بلال حبشی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بلال بن رباح، جو کہ بلال حبشی کے نام سے مشہور ہیں. وفات، ١٧ سے ٢١ ق( حضرت پیغمبراکرم(ص) کا صحابی اور موذن) جن کا شمار اسلام لانے والے پہلے افراد میں ہوتا ہے. حضرت پیغمبر(ص) کے زمانے میں بیت المال کا خزانے دار تھا اور آپ(ص) کے ہمراہ تمام جنگوں میں شرکت کی. بلال حضرت پیغمبر(ص) کی رحلت کے چند سال بعد زندہ رہا، لیکن اس دوران، فقط چند بار سے زیادہ کسی کے لئے اذان نہ کہی. اور آپ کو دمشق کے باب الصغیر قبرستان میں دفن کیا گیا.

کنیت اور دوسری ظاہری نشانیاں

بلال کا خاندان اصل میں نوبہ (سودان کے شمال اور مصر کے جنوب کا علاقہ) سے ہے. [1] بلال کا والد حبشہ کا اسیر تھا. [2] اور وہ خود بنی جمح یا سراہ کے (جو کہ مکہ میں رہائش پذیر تھے) غلام خاندان میں پیدا ہوا. [3] بعض نے بلال کی سن ولادت کو عام الفیل کے تین سال بعد کہا ہے. [4] چونکہ آپ کی مادر گرامی کا نام حمامہ تھا، اس لئے آپ ابن حمامہ سے مشہور ہوئے.[5] آپ کی مشہور کنیت ابوعبداللہ تھی اور اس کے علاوہ اور کنیت بھی ذکر کی گئی ہیں. [6] اور آپ کی نسبت حبشی، قرشی اور تیمی ہے. [7] بلال کا قد لمبا ، جسم دبلا، رنگ تیز گندمی، جھکی ہوئی کمر، لمبے اور بھورے بال ، اور چہرہ ملائم ونازک تھا.[8]

اسلام میں سبقت

آپ کا شمار سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں ہوتا ہے. [9] آپ نے اس راہ میں کفار مکہ سے بہت اذیتیں برداشت کیں، بالخصوص امیہ بن خلف سے جو کہ آپ کا مالک تھا لیکن پھر بھی اپنے دین کو نہ چھوڑا. [10]

غلامی سے آزادی

بلال کئی مہینے رنج اور مشقت کو برداشت کرنے کے بعد خریداری اور آزاد ہوا. بعض نے کہا ہے کہ بلال کو حضرت ابوبکر نے آزاد کیا تھا، لیکن تاریخ میں یہ قابل قبول نہیں ہے، ابو جعفر اسکافی، استاد ابن ابی الحدید، واقدی، ابن اسحاق اور دوسرے قول کے مطابق بلال کو حضرت پیغمبر(ص) نے آزاد کیا ہے. [11] شیخ طوسی [12] ابن شہر آشوب [13] نے بھی بلال کو حضرت پیغمبر(ص) کا آزاد شدہ کہا ہے. اور حضرت پیغمبر(ص) کا یہ جملہ کہ اگر میرے پاس دولت ہوتی تو میں بلال کو خرید کر آزاد کرتا[14] تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ حضرت خدیجہ(س) نے اپنی تمام دولت کو حضرت پیغمبر(ص) کے حوالے کیا ہوا تھا تا کہ اسے راہ خدا میں خرچ کریں، اور اس کے علاوہ حضرت ابو بکر کی معاشی حالت یہ نہ تھی کہ ایک غلام کو تشدد سے نکال کر خریداری اور آزاد کریں. [15]

حضرت پیغمبر(ص) کا قریبی دوست

بلال آزادی کے بعد مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گیا اور اسلام کا پہلا موذن و سفر اور وطن میں حضرت پیغمبر اکرم(ص) کی ہمراہی کی [16] آپ حضرت پیغمبر(ص) کے دوست اور رفیق تھے.[17] بلال حضرت پیغمبر(ص) کے بیت المال کا خزانچی (خزانے دار) بھی تھا.[18] اور وہ تمام جنگوں میں حضرت رسول خدا(ص) کے ہمراہ تھا. [19] جنگ بدر میں بلال کے اشارے پر، امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے. [20] اور بعض قول کے مطابق، امیہ کو خود بلال نے قتل کیا. [21] پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ میں، بلال اور عبداللہ بن عبدالرحمان خثعمی کے درمیان اخوت (بھائی چارگی) کا صیغہ پڑھا. [22]ابن ہشام کے قول کے مطابق (وفات ٢١٨ق) اس کے دور تک حبشہ اور خثعم کا دیوان ایک ہی تھا.[23]اور بعض نے کہا ہے عبیدہ بن حارث [24] یا ابو عبیدہ جراح [25] کے ساتھ صیغہ اخوت پڑھا گیا تھا اور شاید یہ پیمان اخوت ہجرت سے پہلے مدینہ میں ہو.

