عدالت صحابہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عدالت صحابہ، اہل سنت کی اکثریت کا نظریہ ہے جس کے تحت وہ پیغمبر اکرمؐ کے تمام اصحاب کو عادل اور اہل بہشت سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اصحاب کے اوپر تنقید اور اعتراض کو جائز نہیں سمجھتے اور ان کی احادیث کو بغیر کسی جرح و تعدیل کے قبول کرتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت کے بعض علماء اصحاب رسول خداؐ کو بھی باقی مسلمانوں کی طرح قرار دیتے ہوئے اس نظریے کو رد کرتے ہیں۔

عدالت صحابہ کے نظریے کے حامی حضرات اپنے مدعا پر قرآن کی آیات اور پیغمبر اکرمؐ کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں، من جملہ ان دلائل میں سے ایک آيت رضوان ہے جس میں صحابہ پر خدا کے راضی ہونے کی بات آئی ہے۔ ان کے مقابلے میں اس نظریے کے مخالفین مذکورہ آیت کو صرف ان بعض اصحاب کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر تھے اور اس کے بعد بھی اپنے عہد و پیمان پر باقی رہے ہوں۔ اسی طرح اس نظریے کے مخالفین کے مطابق یہ نظریہ قرآن کریم کی ان متعدد آیات کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے جن میں صحابہ کے درمیان منافقین کی موجودگی سے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔ اسی طرح اس نظریے کے رد میں بعض صحابہ کے مرتد ہونے، شراب پینے، حضرت علیؑ کو لعن طعن کرنے، مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان پر لشکرکشی کرنے جیسے اعمال کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔

بعض شیعہ محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ عدالت صحابہ کا نظریہ بعض سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے مطرح کئے گئے تھے سر فہرست ان میں خلفائے ثلاثہ کی خلافت اور معاویۃ بن ابی‌ سفیان کی سلطنت کو مشروعیت بخشنا شامل ہے۔

اجتہاد صحابہ، اختلاف بین مسلمین، قرآن و سنت کو سمجھنے میں صحابہ کی متابعت، صحابہ کے قول اور سیرت کو حجت سمجھنا اور ان سے نقل شدہ احادیث کو جرح و تعدیل کے معیارات پر پرکھے بغیر قبول کرنا اس نظریے کے لوازمات میں سے ہیں۔

صحابی کی تعریف

تفصیلی مضمون: صحابہ

صحابہ مسلمانوں کی اس جماعت کو کہا جاتا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ کی زیارت کی ہو اور آخر عمر تک ایمان پر باقی رہے ہوں۔[1] یہاں زیارت سے مراد دیکھنا، ہمنشینی، ہمراہی اور ملاقات کرنا سب کو شامل کرتی ہے اگر ایک دوسرے کے ساتھ ہمکلام نہ بھی ہوئے ہوں۔[2] البتہ بعض حضرات مذکورہ تعریف میں بعض قیود اور شرائط کا بھی اضافہ کرتے ہیں؛ من جملہ یہ کہ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ ہمنشینی کی مدت کا طولانی ہونا، آپؐ سے منقول احادیث کو حفظ کرنا، آپ کے ساتھ جنگ کرنا اور آپ کی رکاب میں شہید ہونا وغیره،[3] جبکہ بعض حضرات صرف مصاحبت یا فقط آنحضرت کو دیکھنے کو کافی سمجھتے ہیں؛[4] ساتویں اور آٹھویں صدی کے اہل سنت عالم دین ابن‌ حجر عَسقلانی کے مطابق جو تعریف علماء کے نزدیک قابل قبول ہے وہ وہی پہلی تعریف ہے۔[5]

بعض منابع میں رسول اللہ کی وفات کے وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ تک بیان کی گئی ہے۔[6] وہ اشخاص جنہوں نے بچپنے میں پیغمبر اکرمؐ کو درک کئے ہوں صحابہ صغار اور خواتین کو صحابیات کہا جاتا ہے۔[7]

نظریہ کی وضاحت

اہل سنت کے مشہور علماء کے مطابق تمام صحابہ عادل‌ ہیں۔[8] ابن‌ حجر عَسقلانی تمام صحابہ کی عدالت پر اہل سنت کے اجماع کے قائل ہیں اور اس نظریے کے مخالفین کو مُبتَدِعہ کا ایک مختصر گروہ قرار دیتے ہیں۔[9] اسی طرح وہ ابن‌حزم (متوفی 456ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ تمام صحابہ بہشت میں داخل ہونگے اور ان میں سے ایک شخص بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔[10]

