عبد اللہ بن حسن

ویکی شیعہ سے
(عبداللہ بن حسن سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گنج شہدا

عبد اللہ بن حسن حضرت امام حسن (ع) کے ان فرزندوں میں سے ہیں جو کربلا میں اپنے چچا کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔نقل کے مطابق جب ابحر بن کعب نے حضرت امام حسین (ع) پر تلوار سے وار کیا تو آپ نے حضرت امام حسین (ع) کو بچانے کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو تلوار کے وار سے ہاتھ کٹ کر لٹکنے لگا۔

تعارف

تاریخ ولادت کے متعلق کوئی معلومات مذکور نہیں البتہ لکھا گیا کہ شہادت کے وقت آپ حد بلوغ کو نہیں پہنچے تھے۔ بعض نے انکی والدہ سلیل بن عبد اللہ کی بیٹی ذکر کی ہے جو جریر بن عبد اللہ کے بھائی ہیں اور بعض نے نام کے بغیر ایک کنیز ذکر کیا ہے [1]۔ اپنے چچا حضرت امام حسین کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔عبد اللہ بن حسن کو طبری نے نوجوان کہا اور اس کا نام ذکر نہیں کیا ۔ابن طاؤس اور شیخ مفید نے اسکا نام عبد اللہ بن حسن ذکر کیا ہے۔[2]

شہادت

اسی دوران عبد اللہ بن حسن ایک نابالغ بچہ چاند کی مانند دمکتے چہرے کے ساتھ خیام سے باہر آیا [3]اور امام حسین (ع) کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ حضرت زینب اس بچے کے پیچھے خیام سے باہر آئیں تو امام حسین(ع) نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا: بہن اسے سنبھالو لیکن بچے نے واپس جانے سے انکار کیا اور وہاں مقاومت اختیار کی اور کہا : خدا کی قسم اپنے چچا سے ہر گز جدا نہ ہوں گا۔ابجر بن کعب نے امام پر تلوار سے حملہ کیا تو بچے نے کہا : یا بن الخبیثه!تقتل عمی؟ اے خبیث کی اولاد! کیا تو میرے چچا کو قتل کرو گے؟ اس نے تلوار سے امام پر وار کیا تو عبد اللہ نے امام کو بچانے کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، ہاتھ کٹ گیا اور گوشت کے سہارے لٹکنے لگا۔عبد اللہ نے آواز دی : اے اماں جان!۔ امام نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا نیز کہا اے برادر زادے! جو کچھ تمھارے ساتھ ہوا اس پر صبر کرو خدا تمہیں تمہارے بہترین باپ رسول خدا ، علی بن ابی طالب اور چچا حمزہ کے ساتھ ملحق کرے۔ امام نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے یوں بد دعا کی : خدایا ! انہیں باران رحمت سے دور رکھ اور زمین کی نعمتوں سے انہیں محروم رکھ ۔اگر ایک مدت تک نعمتوں سے استفادہ کیا ہے تو ان کے درمیان تفرقہ ڈال اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے ۔ ان کے حاکموں کو ان سے نا خوش رکھ کیونکہ انہوں نے ہمیں بلایا تا کہ ہماری مدد کریں لیکن انہوں نے ہم پہ ظلم کیا اور ہمارے قتل کے در پے ہو گئے۔[4]

حوالہ جات

  1. اصفہانی، ص۹۳
  2. الارشاد ج2 ص110۔لہوف ص 173
  3. ابن کثیر ،البدایۃ و النہایۃ ج 8 ص 203
  4. شیخ مفید ، الارشاد ج 2 ص 110 و111۔ تاریخ طبری طبری ج 5 ص 451