مؤذن

حضرت پیغمراکرم(ص) کے زمانے میں

بلال اسلام کا پہلا مؤذن تھا. کہا جاتا ہے کہ شین کو سین کہتا تھا اور روایت میں آیا ہے کہ بلال کا سین خداتعالیٰ کی نگاہ میں شین ہے. [26] فتح مکہ کے دن بلال پیغمبر اکرم(ص) کے حکم سے کعبہ کی چھت پر گیا اور بلند آواز میں اذان کہی، کفار مکہ اس واقعہ سے بہت ناراض ہوئے. [27]

حضرت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد

بلال نے حضرت پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد، صرف چند مرتبہ اذان دی. [28] ایک بار حضرت فاطمہ(س) کی فرمائش پر، لیکن چونکہ آپ(س) کو اپنے بابا کے بعد ڈھائے گئے ظلم کی یاد آ گئی اور اس پریشانی کی شدت سے آپ(س) تاب نہ لا سکیں، جس کی وجہ سے بلال نے ناچار اذان کو ناتمام چھوڑ دیا. [29] اس کے علاوہ ایک بار، جب حضرت پیغمبر(ص) کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ آیا اور حسنین(ع) نے آپ سے اذان کی درخواست کی اور آپ نے یہ درخواست قبول کی، مدینہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا. [30] آخری بار جب دوسرا خلیفہ مدینہ سے شام گیا (طبری کے قول کے مطابق سنہ ١٧ ہجری) جادیہ کے مقام پر مسلمانوں نے بلال سے درخواست کی کہ اذان پڑھے، اس پر آپ نے یہ دعوت قبول کی اور سب رسول خدا(ص) کے زمانے کو یاد کر کے رونے لگے. [31] اکثرمآخذ میں بلال کی پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد اذان نہ دینا اور مدینہ سے شام جانے کی وجہ جہاد کی فضیلت جاننا اور مجاہدین کے گروہ میں شامل ہونا ہے اور آپ کی شام سے ہجرت ابوبکر کی حکومت [32] یا عمر بن خطاب کی حکومت [33] کے وقت کہی گئی ہے لیکن بلال کی جنگ میں شرکت یا فتح کرنے کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملتی.[34]اور بعض قول کے مطابق حضرت پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد بعض مقام پر پیش آنے والے واقعات پر اعتراض کرنے کے بعد وہ شام کی طرف چلے گئے.[35]

احادیث پیغمبر اکرم(ص) کا راوی

بلال حدیث کا راوی بھی تھا صحابہ اور تابعان کی ایک جماعت نے آپ سے حدیث نقل کی ہے. [36]مثال کے طور پر، حضرت پیغمبر اکرم(ص) سے اذان کی فضیلت کو نقل کیا ہے. [37]

بلال کا مقام و منزلت

بلال کی قدروجلالت کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) سے بہت حدیث بیان ہوئی ہیں، یہ کہ بلال کا شمار اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سے ہے. [38] وہ تمام مؤذنوں کے سردار ہیں. [39] بہشت تین افراد کا مشتاق ہے: علی، عمار اور بلال. [40] تین کالی رنگت کے افراد جنت کے سردار ہیں: لقمان حکیم، نجاشی اور بلال.[41] اور حضرت فاطمہ(س) کے ساتھ گھر کے امور میں مدد کرنے کی وجہ سے حضرت پیغمر(ص) نے بلال کو دعا دی. [42] حضرت علی(ع) کی نگاہ میں بھی بلال اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سے تھے. [43] اور یہ کہ آپ ایک باتہذیب اور با اخلاص فرد تھے. [44]امام سجاد(ع) نے بلال کا امیرالمومنین(ع) کے فضائل کو بیان کرنا اور مخالفین کا اس پر اعتراض کرنے کے بارے میں مطالب بیان کئے ہیں. [45] امام صادق(ع) نے بلال کو عبد صالح.[46]اور اہل بیت(ع) کا دوست کہا ہے. [47] مفسرین کے قول کے مطابق، بلال کی شان ومنزلت کے بارے میں کچھ آیات نازل ہوئی ہیں: نساء، آیت ٦٩، [48] انعام، آیت ٥٢، [49] نحل، آیت ١١٠، [50] کہف، آیت ٢٨، [51] اور حجرات، آیت ١١،١٢. [52]

