماء اور فقہاء جنہوں نے مختار کی مدح سرائی کی ہے میں آیت اللہ خویی اور علامہ امینی کا نام لے سکتے ہیں۔ آیت اللہ خویی مختار کے حوالے سے مدح اور مذمت والی احادیث کو جمع کرنے کے بعد مدح والی روایات کو مذمت والی پر ترجیح دیتے ہیں۔[90] آپ قیام مختار کو امام سجاد(ع) کی اجازت حاصل ہونے کا قائل ہے۔[91] علامہ امینی نیز مختار کو ایک دیندار اور ہدایت یافتہ اور مخلص اشخاص میں شمار کرتے ہیں۔ آپ معتقد ہیں کہ امام سجاد(ع)، امام باقر(ع) اور امام صادق(ع) نے مختار کیلئے رحمت کی دعا کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ائمہ میں سے امام باقر(ع) نے نہایت خوبصورت انداز میں مختار کی تعریف و تمجید کی ہے۔[92]

توقف کرنے والے علماء

میرزا محمد استرآبادی معتقد ہیں کہ مختار کی مذمت نہیں کرنی چاہئے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس سے منقول احادیث کو مورد اعتماد قرار نہیں دیتے ہیں اور آخر کار اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔[93] علامہ مجلسی کو بھی ان افراد میں شامل کر سکتے ہیں جنہوں نے مختار کے بارے میں توقف کئے ہیں آپ نے متخار کے ایمان کو غیر کامل قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کو امام سجاد(ع) کی اجازت کے بغیر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کی نظر میں چونکہ مختار نے بہت سارے اچھے اقدامات انجام دئیے ہیں اس لئے وہ عاقبت بخیر ہوا ہے آخر میں علامہ مجلسی مختار کے بارے میں توقف کرنے پر تصریح کرتے ہیں۔[94]

شیعہ معاصر مورخین کی نظر میں

مختار کی شخصیت کے بارے میں شیعہ مورخین کے درمیان پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

حامی حضرات

ان مورخین میں عبدالرزاق مقرم جیسے حضرات مختار پر لگائے جانے والے الزامات اور تہمتوں سے برئ الذمہ قرار دیتے ہیں اور ان سب کو جھوٹ پر مبنی اور دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔[95] باقر شریف قرشی بھی قیام مختار کو جہاد مقدّس قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ مختار جس قدرت اور سلطنت کے پیچھے تھا وہ اس کی جاہ طلبی اور ریاست طلبی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اہل بیت پیغمبر(ع) کے قاتلوں سے ان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے وہ ایسی قدرت اور سلطنت کے درپی تھا۔[96] اس مناسبت سے نجم الدین طبسی جو معاصر مورخین میں سے ہیں مختار کی دفاع کی خاطر مختار پر لگائے گئے الزامات کو مختار ستیزی کی خاطر بنی امیہ کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول امام باقر(ع) نے جس روایت میں مختار کیلئے طلب رحمت کی ہے وہ حدیث بہت معتبر حدیث ہے اور یہ روایت ایک طرح سے مختار کے قیام اور ان کے امام حسین(ع) کے قاتلوں سے انتقام لینے کی صحت پر واضح دلیل ہے۔ [97]

بعض مورخین کے نظریات مختار کے بارے میں مثبت اور منفی دونوں پہلو پر مشتمل ہے مثلا مہدی پیشوایی مختار کے ائمہ کی امامت پر اعتقاد کو شیعہ سیاسی اعتقاد سے بالاتر قرار دیتے ہوئے ان کے قیام کو ایک مکمل شیعہ قیام قرار دیتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ مختار نے اپنے اعتقادات کی بنیاد پر قیام کیا ہے لیکن اس کے باوجود آپ معتقد ہیں کہ مختار کی شخصیت جاہ طلبی اور ریاست طلبی سے خالی نہیں تھی اور بعض موارد میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں۔[98] یعقوب جعفری نیز اسی نظریے کو درست قرار دیتے ہیں وہ مختار کو واقعی شیعہ سمجھتے ہیں کہ اn کا اصل ہدف اور مقصد درست تھا لیکن انتقام لینے میں بعض مواقع پر زیادہ روی سے کام لیا ہے جسے وہ مختار کی تندروی کی وجہ سے قرار دیتے ہیں۔[99] محمد ہادی یوسفی غروی بھی مختار کو ایک قدرت طلب اور سیاسی مسلمان قرار دیتے ہیں وہ ان کے اقدامات کو مورد تائید ائمہ قرار نہیں دیتے لیکن اس کے باوجود انہیں ائمہ کی امامت پر ایمان اور عقیدہ رکھنے کا معتقد قرار دیتے ہیں اور ائمہ کی طرف سے ان کے لئے کیلئے دعائے خیر اور رحمت کی درخواست کو اس کی نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔[100]

