عدالت صحابہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حضور اکرمؐ

”[قیامت کے دن] میری امت کے کچھ افراد کو دوزخ کی طرف لے جائیں گے، میں کہوں گا: پروردگارا! یہ میرے اصحاب ہیں، کہا جائے گا: تمہیں نہیں معلوم انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا، پس میں وہی کہوں گا جیسا کہ ایک نیک بندے (یعنی حضرت عیسیؑ) نے کہا: میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کا گواہ تھا، جب میری روح قبض کر لی، اس وقت تو خود ان کا نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے. اگر ان پر عذاب نازل کرے، تب بھی تیرے ہی بندے ہیں اور اگر ان کو معاف کر دے تو، تو خود بڑا حکیم ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے. (سورہ مائدہ، آیات ١١٧-١١٨) پس مجھے کہا جائے گا: جب سے تم ان سے جدا ہوئے ہو ہمیشہ یہ پیچھے کی طرف ہی جاتے رہے ہیں.“

الحمیدی، الجمع بین الصحیحین البخاری و مسلم، ج۲، صص ۵۰-۵۱.

عدالتِ صحابہ کا نظریہ اہل سنت کی اکثریت کا نظریہ ہے جس کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے سب صحابہ گناہ سے دور اور اہل بہشت ہیں اور اسی وجہ سے، کسی ایک پر بھی تنقید نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اہل تشیع اس نظرئے کو نہیں مانتے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ بھی دوسرے مسلمانوں کی مانند ہیں.

نظریہ کی وضاحت

صحابہ کی عدالت کا نظریہ اہل سنت کے ساتھ خاص ہے جبکہ شیعوں کی نظر میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس نظرئے کے مطابق صحابہ وہ ہیں جنہوں نے پیغمبر اسلامؐ سے ملاقات کی ہے اور جب دنیا سے گئے ہیں تو ان پر ایمان رکھتے تھے۔ اور مسلمان تھے۔[1] ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا شخص عادل ہے اور ان سے گناہ سرزد نہیں ہو سکتا. یہ بات کہی گئی ہے کہ اکثر اہل سنت کے نزدیک یہ نظریہ، مقبول و مشہور نظریہ ہے. [2] لیکن اس کے باوجود اہل سنت کے ہاں عدالت صحابہ کے بارے میں مندرجہ ذیل تین مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:

  • تمام صحابہ عادل ہیں: ابن حجر نے تمام اہل سنت کا اس بات پر متفق ہونے کا دعوا کیا ہے اور اس نظرئے کے مخالفوں کو کم اور اہل بدعت قرار دیا ہے۔[3]
  • صحابہ کا عادل نہ ہونا: بعض اہل سنت، صحابہ عادل نہ ہونے کے قائل ہیں۔[4] اہل سنت کے معتزلہ عالم دین ابن ابی الحدید نے اپنے ہمفکر معتزلی علما کے عقیدے کے مطابق جنگ جمل کو وجود میں لانے والے اصحاب کو جہنمی قرار دیا ہے جبکہ ان میں سے عائشہ، طلحہ اور زبیر کو توبہ کی وجہ سے [نوٹ 1] استثناء قرار دیا ہے۔اسی طرح جنگ صفین میں موجود شام کی لشکر کے بارے میں بھی یہی نظریہ ہے کہ وہ لوگ بھی بغاوت کی وجہ سے جہنمی ہیں۔ خوارج کو بھی اپنے ہمفکر علماء کے نظرئے کے مطابق جہنمی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک عام حکم کے مطابق یہ کہا ہے کہ ہر فاسق شخص اگر فسق کی حالت میں دنیا سے چلا جائے تو جہنمی ہے اور برحق امام کے خلاف بغاوت کرنے والے اور خروج کرنے والوں کو فاسق قرار دیا ہے۔[5]

امام شافعی سے منقول ہے کہ صحابیوں میں سے چار کی گواہی قبول نہیں ہے: معاویہ، عمرو بن عاص، مغیرۃ، زیاد.[6]

  • عدالت بعض صحابہ سے مخصوص ہونا؛ اہل سنت کے ایک گروہ کے عقیدے کے مطابق صحابیوں میں سے صرف وہ لوگ عادل ہیں جو آنحضرتؐ کے ساتھ تھے، آپؐ کی احترام اور مدد کرتے تھے اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرتے تھے۔[7]