شادی اور اولاد

بلال کی شادی کے بارے میں گزارشات مختلف ہیں، بلاذری کی گزارش کے مطابق بلال نے بنی زہرہ کی ایک لڑکی سے شادی کی اور اسی کی دوسری گزارش کے مطابق آپ نے بنی کنانہ کی ایک لڑکی سے شادی کی.[53] اور کہا گیا ہے کہ بلال نے اپنے بھائی کے ہمراہ یمن کے سفر کے دوران، شادی کا ارادہ کیا. رشتہ مانگتے وقت اپنا تعارف یوں کروایا: میں بلال اور یہ مرد، میرا بھائی، ہم دونوں حبشہ کے غلام تھے، اور ہم گمراہ تھے اور خدا نے ہمیں ہدایت کی ہے. غلام تھے اور خدا نے ہمیں آزاد کیا ہے. اگر اپنی بیٹیوں کا رشتہ ہمیں دیں تو، الحمد للہ اور اگر نہ دیں تو اللہ اکبر لڑکی کے گھر والے اس سے پہلے کہ بلال کو کوئی جواب دیں رسول خدا(ص) کے پاس گئے، اور سارا ماجرا بیان کیا، اور آپ(ص) نے رائے مانگی. آپ(ص) نے تین بار بلال کے بارے میں رائے دی اور فرمایا: کہ اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے، کہ وہ اہل بہشت سے ہے. [54] بعض قول کے مطابق بلال کا کوئی فرزند نہ تھا. [55] لیکن سخاوی نے اپنی کتاب میں بلال کے بیٹے عمر، کو راوی کے عنوان سے ذکر کیا ہے. [56] ابن کثیرنے بھی ایک شخص ہلال بن عبد الرحمن کا ذکر کیا ہے کہ وہ سلیمان بن بلال جو کہ پیغمبر(ص) کے مؤذن تھے ان کی نسل سے تھا. [57]

وفات

بلال کا مقبرہ باب الصغیر کے قبرستان میں

اکثر منابع کے مطابق آپکی وفات سنہ ٢٠ ہجرت کے بعد دمشق میں ہوئی ہے. [58] لیکن سنہ ١٧،١٨، اور ٢١ بھی ذکر ہوئے ہیں. [59] اور کچھ منابع میں بیان ہوا ہے کہ آپ طاعون کی بیماری سے دنیا سے گئے ہیں.[60] مشہور قول کے مطابق آپ دمشق میں باب الصغیر قبرستان میں مدفن ہیں. [61]اور بعض نے کہا ہے کہ آپ باب کیسان داریا اور باب الاربعین حلب میں دفن ہوئے ہیں. [62] لیکن ایک قول ہے کہ جو حلب میں مدفن ہے وہ بلال کا بھائی خالد ہے. [63] آپکی عمر کو وفات کے وقت ٦٠ سال سے زیادہ کہا گیا ہے اور کچھ منابع میں ٦٣، ٦٤ اور ٧٠ کہا گیا ہے. [64]

