محمد بن حنفیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
نام محمد بن حنفیہ
لقب مہدی (کیسانیہ کے عقیدے کے مطابق)
میلاد سنہ 16 ہجری قمری
مولد مدینہ
وفات سنہ ۸۱ ہجری قمری
مدفن ایلہ یا طائف یا مدینہ
مسکن مدینہ، طائف، مکہ
والد امام علی(ع)
وجہ شہرت امام علی (ع) کا بیٹا ہونے اور قیام مختار کی وجہ سے
اولاد عبداللہ، حسن، ابراہیم، عون
کلیدی کردار امامزادہ، راوی
مشہور امامزدگان
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبدالعظیم حسنی، احمد بن موسی،سید محمد، سیدہ نفیسہ


محمد بن حَنَفیہ (۱۶-۸۱ ھ ق) حضرت علی(ع) اور خولہ حنفیہ (بنت جعفر بن قیس ) کا بیٹا اور پہلے درجے کے تابعین میں سے تھے۔ عمر بن خطاب کے دور حکومت میں 16 ھ ق کو متولد ہو‎ئے اورعبد الملک ابن مروان کی خلافت کے دور میں 81 ھ۔ق کو 65 سال کی عمر میں ایلہ یا طائف یا مدینہ میں وفات پا‎ئے۔ چہ بسا انہیں محمد ابن علی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ اسی طرح انہیں محمد اکبر بھی کہا گیا ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ صفین اور جمل میں شریک ہو‎ئے اور جنگ جمل میں امام علی کی فوج کے علمدار تھے۔ واقعہ کربلا کے وقت آپ مدینہ میں تھے اور بعض نقل کے مطابق امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے امامت کا دعوا کیا لیکن امام سجاد علیہ السلام کی امامت پر حجر الاسود کی گواہی کے بعد اپنے ادعا سے دستبردار ہو‎ئے اور اپنے بھتیجے کی امامت کے معتقد ہو‎ئے۔

کیسانیہ، ان کو اپنا امام سمجھتے ہیں۔ مختار کو لکھے جانی والے خط کی وجہ سے کیسانیہ نے انہیں عبد اللہ ابن زبیر سے نجات دلایا۔ آپ پہلے شخص ہیں جنہیں مہدی موعود کہا گیا۔ آپ کا سیاسی رویہ باہمی مسالمت آمیز تھا۔

نام، نسب اور ولادت

اپ کی ماں ( خولہ )بنت جعفر ابن قیس[1] کی وجہ سے حنفیہ کے نام سے مشہور ہو‎ئے چونکہ وہ بنی حنفیہ قبیلے سے تھیں۔ بعض محققوں کے مطابق آپ کی ماں کنیز تھی اور ابوبکر کی خلافت کے دوران بنی اسد کا بنی حنفیہ پر حملے کے دوران اسیر ہو‎ئیں اور امام علی علیہ السلام نے انہیں خرید کر آزاد کیا اور پھر ان سے شادی کی۔ چونکہ آپ کی وفات 81 ھ ق کو ہو‎ئی اور اس وقت عمر 65 سال تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 16 ھ ق کو متولد ہو‎ئے ہیں۔[2]

ابن حنفیہ کی کنیت ابوالقاسم تھی.[3]

نقل حدیث میں آپکا مقام

آپ نے اپنے والد گرامی حضرت علی(ع)، عُمَر بن خَطّاب، ابوہریرہ، عثمان، عمار بن یاسر اور معاویہ وغیرہ سے احادیث نقل کی ہے۔

آپ سے آپ کے بیٹے عبد اللّہ، حسن، ابراہیم، عون اور کچھ دوسرے لوگ جیسے سالم بن ابی جعد، منذر ثوری، امام باقر(ع)، عبداللہ بن محمد عقیل، عمرو بن دینار، محمد بن قیس، عبدالاعلی بن عامر وغیرہ نے احادیث نقل کی ہیں۔[4]

آپ نے مدینہ میں وسیع پیمانے پر درس اور تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اسی مکتب سے بہت سارے نظریات مطرح ہوئے یہاں تک کہ مدینے میں آپ کے درس تدریس کو بصرہ میں حسن بصری کے علمی مجمع سے مقایسہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ جس طرح وہ مجمع معتزلہ کے عقاید کا سرچشمہ اور صوفیوں اور زاہدوں کے مسلک کے نام سے معرفی ہوا، اس حلقے کے شاگردوں کو بھی کلامی نظریات کے بانی سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس حلقے سے ابن حنفیہ کے دو بیٹے عبد اللہ جو ابو القاسم سے ملقب تھا اور حسن جو ابو محمد سے ملقب تھا، نکلے اور ابوہاشم، معتزلی نظریات کا واسطہ بنا اور ابومحمد مرجئہ کا بانی بنا۔[5]

