تبرک

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
شیعہ عقائد
السعید۲.jpg
خدا شناسی
توحید توحید ذاتی  • توحید صفاتی  • توحید افعالی • توحید عبادت میں
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (الہی افعال)
افعال کا حسن اور قبح  • بداء  • امر بین الامرین
نبوت
عصمت انبیاء  • ختم نبوت  • علم غیب  • معجزہ • قرآن میں عدم تحریف
امامت
عقائد عصمت ائمہ • ولایت تكوینی  • ائمہ کا علم غیب • غیبت (غیبت صغری، غیبت کبری)  • انتظار  • ظہور  • رجعت
ائمہ امام علی(ع)  • امام حسن(ع)  • امام حسین(ع)  • امام سجاد(ع)  • امام باقر(ع)  • امام صادق(ع)  • امام کاظم(ع)  • امام رضا(ع)  • امام جواد(ع)  • امام ہادی(ع)  • امام عسکری(ع)  • امام مہدی(عج)
معاد
برزخ  • جسمانی معاد  • حشر • صراط  • تطائر کتب  • میزان
نمایاں مسائل
اہل بیت  • معصومین  • تقیہ  • مرجعیت

تبرک یعنی "برکت اور خیر طلب کرنا، یا حاصل کرنا"[1]جو اللہ تعالی نے کسی موجود میں ودیعت رکھی ہے اور خداوند متعال نے اس موجود کے لئے خاص امتیازی خصوصیات، مقامات و مراتب مقرر فرمائے ہیں. انبیاء الہی، ائمہ معصومین(ع) اور اولیاء اہم ترین ذوات مقدسہ اور ان کے آثار اور ان سے وابستہ اشیاء اہم ترین اشیاء ہیں جن سے برکت حاصل کی جاتی ہے.

اس عمل کے قرآنی شواہد اور احادیث نبوی نیز سنّت نبوی اور سیرت ائمہ(ع) سے مستند ہونے کے علاوہ، تبرک کا عقیدہ امامیہ کے کلامی اور نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں بھی قابل بیان و تشریح ہے. زیادہ تر آسمانی ادیان میں اس قسم کے اعمال رائج تھے. مثال کے طور پر یعقوب(ع) نے حضرت یوسف(ع) کے کرتے سے برکت حاصل کی:"إذْہَبُواْ بِقَمِيصِي ہَـذَا فَأَلْقُوہُ عَلَى وَجْہِ أَبِي يَأْتِ بَصِيراً" (ترجمہ: [یوسف(ع) نےکہا: لے جاؤ میرے اس کرتے کو اور لے جا کر میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو. ان کی آنکھیں روشن ہو جائیں گی). [2] "فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاہُ عَلَى وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِيراً" تو جب خوشخبری دینے والا آیا، اس نے اسے ان کے چہرہ پر ڈال دیا تو ان کی آنکھیں دوبارہ روشن ہو گئیں. یا پھر تابوت حضرت موسی(ع) کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ فرمایا ہے.[3]ـ[4]

تبرک کا جواز تمام اسلامی مذاہب کے ہاں قابل قبول ہے سوائے وہابیوں کے جو حالیہ صدی میں ابن تیمیہ کی آراء و ن‍ظریات کی پیروی کرتے ہوئے اس کے جواز کا انکار کرتے ہیں اور اس کو "شرک" کا مصداق گردانتے ہیں. اسی طرز فکر کی بنا پر وہ ہر اس شخص کو "مشرک سمجھتے ہیں جو پیغمبر خدا(ص) اور بزرگان دین سے تبرک حاصل کرتے ہیں اور اس عمل کا سدّباب کرنے کے لئے بزرگان دین، پیشواؤں اور صحابہ کے مراقد و مقابر کو منہدم کررہے ہیں. حالانکہ کسی بھی اسلامی مذہب نے اس کو منع نہیں کیا اور اسلام کے فقہی مذاہب کے پیشواؤں نے حتی بعض مواقع پر غیر معصوم افراد سے بھی تبرک حاصل کیا ہے.حوالہ خطا: Closing </ref> missing for <ref> tag کہا گیا ہے کہ یہ اصطلاح در حقیقت "سامی" زبان سے عربی میں آئی ہے اور سامی میں اس کے معنی نزدیک ہونا، قرابت وغیرہ کے ہیں.[5]

کہا جاسکتا ہے کہ اس لفظ کے جامع اور وسیع معنی "ثابت و ناقابل تغیر فائدہ" ہے اور باقی معانی اسی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور اس کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں.[6] لغت میں تبرک یعنی تَیَمُّن اور مبارک سمجھنا. [7]

اصطلاحی معنی

دینی متون میں تبرک برکت اور خیر الہی طلب کرنا ـ جو ایک موجود میں ودیعت رکھی گئی ہے اور خداوند متعال نے اس موجود کے لئے خاص منزلت اور ممتاز خصوصیات نیز خاص مراتب و مدارج قرار دیئے ہیں، خواہ و برکت دنیاوی ہو خواہ اخروی ہو؛ جیسے "درجات کی بلندی، خواہ مادی ہو خواہ معنوی ہو.[8]

تبرک اور برکت طلب کرنے کے عمل میں انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ برکت بخس آثار کے واسطے سے، اللہ کے فیض اور قدرت سے مستفیض ہوجائے. برکت ایک اللہ کی عطاء ہے جو انسان، فطرت اور اشیاء پر نازل ہوتی ہے اور اس سے مراد ہے وہ مادی یا معنوی منفعت جس کا سرچشمہ اللہ کی رحمت ہے. چنانچہ اس کے حصول کے سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک مقدس اور مؤثر قوت کا انتقال ہے جو عالَمِ بالا سے صادر ہوتی ہے اور اس شخص کو نئی کیفیت عطا کرتی ہے جس سے اس کا تعلق ہے.

بعض مفکرین کے مطابق، متبرک ہونے کے عمل میں، ایک مثبت اثر مقدس اور متعالی وجود کی طرف سے ایک مثبت اثر غیر قدسی عالم پر مرتب کیا جاتا ہے جو ایک رحمانی صورت میں ایک قدسی امر کی جلوہ گری کے ہمراہ ہوتا ہے. [9] اس عمل کے دوران تین قسم کے امور رونما ہوتے ہیں:

  1. طبیعت قدسی کے ماوراء، عالم سے ارتباط برقرار ہونا؛
  2. قدسی قوت کی منتقلی ایک موجود یا کسی اور شیئے میں؛
  3. وجود کے لحاظ متبرک ہونے والے موجود یا شیئے کا ارتقاء.[10]

ارتباط با توسل

تبرک اور توسل مفہوم و مصداق کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ حد تک مشابہت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس موقع پر جب ایک انسان برکت و تبرک کے درپے ہے اور معنوی خیر و نیکی تک رسائی کے درپے ہے.

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ تبرک کی حقیقت در حقیقت توسل ہی ہے چنانچہ ان دو کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے لیکن ان دو مفاہیم میں بعض حوالوں سے فرق ہے؛ اور وہ یوں کہ توسل کے معنی بزرگان دین کو اللہ کی بارگاہ میں واسطہ اور وسیلہ قرار دینے کے ہیں جبکہ تبرک کے معنی مادی اور معنوی خیر و برکت طلب کرنے کے ہیں جو اللہ تعالی نے بعض انسانوں یا اشیاء میں قرار دی ہے.[11]

تبرک کی قسمیں

اس لحاظ سے ـ کہ برکت کا تعلق کس سے ہے ـ تبرک کو تین قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے: اعیان [اور بزرگان دین و پیشوایان خلائق] سے تبرک، آثار سے تبرک، اور صاحب برکت اعیان سے تعلق رکھنے والے مقامات سے تبرک. آثار اور مقامات کا تعلق درحقیقت صاحب برکت اعیان سے ہوتا ہے اور دوسری اور تیسری قسم کا تبرک محض اس لئے ہے کہ وہ ان امور و آثار اور مقامات کا تعلق اعیانِ متبرک سے ہے ورنہ وہ آثار و مقامات بذات خود برکت طلبی یا برکت جوئی [یعنی تبرک] کے عمل میں اصل مقصد نہیں ہیں.

برکت کی منتقلی کی روشیں

تبرک یا برکت طلبی تین روشوں سے انجام پاتی ہے:[12]

  1. پہلی روش: مبارک وجود کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار کرنا اور اس کو مسّ کرنا: جیسے رسول اللہ(ص) کو مسّ کرنا، [13] یا آپ کے جسم مبارک سے الگ ہونے والے اجزاء[14] یا پھر ان اشیاء کو مس کرنا جو آپ کے جسم مبارک سے مس ہوئی ہیں،[15] حج اور عمرہ کے اعمال کے دوران زائرین کعبہ کا حجر الاسود اور ارکان کعبہ سے استلام کرنا یعنی چھومنا اور بدن اور ہتھیلی سے مس کرنا، [16] ائمۂ اطہار اور اولیائے الہی، کی ضریح یا قبر شریف پر رکھے گئے صندوق کو چھونا، رسول اللہ(ص) کے نقش پا ـ جو بیت اللہ الحرام کے جنوبی حصے میں ایک پتھر کے تختے پر تھا ـ کو چھونا.[17]
  2. کبھی تبرک بابرکت موجودات یا اشیاء سے مشابہت کے ذریعے ہوتا ہے. کہا گیا ہے کہ یہ مشابہت ایک طرف سے خود باعث برکت ہے تو دوسری طرف سے یہ برکت دینے کی قوت بھی معرض وجود میں لاسکتی ہے؛ جیسا کہ مکہ اور مدینہ کی تصاویر جو مسلمانوں کے گھروں میں ہوتی ہیں یا تعزیہ کے مراسمات میں مام حسین(ع) کی قبر و تابوت کی شبیہوں سے برکت حاصل کرنا.[18]
  3. کبھی تبرک انسان کی ذاتی خواہش اور التفات پر مبنی ہوتا ہے. ایسی حالت میں قادر متعال یا وہ جو اس ذات باری کی طرف سے ہو، تبرک کی اس قوت سے بہرہ مند ہے کہ علم و آگہی کے ساتھ کسی شخص یا چيز کو متبرک کرے. ہوسکتا ہے کہ یہ کام صرف ارادہ بیان کرنے یا کسی شخص یا شیئے پر ہاتھ رکھنے یا کسی شخص یا چیز کے لئے دعائے خیر کرنے یا برکت مانگنے کے ذریعے انجام پاتا ہے. اس صورت میں برکت کی منتقلی ـ برکت حاصل کرنے والے شخص کی طرف سے ـ کسی درخواست کے بغیر انجام پاتی ہے. جس طرح کہ خداوند متعال نے یعقوب(ع) کو برکت عطا کی. [19] نیز اسحق (ع) جنہوں نے ہپنے بیٹے یعقوب(ع) کو برکت دی[20] اور یعقوب(ع) جو دعائے خیر کے ذریعے اپنے بیٹوں کو برکت عطا کرتے ہیں اور انہیں مبارک کر دیتے ہیں[21] یا و یا رسول اكرم (ص)، حضرت زہرا(س) و حضرت علی(ع) را متبرک نمود. [22]

ان تین اقسام میں وجۂ اشتراک اللہ تعالی یا ایک مقدس شخص ـ [جو اللہ کا مقرب بندہ ہو] ـ کا ارادہ برکت کی منتقلی کا سبب بنتا ہے.