حوالہ جات

  1. الوافی، ج‌۲۱، ص: ۱۱۴
  2. ابن اثیر، الکامل، ج۱، ص۶۶
  3. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۵۰۵؛ ابن سعد، ج۳، ص۲۳۲
  4. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن عبدالبرّ، ج۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۵
  5. بن اسحاق، کتاب السیره، ص۱۹۱؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۷۹؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۱، ص۳۲
  6. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۲؛ ابن قتیبہ، ص۸۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۷۸؛ طوسی، رجال، ص۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۲۹؛ نَووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء ۱، ص۱۳۶
  7. نووی، تہذیب الاسماء، قسم ۱، جزء۱، ص۱۳۶؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۹۰
  8. بن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸-۲۳۹؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۰
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۴، ص۲۱۵؛ ابن حنبل، مسند، ج۱، ص۴۰۴؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۳۱۵
  10. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۲۱۰۲۱۱؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۵۲؛ ابونُعَیم، حلیه الاولیاء، ج۱، ص۱۴۸
  11. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۳، ص۲۷۳؛ تستری، قاموسی الرجال، ج۲، ص۳۹۳
  12. طوسی، رجال، ص
  13. ابن شہرآشوب، مناقب، ج۱، ص۱۷۱
  14. ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۱؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۱، ص۲۴۳؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۲
  15. عاملی، الصحیح، ج۲، ص۳۶-۳۸، ۲۷۷-۲۸۳؛ نیز درباره اختلافات روایی در این خصوص، نک: ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۲۱۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۱؛ ابن اثیر، الکامل، ج ۲، ص۶۶-۶۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۲
  16. ابن اسحاق، کتاب السیره، ص۲۹۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۲، ص۱۳۶-۱۳۷، ۱۷۷-۱۷۹، ج ۳، ص۲۳۴؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۶۶-۶۷
  17. بن حنبل، مسند، ج۱، ص۱۴۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۵۲
  18. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۳
  19. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۹؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۷۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳
  20. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۵۳۱؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۵۲-۴۵۳
  21. ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۲؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۳
  22. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۳۵۵
  23. ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۳۵۶؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸
  24. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۵۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ۱۷۸
  25. نووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۱، ص۳۲۶
  26. قمی، منتہی الآمال، ص۲۹۲
  27. طبرسی، مجمع البیان، ج۵، ص۱۳۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ۴۶۶؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج۱، ص۹۷-۹۸، ۱۶۳-۱۶۴
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۶-۲۳۷؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج۱، ۱۸۴؛ مفید، الاختصاص، ص۷۳
  29. ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج۱، ص۱۹۴
  30. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۱، ص۲۴۴-۲۴۵؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۸۹
  31. ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ طبری، تاریخ، ج۴، ص۶۵-۶۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۰-۴۷۱
  32. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۶-۲۳۷؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابونعیم، حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۱۵۰-۱۵۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۸۱
  33. ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۰-۱۸۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۷؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
  34. امین، اعیان الشیعہ، ج ۳، ص۶۰۵
  35. نوری، نفس الرحمان، ص۳۷۹؛ قمی، سفینہ البحار، ج۱، ص۱۰۴۱۰۵
  36. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۷، ص۵۰۹؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۸۰؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۲۹، ۴۳۵؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶-۱۳۷؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۸۸-۲۸۹
  37. ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، ج ۱، ص۱۸۹-۱۹۴؛ فتّال نیشابوری، روضه الواعظین، ج۲، ص۳۴۳-۳۴۵
  38. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۲؛ ابونعیم، حلیہ الاولیاء، ج۱، ص۱۴۹
  39. ابونعیم، حلیه الاولیاء، ج۱، ص۱۴۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۵
  40. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۵۱؛ صفدی، کتاب الوافی، ج ۱۰، ص۲۷۶
  41. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۲
  42. ورّام، ج۲، ص۲۳۰
  43. ابن بابویہ، الخصال، ج ۱، ص۳۱۲؛ فتّال نیشابوری، روضہ الواعظین، ج۲، ص۳۰۷
  44. ابن فہد حلّی، عده الداعی، ص۲۷
  45. تفسیر امام حسن عسکری(ع)، ص۶۲۱-۶۲۳
  46. کشّی، اختیار معرفہ الرجال، ص۳۹
  47. مفید، الاختصاص، ص۷۳
  48. ابن شہرآشوب، مناقب، ج۳، ص۸۷
  49. طوسی، التبیان، ج۴، ص۱۴۴؛ زمخشری، الکشّاف، ج۲، ص۲۷؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۳، ص۳۸۷-۳۸۸؛ ابوالفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان، ج۷، ص۱۴۹
  50. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۴۸؛ طوسی، التبیان، ج۶، ص۴۳۱
  51. صفدی، کتاب الوافی، ج۱۰، ص۲۷۶
  52. زمخشری، الکشّاف، ج۴، ص۳۷۰؛ ابوالفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان، ج۱۰، ص۲۵۳؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۵، ص۱۳۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۶
  53. أنساب‌الأشراف،ج‌۱،ص:۱۸۹(چاپ‌زکار،ج‌۱،ص:۲۱۴)
  54. أسدالغابۃ،ج‌۱،ص:۵۷۱
  55. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج ۱۰، ص۴۳۱؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
  56. سخاوی، التحفہ اللطیفہ، ص۲۱
  57. البدایہ والنہایہ، ج۱۲، ص۱۹۵
  58. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ طبری، تاریخ، ج۴، ص۱۱۲؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۸۴
  59. طوسی، رجال، ص۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳، ۴۷۶-۴۷۹؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
  60. طوسی، رجال، ص۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۶؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۹۰؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۱، ص۳۲۷
  61. طوسی، رجال، ص۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳، ۴۷۶-۴۷۹
  62. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج ۱۰، ص۴۸۰؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم ۱، جزء۱، ص۱۳۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۹-۳۶۰
  63. مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۹۱
  64. ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم ۱، جزء۱، ص۱۳۷؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج ۴، ص۲۹۰