مخالفین

مخالفین میں سے بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ مختار کی زندگی کا مطالعہ اور تاریخی شواہد کے مطالعے سے یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ مختار ایک قدرت طلب اور ریاست طلب آدمی تھا۔[101] یہ حضرات قیام مختار کو اس کی طرف سے اپنے مقاصد اور سیاسی اہداف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں مختار نے صرف اہداف میں مشترک ہونے کی وجہ سے حضرت مسلم کی حمایت کی تھی نہ عقیدے کی بنیاد پر۔ ان کے مطابق مختار ایک عقیدتی شیعہ ہونے کے معیار کا حامل نہیں ہے اس بنا پر اس کا قیام سو فیصد ایک شیعہ قیام اور تحریک نہیں تھی۔[102] بعض مورخین بھی مختار کو ایک تیز بین ہوشیار اور سیاسی سوج بوج رکھنے والی شخصیت قرار دیتے ہوئے اسے امام سجاد(ع) کی بجائے محمد بن حنفیہ کی امامت کا قائل سمجھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مختار اہل بیت(ع) کو اپنی سیاسی اہداف تک پہنچنے کیلئے استعمال کرنا چاہتا تہا۔[103]

مختار اہل سنت علماء کی نظر میں

ابن اثیر اپنی کتاب اسد الغابہ میں مختار کی سوفیصد مذمت کرتا ہے اور اس سے منقول روایات کو قبول نہیں کرتا۔ [104] یہاں تک کہ اس کے خلاف پیغمبر(ص) سے یوں احادیث بھی جعل کیئے ہیں: پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف سے ایک جھوٹا اور ظالم شخص آئے گا۔[105] اس روایت کے راوی اسماء ابوبکر کی بیٹی اور عبد اللہ بن زبیر کی ماں ہے۔[106] اسماء کے بقول اس روایت میں کذاب سے مراد مختار ہے۔[107] تاریخی شواہد کی بنا پر مختار کیلئے کذاب کا لقب پہلی بار حجاج بن یوسف نے دیا اور وہ لوگوں کو حضرت علی(ع) اور مختار پر لعن کرنے کا حکم کرتا تھا۔ [108][109]تقی الدین احمد مقریزی مختار کو خوارج میں سے قرار دیتے ہیں۔[110]

الزامات

مختار اپنے قیام کی کامیابی کے بعد کوفہ پر حکومت کرتا تھا عین اسی وقت شام میں آل مروان اور حجاز پر آل زبیرکی حکومت تھی۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو خلیفہ سمجھتے تھے اور مختار کو اپنی خلافت کے ایک حصے کو جدا کرنے والا قرار دیتے تھے۔ اس وجہ سے یہ ان دو گروہ کی حد الامکان کوشش ہوتی تھی کہ جتنا ہو سکے مختار کی شخصیت کشی کی جائے اور اسے ایک جھوٹا شخص قرار دیا جائے۔ دوسری طرف سے بعض سادہ لوح شیعہ علماء نے بھی پوری تاریخ میں بنی امیہ اور آل زبیر کی جھوٹی باتوں اور بے جا تہمتوں پر یقین کرتے ہوئے مختار کی مذمت کی ہے ان الزامات اور بہتانوں میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ادعای نبوت