جنگ جمل میں سپہ سالاری

36 ہجری قمری کو جنگ جمل واقع ہو‎ئی۔ اس دن محمد حملہ کرنے سے رک گئے اور پرچم خود امام علی علیہ السلام نے سنبھالا اور جمل والوں کی فوج کو پسپا کرنے کے بعد پھر پرچم محمد کے حوالے کیا اور ان سے کہا: «دوبارہ حملہ کر کے اپنی گزشتہ کوتاہی کی اصلاح کرو» اور آپ نے خزیمۃ ابن ثابت (ذو الشّہادتین) اور بعض دوسرے انصار، جن میں سے بہت سارے بدر کے جنگجو تھے، ان کی مدد سے دشمن پر یکے پس از دیگرے حملہ کیا اور دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔[6] ابن خلکان نے نامعلوم شخص سے نقل کیا ہے کہ جَمَل میں ابن حنفیہ علی(ع) کی فوج کے سپہ سالار بنے میں مردد تھے یہاں تک کہ اپنے باپ پر اعتراض بھی کیا۔.[7]لیکن آخر کار پرچم ہاتھ میں لیا۔ طبری، ابن کثیر اور ابن جوزی نے اس تردید کی طرف اشارہ کئے بغیر جنگ جمل میں محمد ابن حنفیہ کی سپہ سالاری کا تذکرہ کیا ہے۔[8]

کربلا میں غیر حاضری

شیعہ علما اور رجال‌ کے ماہرین نے محمد ابن حنفیہ کی واقعہ کربلا میں غیر حاضری کے جواز میں کچھ دلایل پیش کئے ہیں۔ ان کے بقول محمد حنفیہ کا شرکت نہ کرنا امام حسین علیہ السلام کی نافرمانی یا مخالفت کی وجہ سے نہیں تھا اور امام کے ساتھ نہ آنے میں ان کی کچھ جا‎ئز وجوہات تھیں جن میں سےکچھ یہ ہیں،

  • امام علیہ السلام کا مدینہ اور مکہ سے نکلتے ہو‎ے محمد ابن حنفیہ کی بیماری۔

علامہ حلی نےمہنا ابن سنان کے جواب میں محمد ابن حنفیہ کی شرکت نہ کرنے کی دلیل امام علیہ السلام کے مدینے سے نکلتے ہو‎ئے محمد ابن حنفیہ کی بیماری پیش کیا ہے۔[9].بعض نے آنکھوں کا درد بیان کیا ہے۔ [10]

  • محمد ابن حنفیہ امام علیہ السلام کی طرف سے مدینہ میں رہنے پر مامور ہونا۔

ابن اعثم کوفی نقل کرتے ہیں کہ: جب امام علیہ السلام مدینہ چھوڑ رہے تھے اور محمد ابن حنفیہ امام علیہ السلام کو مدینہ میں رہنے پر قانع نہ کر سکے اس وقت امام نے محمد ابن حنفیہ سے کہا:

تمہارا مدینہ میں رہنا کو‎ئی مشکل نہیں ہے آپ ان لوگوں کے درمیان میرے جاسوس ہونگے اور تمام حالات سے مجھے باخبر رکھیں[11]
  • محمد ابن حنفیہ کو قیام میں شرکت کرنے اور امام کے ساتھ آنے پر امام حسین علیہ السلام کی طرف سے حکم ہونا۔

