سلیم بن قیس ہلالی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ابو صادق سُلَیم بن قیس ہلالی عامری کوفی شیعوں کے پہلے چار ائمہ کے خاص اصحاب خاصّ میں سے تھے۔ انہوں نے امام باقر(ع) کو بھی درک کیا ہے۔ آپ قدیم شیعہ علماء اور بزرگان نیز ائمہ معصومین(ع) کے مورد اعتماد اور ائمہ کے ہاں ایک خاص محبوبیت رکھتے تھے۔ انکی طرف ایک کتاب (کتاب سلیم بن قیس ہلالی) بھی منسوب کی جاتی ہے جس میں فضایل اہل بیت(ع) اور پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد کے حوادث کے بارے میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ بہت سارے شیعہ علماء نے ان کی مدح اور تعریف کی ہیں اس کے باوجود ان کی شخصیت کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں یہاں تک کہ بعض محققین نے ان کی وجود خارجی کا ہی انکار کیا ہے۔

ولادت و نسب

ان کا نام سلیم، والد کا نام قیس اور کنیت ابا صادق ہے۔ [1] ان کا تعلق بنی ہلال بن عامر سے ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم خلیل اللہ(ع) کی نسل سے ہیں اور حجاز کے اطراف میں ساکن تھے اور بعد میں شام اور عراق میں آباد ہو گئے۔

آپ کی ولادت ہجرت سے دو سال قبل کوفہ میں ہوئی یوں پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے وقت ان کی عمر بارہ سال تھی۔

سلیم بن قیس ہلالی پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ نیز ابوبکر کی خلافت کے دور میں بھی مدینہ میں نہیں تھا اسی وجہ سے سقیفہ اور حضرت زہرا(س) کی شہادت کے واقعات کو شخصا درک نہیں کیا۔[2]

حالات زندگی

دوران نوجوانی و جوانی

آپ نوجوانی کے ایام میں تقریبا 15 سال کی عمر میں عمر کے دور خلافت کے ابتدائی ایام میں مدینہ میں داخل ہوئے۔

25 سال کی عمر میں حج پر چلا گیا اور وہاں پر خانہ کعبہ کے پاس ابوذر کا خطبہ سنا اور اسے تحریر کی۔ اس کے بعد دوبارہ مدینہ واپس آیا اور وہیں مقیم ہوئے یہاں تک کہ سنہ ۳۴ ہجری قمری میں ابوذر کو ربذہ کے مقام پر جلاوطن کیا گیا۔ ابوذر کی عیادت کے بہانے ربذہ گیا اور وہاں ابوذر سے بہت سارے مطالب کے بارے میں سوالات کئے اور ان کا جواب دریافت کیا۔

عثمان کے دور خلافت میں

سنہ 23 ہجری قمری عثمان تخت خلافت پر پہنچا۔ اس زمانے میں سلیم بن قیس امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے اور مخفیانہ احادیث اور تاریخی واقعات کو ثبت کرنے کا اپنے پروگرام کو جاری رکھا۔ حالنکہ احادیث کی کتابت کے اوپر "عمر" نے جو پابندی لگائی تھی وہ ابھی بھی باقی تھی بلکہ اس میں مزید شدت آگئی تھی۔

عثمان کے دور خلافت میں بھی "ابوذر" اور "مقداد" وغیرہ سے ان کا گہرا رابطہ تھا جبکہ سلمان کے ساتھ ان کا کئی سالوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا یہاں تک کہ سنہ ۱۶ ہجری قمری کو سلمان مدائن چلا گیا اور وہیں پر رحلت کر گئے۔

امیر المؤمنین(ع) کے دور خلافت میں

سنہ ۳۵ ہجری قمری میں جب امیر المؤمنین حضرت علی(ع) نے خلافت کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو اس وقت بھی سلیم بن قیس جہاں قلم کے ذریعے حق کی نصرت میں مصروف تھے وہاں ضرورت پڑنے پر تلوار لے کر میدان جنگ میں بھی جہاد کیلئے پیش پیش رہے اور شرطۃ الخمیس جو امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے جانثاران میں سے تھے میں شامل ہو گئے اور اس دوران بھی میدان جنگ کی تمام روئداد کو قلمبند کرتے رہے۔[3]