اہل سنت کے دلائل

اہل سنت نے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی درج ذیل آیات کو دلائل کے طور پر پیش کیا ہے:
1. وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ینَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِی اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ  (ترجمہ: جن لوگون نے سبقت کی (یعنی سب سے پہلے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی، اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔) [ سورہ توبہ–100] [8]
شیعہ علما کا کہنا ہے کہ یہ آیت تمام صحابہ کی عدالت پر دلالت نہیں کرتی ہے اور آیت کے ظاہر سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے مراد مہاجرین اور انصار میں سے بعض لوگ ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کی بعض آیات میں یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ صحابہ میں سے بعض لوگ منحرف ہوچکے تھے، بعض منافقوں کے لیے جاسوسی کرتے تھے اور بعض فاسق تھے، جبکہ انہیں میں سے بعض کے کرتوت سے پیغمبر اکرمؐ نے بیزاری کا اعلان کیا تھا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالی کی خوشنودی کا اظہار کرنا صحیح نہیں ہے۔ شیعہ مفسروں نے اس کے علاوہ مزید کہا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ کی برتری اور اللہ تعالی کا ان سے راضی ہونا آیت کے ذیل اور سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح سے مشروط ہے، اگر ایسی شرط نہ ہو اور اللہ تعالی ان سے ہر حال میں راضی ہو، خواہ وہ نیک عمل انجام دیں یا نہ دیں، متقی ہوں یا فاسق و ظالم، تو ایسی صورت میں یہ آیت بعض دوسری آیات سے تعارض کرتی ہے منجملہ یہ آیات:«فان الله لا یرضى عن القوم الفاسقین (ترجمہ: بےشک اللہ تو کبھی فاسق (نافرمان) قوم سے راضی ہونے والا نہیں ہے۔) [ توبہ–96] اسی طرح «و الله لا یحب الظالمین (ترجمہ: اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔) [ آل‌عمران–57] اور بعض دوسری آیات کے ساتھ تعارض میں ہے۔[9]
2. "كُنتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ (ترجمہ: تم سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لئے بھیجی گئی ہیں.) [ سورہ آل عمران–110] [10]
شیعہ علما اس آیت کا عدالت صحابہ پر دلالت کرنے کو نہیں مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت صرف ان بعض لوگوں کی عدالت پر دلالت کرتی ہے جن کی وجہ سے ہی پیغمبر اکرمؐ کی امت اللہ تعالی کی طرف سے بہترین امت قرار پائی ہے۔ اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کے ابتدائی صحابہ میں بعض منافق اور مرتد افراد کا ہونا باعث بنتا ہے کہ یہ آیت تمام صحابہ کی عدالت پر دلالت نہ کرے۔[11]

اہل تشیع کا نظریہ

اہل تشیع عدالت صحابہ کے نظرئے کو نہیں مانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہؐ کے صحابہ باقی مسلمانوں کی طرح ہیں اور صرف رسول اللہؐ کی صحبت سے ان کی عدالت ثابت نہیں ہوتی ہے۔[12]اسی لئے اہل سنت کی دلائل کے مقابلے میں نقد اور درایت کو پیش کیا ہے۔ بعض شیعہ دانشوروں کا کہنا ہے کہ عدالتِ صحابہ پر اہل سنت کی طرف سے پیش کئے گئے قرآنی دلائل صحیح نہ ہونے کے علاوہ اس بحث کو چھیڑنے میں بعض اہداف پوشیدہ ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • غصبِ حاکمیت کی توجیہ،[13]
  • معاویہ اور اس کے کارندوں کے افعال کی توجیہ کرنا[14]
  • امت اسلامی کی طرف سے ہر قسم کے نقد اور اعتراض سے مصون رہنا۔[15]
  • معاویہ کا دشمنوں کے خلاف کی جانے والی سرکوبی کی توجیہ[16]
  • مسلمانوں کے درمیان تفرقہ بازی پھیلانا[17]

نظرئے کا محال ہونا

عدالتِ صحابہ پر شیعوں کی طرف سے کئے جانے والی اشکالات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ نظریہ ناممکن اور محال ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ رسول اللہؐ کے 114000 صحابی صرف آنحضرتؐ سے ملاقات کرنے اور آپ پر ایمان لانے سے اس مختصر مدت میں تقوی اور پرہیز گاری کے اس مقام تک کیسے پہنچے جسے عدالت (گناہِ کبیرہ کو ترک کرنا، گناہ صغیرہ کو تکرار نہ کرنا) کہا جاتا ہے؛ کیونکہ انسان میں مختلف سلیقے، خواہشات اور تمایلات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام کے مصادر کے مطابق ان میں سے بعض لوگ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں، بعض ڈر اور مجبوری کی حالت میں جبکہ ان میں سے بعض مؤلفۃ القلوب کے عنوان سے رسول اللہ پر ایمان لا چکے ہیں۔[18]