ابن خلدون مدعی ہے کہ مختار نبوت کا دعوا کرتا تھا۔[111] اس بات کی تقویت مختار بعض ہم قافیہ اور منظم عبارات سے ہوئی[112] لیکن اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس کی حکومت کوفہ میں تھی جس کی مسلمانوں نے حمایت کی تھی اور دوسری طرف سے ائمہ اہل بیت میں سے بعض ائمہ نے ان کی تعریف و تمجید میں احادیث بھی ارشاد فرمایا ہے اس لئے یہ بات صحیح نہیں ہو سکتی ہے۔[113] چونکہ احنف زبیریوں کا طرفدار تھا اس لئے ان عبارات کو بہانہ بنا کر مختار پر دعوائے نبوت کا الزام لگایا یہاں تک کہ اس کی موت کے بعد بھی ان الزامات سے باز نہیں آتے تھے۔[114] محمد بن حنفیہ کا مختار کی موت کے بعد اور وہ بھی عبداللہ بن زبیر کے دربار میں مختار کو کذاب قرار دینے سے انکار کرنا [115] خود اس تہمت اور الزام تراشیوں کی وہابیت کے کارخانوں میں جعل ہونے کی دلیل ہے۔

مؤسس کیسانیہ

بعض حضرات مختار کو کیسانیہ مذہب کا موسس قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: چونکہ مختار ملقب بہ کیسان تھا اس لئے اس کے ماننے والوں کو کیسانیہ کہا جاتا تھا۔[116]

عبداللہ مامقانی مختلف دلایل کی روشنی میں اس مطلب کو قبول نہیں کرتے اور مختار کے کیسانی ہونے کو رد کرتے ہیں۔[117]

آیہ اللہ خویی نیز ان الزامات کو غیر شیعہ علماء کی طرف سے مختار کی شخصیت کشی کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کے خلاف موجود روایات سب جعلی اور مردود ہیں اور مذہب کیسانیہ کی تأسیس کو مختار اور محمد بن حنفیہ کی موت کے بعد قرار دیتے ہیں۔[118]

علامہ امینی بھی مذہب کیسانیہ کی نسبت مختار کی طرف دینے کو رد کرتے ہیں۔[119]

زوجات اور اولاد

زوجات

  • پہلی بیوی: ام ثابت جو سمرۃ بن جندب کی بیٹی تھی اس کے بطن سے مختار کیلئے دو فرزند محمد اور اسحاق متولد ہوئے۔[120]
  • دوسری بیوی: عمرہ جو نعمان بن بشیر کی بیٹی تھی مختار کے بعد مصعب کے ہاتھوں قتل ہوئی۔[121]
  • تیسری بیوی: ام زید الصغری جو سعید بن زید بن عمرو کی بیٹی تھی۔ [122]
  • جوتھی بیوی:أم الولید بنت عمیر بن رباح[123] یہ ام سلمہ بنت مختار کی ماں تھی مختار کی یہ بیٹی عبداللہ بن عمر بن خطاب کی زوجہ تھی۔[124]

اولاد

  • محمد بن مختار جسکی ماں امت ثابت تھی۔[125]
  • اسحاق بن مختار جسکی ماں بھی امت ثابت تھی۔[126]
  • ام سلمہ جسکی ماں امت الولید تھی۔[127]
  • عمر بن مختار جو شہر ری کے شیعوں میں سے تھے اور وہاں کپڑے کے تاجر تھے۔ جب ابو مسلم خراسانی نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو انہیں شہر ری کا گورنر بنایا۔[128]
  • ابو الحکم بن مختار.[129]
  • جبر بن المختار.[130]
  • أمیۃ بن المختار[131]
  • بلال بن مختار: شیخ طوسی "بلال بن مختار" نامی شخص کا نام لیتے ہیں جس کی فرزند کا نام بھی مختار تھا۔[132]بعض نے انہیں بلال بھی کہا ہے۔[133]