جنگ جمل میں حاضری

سلیم بن قیس حضرت علی(ع) کے ساتھ مدینہ سے بصرہ آیا اور جنگ جمل کی ابتداء سے انتہا تک حضرت علی(ع) کے جانثاروں کی صف میں امام(ع) کی حفاظت اور آپ کے دشمنوں کے ساتھ جنگ میں مصروف رہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں جنگ جمل میں امام(ع) کے سپاہیوں کی تعداد، خصوصیات، جنگ کی کیفیت اور جنگ کے بعد بصرہ میں رونما ہونے والے واقعات حتی جنگ میں دئے جانے والے امام علی(ع) کے خطبات تک کو قلمبند کیا۔ [4]

جنگ صفین میں حاضری

سنہ ۳۶ ہجری قمری میں سلیم بن قیس امیرالمؤمنین(ع) کے ساتھ بصرہ سے کوفہ آیا اور وہاں سے آپ(ع) کے لشکر کے صف اول جنگجوں میں شامل ہو کر صفین کی طرف روانہ ہوا اور اس جنگ کے آخر تک میدان جنگ میں حاضر رہے جو سنہ ۳۸ ہجری قمری تک یعنی 17 مہینے جاری رہی۔ "یوم الہریر" جو اس جنگ کا آخری اور سب سے شدید اور سخت دن تھا اور ایک دن اور رات میں 70 ہزار سے زیادہ افراد قتل ہوئے، میں بھی انہوں نے حصہ لیا جبکہ اس وقت ان کی عمر 40 سال سے بھی زیادہ تھی۔

انہوں نے اپنی کتاب میں حضرت علی(ع) کا معاویہ کو بھیجے گئے خطوط کو نہایت دقیق انداز میں ثبت اور آپ کے تمام خطبوں کو قلمبند کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یوم الہریر کے جنگ کی کیفیت، قرآن کو نیزوں پر بلند کرنے کا واقعہ اور مسئلہ حکمیت کو من و عن اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح صفین سے واپسی پر ایک عیسائی راہب کا مسلمان ہونے اور حضرت عیسی(ع) کی کتابوں کو امیرالمؤمنین(ع) کی تحویل میں دینے کے واقعے کو بھی اپنی کتاب میں تفصیل سے درج کیا ہے۔

سنہ ۳۸ ہجری قمری کے اواخر میں سلیم بن قیس امام سجّاد(ع) کی زیارت سے مشرّف ہوئے جس وقت آپ(ع) شیرخوارگی کے ایام میں امام علی(ع) کے دربار میں موجود تھے۔ اس کے بعد وہ مدائن چلا گیا اور وہاں انہوں نے حذیفہ یمانی سے ملاقات کی۔ [5]

جنگ نہروان سے شہادت امیر المؤمنین(ع) تک

سنہ 40 ہجری قمری میں جنگ نہروان کا واقعہ پیش آیا۔ سلیم بن قیس ہلالی بھی اس جنگ میں حاضر تھے اور انہوں نے اس جنگ کے واقعات کو اپنی کتاب میں ثبت کیا ہے۔ جنگ نہروان کے بعد انہوں نے امیرالمؤمنین(ع) کے ساتھ کوفہ کا رخ کیا اور معاویہ کے ساتھ ایک نئی جنگ کیلئے تیاری شروع کی لیکن اسی سال ماہ رمضان میں حضرت امیر(ع) کی شہادت واقع ہوئی جس سے یہ جنگ ہمیشہ کیلئے ملتوی ہو گئی۔

آپ چونکہ امیر المؤمنین(ع) کے خاص اصحاب میں سے تھے اسلئے آپ(ع) کی عمر مبارک کے آخری تین دن میں ہمیشہ آپ کے سرہانے حاضر رہا اس دوران آپ کی تمام وصیتوں کو من و عن قلمبند کیا۔[6]

امام حسن مجتبی(ع) کے دور میں

حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد انہوں نے امام حسن مجتبی(ع) کا بھرپور ساتھ دیا۔ جب معاویہ امام حسن(ع) کے ساتھ صلح کیلئے کوفہ آیا تو اس موقع پر امام حسن(ع) نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے بھی انہوں نے ثبت کیا ہے۔

معاویہ کی حکومت کے زمانے میں انہوں نے اپنی علمی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور معاویہ کی بدعتوں، جنایتوں اور جعل حدیث کے ضمن میں معاویہ کی اسلام کے ساتھ انجام دینے والی خیانتوں کو من و عن اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔[7]

امام حسین(ع) کے دور میں

امام حسن(ع) کی شہادت کے بعد وہ حضرت سیدالشہداء(ع) کے اصحاب خاص میں شامل ہو گئے اس وقت ان کی عمر تقریبا 50 کے لگ بھگ تھی۔