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اہل سنت کے عالم دین مازری (متوفی 530ھ) صحابہ کے فقط ایک گروہ کی عدالت کے قائل ہیں جو پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ ہمیشہ ہوتے تھے، آپ کا احترام کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ پر نازل ہونے والے "نور" کی متابعت کرتے تھے۔[11] اسی طرح اہل سنت کے ہی بعض علماء صحابہ کو بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح سمجھتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں صرف پیغمبر اکرمؐ کی مصاحبت ان کے عادل ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے۔[12]

احمد حسین یعقوب کے مطابق عدالت صحابہ کا لازمہ یہ ہے کہ صحابہ کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا اور ان کو طعنہ دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ کسی خطا کا مرتکب کیوں نہ ہوئے ہوں۔[13] ابن اثیر اُسد الغابہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: "تمام صحابہ عادل ہیں اور ان پر کوئی طعنہ نہیں لگا سکتے۔[14] اسی بنا پر بعض اہل‌ سنت علماء کہتے ہیں جو شخص پیغمبر اکرمؐ کے کسی صحابہ پر کوئی اعتراض کرے وہ کافر ہے۔[15]

اسی طرح صحابہ کی نقل کردہ احادیث کو بغیر کسی جرح و تعدیل کے قبول کرنا بھی اس نظریے کی خصوصیات میں سے ہے۔ خطیب بغدادی لکھتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ سے منسوب کسی بھی حدیث پر عمل کرنا صرف اس وقت لازم اور ضروری ہے کہ جب اس کے راوی کی عدالت ثابت ہو سوائے صحابہ کے کیونکہ صحابہ کی عدالت ثابت شدہ ہیں چونکہ خدا نے انہیں عادل اور ان کی طہارت کی خبر دی ہے۔[16]

اہل سنت کے دلائل

اہل سنت عدالت صحابہ کے نظریے کی اثبات میں قرآن کی آیات اور پیغمبر اکرمؐ کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں؛[17] من جملہ وہ دلائل درج ذیل ہیں:

  1. وہ آیات جن میں صحابہ پر خدا کے راضی ہونے کا بیان آیا ہے جیسے وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ینَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّ‌ضِی اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ (ترجمہ: جن لوگون نے سبقت کی (یعنی سب سے پہلے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی، اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔) اسی طرح سورہ فتح کی آیت نمبر 18 جس میں ارشاد ہے لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ(ترجمہ: بےشک اللہ مؤمنین سے راضی ہوا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ(ص) سے بیعت کر رہے تھے تو اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا۔ پس اس نے ان پر سکون و اطمینان نازل کیا اور انہیں انعام میں ایک قریبی فتح عنا یت فرمائی۔[18] اہل سنت علماء ان آیات میں صحابہ پر خدا کی خشنودی ان کی عدالت پر دلیل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس پر خدا راضی ہو اس پر خدا کبھی بھی عذاب نازل نہیں کرے گا۔[19] ان کے مقابلے میں شیعہ علماء کہتے ہیں کہ یہ آیات تمام صحابہ کی عدالت پر دلالت نہیں کرتی؛ کیونکہ پہلی آیت سے مراد صرف بعض مہاجرین اور انصار ہیں نہ تمام صحابہ۔[20] دوسری آیت سے بھی صرف وہ صحابہ مراد ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر تھے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس عہد و پیمان پر باقی رہے ہوں نہ تمام اصحاب۔[21] اسی طرح تمام صحابہ کی عدالت کا نظریہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 101 وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَ‌ابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَ‌دُوا عَلَى النِّفَاقِ(ترجمہ: اور جو تمہارے اردگرد صحرائی عرب بستے ہیں ان میں کچھ منافق ہیں۔ اور خود مدینہ کے باشندوں میں بھی (منافق موجود ہیں) جو نفاق پر اڑ گئے ہیں (اس میں مشاق ہوگئے ہیں) (اے رسول(ص)) آپ انہیں نہیں جانتے لیکن ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو (دنیا میں) دوہری سزا دیں گے۔ پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔) کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے۔
  2. وہ آيات جو مسلمانوں کو بہترین امت اور امت وسط قرار دیتی ہیں، جیسے كُنتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ(ترجمہ: تم بہترین امت ہو جسے لوگوں (کی راہنمائی) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔)[22] اور آيت وَ کَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّةً وَسَطاً(ترجمہ: اسی طرح ہم نے تم کو ایک درمیانی (میانہ رو) امت بنایا ہے۔)[23] بعض اہل سنت مفسرین امت وسط سے امت عادل تفسیر کرتے ہوئے[24] کہتے ہیں کہ اگرچہ اس آیت میں لفظ امتْ عام ہے لیکن اس سے چند خاص افراد یعنی صحابہ مراد ہیں اور یہ آیت صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛[25] جبکہ شیعہ علماء کے مطابق یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب کی شان میں نازل ہوئی ہے جن کی وجہ سے خدا نے پیغمبر اکرمؐ کی امت کو بہترین امت قرار دیا ہے نہ تمام صحابہ مراد ہو۔[26]
  3. حدیث اصحابی کالنجوم؛ اس حدیث میں پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب کو ستاروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جن میں سے جس کسی کی بھی پیروی کی جائے ہدایت پائے گا۔ شیعہ اور بعض اہل سنت علماء کے مطابق یہ حدیث جعلی ہے اور قرآن کی مختلف آیات نیز پیغمبر اکرمؐ کی دوسری صحیح احادیث کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔[27]