تبرک کتاب مقدس کی رو سے

تبرک سابقہ امتوں میں بھی رائج تھا اور انبیائے سلف کے زمانوں میں بھی تبرک و توسل کا عمل انجام دیا جاتا رہا ہے. یہاں بعض نمونے پیش کئے جاتے ہیں:

دینی متون میں برکت طلبی کی تاریخ:

  • پرانے عہد نامے [Old Testament] حضرت یعقوب(ع) اور حضرت یوسف(ع) کے حالات میں تبرّک کا ذکر آیا ہے؛
  • یہودی سینچر کے روز اپنے کھانے پر دعا پڑھ کر اس کو متبرک کرتے اور کھاتے ہیں؛
  • انجیل مرقس میں بھی حضرت مسیح کو مبارک کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے؛
  • انجیل برنابا میں بیان ہوا ہے کہ مخلوقات رسول اللہ(ص) کے ذریعے برکت پا چکی ہیں؛
  • بنی اسرائیل میں روایت یہ تھی کہ تبرک کی غرض سے زیتون کے متبرک تیل سے اپنے جسموں کو مُرَغن کرتے تھے؛
  • کہا گیا ہے کہ عیسی(ع) کو مسیح کا نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ انہیں متبرک روغن زیتون سے مسح کیا گیا تھا.[23]

تبرک و روایات کی روشنی میں

لفظ "تبرک" قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا ہے، تاہم اس کا مادہ 34 مرتبہ بارک، بارکنا، بورک، تبارک، برکات، برکاتہ، مبارک، مبارکاً اور مبارکۃ جیسے الفاظ کی شکل میں استعمال ہوا ہے. لفظ مبارک قرآن مجید میں خاص انسانوں، موجودات، مقامات اور اوقات کے وصف میں بروئے کار لایا گیا ہے.

برکت یافتہ موجودات

  • حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے اصحاب: "يَا نُوحُ اہْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ"؛ [24]
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحق علیہ السلام: "وَبَارَكْنَا عَلَيْہِ وَعَلَى إِسْحَقَ"؛[25]
  • حضرت موسی علیہ السلام: "فَلَمَّا جَاءہَا نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا"؛ [26]
  • حضرت عیسی علیہ السلام: "وَجَعَلَنِي مُبَارَكاً أَيْنَ مَا كُنتُ"؛[27]
  • خاندان ابراہیم(ع): "رَحْمَتُ اللّہِ وَبَرَكَاتُہُ عَلَيْكُمْ أَہْلَ الْبَيْتِ"؛ [28]
  • قرآن مجید: "وَہَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوہُ"؛[29]
  • ملائکہ: "فَلَمَّا جَاءہَا نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا"؛[30]
  • بارش کا پانی: "وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاء مَاء مُّبَارَكاً فَأَنبَتْنَا بِہِ جَنَّاتٍ"؛[31]
  • زیتون کا درخت: "كَأَنَّہَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَۃٍ مُّبَارَكَۃٍ زَيْتُونِۃٍ"؛[32]

مبارک مقامات

  • کعبہ[33] اور مسجد الحرام: "إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّۃَ مُبَارَكاً وَہُدًى لِّلْعَالَمِينَ" ؛[34]
  • مسجد النبی؛ [35]
  • شہر مدینہ؛ [36]
  • طور کی مقدس سرزمین: "فَلَمَّا أَتَاہَا نُودِي مِن شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَۃِ الْمُبَارَكَۃِ"؛[37]
  • فلسطین؛ [38]
  • مسجد الاقصی اور اس کے اطراف: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِہِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَہُ"؛[39]
  • مصر[40] اور شام [41]: "وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيہَا"؛ [42]
  • یمن؛[43]
  • فرات اور فلسطین کی درمیانی سرزمینیں مصر کی سرزمینِ عریش تک. ان سرزمینوں کو مادی نعمتوں سے، [44] نیز اسی علاقے سے اکثر انبیاء کی بعثت، نشرِ ادیان اور آسمانی کتب کے نزول،[45] انبیاء کی سکونت[46]، ابراہیم(ع)، اسحق(ع) اور یعقوب(ع) جیسے انبیاء اور صالح نیکوکار افراد کی قبور کی وجہ سے برکت عطا ہوئی ہے.[47]
  • شب قدر:"إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِي لَيْلَۃٍ مُّبَارَكَۃٍ"[48]

تبرک کا شرعی جواز

تبرک و تیمّن کا واسطہ درحقیقت برکت اور فیض حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے. جب ہم اپنے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے درمیان برکت حاصل کرنے کے لئے کوئی واسطہ قائم کر رہے ہوتے ہیں توچونکہ واسطہ اختیار کرنے کا یہ عمل عبادت اور بندگی کے زمرے میں نہیں آتا چنانچہ اس میں شرک کا کوئی احتمال نہیں ہے.

عام مسلم علماء

مسلمانوں کا رائج نظریہ یہ ہے کہ اعتفادی اور کلامی لحاظ سے بزرگان دین کی قبور کی زیارت اور ان سے منسوب آثار سے تبرک کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے. اللہ کی برکت و مغفرت انبیاء اور اولیاء اور بعض امور و موجودات کے ذریعے نازل ہوتی ہے.[49]

اس عمل (یا Process) میں واسطے اللہ تعالی کی جانب سے مقرر کئے گئے ہیں اور تمام برکتوں کا سرچشمہ خداوند متعال کی ذات اقدس ہے[50] اور جن مقدس امور سے مسلمین تبرک کرتے اور برکت طلب کرتے ہیں وہ اپنے لئے مستقل اختیار نہیں رکھتے اسی وجہ سے مسلمان تبرک کو شرک کا لازمہ اور سبب نہيں سمجھتے.[51]

فقہائے شیعہ

شیعہ فقہاء کی رائے کے مطابق شرع مقدس کی رو سے تقدس، عظمت اور طہارت کی حامل اشیاء سے برکت طلب کرنا جائز بلکہ راجح[52] اور مستحب ہے.[53] ان کی رائے کے مطابق ائمہ معصومین(ع) کے اسماء گرامی سے تبرک طلب کرنا یا انہیں کفن اور جریدتین [دو تر و تازہ لکڑیوں] پر لکھنا،[54] یا اپنے بچوں پر ان کے نام رکھنا،[55] مشاہد مشرفہ اور قبور معصومین(ع) سے تبرک کرنا اور ان کی تربت تبرک کی نیت سے میت کے ساتھ قبر میں رکھنا،[56] قرآن کو کفن پر لکھنا اور یوں اس سے تبرک طلبی کرنا[57] اور اس کے کلمات اور حروف کو مَسّ کرنا[58] مستحب ہے.

تبرک طلبی کے جواز کے سلسلے میں ان کے شرعی حکم کی سند قرآن، سنت رسول اللہ(ص) اور سیرت متشرعہ) یعنی اہل شریعت کی جاری و ساری سیرت و روش[59] ہے. نیز جہاں تبرک کرنا مشکوک ہو اور حرمت و ممانعت پر کوئی قطعی شرعی حکم نہ ہو، وہ عمل مباح اور جائز ہے اور اس پر قاعدہ "أصالۃ الاباحہ"[60] لاگو ہوتا ہے.

فقہائے اہل سنت

قبر نبی(ص) سے تبرک کرنا، اس کو چھونا، چھومنا، اس سے اپنا بدن مسّ کرنا، اس کے گرد طواف کرنا وغیرہ، درحقیقت جائز بلکہ راجح ہے؛ جس پر کثیر تعداد میں دلیلیں پیش کی گئی ہیں اور اہل سنت نے اس کے جواز، استحباب اور کراہت میں اختلاف کیا ہے تاہم جن لوگوں نے اس کو مکروہ سمجھا ہے انھوں نے گمان کیا ہے کہ تبرک کرنا آنحضرت کی شان میں ادب کے منافی ہے.[61]

حنفی

احمد بن حنبل، نبی(ص) منبر اور قبر رسول(ص) سے تبرک کرنے اور ان کا بوسہ لینے کو جائز سمجھتا ہے.[62] حنفی مذہب کے عالم شہاب الدین الخفاجی بھی قبر نبی(ص) پر ہاتھ پھیرنے، اسے چھومنے اور اس سے سینہ لگانے کے عمل کو جائز مگر مکروہ سمجھتا ہے.[63]

شافعی

رملی شافعی سمیت بعض شافعی علماء قبر نبی(ص)، اور ہر ولی اور عالم کی قبر کو مس کرنے، اور اولیاء کی قبور کے داخلی دروازوں کے آستانوں اور چوکھٹوں کو تبرک کی نیت سے چھومنے کو جائز سمجھتے ہیں اور محب الدین طبری الشافعی نے بھی قبر کو مس کرنے اور چھومنے کو جائز اور سیرت علماء و صالحین کے موافق گردانا ہے.[64]

مالکی

زرقانی المالکی کی رائے ہے کہ قبر رسول اکرم کو تبرک کی نیت سے چھومنے میں کوئی حرج نہيں ہے.[65]

وہابی

ان آراء کے برعکس وہابیوں کے عقیدے کے مطابق تبرک جائز نہیں ہے. وہابیت کے مبلغین نے اس سلسلے میں کئی آراء پیش کی ہیں اور ان کے لئے اپنی طرف سے بعض دلائل بھی دی ہیں:

پہلی رائے

بعض کا خیال ہے کہ رسول اللہ(ص) کے دور میں صحابہ آپ سے تبرک کرتے تھے اسی وجہ سے یہ عمل اس زمانے میں جائز تھا،[66] لیکن آپ کی وفات کے بعد تبرک صرف ان اشیاء سے جائز ہے جو آپ کے بدن سے مسّ ہوتی رہی ہیں.[67]

ان لوگوں نے اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے دو دلیلوں کا سہارا لیا ہے:

  1. اس تبرک سے شرک لازم آتا ہے اور بت پرستوں کے اعمال کے زمرے میں آتا ہے اور شرک کا مصداق ہے اور پھر سنت سے کوئی بھی دلیل ایسی نہیں ہے جو اس عمل کے جواز کو ثابت کرسکے.[68]
  2. یہ تبرک بدعت آمیز ہے؛ اس لئے کہ تبرک ایک قسم کی عبادت ہے اور اصول یہ ہے کہ عبادات توقیفی ہیں [یعنی جو کچھ سلف نے انجام دیا ہے اسی پر توقف کرنا ہے] چنانچہ ایک عمل کو عبادت کے عنوان سے انجام دینا ـ جبکہ سلف صالح اور صحابہ نے وہ عمل انجام نہیں دیا ـ بدعت ہے اور ہر بدعت حرام ہے.[69] اسی رو سے مسجد النبی(ص) اور مسجد الحرام اور روضۂ نبی(ص) کے در و دیوار،[70] کعبہ کے دو رکنوں، حجر الاسود کے اطراف، کعبہ کی دیواروں، مقام ابراہیم اور صخرۂ بیت المقدس نیز انبیاء و صالحین کی قبور کو مس کرنا بدعت اور ناجائز ہے.[71]

دوسری رائے

بعض کا خیال ہے کہ تبرک جوئی صرف پیغمبر (ص) کے حق میں، وہ بھی آپ(ص) کی حیات میں، جائز تھی؛ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد حتی آپ کے بدن کے اعضاء اور آپ سے وابستہ اشیاء سے بھی تبرک جوئی کرنا اور برکت حاصل کرنا جائز نہيں ہے. [72] ان افراد کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ خداوند متعال نے آپ کی ولایت مؤمنین پر قرار دی ہے اور چونکہ آپ کی ولایت کا تعلق آپ کے ایام حیات سے ہے اور وفات کے بعد آپ کو کوئی ولایت حاصل نہيں ہے.[73]

تیسری رائے

بعض کا خیال ہے کہ جائز تبرک صرف پیغمبر (ص) کے حق میں جائز ہے اور خداوند متعال نے صرف آپ کے جسم کو حامل برکت قرار دیا ہے اور یہ عمل آپ کے بغیر کسی اور کے سلسلے میں ہرگز جائز نہيں ہے.[74] ان افراد کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین حضرت رسول (ص) اور آپ کے آثار کے علاوہ کسی فرد یا اشیاء سے تبرک کرنے سے اجتناب کرتے تھے. اس کا سبب یہ تھا کہ لوگ شرک اور غلوّ میں نہ پڑ جائیں.[75]

وہابی آراء کا تنقیدی جائزہ

وہابی محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (پیدائش 1115 – وفات 1206) کے پیروکار ہیں. محمد بن عبدالوہاب ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم جوزی کا پیروکار تھا جس نے جزیرہ نمائے عرب میں نئے افکار و عقائد کی بنیاد رکھی. اس فرقے کا نام اس کے اس کے والد عبدالوہاب سے لیا گیا ہے.[76] وہابیت کی فکری بنیادیں ابن تیمیہ کی آراء و افکار سے تشکیل پائی ہیں جس نے سنہ 698 ہجری کو شام میں تبلیغ کا آغاز کیا اور سنی اور شیعہ علماء و اکابرین نے اس کی واضح اور دو ٹوک مخالفت کی. سنہ 728 میں قلعۂ دمشق میں ابن تیمیہ کی موت کے ساتھ ہی اس کے افکار بھی فراموش ہوگئے لیکن تقریبا چار صدیاں گذرنے کے بعد محمد بن عبدالوہاب نے سنہ 1157ہجری میں درعیہ کے حکمران محمد بن سعود کے ساتھ ہمآہنگ ہوکر سرزمین نجد میں ان افکار کو ایک پھر زندہ کرکے فروغ دیا؛ انھوں نے خونی لڑائیوں کے ذریعے پورے حجاز اور خلیج فارس کے سواحل پر تسلط جمایا[77] یہ تفکر اس وقت سرزمین نجد و حجاز نیز جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں بعض لوگوں نے اپنا رکھا ہے. وہابیوں کے خیال میں کوئی بھی انسان موحد (یکتا پرست) ہے اور نہ ہی مسلمان مگر یہ وہ بعض معینہ امور کو ترک کرے. [78] یہاں تبرک کے سلسلے میں وہابی آراء و افکار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتا ہے.

بررسی نظر اول

پہلی رائے اور پیش کردہ دلیل کا جائزہ:

تبرک کو شرک جاننے کے عقیدے میں چند کمزور نقاط پائے جاتے ہیں.

  1. عبادت ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کی پرستش کی نیت سے انجام دیا جاتا ہے، لیکن جو افراد بزرگان دین کے آثار سے تبرک کرتے ہیں وہ ہرگز ان کے لئے الوہیت اور رتبہ خداوندی کے قائل نہيں ہوتے اور تبرک کرتے وقت ہرگز عبادت کی نیت و ارادہ نہيں کرتے. چنانچہ ان کا عمل عبادت کا مصداق نہيں ہے کہ الوہیت و عبادت میں توحید، کے منافی ہو یا غلوّ آمیز ہو.[79] اس بات کا شاہد بھی یہ ہے کہ کئی بار یہی عمل رسول اللہ(ص) کی موجودگی میں انجام پایا،[80] لیکن آنحضرت(ص) نے کبھی بھی کسی کو اس سے منع نہيں کی، اس کو شرک کا نام نہیں دیا حالانکہ آپ شرک آلود اور غلو آمیز الفاظ زبان پر لانے سے منع فرمایا کرتے تھے.[81]
  2. انبیاء اور اولیاء اور ان کے آثار کا احترام شعائر اللہ کی تعظیم (ترجمہ: اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم و تکریم کرے تو وہ عظمت الٰہی سے دلوں کے تاثر کا لازمی نتیجہ ہے).</ref> ہے جس پر قرآن مجید نے تاکید فرمائی ہےحوالہ خطا: Closing </ref> missing for <ref> tag اےی حقیقت کی گواہی دیتا ہے.
  3. نہ صرف نبی(ص) اور اولیائے الہی کی قبور کی تعظیم کی حرمت پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ متعدد دلائل اور شواہد اس کے جواز کی گواہی دیتے ہیں. احمد بن حنبل کا فتوی[82] جو ابن تیمیہ کو بھی معلوم تھا[83] اور روضۃ النبی(ص) اور مسجد النبی(ص) اور آپ کے منبر کی تعظيم اور ان تبرک کرنے کے جواز کے سلسلے میں شیعہ اور [[اہل سنت|سنی[[ علماء کی عملی سیرت سے اس رائے کا واضح بطلان نمایاں ہوجاتا ہے. خلیفۂ اول اور خلیفۂ ثانی کی یہ وصیت ـ کہ انہیں قبر نبی(ص) کے پہلو میں دفنایا جائے ـ[84] کا مقصد صرف اور صرف آپ کی قبر شریف سے متبرک ہونا تھا[85] اور یہی امر بجائے خود قبر نبی(ص) سے تبرک کے جواز کی دلیل ہے.

دوسری رائے کا جائزہ:

تبرک کو بدعت سمجھنے پر کئی اعتراضات وارد ہیں:

  1. تبرک کے جواز پر مبنی متعدد دلائل و شواہد کے باوجود اس کو بدعت آمیز نہیں قرار دیا جاسکتا.
  2. فرض کرتے ہیں کہ یہ عمل یا اس کی ایک خاص قسم، ایک نیا عمل ہو اور رسول اللہ(ص) کی حیات میں کوئی پس منظر نہ رکھتا ہو؛ لیکن ہر قسم کی بدعت (اور ہر قسم کا نیا عمل) ناپسندیدہ اور حرام نہیں ہے بلکہ ناپسندیدہ اور حرام بدعت وہ نیا عمل ہے جو دین میں رائج کیا جاتا ہے اور اس کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ہے اور سنت کے موافق نہیں ہے.[86] جبکہ تبرک پر مسلمانوں کی سنت و سیرت سے متعدد دلائل موجود ہیں چنانچہ اس کو ناپسندیدہ بدعت نہيں قرار نہیں دیا جاسکتا. [اگر اس کو بدعت مانا جائے تو] شافعی نے اس کو پسندیدہ بدعت کہنا چاہئے.[87]
  3. جن مسائل میں جواز پر کوئی نصّ نہ ہو تو وہابیوں کے اعتقادات کے برعکس، "أصالۃ الإباحہ" سے استفادہ کیا جاسکتا ہے. اور کوئی بھی دلیل اور قاعدہ نہيں ہے کہ اس قسم کے مسائل میں اصول یہ ہے کہ اس طرح کا عمل جائز نہیں ہے. اصالۃ الاباحہ کے مطابق "جس عمل کی حرمت پر کوئی قطعی اور یقینی دلیل نہ ہو، وہ مجاز اور مباح ہے.[88]

دوسری رائے کا جائزہ

ا یہ رائے بھی صحیح نہيں ہے اور اس میں کئی خامیاں ہیں:

  1. پیغمبر اسلام(ص) حیات برزخی کے مالک ہیں[89] اور آپ کی ولایت کے آپ کے ایام حیات تک محدود نہیں ہے اور وفات کے بعد بھی جاری و ساری ہے.[90]
  2. مستند تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد بھی صحابہ اور تابعین تبرک کا اہتمام کرتے رہے ہیں. [91]

تیسری رائے کا جائزہ

یہ رائے بھی درست نہیں ہے کیونکہ:

  1. تبرک کا عمل نبی اکرم(ص) تک محدود نہیں ہے اور صالحین کے آثار سے بھی تبرک کرنا جائز ہے.[92] بعض مواقع پر صحابہ اور تابعین نے دوسرے افراد سے تبرک کا اہتمام کیا ہے.
  2. اگر رسول اکرم(ص) اور صحابہ نے کوئی عمل ترک کیا ہو تو یہ اکیلے اس عمل کی حرمت کا سبب نہیں ہے بلکہ حرمت کے لئے دیگر عوامل و اسباب کی ضرورت بھی ہے؛ جیسے: فراموشی، اس بات کا خوف کہ کہیں اس عمل کو واجب نہ سمجھا جائے اور دوسرے لوگوں کو مشقت اٹھانی پڑے، اس بات کا خوف کہ کہیں سست عقیدہ افراد اپنے ایمان سے پلٹ کر مرتد نہ ہوجائے یا لوگ اس کو اپنی عادت نہ بنالیں.[93]

جواز تبرک کی دلیلیں اور مستندات

اللہ کی بارگاہ میں منزلت اور آبرو کے حامل افراد ـ جن کی دعا بھی خدا کے ہاں مستجاب ہے ـ سے تبرک و توسل نہ صرف اسلامی شریعت میں جائز ہے بلکہ مستحب ہے اور اسلام کے دینی منابع نیز تاریخ کے دوران مسلمانوں کی روش سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین مبین تبرک کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے اور حدیث و تاریخ سے اس کے لئے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں.