مختار کی بارے میں لکھی گئے آثار

کتاب

مختارنامہ

مختارنامہ، ایک فلم کا نام ہے جسے مختار کی زندگی اور اس کے قیام کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ یہ فلم ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہوا اس کے ہدایت کار داود میرباقری تھا۔ یہ فلم ایک ایک گھنٹے کی 40 قسطوں پر مشتمل تھی۔

اس فلم کی پہلی قسط بروز جمعہ ۹ مہر ماہ سنہ ۱۳۸۹ جبکہ آخری قسط ۷ مرداد ماہ سنہ ۱۳۹۰ کو ایران کے سرکاری ٹی وی کے چینل نمبر ایک پر نشر ہوئی [139] اس فلم میں فریبرز عرب نیا نے مختار کا کردار ادا کیا۔

فوٹو گیلری

متعلقہ صفحات

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۶
  2. تاریخ طبری، ج۶ص ۷
  3. وفیات الاعیان، ابن خلکان، ج۴ص ۱۷۲.
  4. معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۲
  5. رجال کشی، ص۱۲۸
  6. الطبقات الکبری،خامسۃ۲،ص:۷۹
  7. المعارف،متن،ص:۴۰۰
  8. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  9. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۱، ص:۳۵۶
  10. ریاحین الشریعۃ، ج۴، ص۲۴۵
  11. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۱، ص:۶۱۶
  12. الإصابۃ، ج‌۱، ص:۵۶۱
  13. الفتوح،ج‌۱،ص:۱۳۴
  14. الإصابۃ،ج‌۱،ص:۵۶۱
  15. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  16. الکامل،ج‌۲،ص:۱۱۱
  17. بحار الأنوار، ج‌۴۵، ص:۳۵۰
  18. اخبارالطوال/ترجمہ،ص:۲۵۰
  19. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۱، ص:۶۲۹
  20. شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام، ص۱۵۹، بہ نقل از: طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج۷، ص۲ و ابن‌اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۳، ص۴۰۴.
  21. معجم الرجال، ج۱۸، ص ۹۷
  22. اعیان الشیعہ، ج ۷، ص ۲۳۰
  23. ذہبی، سیر اعلام النبلا، جلد۳، ص۵۴۴
  24. الکامل،ج‌۴،ص:۳۶
  25. الأخبارالطوال، ص:۲۳۱
  26. ابن قتیبۃ الدینوری، الأخبار الطوال، ص۲۳۱
  27. دینوری، ص۲۳۳
  28. مسعودی، ج ۳، ص۲۵۲
  29. أنساب الأشراف،ج‌۶،ص:۳۷۶
  30. تاریخ الطبری، ج‌۵، ص:۵۶۹
  31. أنساب الأشراف،ج‌۶،ص:۳۷۷
  32. المنتظم،ج‌۶،ص:۲۹
  33. با کاروان حسینی،ج‌۵،ص:۱۴۰
  34. المنتظم،ج‌۶،ص:۲۹
  35. المنتظم،ج‌۶،ص:۲۹
  36. آفرینش و تاریخ/ترجمہ، ج‌۲، ص:۹۰۷
  37. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج‌۲،ص:۳۷