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہره، ۱۳۸۵-۱۳۸۷ق/۱۹۶۵-۱۹۶۷م، چاپ افست بیروت، [بی تا].
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، چاپ محمد ابراہیم بنا و محمد احمد عاشور، قاہره، ۱۹۷۰-۱۹۷۳م.
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، ۱۳۹۹-۱۴۰۲/۱۹۷۹-۱۹۸۲.
  • ابن اسحاق، کتاب السیره، چاپ سہیل زکار، بیروت، ۱۳۹۸ق.
  • ابن بابویہ، کتاب الخِصال، چاپ علی اکبر غفاری، قم، ۱۳۶۲ش.
  • ابن بابویہ، من لایحضره الفقیہ، چاپ علی اکبر غفاری، بیروت، ۱۴۰۱ق.
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، چاپ علی محمد بجاوی، بیروت، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، بیروت، [بی تا].
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم، [۱۳۷۹ق].
  • ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، چاپ علی محمد بجاوی، قاہره، [۱۳۸۰ق/۱۹۶۰م].
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • ابن فہد حلّی، عدّه الدّاعی و نَجاحُ السَّاعی، چاپ احمد موحدی قمی، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷م.
  • ابن قتیبہ، کتاب المعارف، چاپ فردیناد ووستنفلد، گوتینگن، ۱۸۵۰ق.
  • ابن ہشام، السیره النبویہ، چاپ سہیل زکار، بیروت، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، تفسیر روح الجِنان، چاپ ابوالحسن شعرانی و علی اکبر غفاری، تہران، ۱۳۸۲-۱۳۸۷ق.
  • ابونعیم، احمد بن عبدالله، حلیہ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • امام عسکری، حسن بن علی(ع)، التفسیر، قم، ۱۴۰۹ق.
  • امین، محسن، اعیان الشیعہ، چاپ حسن امین، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، ۱۴۱۰ق.
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، بیروت، [بی تا].
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، چاپ حسین اسد، بیروت، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۲م.
  • زرگري‌نژاد، غلامحسين، تاريخ صدراسلام، تہران، انتشارات سمت، ۱۳۸۷.
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشّاف، چاپ صطفی حسین احمد، بیروت، ۱۴۰۶ق.
  • سخاوی، محمد، التحفہ اللطیفہ، بیروت، ۹۹۳م.
  • صفدی، خلیل بن ایبک، کتاب الوافی بالوفیات، چاپ جاکلین سویلہ و علی عماره، ویسبادن، ۱۴۰۰ق/۱۹۸۰م.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، چاپ احمد عارف زین، صیدا، ۱۳۳۳-۱۳۵۶/۱۹۱۴-۱۹۳۷.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الامم و الملوک، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، [۱۳۸۲-۱۳۸۷/۱۹۶۲-۱۹۶۷].
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، قم، ۱۴۰۹ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، نجف، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۱م.
  • عاملی، جعفر مرتضی، الصحیح من سیره النبی الاعظم، قم، ۱۴۰۳ق.
  • فتّال نیشابوری، محمد بن حسن، روضہ الواعظین، چاپ حسین اعلمی، بیروت، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبہ الله، الخرائج و الجرائح، قم، ۱۴۰۹ق.
  • قمی، شیخ عباس، سفینہ البحار فی مدینہ الحکم و آلاثار، بیروت، دار الاسوه، چاپ دوم، ۱۴۱۶ق.
  • قمی، عباس، منتہی الآمال ، قم، دلیل، ۱۳۷۹ش.
  • کشّی، محمد بن عمر، اختیار معرفہ الرجال، [تلخیص] محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • مُزّی، یوسف بن عبدالرحمان، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، چاپ بِشار عوّاد معروف، بیروت، ۱۴۰۳-۱۴۰۵ق/۱۹۸۳ق-۱۹۸۵م.
  • مفید، محمد بن محمد، الاختصاص، چاپ علی اکبر غفاری، قم، [بی تا].
  • نوری، حسین بن محمدتقی، نَفَسُ الرحمان فی فضائل سلمان (رض) ، چاپ جواد قیومی، تہران، ۱۳۶۹ش.
  • نووی، یحیب بن شرف، تہذیب الاسماء و اللغات، تہران، [بی تا].