قرآن کریم

قرآن مجید کی چند آیات کریمہ کے ضمن میں تبرک کی طرف اشارے ہوئے ہیں اور آن آیات میں تبرک کے عدم جواز اور شرک آمیز ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے؛ حتی کہ یہ تبرک کبھی انبیاء نے کیا ہے یا پھر انبیاء کی موجودگی میں انجام پایا ہے اور یہی مسئلہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل جائز ہے.

یعقوب(ع) کا اپنے بیٹے حضرت یوسف(ع) کے کرتے سے تبرک، ان واقعات میں سے ایک ہے جن میں قرآن نے اس عمل کی طرف اشارہ کیا ہے؛ کہ جب حضرت یوسف(ع) نے بھائیوں سے کہا کہ "میرے اس کرتے کو والد کی آنکھوں پر ڈال دو:

"إذْہَبُواْ بِقَمِيصِي ہَـذَا فَأَلْقُوہُ عَلَى وَجْہِ أَبِي يَأْتِ بَصِيراً" (ترجمہ: [یوسف(ع) نےکہا: لے جاؤ میرے اس کرتے کو اور لے جا کر میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو. ان کی آنکھیں روشن ہو جائیں گی). [94] اور اللہ کی رحمت حضرت یوسف(ع) کے کرتے کے ذریعے یعقوب نبی(ع) کی آنکھیں پر جاری ہوئی[95] اور انھوں نے ااس لباس سے تبرک کرکے اپنی آنکھوں کی روشنی دوبارہ پائی.[96] دوسری مثال تابوت موسی سے بنی اسرائیل کے تبرک کی مثال ہے. یہ وہ تابوت [یا صندوق] تھا جس میں موسی(ع) اور ہارون(ع) کے خاندان سے متعلق اشیاء نیز حضرت موسی پر نازل ہونے والے الواح مقدسہ (یا مقدس تختیوں) کو محفوظ کیا گیا تھا موسی(ع) نے انہیں یوشع بن نون کے سپرد کیا تھا.[97]

بنی اسرائیل اس صندوق کو بہت مقدس سمجھتے تھے اور بت پرستوں کے ساتھ جنگوں میں اس کو بھی ساتھ رکھتے تھے اور یہ ان کی تسکین کا سبب تھا.[98] "...وَقَالَ لَہُمْ نِبِيُّہُمْ إِنَّ آيَۃَ مُلْكِہِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيہِ سَكِينَۃٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّۃٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ ہَارُونَ تَحْمِلُہُ الْمَلآئِكَۃُ...". (ترجمہ: ...اوران سے ان کے نبی نے کہاکہ اس کی بادشاہت کی پہچان یہ ہے کہ تمہا رے پاس وہ صندوق آجائے گاجس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکون وا طمینان کاسرمایہ ہے اور موسی اورہارون کے گھرانے کے کچھ با قی ماندہ متروکات ہیں. اسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے...). <refسورہ بقرہ آیت 148.</ref> اور وہ اس سے تبرک کرتے اور برکت حاصل کرتے تھے.[99] یہ عمل تبرک کے علاوہ احترام اور تعظیم کی نیت سے بھی ہوسکتا ہے لیکن تعظیم کی نیت تبرک کی نیت کے منافی نہيں ہے. علاوہ ازیں اس تابوت کو خاص طور پر جنگ کے دوران ساتھ رکھنے کی نیت، تبرک اور مدد لینے کے سوا، کچھ اور ہونے کی کوئی سبیل نہیں بنتی.[100]

خانۂ کعبہ کے ساتھ ہی مقام ابراہیم ہے جس پر ابراہیم(ع) کے قدموں کے نشانات ہیں، ان ہی قدموں کی بنا پر لوگوں کی عبادت کا مقام قرار دیا گیا ہے.[101] "وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِيمَ مُصَلًّى..." (ترجمہ: اور وہ وقت کہ جب ہم نے خانہ کعبہ کو تمام لوگوں کا مرکز اور مقام امن قرار دیااور تم لوگ مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بناؤ...).[102] اور لوگ ابراہیم(ع) کے پیروں سے اس کے پتھر کے بموجب اس سے تبرک کرتے ہیں.[103] چنانچہ رسول اللہ(ص) کے بیٹھنے اور نماز پڑھنے کے مقام سے تبرک کرنا بھی جائز ہے.[104]

ایک روایت میں ہے کہ حجر الاسود اور مقام ابراہیم کے درمیان کئی انبیاء کا مدفن ہے اور اسی وجہ سے یہ مقام مبارک ہے.[105]

سنت نبوی

رسول اللہ(ص) کی سنت تبرک کے جواز کی پشت پناہ ہے. بعض روایات کے مطابق "آنحضرت(ص) لوگوں کو ترغیب دلاتے تھے کہ آپ سے تبرک کریں. شیعہ اور سنی منابع حدیث نے ایسے واقعات نقل کئے ہیں جن سے اس کا اظہار و اثبات ہوتا ہے.[106]

جیسا کہ آپ(ص) نے اصحاب کو ناقۂ صالح(ع) کے کنويں سے تبرک کرنے کا حکم دیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انبیاء(ص) اور صالحین کے آثار سے تبرک جائز ہے خواہ وہ بقید حیات ہوں خواہ دنیا سے رخصت سفر باندھ چکے ہوں.[107]

حضرت علی(ع) اور حضرت فاطمہ(س) کی شادی کی شب حضرت رسول(ص) نے وضو کرکے وضو کا باقیماندہ پانی دونوں کے سر، چہرے اور بدن پر چھڑکا اور خداوند متعال سے ان کے لئے اور ان کی نسل کے لئے برکت کی دعا کی.[108]

امام علی(ع) فرماتے ہیں: "جنگ خیبر" میں میری آنکھوں دکھ رہی تھیں تو رسول اکرم(ص) نے میری آنکھوں کو چھؤا اور اس کے بعد میری آنکھوں میں کوئی تکلیف نہيں ہوئی.[109]

مروی ہے کہ حضرت رسول(ص) نے اپنے وضو کا پانی ایک بیمار کے اوپر چھڑکا تو وہ شفایاب ہوا.[110]

کئی روایات میں منقول ہے کہ حضرت رسول(ص) نے اعمال حج انجام دینے کے بعد اپنے سر کے بال منڈوا کر مسلمانوں کے درمیان تقسیم کئے.[111]

حضرت رسول(ص) نے شب معراج انبیاء سے منسوب مقامات پر نماز بجا لائی؛ [112] اور آپ(ص) کے نماز پڑھنے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی سوائے اس کے یہ مقامات انبیاء کے واسطے سے متبرک ہوئے تھے.

حضرت علی(ع) کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد(س) کی تدفین کے وقت حضرت رسول(ص) نے انہیں اپنے لباس سے کفن دیا.[113] اور ان کی تدفین سے قبل کچھ لمحوں تک ان کی قبر میں لیٹ گئے تا کہ آپ(ع) کی برکت سے قبر کی سختیاں ان پر آسان ہوجائیں.[114]

عبداللہ بن ابی نے بھی رسول اللہ(ص) سے درخواست کی کہ اس لباس میں اس کو دفن کریں جو آپ نے اس وقت پہنا ہوا تھا اور وہ آنحضرت(ص) کے لباس سے تبرک کرکے عذاب الہی سے چھٹکارا پانے کے درپے تھا.[115]

صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے نمائندے نے حکایت کی ہے کہ محمد(ص) کے اصحاب اس قدر آپ کو توجہ دیتے ہیں کہ آپ کے وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے اور جب بھی وضو کرتے ہیں اصحاب آپ کے وضو کے قطرے لے لیتے ہیں اور اپنے چہرے پر ملتے ہیں.[116]

اس کے باوجود کہ یہ عمل رسول اللہ(ص) کی آنکھوں کے سامنے انجام پاتا تھا لیکن آپ نے اصحاب کو اس عمل سے منع نہیں کیا؛ اور یہ فقہی اصطلاح میں "تقریرِ معصوم" کا مصداق ہے اور تقریر معصوم سے مستند کرکے اس عمل کو سنت کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے.

جس طرح کہ رسول اللہ(ص) کے وضو کے پانی یا آپ کے وضو سے باقیماندہ پانی سے تبرک کو نہ صرف آپ(ص) نے منع نہیں کیا بلکہ بعض مواقع پر آپ نے اصحاب کو ترغیب بھی دلائی ہے کہ اس پانی سے تبرک کریں.

سیرت اہل بیت(ع)

حدیث اور تاریخ کے منابع میں بہت سے واقعات نقل کیا ہے جن میں اہل بیت علیہم السلام نے رسول اللہ(ص) سے تبرک کیا ہے.

حضرت فاطمہ(س) بنت رسول اللہ(ص) نے والد کے وصال کے بعد آپ کی قبر پر حاضری دی اور آپ کی قبر کی مٹی تبرک کے عنوان سے اپنے چہرے اور سر پر مل لی.[117]

رسول اللہ(ص) کی قبر شریف سے تبرک [[ائمہ معصومین علیہم السلام|ائمہ(ع)] اور اہل بیت اطہار(ع) کی سنت جاریہ تھی؛ کتب حدیث میں رسول اللہ(ص) سے امام حسین علیہ السلام،[118] امام جعفر صادق علیہ السلام،[119] امام رضا(ع)[120] اور امام محمد تقی الجواد علیہ السلام]][121] کا تبرک آپ(ص) کی قبر شریف سے ان بزرگواروں کی سیرت میں تبرک کے نمونے ہیں.

امام حسن(ع) نے بھی قبر شریف نبوی(ص) کی برکت کی بنا پر وصیت کی کہ اگر ممکن ہو اور تنازعے کا سبب نہ ہو تو رسول اللہ(ص) کی قبر شریف کے پہلو میں دفنا دیئے جائیں.[122]

امام جعفر صادق علیہ السلام کا عصائے نبی(ص) سے تبرک[123] نیز رسول اللہ(ص) کے باقیماندہ حنوط سے حضرت علی(ع) کا حنوط[124] سیرت اہل بیت(ع) کی سیرت میں تبرک کے دیگر شواہد ہیں.

صحابہ و تابعین کی سیرت

صحابہ رسول اللہ(ص) کی حیات میں بھی اور آپ کے وصال کے بعد بھی آپ سے تبرک کرتے رہے ہیں. رسول اللہ(ص) کی زندگانی اور آپ کے اصحاب کی سیرت و روش سے بھی ثابت ہے کہ صدر اول کے مسلمان رسول اللہ(ص) اور آپ سے متعلقہ اشیاء سے تبرک کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے؛[125] اسی بنا پر صحابہ ان آثار و اشیاء کے تحفظ و نگہداشت سے ہرگز غافل نہیں رہتے تھے. بعض افراد کی طرف سے ان اشیاء کی طرف بہت زيادہ توجہ اور اہمیت اس حد تک تھی کہ بعض لوگ گمان کرتے تھے کہ وہ جنون سے دوچار ہوئے ہیں.[126]

آپ(ص) سے تبرک دو وجوہات کی بنا پر تھا: آپ(ص) کی شخصیت سے معنوی آثار حاصل کرنا اور رسول اللہ(ص) اور آپ کے اہل بیت(ع) سے مودت و محبت اور عقیدت کا اظہار کرنا. چونکہ انبیاء اور اولیاء اور ان کے آثار اور متعلقہ اشیاء کا احترام اللہ کے شعائر کی تعظیم و تکریم کے زمرے میں آتا ہے اور اصحاب کے تبرک کے واقعات میں غور و تامل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام رسول اللہ(ص) کی شخصیت سے برکت حاصل کرنے کے علاوہ، ان بزرگوں کی تکریم و تعظیم اور بہت زيادہ محبت و مودت کا اظہار تھا.