  38. آفرینش و تاریخ/ترجمہ، ج‌۲، ص:۹۱۰
  39. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۲، ص:۴۳
  40. آفرینش و تاریخ/ترجمہ،ج‌۲،ص:۹۱۱
  41. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۲، ص:۴۴
  42. المنتظم،ج‌۶،ص:۲۹
  43. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج‌۲،ص:۴۳
  44. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج‌۲،ص:۴۴
  45. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج‌۲،ص:۴۴
  46. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن، ج‌۲، ص:۴۴
  47. الفخری،ص:۱۲۲
  48. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  49. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  50. آفرینش و تاریخ/ترجمہ، ج‌۲،ص:۹۱۳
  51. أنساب الأشراف،ج‌۶،ص:۳۹۰؛ تاریخ الطبری،ج‌۶،ص:۲۰؛ الفتوح،ج‌۶،ص:۲۳۳
  52. أنساب الأشراف،ج‌۶،ص:۳۷۰
  53. أنساب الأشراف،ج‌۶،ص:۴۰۷
  54. المنتظم،ج‌۶،ص:۶۸
  55. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  56. المعرفۃوالتاریخ،ج‌۳،ص:۳۳۰
  57. الکامل،ج‌۴،ص:۲۷۵
  58. أخبارالدولۃالعباسیۃ،ص:۱۸۲
  59. أنساب‌الأشراف،ج‌۶،ص:۴۴۵
  60. تاریخ الیعقوبی،ج‌۲،ص:۲۶۴
  61. بحار الانوار، ج۴۵ص ۳۴۴
  62. معجم الرجال ج۱۸ص ۹۶
  63. معجم الرجال ج۱۸ص ۹۶
  64. مقاتل الطالبیین،ص:۱۲۴
  65. بحار الأنوار، ج‌۴۵، ص۳۶۵
  66. ریاض الأبرارج‌۱، ص: ۲۹۸
  67. معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۰
  68. تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۶
  69. کشفہ الغمہ، ص۲۵۴
  70. منتہی المقال کملہ مختار
  71. أخبار الدولۃ العباسیۃ، ص:۱۰۰
  72. آفرینش و تاریخ/ترجمہ، ج‌۲، ص:۹۱۱
  73. رجال کشی، ص۱۲۷
  74. تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۴
  75. تنقیح المقال ج۳ص ۲۰۵
  76. تنقیح المقال ج۳ص ۲۰۵
  77. رجال کشی، ص۱۲۷
  78. معجم الرجال ج۱۸ص ۹۶
  79. رجال کشی، ص۱۲۵، ح۱۹۸
  80. معجم الرجال، ج۱۸ص۹۶
  81. علل الشرائع، ج‌۱، ص: ۲۲۱
  82. معجم الرجال ج۱۸ص ۹۷
  83. اعیان الشیعہ ج ۷ص ۲۳۰
  84. تہذیب الأحکام (تحقیق خرسان)، ج‌۱، ص: ۴۶۶
  85. معجم الرجال، ج۱۸ص ۹۷
  86. بحار الأنوار، ج‌۴۵، ص ۳۴۶.
  87. تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۶.
  88. تنقیح المقال ج۳، ص ۲۰۶.
  89. تنقیح المقال ج ۳ص ۲۰۶
  90. معجم الرجال الحدیث، ج۱۸ص ۹۴