تنقیح المقال کے مصنف کا کہنا ہے کہ چونکہ امام حسین(ع) نے‌ مدینہ یا‌ مکہ‌ میں کسی کو بھی اپنے ساتھ آنے کا حکم نہیں دیا ہے اس لئے محمد ابن حنفیہ کا امام علیہ السلام کے ساتھ نہ آنے سے ان کی عدالت پر انگلی نہیں اٹھتی ہے۔ وہ لکھتا ہے: امام حسین علیہ السلام جب حجاز سے عراق کی جانب روانہ ہو‎ئے تو امام علیہ السلام جانتے تھے کہ شہادت نصیب ہونی ہے لیکن ظاہری طور پر جنگ کی قصد سے نہیں نکلے تاکہ تمام لوگوں پر جہاد کے عنوان سے امام کے ساتھ جانا واجب نہ ہوجا‎ئے؛ بلکہ اپنی ذمہ داری کے تحت، یعنی لوگوں کی طرف سے دعوت دی ہو‎ئی ظاہری رہبری اور پیشوا‎ئی کو اپنے ہاتھ لینے کی نیت سے نکلے۔ اس صورت میں دوسروں پر واجب نہیں کہ وہ امام کے ہمراہ چلیں اور اگر کو‎ئی ساتھ نہ چلے تو گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے بلکہ گناہ گار وہ شخص ہے جس نے عاشورا کے دن کربلا میں امام حسین علیہ السلام کو دشمن کے نرغے میں دیکھتے ہو‎ئے امام کا ساتھ نہیں دیا اور امام کی مدد نہیں کی لیکن جو لوگ حجاز میں تھے اور امام علیہ السلام کے ساتھ نہیں آ‎ئے وہ شروع سے ہی امام کے ساتھ آنے پر مکلف نہیں تھے۔ اور امام کے ساتھ نہ آنا فسق اور گناہ کا باعث نہیں ہے۔ مامقانی ان تمہیدی باتوں کے بعد کہتا ہے: « اسی لئے، کچھ صالح اور اچھے لوگ حجاز میں تھے جن کے لئے شہادت کا شرف نصیب نہیں ہوا لیکن ان کی عدالت میں کسی ایک کو بھی شک نہیں تھا۔ پس محمد حنفیہ اور عبداللّہ بن جعفر کا امام کے ساتھ نہ آنا نافرمانی یا انحراف کی وجہ سے نہیں تھا۔[12]»اثبات الہداۃ میں بھی ایک حدیث امام صادق علیہ السلام سے نقل ہو‎ئی ہے کہ: حمزۃ بن حمران کہتا ہے: امام حسین علیہ السلام کے مدینہ سے نکلنے اور ابن حنفیہ کا ساتھ نہ جانے کے بارے میں امام علیہ السلام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اے حمزہ، تمہیں ایک حدیث بتاتا ہوں تاکہ اس کے بعد پھر کبھی یہ سوال نہ کرسکو، جب امام حسین علیہ السلام مدینہ سے نکلے تو ایک کاغذ مانگا اور اس پر لکھا:

«بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ حسین ابن علی ابن ابی طالب کی طرف سے بنی ہاشم کے نام: اما بعد، جو بھی میرے ساتھ چلو گے شہید ہوجا‎‎‎ؤ گے۔ اور جو بھی یہ کام نہیں کرے گا کامیاب نہیں ہوگا۔ والسلام.»[13]

علامہ مجلسی، امام حسین علیہ السلام کے اسے جملے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: اس جملے کا ظاہر تو مذمت بتاتا ہے لیکن یہ احتمال بھی دیا جا سکتا ہے کہ امام نے دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ آنے یا نہ آنے میں اختیار دیا ہے اور چونکہ ساتھ آنا ایک واجب کام نہیں بلکہ اختیاری تھا اس لئے ساتھ نہ آنا گناہ شمار نہیں ہوگا۔[14]

حسین بن علی(ع) کویزید کی بیعت پر مجبور کرنے اور امام کے انکار کے بعد محمد حنفیہ نے اپنے بھایی کی جان بچانے کی خاطر آپ کو مکہ جانے اور وہاں پر بھی خطرہ ہوا تو وہاں سے یمَن اور یمن میں بھی خطرہ کا احساس کیا تو صحراوں اور کوہستانوں میں پناہ لینے کی تجویز پیش کی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کی تجویز کی تعریف کی اور فرمایا: « بھا‎ئی جان، آپ کو اجازت ہے کہ مدینہ میں میرے جاسوس کی حیثیت سے رہو اور دشمنوں کے امور سے مجھے باخبر رکھو»[15]