اسی طرح صحابہ کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی دوسری آیات[28] اور احادیث جیسے حدیث خیر القرون قرنی اور حدیث لا تسبوا اصحابی سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔[29]جبکہ صحابہ کے درمیان منافقین اور مرتدّین کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیات اور احادیث سے مراد تمام صحابہ نہیں ہے۔[30] مثال کے طور پر مفسرین کے مطابق آیت نبأ میں ارشاد ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ(ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔) [31] یہ آیت ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو صحابہ میں سے تھے۔[32]

صحابہ کا کردار

شیعہ اور بعض اہل سنت علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ بعض صحابہ کا کردار تمام صحابہ کی عدالت کے نظریے کو رد کرتا ہے۔ سید محسن امین، کے مطابق عبیداللہ بن جَحش، عبیداللہ بن خطل، ربیعہ بن امیہ اور اشعث بن قیس صحابہ میں سے تھے لیکن مرتد ہو گئے تھے۔[33] اسی طرح صحیح بخاری میں نقل شدہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اپنے اصحاب میں سے بعض کے مرتد ہونے کی خبر دی ہے۔[34]

اس کے علاوہ تاریخ کتابوں میں بعض تاریخی قرائن و شواہد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بعض صحابہ سے ان کی عدالت کے برخلاف امور سرزد ہوئے ہیں جیسے شراب پینا، سَبّ علی، امام عادل کے خلاف قیام اور مسلمانوں کا بے خطا قتل و غارت۔ من جملہ یہ کہ بُسر بن اَرطاہ نے تقریبا 30 ہزار سے زیادہ شیعیان امام علی کو قتل کیا،[35] مغیرہ بن شعبہ نے تقریبا 9 سال تک امام علیؑ پر منبر سے سَبّ کرتے تھے،[36] خالد بن ولید نے مالک بن نُوَیرہ کو قتل کیا پھر اسی رات اس کی بیوی سے ہم بستری کی[37] اور ولید بن عقبہ شراب پیا کرتے تھے۔[38] شافعی سے بھے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ میں سے معاویۃ بن ابوسفیان، عمرو بن عاص، مغیرۃ بن شعبہ اور زیاد بن ابیہ کی گواہی قابل نہیں ہے۔[39]

اسی طرح جنگ جمل میں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنا جس میں دونوں گروہ صحابہ تھے، اس نظریے کے ساتھ سازگار نہیں ہے؛ ابن ابی الحدید معتزلی جنگ جمل کے مسببین کو جہنمی سمجھتے تھے اور ان میں سے صرف عایشہ، طلحہ اور زبیر کو توبہ کرنے کی وجہ سے استثنا کرتے ہیں۔ اسی طرح جنگ صفین میں شام کے لشکر کو بھی بغاوت کی وجہ سے جہنمی سمجھتے تھے۔ اسی طرح وہ خوارج کو بھی اہل دوزخ قرار دیتے ہیں۔[40]