رسول اللہ(ص) سے مسلمانوں کا تبرک تین صورتوں میں تھا:

آپ(ص) کے بدن مبارک کے اجزاء سے؛

آپ کی متعلقہ اشیاء سے تبرک؛
اور ان مقامات سے تبرک جن کا تعلق رسول اللہ(ص) سے تھا.

پیغمبر(ص) کے جسم مبارک سے تبرک

ایک مسئلہ ـ جو تبرک کے وقت مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ اہم اور قابل توجہ تھی ـ اصحاب رسول اللہ(ص) کے موئے مبارک (بال)[127] اور آپ کے سر کے موئے مبارک کو تبرک اور تیمن کے عنوان سے اپنے پاس رکھتے تھے.[128]

تاریخی روایات اور کتب حدیث میں بیان ہوا ہے کہ صلح حدیبیہ کے واقعے کے دوران، رسول اللہ(ص) اپنے سر کے بالوں کی اصلاح کررہے تھے اور صحابہ کے ارد گرد کھڑے تھے اور ہر موئے مبارک جب زمین پر گرتا صحابہ اس کو تبرک کے عنوان سے اٹھا دیتے تھے.[129]

خالد بن ولید جنگوں میں ایک اپنی پیشانی پر پٹی فتح و کامیابی کے لئے تبرک و تیمن کے عنوان سے باندھتا تھا جس میں رسول اللہ(ص) کے چند موئے مبارک بندھے ہوئے تھے.[130]

رسول اللہ(ص) کے پسینے سے تبرک، اصحاب کے حصول برکت کے دیگر دلائل میں ہے. انس بن مالک.[131] اور امّ سلیم [132] کا آپ کے پسینے سے تبرک دیگر واقعات میں سے ہے. ثمامہ سے مروی ہے کہ انس بن مالک نے وفات کے وقت وصیت کی کہ رسول اللہ(ص) کا پسینہ مبارک ان کے حنوط میں ملا دیا جائے.[133] انس کا کہنا ہے کہ میری والدہ نے رسول اللہ(ص) کا پسینہ ایک شیشے میں جمع کیا. اور جب آپ(ع) جاگ اٹھے تو آپ نے وجہ پوچھی اور میری والدہ نے کہا: "ہذا عرقک نجعلہ في طِيبِنا وہو مِن أطيب الطيب". ترجمہ: آپ کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے.[134] ایک روایت میں ہے کہ ام سلیم نے جواب دیا: ہم آپ کے پسینے سے اپنے بچوں کے لئے برکت حاصل کرتے ہیں.[135]

رسول اللہ(ص) کے ناخنوں سے تبرک

رسول اللہ(ص) کبھی اپنے ناخن کاٹ کر تبرک کے عنوان سے اصحاب میں تقسیم کیا کرتے تھے.[136] آپ کے وضو کے باقیماندہ پانی،[137] آپ کے پانی کے برتن،[138] حدیبیہ میں آپ(ص) کے ہاتھوں متبرک ہونے والے کنویں[139] نیز آپ کے وضو کے پانی سے تبرک خاص طور پر اصحاب کے نزدیک اہمیت رکھتا تھا.[140]

حتی کبھی اصحاب آپ کے وضو کا پانی نوش کر جاتے تھے.[141] ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ اصحاب نے اس مشکیزے کے دہانے کو کاٹ کر بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جس سے آپ(ص) نے پانی نوش کیا تھا.[142]

تاریخی منابع میں ایسے بیس کنؤوں اور چشموں کا ذگر آیا ہے جنہیں رسول اللہ(ص) نے متبرک فرمایا تھا اور صحابہ ان سے برکت حاصل کرنے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے.[143]

رسول اللہ(ص) کے سازوسامان سے تبرک

رسول اللہ(ص) کے متعلقہ وسائل اور سازو سامان سے بھی برکت حاصل کی جاتی تھی.[144] عصا، [145] آنحضرت(ص) کا لباس، [146] عبا، [147] عمامہ، [148] جوتے، [149] سجادہ، تلوار کا قبضہ (دستہ)[150] پرچم [151] اور چارپائی[152] ان ہی اشیاء میں سے ہیں.

رسول اللہ(ص) سے منسوب مقامات سے تبرک

صدر اول کے مسلمان ان مقامات کو خاص توجہ دیتے تھے جو کسی طرح رسول اللہ(ص) سے منسوب تھے؛ خواہ وہ مقامات جہاں آپ(‏ص) نے نماز ادا کی تھی،[153] خواہ وہ مقامات جہاں آپ کسی وقت بیٹھے تھے،[154] یا حتی وہ جگہیں جہاں سے آپ کبھی گذرے تھے.[155] ان مقامات کی فہرست تیسری صدی ہجری میں الفاکہی نے "المواضع التی دخلہا رسول اللہ" (وہ جگہیں جہاں رسول اللہ(ص) داخل ہوئے ہیں) کے عنوان سے ثبت کی ہے.[156]

عبداللہ بن عمر ان لوگوں میں سے ہے جو رسول اللہ(ص) سے منسوب مقامات کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے.[157] ان کی یہ توجہ اور ان مقامات سے برکت حاصل کرنے میں ان کی شدت و حدت ـ جو صدر اول میں تبرک کے عام اور رائج ہونے کا ثبوت ہے ـ کو بعض لوگوں نے ان کا ذاتی اجتہاد قرار دے کر ان کے اس عمل کی توجیہ کی کوشش کی ہے اور یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ ابن عمر کا یہ عمل شرعی دلائل پر مبنی نہ تھا. حالانکہ بعض دیگر نے ان ہی روایات سے استناد کرکے، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ(ص) کے آثار اور سازوسامان اور متعلقہ مقامات سے تبرک مستحب ہے.[158]

ان میں سے بعض مقامات مکہ میں واقع تھے جن کے نام درج ذیل ہیں:

پیغمبر اکرم(ص) کا مقام ولادت؛[159] وہ مقام جہاں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|آپ(ص) مناسک حج کی انتہا پر اپنے قربانی کے اونٹ کو نحر کرتے تھے؛[160] وہ مقام جہاں بیعت رضوان ہوئی تھی؛[161] وہ غار جس سے آپ(ص) نے اپنی ہجرت کا آغاز کیا تھا؛[162] مسجد الغنم جہاں فتح مکہ کے بعد مشرکین نے آپ(ص) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی؛[163] مسجد خیف جہاں آپ(ص) نے حجۃ الوداع کا خطبہ دیا تھا؛[164] اور سات سو پیغمبروں نے نماز بجا لائی ہے اور اس میں نماز پڑھنے کی بہت زيادہ سفارش کی گئی ہے؛[165] مسجد ردم الاعلی؛ مسجد مختفی؛ ام ہانی کا گھر؛ مسجد عُرَیض؛[166] حضرت خدیجہ(س) کا گھر، جو حضرت فاطمہ(س) کا مقام ولادت بھی ہے؛[167] ارقم بن ابی ارقم کا گھر جہاں مسلمین، مشرکین مکہ کے آزار و اذیت سے بچنے کے لئے، پناہ لیا کرتے تھے؛[168] مسجد الغدیر جہاں رسول اللہ(ص) نے خطبۂ غدیر دیا تھا؛[169] پتھر کا وہ تختہ جو قبۃ الوحی کے قریب واقع ہے اور منقول ہے کہ اس نے آپ(ص) کو سلام کیا تھا؛[170] پتھر کا وہ تختہ جو مکہ کے قریب واقع ہے اور مروی ہے کہ آپ(ص) نے عمرہ سے واپسی کے وقت اس پر آرام فرمایا تھا؛[171] اور مسجد الحرام کے گوشے میں واقع پتھر کا ایک تختہ جس پر آپ(ص) کے پیروں کے نشانات تھے.[172]

مدینہ میں بھی متبرک مقامات تھے جن میں سے بعض کچھ یوں ہیں:

منبر،[173] اور روضۂ نبوی اور مسلمانان عالم کہ اتفاق ہے کہ روضۂ نبوی اور منبر نبوی کے پاس دعا کرنا آداب دینیہ میں سے ہے.[174] مسلمین تبرک کے عنوان سے آپ(ص) کی قبر شریف کی تربت اٹھا لیتے تھے. یہ عمل اس قدر مسلمانوں کے درمیان رائج ہوا کہ عائشہ نے حکم دیا کہ قبر کے سامنے ایک دیوار کھڑی کی جائے.[175]

غار ثور اور حراء؛ [176] مسجد شجرہ جہاں سے آپ(ص) احرام باندھتے تھے؛[177] مسجد الاجابہ جہاں آپ(ص) نے عمرہ سے واپسی پر نماز پڑھی تھی اور لوگ تبرک کے عنوان سے اس کو چھومتے تھے؛[178] مسجد البغلہ اور مسجد الفتح؛[179] مسجد قبا جہاں نماز پڑھنے پر ثواب کثیر مترتب ہوتا ہے؛[180] دیگر مقامات متبرکہ میں سے ہیں.