سنہ ۴۹ ہجری قمری کو جب معاویہ نے "زیاد" کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو سلیم بن قیس مکمل تقیہ کی حالت میں زندگی گزارتے رہے یہاں تک کہ مخفیانہ طور پر معاویہ کے ارسال کردہ خطوط کی استنساخ کر کے انہیں سند کے طور پر محفوظ کرتے رہے۔

سنہ۵۰ ہجری قمری میں جب معاویہ حج کے بہانے مدینہ آیا تو انہوں نے بھی حج کے بہانے خود کو کوفہ سے مدینہ پہنچا دیا اور اس سفر کے دوران معاویہ کے تمام اقدامات جو انہوں نے مسلمانوں بطور خاص شیعوں کے خلاف انجام دئے ہیں کو ثبت و ضبط کیا ہے۔

سنہ ۵۸ ہجری قمری معاویہ کی ہلاکت سے دو سال پہلے امام حسین(ع) نے منا میں ۷۰۰ صحابہ اور تابعین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے معاویہ کے کرتوت پر اعتراض کیا۔ اس وقت بھی سلیم بن قیس وہاں موجود تھے اور امام(ع) کے اس خطبے کو بھی انہوں نے اپنی کتا میں ثبت کیا ہے۔

سنہ ۶۱ ہجری قمری میں جب امام حسین(ع) کی شہادت واقع ہوئی تو اس وقت تاریخی منابع میں سلیم بن قیس کے بارے میں کوئی چیز ذکر نہیں ہوئی ہے۔ یہاں یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ وہ بھی اس وقت ابن زیاد کی قید میں محبوس تھے جس کی وجہ سے وہ امام(ع) کی نصرت کیلئے کربلا میں نہ پہنچ سکا۔ [8]

امام زین العابدین (ع) کے دور میں امام محمد باقر(ع) کو درک کرنا

حضرت سیدالشہداء(ع) کی شہادت کے بعد سلیم بن قیس امام سجّاد(ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ اس دوران انہوں نے امام باقر(ع) سے ملاقات کی اس وقت آپ(ع) سات کی عمر میں تھے۔

این سالوں میں جب عبداللہ بن زبیر حجاز میں مسند تخت پر بیٹھا تھا تو عراق میں مختار نے امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے کیلئے قیام کیا لیکن اس دوران مختار اور قیام مختار کے حوالے سے انکی کتاب میں کوئی خاص مطالب دیکھنے میں نہیں آتی حالنکہ تاریخی منابع سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے حجاج بن یوسف کے زمانے تک کوفہ میں زندگی گزاری ہیں۔[9]

حجّاج کے زمانے میں

سنہ۷۵ ہجری قمری میں حجّاج بن یوسف ثقفی عبدالملک بن مروان کی طرف سے عراق کا بطور حاکم کوفہ میں داخل ہوا۔ حجاج نے جن اشخاص کے بارے میں سراغ تحقیق کی ان میں سرفہرست سلیم بن قیس تھا کیونکہ ان کا امیر المؤمنین حضرت(ع) کے ساتھ دوستی اور رفاقت کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ اس لئے حجاج کے کوفہ داخل ہونے کے بعد سلیم بن قیس نے عراق سے فرار اختیا کر کے ایران چلا گیا اور فارس میں شیراز کے قریب "نوبندجان" نامی بستی میں پہنچا اور وہیں زندگی گزارنا شروع کیا۔[10]

سلیم بن قیس کا ابان بن ابی عیاش سے ملاقات

نوبندجان میں سلیم بن قیس کا "بان" نامی ایک 14 سالہ نوجوان سے ملاقات ہوا۔ البتہ ان دونوں کی آشنائی کی کیفیت معلوم نہیں ہے صرف اتنا ہے کہ سلیم بن قیس "ابان" کے گھر میں زندگی گزارتا تھا۔

ابان جتنی مدت سلیم بن قیس کے ساتھ گزری، کے بارے میں یوں کہتے ہیں: وہ ایک عمر رسیدہ عبادت گزار شخص تھا جس کا چہرہ نورانی تھا۔ بہت سی محنت اور لگن سے کام کرنے والا ایک محترم شخصیت کا حامل شخص تھا۔ وہ لوگوں سے دور رہنا پسند کرتا تھا اور شہرت سے پرہیز کرتا تھا۔ سلیم بن قیس بھی ابان کے بارے میں کہتے ہیں: "میں نے تمہارے ساتھ زندگی گزاری اور جس طرح میں پسند کرتا تھا اس کے سوائے تمہیں کچھ نہیں پایا۔ [11]