متناقض موارد کا وجود

شیعوں کی طرف سے عدالتِ صحابہ پر کی جانے والی اشکالات میں سے ایک، صحابہ میں ایسے لوگوں کا شمار ہونا ہے جو تاریخ اسلام کے مصادر کے مطابق مرتد ہوگئے ہیں جیسے؛ عبید اللہ بن جحش، عبیداللہ بن خطل، ربیعہ بن امیہ اور اشعث بن قیس۔[19]اس کے علاوہ تاریخی شواہد کے مطابق بعض صحابہ نے کچھ ایسے کام انجام دئیے کہ جو عدالت سے ساز گاری نہیں رکھتے، جیسے، عثمانؓ کے دورِ حکومت میں مروان بن حکم کا کردار یا تاریخی روایت جو بعض افراد کے بارے میں پائی جاتی ہیں جیسے؛ بسر بن ارطاہ، مغیرہ بن شعبہ، اور ولید بن عقبہ۔ حالانکہ یہ سب پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ تھے.[20] اہل سنت کے بعض علماء نے ان تاریخی شواہد کی توجیہ کی ہے اور شیعہ علما نے اس کا جواب بھی دیا ہے [نوٹ 2][21]

مونوگراف

اس بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں سے عربی اور فارسی زبان میں بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • نظریۃ عدالۃ الصحابۃ والمرجعیۃ السیاسیۃ فی‌ الاسلام اثر احمد حسین یعقوب.
  • عدالت صحابہ اثر سید علی حسینی میلانی.
  • بررسی‌ نظریہ عدالت‌ صحا‌بہ اثر غلام‌حسین زینلی، انتشارات مرکز فقہی‌ ائمہ اطہا‌ر علیہم‌ السلام‌.
  • نظریہ عدالت‌ صحا‌بہ اثر گروہ پژوہشی، انتشارات مجمع جہانی اہل‌بیت.

حوالہ جات

  1. ابن حجر، الاصابۃ، ج۱، ص۱۵۸.
  2. ابن حجر، الاصابۃ، ج۱، ص۱۶۲
  3. ابن حجر، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۲.
  4. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۱۳.
  5. ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق، ج۱، ص۹.
  6. ابوریۃ، شیخ المضیرۃ ابوہریرۃ، دار المعارف، ص۲۱۹.
  7. مراجعہ کریں: ابن حجر، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۳.
  8. ابن حجر، الاصابۃ، ج۱، ص۱۶۲
  9. الطباطبائی، المیزان، جامعہ مدرسین، ج۹، ص۳۷۴-۳۷۵.
  10. ابن حجر، الاصابۃ، ج۱، ص۱۶۲
  11. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ھ، ج۱، ص۱۱۴.
  12. شہید ثانی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ۱۴۰۸ق، ص۳۴۳؛ امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۱۳
  13. یعقوب، نظریہ عدالت صحابہ، ۱۳۷۲ش، ص ۱۵۴-۱۵۵.
  14. یعقوب، نظریہ عدالت صحابہ، ۱۳۷۲ش، ص۱۵۵-۱۵۶.
  15. یعقوب، نظریہ عدالت صحابہ، ۱۳۷۲ش، ص۱۵۶-۱۵۷.
  16. یعقوب، نظریہ عدالت صحابہ، ۱۳۷۲ش، ص۱۵۷
  17. یعقوب، نظریہ عدالت صحابہ، ۱۳۷۲ش، ص۱۵۷-۱۵۸.
  18. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۰۳ش، ج۱، ص۱۱۳
  19. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۱، ص۱۱۴
  20. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۱، ص۱۱۴
  21. الامین، اعیان الشیعۃ، ج۱، ص۱۱۴


نوٹ

  1. ان تینوں نے توبہ کیا ورنہ بغاوت پر مصر ہونے کی وجہ سے یہ بھی جہنمی تھے۔
  2. ان لوگوں کے کردار کی توجیہ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہاں پر اپنے اجتہاد پر عمل کیا ہے اور اسی وجہ سے، انکو گناہگار نہیں کہا جا سکتا. اس توجیہ کے جواب میں، شیعہ علماء نے کہا ہے کہ اگر ایسی چیز صحیح ہو تو ہر کوئی گناہ کبیرہ (بے گناہ کو قتل کرنا و...) کو اجتہاد سے مستند کر کے انجام دے اور کہے کہ میں نے اپنے اجتہاد پر عمل کیا ہے.

مآخذ

  • ابن ابی الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغۃ، بہ کوشش محمدابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق/۱۹۵۹-۱۹۶۴ء.
  • ابن حجر، الاصابۃ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود، علی محمد معوض، بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابوریۃ، محمود، شیخ المضیرۃ ابوہریرۃ، الطبعۃ الثالثۃ، مصر: دار المعارف، بی‌تا.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعۃ، محقق: حسن امین، بیروت، دار التعارف، ۱۴۰۳ھ۔
  • شہید الثانی، الرعایۃ، فی علم الدرایۃ، تحقیق: عبدالحسین محمدعلی بقال، قم: مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۸ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم،ایران، بی‌تا.
  • یعقوب، احمد حسین، نظریہ عدالت صحابہ و رہبری سیاسی در اسلام، ترجمہ مسلم صاحبی، تہران: سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