  91. معجم الرجال ج۱۸ص ۱۰۰
  92. الغدیر ج۲ص ۳۴۳
  93. جامع الرواہ، ج۲ص ۲۲۱
  94. بحارالانوار، ج۴۵،ص۳۳۹
  95. پيامدہاى عاشورا، ص135.
  96. پيامدہاى عاشورا، ص: 133
  97. | پایگاہ اطلاع رسانی شیخ نجم الدین طبسی
  98. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  99. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  100. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  101. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار؛دیدگاہ محسن الویری، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  102. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار؛ دیدگاہ محمد رضا بارانی، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  103. کمال الدین نصرتی، دیدگاہ مورخین معاصر شیعی دربارہ مختار؛ دیدگاہ نعمت اللہ صفری فروشانی، دانشگاہ ادیان و مذاہب.
  104. أسدالغابۃ،ج‌۴،ص:۳۴۷
  105. الأنساب،ج‌۳،ص:۱۴۰
  106. الاستیعاب،ج‌۳،ص:۹۰۹؛ أسدالغابۃ،ج‌۳،ص:۱۴۱
  107. تاریخ الإسلام،ج‌۵،ص:۲۲۶؛ الطبقات الکبری، ج‌۸،ص:۲۰۰
  108. المعرفۃوالتاریخ،ج‌۲،ص:۶۱۸
  109. الطبقات الکبری،ج‌۶،ص:۱۶۸
  110. إمتاع الأسماع،ج‌۱۴،ص:۱۵۷
  111. تاریخ ابن خلدون/ترجمہ متن،ج‌۱،ص:۳۵۶
  112. انساب الاشراف، ج ۶ص۴۰۳
  113. انساب الاشراف ج ۶ص۴۱۸
  114. انساب الاشراف ج۶ص۴۱۸
  115. انساب الاشراف ج ۳ص ۲۸۷
  116. آفرینش وتاریخ/ترجمہ،ج‌۲،ص:۸۲۰
  117. تنقیح المقال، ج۳ص ۲۰۵و۲۰۶
  118. معجم الرجال، ج۱۸ص ۱۰۲و ۱۰۳
  119. الغدیر، ج۱ص ۳۴۳
  120. المعارف،متن،ص:۴۰۲
  121. مروج الذہب، ج۳ص ۹۹
  122. المحبر،ص:۷۰
  123. الطبقات الکبری،ج‌۸،ص:۳۴۶
  124. الطبقات الکبری،ج‌۸،ص:۳۴۶
  125. المعارف،متن،ص:۴۰۲
  126. المعارف،متن،ص:۴۰۲
  127. الطبقات الکبری،ج‌۸،ص:۳۴۶
  128. أخبارالدولۃالعباسیۃ،ص:۲۶۲
  129. تاریخ الإسلام،ج‌۱۷،ص:۱۰۵
  130. جمہرۃأنساب العرب،متن،ص:۲۶۸
  131. جمہرۃأنساب العرب،متن،ص:۲۶۸
  132. رجال الطوسی، ص: ۵۶۸
  133. رجال الطوسی، ص: ۴۳۷
  134. الأعلام،ج‌۵،ص:۲۴۵
  135. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج ۱،ص۳۷۰.
  136. بحارالانوار. ج ۴۵،ص۳۴۷ ۳۹۰.
  137. مہدی غلامعلی، مجتبی غریب، مختار ثقفی در گسترہ آثار رجالیان، مجلہ حدیث اندیشہ، شمارہ ۱۰ -۱۱، ص۷۷.
  138. معالم العلماء، ابن شہر آشوب (م ۵۸۸ ق)، ص۱۱۷.
  139. .«مختارنامہ». سیمافیلم، ۳ آذر ۱۳۸۷.