علمی زندگی

کتاب سلیم بن قیس ھلالی

سلیم بن قیس ایک مؤلف کے عنوان سے مشہور اور معروف تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی کتاب کے مطالب کو اس نے یا ان لوگوں سے نقل کیا ہے جن کو اس نے شخصا درک کیا تھا اور اس نے ان مطالب کو خود ان کی زبانی سنا اور ثبت کیا یا ان لوگوں سے نقل کیا ہے جو ان واقعات کے چشم دید گواہ تھے اور اپنے لئے قابل اعتماد اشخاص کے سوا کسی سے کوئی مطلب نقل نہیں کیا ہے۔[12]

کتاب سلیم بن قیس

تفصیلی مضمون: کتاب سلیم بن قیس

یہ کتاب شیعوں کی پہلی قلمی اثر تھی جسے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے دور حکومت میں لکھی گئی۔ یہ کتاب اہل بیت(ع) کے فضائل، امام‌شناسی اور رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کے حوادث کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو "سلیم بن قیس" کی طرف منسوب کرنے اور نہ کرنے میں شیعہ علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ کتاب "اسرار آل محمد(ص)" کے نام سے فارسی میں ترجمہ ہوا ہے۔

اخلاقی خصوصیات

  • گوشہ نشینی اور شہرت سے اجتناب

اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ آپ صرف حضرت امیرالمؤمنین(ع) کے پانچ سالہ حکومت میں آزاد تھا اس سے پہلے اور بعد کے زمانے میں بہت سخت حالات میں زندگی گزارے ہیں، واضح ہے کہ سوائے گوشہ نشینی کی حالت کے ایسی کتاب لکھ نہیں سکتا تھا۔ عمر اور عثمان کے دور میں تو حدیث کی تدوین پر مکمل پابندی تھی ایسے دور میں انہوں نے نہ صرف ایک کتاب لکھی بلکہ اس کے سارے مطالب نظام حاکم کے خلاف تھی اس صورت میں اگر اس کے کام سے متعلق کسی کو پتہ چلتا تو وہ اور اسکی کتاب دونوں کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا جاتا تھا۔
امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد معاویہ اور یزید کے دور میں ایک بار پھر شیعیان علی(ع) پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے، اس دور میں بھی انہوں نے مخفیانہ طور پر اس قدر ماہرانہ انداز میں اپنا کام جاری رکھا کہ اپنی کتاب کے مطالب کی حفاظت اور اسے ادامہ دینے کے ساتھ ساتھ معاویہ کے اسرار کا بھی کھوج لگانے میں کامیاب ہوئے اور اس کے محرمانہ خطوط جو انہوں نے زیاد کیلئے لکھا تھا کو اپنی کتاب میں ثبت کرنے میں کامیاب ہوا۔

  • مطالب کے ثبت و ضبط میں دقت اور جستجو

مطالب کی یادگیری کے وقت وہ تمام پہلوں سے اس موضوع کے متعلق ذہن میں خطور کرنے والے تمام سوالات کو مطرح کرتے تھے اور ان کے خاطر خواہ جوابات دریافت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جن حالات اور جس جگہ یہ حدیث صادر ہوتی تھی کو بھی دقت کے ساتھ ثبت کرتے تھے۔ آخر میں مطالب کو اور زیادہ معتبر اور قابل اعتماد بنانے کی خاطر ان مطالب کو ائمہ اطہار(ع) کی خدمت میں پیش کرتے اور ان کی صحت پر ائمہ(ع) سے مہر تائید لیتے تھے۔

کسی واقعے سے متعلق کسی حدیث کی اصل حقیقت تک پہنچنے کیلئے اس واقعے کو وہ کئی افراد سے دریافت کرتے تھے اور چہ بسا ضرورت پڑنے پر اس کام کیلئے مسافرتوں پر جایا کرتے تھے۔ انہوں اعتقادی حوالے سے بہت سارے اہم سوالات ائمہ(ع) سے پوچھے اور ان کا جواب اپنی کتاب میں ثبت کیا ہے۔ کبھی کبھار دشمنان اہل بیت(ع) سے ان کی بدعتوں کے بارے میں سوالات کرکے اس بارے میں خود ان سے اعتراف لیتے تھے۔

جب بھی کسی اسلام مملکت میں کسی واقعے کی خبر ملتی تو شخصا وہاں جا کر اس واقعے کی حقیقت سے آگاہ ہونے کی کوشش کرتے اور اس واقعے کو تمام جزئیات کے ساتھ اپنی کتاب میں ثبت کرتے تھے۔ معاویہ کی مدینہ سفر کے دوران ان کا بھی وہاں جانا اس کی واضح مثال ہے۔[13]