کیسانیہ اور مختار سے رابطہ

کیسانیوں کے مطابق، محمد بن حنفیہ نے حسین ابن علی کی شہادت کے بعد مختار کو عراقیوں (کوفہ و بصرہ) کا حاکم بنادیا اور ان سے امام حسین کے قاتلوں سے خونخواہی کا مطالبہ کیا۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے کچھ مدت بعد کیسانیہ نے قیام کیا اور محمد ابن حنفیہ کی امامت کے قا‎ئل ہوگئے۔ انکا عقیدہ تھا کہ انہوں نے دین کے اسرار، علم تاویل اور باطنی علوم کو امام حسن اور امام حسین سے کسب کیا ہے۔ بعض لوگ ان کو شریعت کے ارکان جیسے نماز اور روزہ سے تاویل کرتے ہو‎ئے حلول اور تناسخ کے قا‎ئل تھے، کیسانیہ کے تمام فرقے محمد ابن حنفیہ کی امامت اور اللہ تعالی کے لئے بداء صحیح ہونے میں متفق تھے۔ اس فرقے کو مختاریہ بھی کہا گیا ہے۔[16] محمد ابن حنفیہ اور مختار کے باہمی رابطے کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے؛ بعض کا کہنا ہے کہ ان کو مختار پر کو‎ئی اعتقاد نہیں تھا اور انکو اپنی نمایندگی نہیں دیا ہے، بعض لوگ مختار کو ان کا نمایندہ سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ، مختار ان کی طرف سے مامور تو نہیں تھا لیکن مختار کے کاموں پر محمد حنفیہ ضمنی طور پر راضی تھے۔[17]

محمد حنفیہ کو عبداللہ بن زبیر سے نجات دینا

جب مختار نے کوفہ پر قبضہ کیا تو لوگوں کو محمد ابن حنفیہ کی طرف دعوت دیا۔ اس وقت مکہ اور مدینہ پر عبد اللّہ بن زبیر مسلط تھا اس نے اس خوف سے کہ کہیں لوگ محمد ابن حنفیہ کی طرف نہ جا‎ئیں وہ اور عبداللہ بن عباس سے اپنی بیعت کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے نہ مانا اور اسی وجہ سے ابن زبیر نے انہیں زمزم کے حجرے میں قید کردیا اور قتل کی دھمکی دی۔ محمد ابن حنفیہ اور ابن عباس نے مختار سے مدد کا مطالبہ کر کے خط لکھا اور مختار نے خط پڑھنے کے بعد ظبیان بن عمارہ کو چار سو آدمی، چار لاکھ درہم اور بہت سارے لوگوں کے ساتھ مکہ بھیجا۔[18] وہ لوگ ہاتھوں میں پرچم لئے مسجد الحرام میں داخل ہو‎ئے اور اونچی آواز میں حسین ابن علی علیہ السلام کے قاتلوں سے انتقام کے نعرے لگاتے ہو‎ئے زمزم تک پہنچ گئے۔ ابن زبیر نے ان لوگوں پر آگ لگانے کی نیت سے بہت ساری لکڑیاں جمع کیا۔ وہ لوگ مسجد الحرام کا دروازہ توڑ کر ابن حنفیہ تک پہنچ گئے اور ان سے کہا ہم اور عبد اللہ ابن زبیر میں سے کسی ایک کو انتخاب کریں۔ محمد ابن حنفیہ نے کہا: اللہ کے گھر میں جنگ اور خونریزی ہونا مناسب نہیں سمجھتا ہوں۔ ابن زبیر ان لوگوں تک پہنچا اور غصے سے بولا «ان ‎ڈنڈے برداروں سے تعجب ہے» (جب مختار کے لوگ حرم میں داخل ہو‎ئے تو ان کے ہاتھوں میں تلوار کے بدلے ڈنڈے تھے کیونکہ حرم میں تلوار ساتھ رکھنا جا‎ئز نہیں ہے۔)کیا تم لوگ یہ سوچتے ہو کہ محمد کو میری بیعت کئے بغیر جانے دونگا؟ اس وقت مسجد الحرام کے باہر موجود مختار کے لوگ مسجد میں داخل ہو‎ئے اور حسین(ع) کی انتقام کا نعرہ بلند کیا۔ ابن زبیر ان سے ڈر گیا اور محمد حنفیہ کو جانے سے نہیں روکا۔ محمد چار ہزار لوگوں کے ساتھ «شعب ابی طالب» چلے گئے اور مختار کے قتل ہونے تک وہیں پر رہے۔[19]

بعض کیسانیوں کا ان کی مہدویت کا عقیدہ

اسلامی مذاہب اور فرقوں کے بعض محققوں کا کہنا ہے کہ محمد حنفیہ اسلام میں پہلا وہ شخص ہے جس کو مہدی کا نام دیا گیا۔[20]ان کی مہدویت کا عقیدہ رکھنے والوں کا دعوا ہے کہ آپ کوہ رضوی میں سکونت پذیر ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے ان کے فرج کا حکم آنے تک دودھ اور شہد کی دو نہروں سے کھاتے اور سیراب ہوتے ہیں۔[21] آیت اللہ خویی نے محمد بن حنفیہ کو کیسانیہ سے مبرا سمجھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کیسانیہ محمد حنفیہ کے بعد وجود میں آ‎ئے ہیں۔[22]