مآخذ

  • ابن اثیر، ابوالحسن علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت،‌دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹.
  • ابن اثیر، ابوالحسن علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌دار صادر -‌دار بیروت، ۱۳۸۵/۱۹۶۵.
  • ابن اعثم کوفی، احمد الکوفی، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۱/۱۹۹۱.
  • ابن بابویہ، محمد بن علی علل الشرایع، کتاب فروشی داوری، قم ۱۳۸۵ش / ۱۹۶۶ م.
  • ابن جوزی، أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد (م ۵۹۷)، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • ابن حبیب، ابوجعفر محمدبن حبیب بن امیہ، کتاب المحبر، تحقیق ایلزۃ لیختن شتیتر، بیروت،‌دار الآفاق الجدیدۃ.
  • ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی (م ۸۵۲)،الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۵/۱۹۹۵.
  • ابن حزم،: جمہرۃ أنساب العرب، تحقیق لجنۃ من العلماء، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۰۳/۱۹۸۳
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن خلدون، مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ محمد پروین گنابادی، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی،چ ہشتم، ۱۳۷۵ش.
  • ابن قتیبہ ابومحمد عبداللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق ثروت عکاشۃ، القاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، ط الثانیۃ، ۱۹۹۲.
  • ابن سعد، محمد بن سعد بن منیع الہاشمی، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبد القادر عطا، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰.
  • ابن طقطقی، محمد بن علی بن طباطبا، الفخری فی الآداب السلطانیۃ و الدول الاسلامیۃ، تحقیق عبد القادر محمد مایو، بیروت،‌دار القلم العربی، ط الأولی، ۱۴۱۸/۱۹۹۷.
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق سید احمد صقر، بیروت،‌دار المعرفۃ، بی‌تا.
  • بینش، عبدالحسین، با کاروان حسینی(ترجمہ مع رکب الحسینی)، زمزم ہدایت، قم، ۱۳۸۶ش.
  • دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داود(م۲۸۳)اخبار الطوال، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی، تہران، نشر نی، چ چہارم، ۱۳۷۱ش.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ،‌دار التعارف، بیروت، ۱۴۰۶ق.
  • بسوی، ابویوسف یعقوب بن سفیان، کتاب المعرفۃ و التاریخ، تحقیق اکرم ضیاء العمری، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، ط الثانیۃ، ۱۴۰۱/۱۹۸۱.
  • البلاذری أحمد بن یحیی بن جابر(م ۲۷۹)، کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت،‌دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶.
  • جمعی از نویسندگان، پیامدہای عاشورا، زمزم، قم، 1387
  • خویی، ابو القاسم، ۱۳۷۲، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواہ، مرکز نشر الثقافہ الاسلامیہ، قم.
  • دینوری،ابو حنیفہ احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال،قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داود،اخبار الطوال، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی، تہران، نشر نی، چ چہارم، ۱۳۷۱ش.
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، سیراعلام النبلاء، مؤسسہ الرسالہ، بیروت، ۱۴۱۰، چاپ ہفتم.
  • ذہبی،شمس الدین محمد بن احمد(م ۷۴۸)، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبد السلام تدمری، بیروت،‌دار الکتاب العربی، ط الثانیۃ، ۱۴۱۳/۱۹۹۳.
  • زرلکی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌دار العلم للملایین، ط الثامنۃ، ۱۹۸۹.
  • سمعانی، أبو سعید عبد الکریم بن محمد بن منصور التمیمی،الأنساب، تحقیق عبد الرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدر آباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانی.
  • طبری، ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، أبو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰)، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت،‌دار التراث، ط الثانیۃ، ۱۳۸۷/۱۹۶۷.
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام،‌دار الکتب الإسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ ق.
  • طوسی، محمد بن حسن(۴۶۰ق)، رجال طوسی، مؤسسہ نشراسلامی متعلق بہ جامعہ مدرسین، قم، ۱۳۷۳ش.
  • کریوتلی، علی حسین، آینہ عصر اموی یا مختار ثقفی، ترجمہ ابو الفضل طباطبائی،تہران،پدیدہ، ۴۴۳۱ حبیبی.
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی- إختیار معرفۃ الرجال، مؤسسۃ نشر دانشگاہ مشہد، مشہد، ۱۴۰۹ ق،چاپ اول.
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال،مطبعہ المرتضویہ، نجف.۱۳۴۹ق.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی(۱۱۱۰)ق، بحار الانوار،‌دار إحیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۰۳ ق.
  • مجہول(ق ۳)، أخبار الدولۃ العباسیۃ و فیہ أخبار العباس و ولدہ، تحقیق عبد العزیز الدوری و عبد الجبار المطلبی، بیروت،‌دار الطلیعۃ، ۱۳۹۱.
  • المسعودی، أبو الحسن علی بن الحسین بن علی (م ۳۴۶)، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم،‌دار الہجرۃ، چ دوم، ۱۴۰۹.
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، آفرینش و تاریخ، ترجمہ محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چ اول، ۱۳۷۴ش.
  • مقریزی،تقی الدین أحمد بن علی(م ۸۴۵) إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، تحقیق محمد عبد الحمید النمیسی، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۲۰/۱۹۹۹.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌دار صادر، بی‌تا.
  • جزائری، نعمت اللہ بن عبد اللہ (۱۱۱۲ ق)، ریاض الأبرار فی مناقب الأئمۃ الأطہار، مؤسسۃ التاریخ العربی، بیروت، ۱۴۲۷ ق- ۲۰۰۶ م، چاپ اول.
  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، بیروت،‌دار الاضواء، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق.
  • علامہ مجلسی، بحار الأنوار، تحقیق: محمد باقر محمودی/ عبدالزہراء علوی، بیروت‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • ابن شہر آشوب، معالم العلماء، مشہد، مؤسسہ آل البیت(ع)، ۱۳۹۰ش.
  • مہدی غلامعلی، مجتبی غریب، مختار ثقفی در گسترہ آثار رجالیان، مجلہ حدیث اندیشہ، سال پنجم و ششم، شمارہ ۱۰-۱۱.