مقاصد اور نتائج

شیعہ عدالت صحابہ کے نظریے کو قبول نہیں کرتے اور اس سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب کو دوسرے مسلمانوں کی طرح سمجھتے ہوئے صرف پیغمبر اکرمؐ کی مصاحبت کو کسی کی عدالت کے لئے کافی نہیں سمجھتے ہیں۔[41] ان کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے تمام صحابہ تقوا کے اس درجے پر فائز ہو گئے ہوں جو ان کی عدالت، گناہ کبیرہ کے ترک اور گناہ صغیرہ کے ارتکاب پر اصرار نہ کرنے کا باعث بنتا ہو، حالانکہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ بعض صحابہ خوف، ناچارری اور تألیف قلوب کے عنوان سے پیغمبراکرمؐ پر ایمان لائے تھے۔[42] اس بنا پر شیعوں کے مطابق عدالت صحابہ کا نظریہ کچھ سیاسی مفادات کی خاطر اپنایا گیا تھا جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:

  • خلفائے ثلاثہ کی خلافت کی مشروعیت،
  • صحابہ پر اعتراض اور تنقید کو روکنے کے لئے ان کو خطا اور لغزش سے پاک سمجھنا،
  • معاویۃ بن ابی‌ سفیان کی سلطنت کو مشروعیت بخشنا اور ان کے اعمال کی توجیہ،[43]
  • اسی طرح صحابہ کے بعض ناشائستہ اعمال کی توجیہ کے لئے ان کی اجتہاد کا نظریہ پیش کرنا، قرآن و سنت کو سمجھنے میں فہم صحابہ کو اولویت دینا، صحابہ کے قول و فعل کو حجت سمجھنا، صحابہ سے نقل شدہ احادیث کو جَرح و تعدیل کے قواعد پر اتارے بغیر قبول کرنا اور مسلمانوں میں اختلاف ایجاد کرنا اس نظریے کے آثار اور نتائج میں سے بیان کیا جاتا ہے۔[44]

کتابیات

عدالت صحابہ کا مسئلہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان موجود اختلافی مسائل میں سے ہے جسے صحابہ سے متعلق لکھی گئی کتب،[45] تفاسیر[46] اور کلامی[47] کتابوں میں مورد توجہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح شیعوں نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • عدالت صحابہ: یہ کتاب چودھویں صدی کے شیعہ عالم دین سید علی میلانی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے جس میں عدالت صحابہ کے نظریے پر قائل کئے گئے دلائل کی نفی کی گئی ہے۔ مصنف نے قرآن کی آیات، بعض صحابہ سے سرزد ہونے والے کبیرۂ گناہیں اور صحابہ کے عادل نہ ہوئے پر نقل ہونے والے بعض اہل سنت بزرگان کے کمات سے استفادہ کیا ہے۔
  • عدالت صحابہ در پرتو قرآن، سنت و تاریخ: یہ کتاب شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ محمدآصف محسنی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں عدالت صحابہ کے نظریے کو تقریب بین مذاہب کی روشنی میں تجزیہ و تحلیل کیا ہے۔ اس کتاب میں شیعہ اور اہل سنت کے نزدیک صحابہ کے معانی اور قرآن کی آیات کی روشنی میں صحابہ کے درمیان منافقین اور فاسق افراد کی موجودگی پر بحث و گتفگو کی ہے۔ اسی طرح شیعوں کی طرف سے تمام صحابہ کی طرف تکفیر کی نسبت کو بھی رد کیا ہے۔[48]
  • اس کے علاوہ احمدحسین یعقوب کی تصنیف، نظریۃ عدالۃ الصحابۃ والمرجعیۃ السیاسیۃ فی‌ الاسلام، سید محمد یثربی کی تصنیف عدالت صحابہ، غلام حسین زینلی کی تصنیف، بررسی‌ نظریہ‌ عدالت‌ صحا‌بہ‌ اور مجمع جہانی اہل‌بیت کے شعبہ تحقیق کی لکھی گئی کتاب، نظریہ‌ عدالت‌ صحا‌بہ‌ اس نظریہ کی رد میں لکھی گئی کتابیں ہیں۔