وفات

سنہ ۷۶ ہجری قمری کے اواخر میں سلیم بن قیس نے "نوبندجان" میں ۷۸ سال کی عمر میں سے کوچ کیا اور اسی شہر میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ بعض نے ان کی تاریخ وفات کو سنہ۹۰ ہجری قمری ذکر کیا ہے۔[14]

سلیم بن قیس ہلالی دوسروں کی نظر میں

اب تک سلیم بن قیس اور انکی کتاب کے بارے میں مختلف نظریات سامنے آئے ہیں جنہیں مجموعی طور پر دو گروہ میں تقسیم کرسکتے ہیں:

موافقین

نجاشی: وہ حضرت علی(ع) کے اصحاب اور مشہور کتاب کے مصنف ہیں۔[15]

شیخ طوسی: وہ حضرت علی(ع) سے امام باقر(ع) تک کے ائمہ کے اصحاب میں سے تھے۔[16]

عبداللہ مامقانی: وہ حضرت علی(ع) کے اصحاب اور فریقین کے نزدیک مشہور علماء میں سے تھے۔[17]

علی بن احمدالعقیقی: وہ حضرت امیرالمومنین(ع) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔[18]

علامہ حلی: وہ اپنے پیشے میں ایک مجتہد تھے۔

میرزا محمدباقر خوانساری: وہ اہل بیت(ع) کے دوستدار اور ان سے عشق رکھنے والے انسان تھے۔ حضرت علی(ع) کے صحابی تھے اور ائمہ(ع) کے نزدیک نہایت ہی مقبول شصخیت اور شان و منزلت رکھتے تھے اور گویا ارکان اربعہ کی طرح تھے۔ وہ اپنے دین اور مذہب میں محکم اور پایدار تھے۔[19]

علامہ امینی: وہ تابعین میں سے ایک بزرگ شخصتی اور شیعہ اور سنی دونوں ان کی کتاب سے استناد کرتے ہیں۔ اور "حکانی" جیسے بزرگوں کا مودر اعتماد تھا۔[20]

مخالفین

مطالعات اسلامی (نشریہ دانشکدہ الہیات و معارف اسلامی) میں "سلیم بن قیس ہلالی کے بارے میں ایک تحقیق" کے عنوان سے عبدالمہدی جلالی کے قلم سے ایک مقالہ درج ہوا ہے۔ اس مقالہ میں مصنف بہت سارے منابع کو جمع کر کے ایک وسیع میدانی تحقیق انجام دیتے ہوئے یہ کوشش کی ہے کہ ایک تاریخی اور انتقادی نگاہ سے "سلیم بن قیس ہلالی" نامی کسی شخصیت کی موجودگی کو ہی زیر سوال لاتے ہوئی کہا ہے کہ یہ نام ایک جعلی نام ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اس مقالہ کو "علی الہی خراسانی" نے تنقید کا نشارہ بنایا ہے۔[21]

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. رجال نجاشی، ص۸.
  2. أسرار آل محمد، ص۱۷.
  3. أسرار آل محمد، ص۲۰.
  4. أسرار آل محمد، ص۲۰.
  5. أسرار آل محمد، ص۲۰.
  6. أسرار آل محمد، ص۲۱.
  7. أسرار آل محمد، ص۲۱ و ۲۲.
  8. أسرار آل محمد، ص۲۲.
  9. أسرار آل محمد، ص۲۲ و ۲۳.
  10. أسرار آل محمد، ص۲۶.
  11. أسرار آل محمد، ص۲۶.
  12. أسرار آل محمد، ص۲۷ - ۲۹.
  13. أسرار آل محمد، ص۲۴ و ۲۵.
  14. الغدیر، ج ۱، ص۶۶.
  15. رجال نجاشی، ص۸.
  16. رجال طوسی، ص۶۶، ۹۴، ۱۰۱، ۱۱۴، ۱۳۶.
  17. تنقیح المقال، ج ۲، ص۵۳.
  18. خلاصۃ الاقوال، ۱۶۲.
  19. روضات الجنات، ج ۴، ص۶۶.
  20. الغدیر، ج ۱، ص۶۶.
  21. نقدی بر مقالہ «پژوہشی دربارہ سُلَیم بن قیس ہلالی».


مآخذ

  • ہلالی، سلیم بن قیس، اسرار آل محمد، قم، الہادی، ۱۴۱۶ ق.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۶ ق.
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر، بیروت،‌دار الکتاب العربی، ۱۳۹۷ ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ ق.
  • حلی، حسن بن یوسف، خلاصہ الاقوال، مؤسسۃ نشر الفقاہۃ، ۱۴۱۷ ق.