تبرک نبی(ع) کے علاوہ دوسروں سے

مسلمین رسول اللہ(ص) کے علاوہ دوسری شخصیات سے بھی حصول برکت کا اہتمام کرتے تھے. وہ، یہ عمل، زمانۂ حیات رسول(ص) سے لے کر آج تک، انجام دیتے رہے ہیں. ایک روایت کے مطابق رسول اللہ(ص) نے امام علی(ع) کی پیشانی کے پسینے سے تبرک انجام دیا ہے.[181]

انبیائے سابق اور صالحین کی قبور سے تبرک مسلمانوں کی سیرت جاریہ رہی ہے.[182]

رسول اللہ(ص) کے علاوہ جن شخصیات و مقامات و اشیاء سے برکت حاصل کی جاتی رہی؛ وہ کچھ یوں ہیں:

قرآن کریم اور حجر الاسود،[183] امام حسن اور امام حسین(علیہما السلام) کا پرچم، جعفر طیار کی تلوار، علی بن ابی طالب(ع) سے منسوب قرآن، پردہ کعبہ،[184] اہل بیت رسول(ص) کی باقیماندہ غذا.[185] مصعب بن زبیر کا امام حسین(ع) سے تبرک اور عمر بن خطاب کا عباس بن عبدالمطلب سے تبرک، عباس کا حضرت علی(ع) سے تبرک،[186] مؤمن کا باقیماندہ کھانا یا پانی،[187] آب فرات،[188] آب زمزم،[189] خاک مدینہ، اویس کا تاج، خالد بن ولید اور شرجیل بن حسنہ کی تلواریں[190] حضرت فاطمہ(س) اور عقیل بن ابی طالب کے گھر،[191] اور مسجد کوفہ.[192]

اولیا و صالحین کی تبرک

مسلمانوں کے درمیان تبرک کی سنت صرف حضرت رسول(ص) تک محدود نہ تھی بلکہ صحابہ، تابعین اور صالحین کی قبور سے بھی متبرک ہوجایا کرتے تھے.[193]

سبكی کی رائے ہے کہ دین اور سلف صالح کی سیرت کے مطابق حتی بعض "صالح اموات" سے بھی تبرک جوئی اور حصول برکت جائز ہے.[194]

دیگر شخصیات و مقامات و اشیاء جن سے مسلمان برکت حاصل کرتے آئے ہیں:

تربت امام حسین(ع)،[195] تربت علی بن موسی الرضا،[196] تربت امام موسی بن جعفر(ع)،[197] قبر حمزہ بن عبدالمطلب جو اُحُد میں واقع ہے،[198] شام میں بلال حبشی کی قبر،[199] استنبول میں واقع ابو ایوب انصاری کی قبر،[200] مصر میں واقع سیدہ نفیسہ کی قبر،[201] نیز عسقلان میں بھی ادر عسقلان میں "مشہد رأس الحسین"، نامی مقام جہاں ضریح اور مسجد واقع ہوئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ امام حسین(ع) کا سر مبارک وہاں مدفون ہے. اسی وجہ سے مقامی لوگوں اور دوسرے علاقوں کے لوگ اس کو متبرک سمجھتے ہیں اور اس سے برکت حاصل کرتے ہیں.

تبرک کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب

بہت سی کتابوں میں تبرک کو دوسرے موضوعات کے ساتھ زیر بحث آیا ہے مگر بعض کا موضوع ہی "تبرک" ہے اور ان مستقل کتب میں پر تفصیلی طور پر تبرک کو موضوع بحث بنایا گیا ہے:

پاورقی حاشیے

  1. لغت میں تبرک کے معنی" کسی سے برکت حاصل کرنے کے ہیں: ابن منظور، لسان العرب، ج10، صص 395،396.
  2. سورہ یوسف، آیت 96.
  3. سورہ بقرہ آیت 248.
  4. یہ تابوت [حضرت آدم(ع) سے بنی آدمی میں منتقل ہوتے ہوئے بنی اسرائیل کے پاس پہنچا اور ان کے قبضے میں رہا. اور جب ان کے درمیان کسی مسئلے پر اختلاف ہوتا تو یہ تابوت کلام کرتا اور فیصلہ سناتا اور جب وہ کسی جنگ کے لئے جاتے تو اپنے آگے اس تابوت کو رکھتے جس کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں پر فتح پاتے.رازي، التفسير الکبير، ج6 ص149.
  5. دخیل الفاظ، ص‌126.
  6. قرشی، ج1، ص190 "برکت".
  7. ابن منظور، ج10، ص 396؛ دہخدا، ج5، ص302.
  8. حمادہ الجبرین، ج1، ص 287؛ الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ، ج10، ص69 و ج7، ص488؛ رضوانی، ص‌434؛ ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ ص43.
  9. the encyclopedia of religion, IV/ p182.
  10. دیکھیں: وہی ماخذ، II/182.
  11. الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، ج10، ص69.
  12. دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، مدخل تبرک.
  13. ابن حجر، ج1، ص53.
  14. مسلم، ج7، ص81.
  15. مسلم، ج7، ص80.
  16. ازرقی، ج1، ص336.
  17. ناصرخسرو، ص128.
  18. بلوکباشی، ص 23-32.
  19. سفر پیدائش، 30:32.
  20. سفر پیدائش،27: 8-40.
  21. سفر پیدایش، 48: 20و 28.
  22. دہلوی، شاہ ولی اللہ، ازال‍ۃ الخفا، ج2، ص254.
  23. محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، ج3 ذیل آيہ 45.
  24. سورہ ہود، آیت 48: ترجمہ: اے نوح !ا ترو ہماری طرف کی سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ والوں سے پیدا ہونے والی نسلوں پر ہیں.
  25. سورہ صافات، آیت 113:ترجمہ: اور برکت عطا کی انہیں اور اس اسحاق کو.
  26. سورہ نمل، آیت 8: ترجمہ: تو جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز دی گئی کہ برکت والا (قائم و دائم) ہے وہ جس کا جلوہ آگ میں ہے اور جس کا جلوہ اس کے ارد گرد ہے.
  27. سورہ مریم، آیت 31: اور مجھے برکت والا قرار دیا ہے جہاں بھی میں ہوں.
  28. سورہ ہود، آیت 73: ترجمہ: اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں آپ لوگوں پر اے اس گھر والو!.
  29. سورہ انعام، آیت 155: اور یہ ایک بڑی بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے. اب اس کی پیروی کرو.
  30. سورہ نمل، آیت 8: ترجمہ: تو جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز دی گئی کہ برکت والا (قائم و دائم) ہے وہ جس کا جلوہ آگ میں ہے اور جس کا جلوہ اس کے ارد گرد ہے.
  31. سورہ ق، آیت 9:ترجمہ: اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا برکت والا تو اس سے اگائے باغ.
  32. سورہ نور‌، آیت 35:ترجمہ: وہ روشن ہوتا ہو ایک بابرکت درخت زیتون سے جو نہ مشرق کی طرف کا ہے اور نہ مغرب کی طرف کا.
  33. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج4، ص139.
  34. سورہ آل عمران، آیت 96: ترجمہ: یقینا سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیے مقرر ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے.
  35. بخاری، ج3، ص78.
  36. بخاری، ج4، ص528.
  37. سورہ قصص، آیت 30:ترجمہ: تو جب وہاں گئے تو آواز آئی اس وادی کی داہنی جانب سے اس مبارک سرزمین میں درخت سے.
  38. طباطبائی، تفسیر المیزان ج8، ص228.
  39. سورہ اسراء،آیت1: ترجمہ: ترجمہ: پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندہ کو ایک رات مسجد حرام سے انتہائی اونچے سجدہ کے مقام تک جس کے گردو پیش ہم نے برکت ہی برکت قرار دی ہے.
  40. الاندلسی، ج5، ص 155.
  41. بخاری، ج2، ص452.
  42. سورہ اعراف‌، آیت 137: ترجمہ: اور ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ہم نے زمین کے مشرق اور مغرب کے تمام اطراف پر جن میں ہم نے برکت عطا کی تھی.
  43. بخاری، ج17، ص592.
  44. شوکانی، فتح القدیر ج3، ص246.
  45. فخر رازی، ج22، ص160.
  46. طباطبایی، ج5، ص228.
  47. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج11، ص212.
  48. سورہ دخان، آیت 3: ہم نے اس کو اتارا ہے ایک مبارک رات میں.
  49. مطہری، مجموعہ آثار ص277-279.
  50. مطہری، ص284.
  51. الموسوعہ الفقہیہ، ج10، ص70-74.
  52. راجح یعنی وہ چیز جو اپنے مقابل دوسری چیز پر رجحان رکھتی ہو [ترجیحی ہو] یہاں تبرک راجح ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس وہ جائز ہی نہیں ہے بلکہ اس کو ترجیح دی گئی ہے اور مستحب عمل ہے.
  53. فرہنگ فقہ، ج2، ص335.
  54. صدوق، ج1، ص143؛ نجفی، ج4، ص225-241.
  55. نجفی، ج31، ص254.
  56. حلی،ج7، ص241.
  57. نجفی، ج31، ص254.
  58. آملی، ج3، ص170.
  59. سيرۃ المتشرّعين: یا سیرہ متشرعہ کے معنی ایک دین، مذہب یا کسی خاص گروہ کے درمیان کسی عمل کو انجام دینے یا اسے ترک کرنے کی روش کو جاری رکھنے کے ہیں. جیسا کہ متشرعین (یا اہل شریعت) کے ہاں حدیث ثقہ حجت ہے. چنانچہ اگر تمام مسلمین یا ان میں سے ایک خاص جماعت ـ جیسے شیعہ امامیہ ـ عملی طور پر کسی عمل کو ترک کرتی یا انجام دیتی ہو تو وہ عمل سیرہ مسلمین یا سیرۃ متشرعہ کہلائے گا. رجوع کریں "فرہنگ نامہ اصول فقہ، ص 496". سیرہ متشرعۂ مستمرہ بھی وہ سیرت ہے جو ایک طویل عرصے سے رائج ہو اور اس پر عمل ہوتا رہا ہو. رجوع کریں:بین سیرہ مستمرّہ، سیرہ عقلا، بنای عقلا، سیرہ متشرعین و عرف عام و خاص چیست؟.
  60. الاباحہ یا " اباحہ" کے لغوی معنی اذن اور قید سے رہائی کے ہیں اور اس کے دو معنی ہیں اخص اور اعم. اباحہ بمعنی الاخص ترخیصی احکام میں سے ہے جس میں مکلّف کو کسی فعل کو انجام دینے یا ترک کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور بالفاظ دیگر شارع اور مولا کے نزدیک اس فعل کو انجام دینے یا اسے ترک کرنے کو ترجیح حاصل نہیں ہے یعنی اس فعل کا انجام دینا یا ترک کرنا ایک جیسا ہے. جیسے معمول کے حالات میں پانی پینا وغیرہ... مباح اباحہ سے ماخوذ ہے. قاعدہ اصالۃ الاباحہ یعنی جس فعل کے سلسلے میں شریعت نے حرمت اور وجوب کا حکم نہیں دیا ہے وہ مباح ہے. اور اس قسم کے افعال پر یہ قاعدہ لاگو ہوتا ہے.اصالۃ الاباحہ ایک ضابطہ ہے کہ اگر کسی عمل کی ممانعت پر کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو مباح اور جائز قرار دیا جائے.
  61. امین، کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبدالوہاب، ص345-346.
  62. ابن حنبل، العلل و معرفہ الرجال، ج2، ص 492، شمارہ 3243.
  63. حوالہ از سمہودی، ج۴، ص1404.
  64. کنزالمطالب، ج33، ص219.
  65. زرقانی، ج8، ص315.
  66. ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ، ص‌329، 343، 401.
  67. ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ، ص252.
  68. محسن امین العاملی، کشف الارتیاب فی... ص341.
  69. ابن تیمیہ، البدعہ، ج2، ص193.
  70. نجار، التبرک والتوسل والصلح مع العدوّ الصہيوني، ص 40.
  71. ابن تیمیہ، زیارہ القبور ،ج1 ، ص31.
  72. شاطبی، ج2، ص8؛ سلامی، ص55.
  73. نک، شاطبی، ص310-313.
  74. ابن حجر، فتح الباری، ج3، ص130، تعلیقہ عبدالعزیز بن باز، تعلیقہ1 و ص144.
  75. شاطبی، ج2، ص8؛ ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ، ص268.
  76. مشکور، محمد جواد، فرہنگ فرق اسلامی، ص 457 تا 461.
  77. محمد حسینی قزوینی، وہابیت از منظر عقل و شرع.
  78. وہی ماخذ.
  79. امام خمینی، سید روح اللہ، تہذیب الاصول، ج1، ص147.
  80. ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ، ص 244..
  81. الفوزان، ص104.
  82. العلل و معرفۃ الرجال، ج2، ص 492، شمارہ 3243.
  83. دیکھیں: فتح المقال، ص329.
  84. ابن اثیر، ج4، ص75.
  85. سمرقندی، ص21.
  86. زین الدین، ج2، ص127.
  87. زین الدین، ج2، ص131.
  88. محسن امین العاملی، کشف الارتیاب فی...، ص182.
  89. سبکی، ص171-201.
  90. رسالہ الہدیہ السنیہ، ص41 بحوالہ سید محسن العاملی، کشف الارتیاب فی...، ص110.
  91. بخاری، باب ما ذکر من درع النبی و عصاہ و سیفہ و.... مما تبرک اصحابہ و غیرہم بعد وفاتہ؛ ج4، ص46.
  92. نووی، ج7، ص3 و ج14، ص44؛ ابن حجر، فتح الباری، ج3، ص 129-130 و144.
  93. کلمۃ ہادئۃ في البدعۃ، ص28-30.
  94. سورہ یوسف، آیت 93.
  95. سورہ یوسف آیت 96: "فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاہُ عَلَى وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِيراً". (ترجمہ: تو جب خوشخبری دینے والا آیا، اس نے وہ ان کے چہرے پر ڈال دیا تو ان کی آنکھیں دوبارہ روشن ہو گئیں).
  96. اندلسی، ج2، ص626.
  97. مکارم، تفسیر نمونہ، ج3، ص240.
  98. طبرسی، تفسیر مجمع البیان، ج2، ص614-615.
  99. قمی، تفسیر قمی، ج1، ص82.
  100. سبحانی، فی ظلال التوحید، ص294.
  101. طبرسی، ج1، ص383؛ بلاغی، ج1، ص125.
  102. سورہ بقرہ آیت 125.
  103. محسن امین العاملی، کشف الارتیاب، ص341.
  104. ناصر عبدالرحمن الجديع، التبرک انواعہ و احکامہ، ص352.
  105. قاموس قرشی، ج1، ص244.
  106. احمدی، ص62-64.
  107. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج11، ص47.
  108. قندوزی، ص174-175 و 196-197.
  109. قندوزی، ینابیع المودہ، ص286.
  110. بخاری، ج1، ص201.
  111. بیہقی، ج7، ص68؛ ابن کثیر، ج5، ص189.
  112. الشامی، ج3، ص80 و 81.
  113. حاکم، ج10، ص375.
  114. سیوطی، ج42، ص32.
  115. سمرقندی، ج2، ص255.
  116. بخاری، ج105، ص389 وج14، ص233.
  117. مرعشی، ج10، ص 436؛ سمہودی، ج4، ص217 ؛ ابن صباغ، ص132.
  118. ابن اعثم،ج5 ،ص26-27؛ مجلسی ،ج44، ص328.
  119. مجلسی، ج100، ص157-158.
  120. قمی، الانوار البہیہ، ص110.
  121. کلینی، ج1، ص353؛ مجلسی، ج50، ص68.
  122. مجلسی، ج44، ص156.
  123. قمی، الکنی و الالقاب، ج1، ص25.
  124. حاكم نیشابوری، ج1، ص361.
  125. احمدی، ص17.
  126. ذہبی، ج3، ص 213.
  127. نووی، ج15، ص82.
  128. مسلم، ج7، ص79؛ ابن حجر، فتح الباری، ج6، ص213.
  129. مجلسی، ج17، ص32.
  130. صالحی شامی، ج2، ص16.
  131. بخاری، ج1، ص177.
  132. وہی ماخذ، ج16، ص2.
  133. بخاری، الصحيح، 5 : 2316، کتاب الاستئذان، رقم : 5925. شوکانی، نيل الاوطار، ج1 ص69. طبراني، المعجم الکبير، ج1 ص249، رقم 715. بيہقي، السنن الکبري ج3 ص406، رقم 6500. ہيثمی کا کہنا ہے کہ اس روایت کے راوی سب ثقہ ہیں، مجمع الزوائد، ج3 ص21.
  134. مسلم، الصحيح، ج4 ص1815، کتاب الفضائل، رقم : 2331. ابن حنبل، المسند، ج3 صص136، 287، رقم : 12419و 14091. نسائي، السنن، ج8 ص218، ،کتاب الزينۃ، رقم5371. ج5 ص506، رقم 9806. يوسف بن موسیٰ، معتصر المختصر ج1 ص17. ابو يعلي، المسند، ج6 ص409، رقم 3769. ذہبي، سير اعلام النبلاء، ج2 ص308. طبراني، المعجم الکبير، ج25 ص119، رقم289. اصبہاني، دلائل النبوۃ، ج1ص59، رقم40. ابو نعيم، حليۃ الاولياء، ج2 ص61. عسقلاني، فتح الباري، ج11 ص72.
  135. مسلم، الصحيح، ج4 ص1815، کتاب الفضائل، رقم 2331. ابن حنبل، المسند ج3 ص226، رقم 13390. بيہقي، السنن ج1 ص254، رقم 1130. عسقلاني، فتح الباري، ج11 ص72.
  136. زرقانی، ج4، ص450.
  137. احمد، ج10، ص391.
  138. بخاری، ج8، ص115.
  139. مالکی، ص127.
  140. مجلسی، ج17، ص33.
  141. بخاری، ج6، ص561.
  142. ابن عبدالبر، ج4، ص1907.
  143. سمہودی، ج3، ص948. نیز رجوع کریں: طبقات الکبری،تذکرۃ ام سلیم بنت ملحان، ج8،ص315.
  144. حلبی، ج3، ص187.
  145. احمد حنبل، مسند، ج3، ص436.
  146. بخاری، ج8، ص114.
  147. ابن ہشام، ج4، ص157.
  148. ابن واقد، ج3، ص1096.
  149. بخاری، ج8، ص113.
  150. زرقانی، ج5، ص86.
  151. بیرونی، ص40، 42و50.
  152. زرقانی، ج5، ص96.
  153. بخاری، ج1، ص493.
  154. ابن حجر، ج1، ص522.
  155. ابن شبہ، ج1، ص57.
  156. فاکہی، ج5، ص91.
  157. بخاری، ج1، ص522.
  158. ابن حجر، ج2، ص471.
  159. زرقانی، ج1، ص258.
  160. بخاری، ج4، ص289.
  161. متقی ہندی، ج17، ص104.
  162. ابن بطوطہ، ج1، ص187.
  163. ازرقی، ج4، ص137.
  164. کلینی، ج1، ص403.
  165. کلینی، ج4، ص 214.
  166. جعفریان، ص285.
  167. وہی ماخذ، ص175.
  168. ازرقی، ج4، ص14.
  169. صدوق، ج1، ص229.
  170. ابن بطوطہ، ج1، ص379.
  171. وہی ماخذ، ج1، ص185.
  172. ناصر خسرو، ص128.
  173. ابن تیمیہ، الجواب الباہر، ج1، ص73؛ کلینی، ج4، ص553.
  174. حر عاملی، ج14، ص343.
  175. سمہودی، ج1، ص544.
  176. سمہودی، ج1، ص108.
  177. کلینی، ج4، ص248.
  178. بتنونی، ص164.
  179. حر عاملی، ج4، ص309.
  180. حر عاملی، ج5، ص285.
  181. ابن ابی الحدید، ج18، ص242.
  182. سبكی، ص130.
  183. ازرقی، ج1، ص330.
  184. کلینی، ج8، ص118.
  185. نوری، ج16، ص329.
  186. احمدی، السجود علی الارض، ص59.
  187. حر عاملی، ج5، ص263.
  188. حر عاملی، ج14، ص404.
  189. مسلم، ج7، ص152.
  190. بیرونی، ص40-51.
  191. سمہودی، ج1، ص89.
  192. مجلسی، ج97، ص396.
  193. بیاتی، ج5، ص11.
  194. سبکی، ص96.
  195. احمدی، التبرک، ص162.
  196. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ج7، ص339.
  197. ابن خلکان، ج5، ص310.
  198. سمہودی، ج1، ص133.
  199. ابن جبیر، ص226.
  200. ابن اثیر، ج2، ص82.
  201. زرقانی، ج2، ص688.