حوالہ جات

  1. ابن‌ حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۵۸.
  2. شہید ثانی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ۱۴۰۸ق، ص۳۳۹.
  3. ر ک: ابن‌ حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۵۹.
  4. یعقوب، نظریۃ عدالۃ الصحابۃ، ۱۴۲۹ق، ص۱۵.
  5. ابن‌ حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۵۹.
  6. شہید ثانی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ۱۴۰۸ق، ص۳۴۵.
  7. ابن‌ حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۷، ص۶۷۹؛ ج۸، ص۱۱۳.
  8. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۰؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۔
  9. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۲۔
  10. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۳۔
  11. مراجع کنید: ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۳۔
  12. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق، ج۱، ص۹۔
  13. یعقوب، نظریۃ عدالۃ الصحابۃ، ۱۴۲۹ق، ص۱۵۔
  14. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۰۔
  15. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۲۔
  16. خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴۔
  17. خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۲.
  18. خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۲-۱۶۳.
  19. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق، ج۱، ص۴.
  20. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۷۴؛ سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۴۴۵.
  21. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۹، ص۳۲۹.
  22. سورہ آل عمران، آیت ۱۱۰.
  23. سورہ بقرہ، آیت ۱۴۳.
  24. سیوطی، الدرالمنثور، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۱۴۴؛ فخر رازی، تفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۴، ص۸۴.
  25. خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴.
  26. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۲۳.
  27. سبحانی، الالهیات، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۴۴۳.
  28. سورہ فتح، آيت ۲۹؛ سورہ حدید آیت ۱۱؛ سورہ حشر، آیات ۸- ۱۰؛ سورہ توبہ، آیت ۱۱۷؛ رجوع کریں دوخی، عدالۃ الصحابہ بین القداسۃ و الواقع، ۱۴۳۰ق، ص۴۲-۸۷.
  29. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۵.
  30. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۷۴.
  31. سورہ حجرات، آیت ۶.
  32. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۹۸.
  33. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۳۔
  34. بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۱۲۱، ح۶۵۸۵۔
  35. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱م، ج۴، ص۲۳۸۔
  36. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹م، ج۵، ص۲۴۳۔
  37. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۶۱۔
  38. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۴۸۲۔
  39. ابوریۃ، شیخ المضیرۃ ابوہریرۃ، دار المعارف، ص۲۱۹۔
  40. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق، ج۱، ص۹۔
  41. شہید ثانی، الرعایۃ فی علم الدرایۃ، ۱۴۰۸ق، ص۳۴۳؛ امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۱۔
  42. امین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۲۔
  43. یعقوب، نظریۃ عدالۃ الصحابہ، ۱۴۹ق، ص۱۰۵-۱۰۸۔
  44. فخعلی، «»گفتمان عدالت صحابہ»۔
  45. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق، ج۱، ص۴؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۰؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۶۱-۱۶۵۔
  46. رجوع کریں علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۷۴-۳۷۵۔
  47. رجوع کریں: سبحانی، الالہیات، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۴۴۵۔
  48. حدیث نت، «عدالت صحابہ در پرتو قرآن، سنت و تاریخ۔»


مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ء۔
  • ابن ابی‌ الحدید، عبد الحمید، شرح نہج البلاغۃ، بہ کوشش محمد ابو الفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق/۱۹۵۹-۱۹۶۴ء۔
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۹۹۲ء/۱۴۱۲ق۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ء۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود، علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق۔
  • ابو ریۃ، محمود، شیخ المضیرۃ ابو ہریرۃ، مصر، دار المعارف، بی‌تا۔
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعۃ، تحقق حسن امین، بیروت، دار التعارف، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸ء۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق دار طوق النجاۃ، ۱۴۲۲ق۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمعیۃ المستشرقین الالمانیہ، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹ء۔
  • حمیدی، محمد بن فتوح، الجمع بین الصحیحین البخاری و مسلم، تحقیق علی حسین البواب، بیروت، دار ابن حزم، ۱۴۲۳ق/۲۰۰۲ء۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، الکفایہ فی علم الروایۃ، تحقیق ابو عبداللہ السورقی و ابراہیم حمدی المدنی، مدینہ، المکتبۃ العلمیہ، بی‌تا۔
  • دوخی، یحیی عبد الحسین، عدالۃ الصحابہ بین القداسۃ و الواقع، المجمع العالمی لاہل بیت، ۱۴۳۰ق۔
  • سبحانی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنہ و العقل، قم، المرکز العالمی للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۲ق۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، الرعایۃ، فی علم الدرایۃ، تحقیق عبد الحسین محمد علی بقال، قم: مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۸ق۔
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۷ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمد جواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسور، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، مقدمہ آقا بزرگ تہرانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • یعقوب، احمد حسین، نظریۃ عدالۃ الصحابہ، راجعہ علی الکورانی عاملی، ۱۴۹ق۔
  • فخعلی، محمد تقی، مجموعہ گفتمان‌ہای مذاہب اسلامی، گفتمان عدالت صحابہ، مشعر، تہران، بی‌تا۔