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغہ، قم، مكتبۃ آيۃ اللہ المرعشي النجفی،1404 ق‏، چاپ اول.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، أسد الغابہ في معرفہ الصحابہ ،المكتبہ الإسلاميہ، تہران.
  • ابن اعثم، احمد، الفتوح، الفتوح، حید آباد، 1388ہجری.
  • ابن بطوطہ، رحلہ ابن بطوطہ، رحلہ ابن بطوطۃ ،تہران، نشر آگہ‏،1376 ش‏، چاپ ششم‏.
  • ابن تیمیہ،احمد بن عبدالحلیم، العبودیہ، تحقیق: محمد زہير الشاويش، المكتب الإسلامي - بيروت، 1426ق- 2005عیسوی.
  • ابن جبیر، محمد بن احمد، الرحلہ، مكتبۃ الہلال‏، بيروت.
  • ابن خلكان، احمد بن محمد، وفیات الأعیان و انباء ابناء الزمان، محقق:احسان عباس، دار صادر، بيروت.
  • ابن خلكان، احمد بن محمد، زیارہ القبور، ادارہ العامہ للطبع، ریاض، 1410ق.
  • ابن خلكان، احمد بن محمد، الجواب الباہر فی زوار المقابر، قاہرہ، المطبعہ السلفیہ و مكتبہا.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، بیروت، دار صادر، چاپ اول.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، تہذیب التہذیب، دار الفكر، بیروت، چاپ اول، 1404ہجری.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری فی شرح صحیح بخاری، تعلیقہ: عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز ومحب الدين الخطيب ، نشر دارالفکر، بیروت، دار صادر، چاپ اول.
  • ابن حنبل، احمد، مسندالامام احمدبن حنبل ، قاہرہ، 1313ق، چاپ افست بیروت، بی تا.
  • ابن حنبل، احمد، العلل و معرفہ الرجال، مطبعہ سیلیک، انقرہ.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الكبرى، تحقیق احسان عباس، بیروت، دار صادر، 1968عیسوی.
  • ابن صباغ، علی بن محمد، الفصول المہمّۃ في معرفۃ أحوال الأئمۃ عليہم السلام، نجف، المكتبۃ الحيدريّۃ، 1381ہجری.
  • ابن شبہ نمیری، عمر، تاریخ المدینہ المنورہ( اخبار المدینہ المنورہ)، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1996عیسوی.
  • ابن عبدالبر، یوسف، استیعاب فی اسماء الاصحاب، بیروت، دار الکفر.
  • ابن فارس زکریا، ابوالحسین احمد، معجم مقاييس اللغۃ، تحقيق عبد السلام محمد ہارون، مكتبۃ الإعلام الإسلامي، 1404ہجری.
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، چاپ احمد ملحم و دیگران ، بیروت 1407ہجری/ 1987عیسوی.
  • ابن منظور، لسان العرب، قم، نشر أدب الحوزۃ، 1405ہجری.
  • ابن واقد، محمد بن عمر، المغازي، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات.
  • ابن ہشام حمیری، السيرۃ النبويۃ، بیروت، دار المعرفۃ.
  • احمدی، علی، التبرّک ، بیروت 1403ہجری.
  • احمدی، علی، السجود علی الارض.
  • ازرقی،محمد بن عبد اللہ بن احمد، اخبار مكۃ و ما جاء فيہا من الآثار، بیروت، دار الاندلس‏، 1416ہجری.
  • امین،سید محسن، کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبدالوہاب، دارالکتب الاسلامی.
  • آملی، محمد تقی، مصباح الہدی فی شرح العروہ الوثقی، تہران، 1380ہجری شمسی.
  • اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، بیروت، دارالکفر، 1420ہجری.
  • بتنونی، محمد لبیب، الرحلہ الحجازيہ، قاہرہ، الثقافہ الدينيہ.
  • بخاری جعفی، محمدبن اسماعیل، صحیح البخاری ، استانبول 1401ہجری/ 1981عیسوی.
  • بلاغی، محمدجواد، آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن،بنياد بعثت، قم،1420 ہجری، چاپ اول.
  • بلاغی، محمدجواد، الرّدّ علی الوہّابیّۃ، چاپ محمدعلی حکیم ، بہ ضمیمۃ تراثنا ، سال 9، ش 2ـ3 (ربیع الا´خر ـ رمضان 1414) ہجری.
  • بلوکباشی، علی، نخل گردانی، تہران، 1383ہجری شمسی.
  • بیاتی، صلاح، التبرک، مركز الابحاث العقائدیہ،( نرم افزار الشاملہ).
  • بیرونی، ابوریحان، الآثار الباقيۃ عن القرون الخاليۃ، تہران، مركز نشر ميراث مكتوب، تہران، 1422ہجری.
  • بیہقی، احمد بن حسین، السنن الکبری، حیدر آباد، دائرۃ المعارف الاسلامیہ، 1355ہجری.
  • الجدیع، ناصر بن عبدالرحمن، التبرک انواعہ و احکامہ، ریاض، مکتبہ الرشد.
  • جوہری، الصحاح، تحقيق : أحمد عبد الغفور العطار، دار العلم للملايين - بيروت - لبنان، چاپ چہارم، 1407ہجری– 1987عیسوی.
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ ومدینہ، تہران، مشعر، 1380، چاپ دوم.
  • حاکم نیشابوری،محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقيق مصطفي عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1422ہجری.
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، مؤسسہ آل البیت، قم،1409 ہجری،چاپ: اول‏.
  • حلبي، ابوالفرج،السيرۃ الحلبيۃ(إنسان العيون في سيرۃ الأمين المأمون)، بیروت، دار الكتب العلميۃ، 1427ق، چاپ دوم.
  • حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، نشر اسلامی، 1413ہجری.
  • حمادہ الجبرین، عبداللہ بن عبدالعزیز، دار العصیمی.
  • حمزاوی، کنز المطالب.
  • خمینی، سید روح اللہ، تہذیب الاصول، تقریر: جعفر سبحانی، قم، دار الفکر، 1382ش.
  • دہخدا، لغت نامہ دہخدا.
  • دہلوی، شاہ ولی اللہ، ازالۃ الخفا، لاہور، آکادمی سہیل، 1396ہجری.
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء، بیروت، موسسہ الرسالہ، 1413ہجری.
  • راغب اصفہانی، مفردات غريب القرآن، دفتر نشر کتاب، چاپ دوم، 1404ہجری.
  • رضوانی، علی اصغر، سلفی گری و پاسخ بہ شبہات.
  • زرقانی، محمد بن عبدالباقی، شرح الزرقاني على المواہب اللدنيۃ بالمنح المحمديۃ، دار الكتب العلميۃ،الطبعۃ: الأولى 1417ہجری-1996عیسوی.
  • زمخشری، محمود، الكشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، دار الکتب العربیہ، 1407ہجری.
  • زین الدین السلامی، جامع العلوم و الحکم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ ہفتم، 1422ہجری، 2001عیسوی.
  • سبحانی، جعفر، البدعۃ: مفہومہا، حدّہا و آثارہا ، قم، 1416ہجری.
  • سبحانی، فی ظل اصول الاسلام، بقلم جعفرالہادی ، قم 1414ہجری.
  • سبحانی، فی ظلال التوحید.
  • سبحانی، الوہّابیّۃ فی المیزان ، تہران 1417ہجری.
  • سبکی، تقی الدین، شفاء السقام فی زیارہ خیر الانام، 1419ہجری.
  • سلامی، عبدالرحمن بن احمد، الحكم الجديرۃ بالإذاعۃ من قول النبي ص بعثت بالسيف بين يدي الساعۃ،تحقیق: عبد القادر الأرناؤوط، دمشق، دار المأمون، دمشق، 1990عیسوی.
  • سمرقندی، تفسیر سمرقندی(بحر العلوم)، تحقیق: محمدمعوض، احمدعبدالموجود، عادل، عبدالمجیدالنوتی، زكریا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1993عیسوی.
  • سمہودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی، دار الکتب الاسلامیہ، بیروت.
  • سیوطی، جامع الاحادیث، اردن، دار المنار.
  • شاطبی، ابو اسحاق، الاعتصام، تعليقہ: محمود طعمہ، دار المعرفۃ، بيروت‏، 1420 ہجری.
  • شوکانی، محمد بن علی، فتح القدیر، دمشق، دار ابن کثیر، 1414ہجری.
  • الشامی، محمد بن یوسف صالحی، سبل الہدی و الرشاد فی سیرہ خیر العباد، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1414ہجری.
  • صدوق( ابن بابویہ)، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ،تحقیق وتصحیح: علی اکبر غفارى، دفتر انتشارات اسلامى، قم‏، 1413 ق‏،چاپ دوم‏.
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القران، قم، نشر اسلامی، 1417ہجری.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، ناصر خسرو، تہران، 1372 ش، چاپ سوم.
  • طبسی، نجم الدین ، الوہابیۃ: دعاوی و ردود ، تہران 1420ہجری.
  • طنطاوی، بن جوہری ، الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم ،بیروت ، بی تا.
  • فخررازی، محمدبن عمر ، التفسیر الکبیر ، قاہرہ [ بی تا] ، چاپ افست تہران ] بی تا.
  • الفوزان، صالح بن فوزان،التوحید، وزارۃ الشؤون الإسلاميۃ والأوقاف والدعوۃ والإرشاد - المملكۃ العربيۃ، چاپ چہارم.
  • فتح المقال.
  • قاسمی، جمال الدین ، تفسیر القاسمی ، المسمی محاسن التأویل ، چاپ محمد فؤاد عبدالباقی ، بیروت 1398/ 1978ہجری.
  • قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، 1371ش، چاپ ششم.
  • قرشی، سید علی اکبر، تفسیر احسن الحدیث، بنياد بعثت، تہران، 1377ش، چاپ سوم.
  • قرطبی،محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، تہران، ناصرخسرو،1364ہجری شمسی.
  • قزوینی، زکریا بن محمد، آثار البلاد و اخبار العباد،امیر كبیر،تہران‏،1373 ش‏، چاپ اول.
  • قمی، عباس،الانوار البہیہ فی تاریخ الحجج الالہیہ، تعلیق محمد كاظم الخراسانی شانہ چی، قم، منشورات الرضی، 1364ہجری شمسی.
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ينابيع المودّۃ، دار الكتب العراقيّۃ، 1385ہجری.
  • کتاب مقدس.
  • کلمہ ہادئۃ فی البدعۃ.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول الکافی، محقق و مصحح: علی اکبر غفارى و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق، چاپ چہارم.
  • مالکی، محمد بن علوی، مفاہیم یجب ان تصحح، دبی، دائرہ الاوقاف و الشوون الاسلاميہ، 1995عیسوی.
  • متقی ہندی، علی بن حسام، کنز العمال(المرشد الی كنز العمال فی سنن الافوال و الافعال)، بیروت، الرسالہ.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحياء التراث العربي‏، بيروت‏، 1403ہجری.
  • مراغی، احمدمصطفی ، تفسیرالمراغی ، بیروت 1985عیسوی.
  • مرعشي، قاضی نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، مكتبۃ آيۃ اللہ المرعشي النجفي‏ ، 1409ہجری.
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، استانبول 1401/ 1981عیسوی.
  • مقری، احمدبن محمد ، فتح المتعال فی مدح النعال، حیدرآباد دکن؛ 1334ہجری.
  • الموسوعۃ الفقہیّۃ، ج 10، کویت: وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیّۃ، 1407/ 1986عیسوی.
  • نجار، فتح اللہ بن تقي، التبرک والتوسل والصلح مع العدوّ الصہيوني، مشعر، تہران.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دار احیاء التراث العربی، بیروت، چاپ ہفتم.
  • نوری، حسين بن محمد، مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل‏‏، مؤسسۃ آل البيت‏، قم‏،1408ق‏، چاپ اول‏.
  • نووی، یحیی بن شرف، المنہاج شرح صحیح مسلم بن حجاج، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1392، چاپ دوم.
  • واژہ ہای دخیل.
  • اليحصبی، عیاض بن موسی، ترتیب المدارک و تقریب المسالک لمعرفۃ أعلام مذہب مالك، بيروت، دار الكتب العلميۃ، 1418ہ- 1998عیسوی.

|}

  • دانشنامۂ جہان اسلام، مدخل تبرک؛
  • دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، مدخل "تبرک".
  • The encyclopedia of religion , ed, mircea eliade,Publisher: New York : Macmillan Publishing Company, 1987, vol 1-16.

بیرونی ربط

‘‘http://ur.wikishia.net/index.php?title=تبرک&oldid=78806’’ مستعادہ منجانب