امامت کا دعوی

امام سجاد(ع) سے بحث

محمد بن حنفیہ، اپنے بھا‎ئی امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کو خود سے افضل سمجھتے تھے لیکن امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام سجاد علیہ السلام کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنی امامت قبول کرنے کی درخواست کی۔ اور محمد حنفیہ کی دلیل یہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام نے پہلے دو اماموں کے برخلاف اپنے بعد کسی کو امام معرفی نہیں کیا ہے اور محمد حنفیہ علی علیہ السلام کے بلافصل فرزند ہیں اور عمر اور زیادہ احادیث نقل کرنے کے اعتبار سے زین العابدین علیہ السلام پر برتری حاصل ہے۔ امام سجاد علیہ السلام نے اپنے چچا کے جواب میں ان کو جہالت سے دوری اور اللہ تعالی سے ڈرنے کی نصیحت کی اور انہیں لکھا:

«میرے والد گرامی نے عراق کے سفر کی نیت سے پہلے میری امامت کا بتا دیا تھا اور اپنی شہادت سے کچھ لمحے پہلے مجھ سے عہد لیا۔»

امام سجاد(ع) نے محمد حنفیہ کو دعوت دی کہ حجر الاسود جاکر وہاں اپنا مسئلہ حل کرینگے۔ حجر اسود ہم میں سے جس کی امامت کی گواہی دے وہی امام ہے۔ وہاں جا کر پہلے محمد نے اللہ کے حضور گریہ و زاری کے بعد دعا کی اور حجر اسود سے اپنی امامت کی گواہی کی درخواست کی لیکن کو‎ئی جواب نہیں ملا۔ پھر امام سجاد علیہ السلام نے دعا کی اور حجر اسود سے اپنی امامت کی گواہی کا مطالبہ کیا تو حجر اسود سے آواز آ‎ئی اور علی ابن الحسین کی امامت کی گواہی دی اور محمد حنفیہ نے بھی آپ کی امامت کو قبول کیا[23] بعضی از علماء احتمال صوری بودن این منازعہ را دادہ‌اند کہ ضعفای شیعہ بہ وی متمایل نشوند.[24]

حضرت سجاد علیہ السلام کی امامت پر عقیدہ

امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں نقل ہوا ہے کہ محمد حنفیہ امام سجاد علیہ السلام کی امامت پر عقیدہ رکھتے تھے۔[25] اور قطب الدین راوندی نےابن حنفیہ کے خادم ابوخالد کابلی سے نقل کیا ہے جس میں اس نے ابن حنفیہ سے امام سجاد علیہ السلام کی امامت کے بارے میں سوال کرتا ہے تو محمد جواب میں کہتا ہے:«میں اور تمہارا اور تمام مسلمانوں کا امام علی بن الحسین علیہ السلام ہیں۔»[26]

وثاقت

رجال کشی میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہو‎ئی ہے جس میں چار محمد اللہ کی نافرمانی کے مانع بننے کا ذکر ہوا ہے؛ ان چار محمد سے مراد محمد بن جعفرطیار، محمد بن ابی بکر، محمد بن حنفیہ اور محمد بن ابی حذیفہ.[27] ہیں۔ مامقانی اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہو‎ئے محمد ابن حنفیہ کی عدالت اور پاکیزگی کو ثابت کرتا ہے۔[28]

سیاسی موقف

محمد ابن حنفیہ سیاسی اعتبار سے باہمی مسالمت آمیز رو‎ئے کو اختیار کرتا تھا۔ اسی موقف کی وجہ سے امیر المؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مدینہ میں اپنے بھا‎ئی امام حسن علیہ السلام کے ساتھ رہے اور معاویہ کا ولی عہد یزید کی بھی بیعت کی۔ اور یزید خلیفہ بننے کے بعد بھی اس کی خلافت کی مخالفت نہیں کیا۔ سانچہ:جعبہ نقل قول اپ نے بعد میں بھی یہ مسالمت آمیز روابط خلافت کے سیسٹم کے ساتھ جاری رکھا۔ 76 ھ ق کو عبدالملک بن مروان سے ملنے دمشق چلے گئے۔ بعض نے عبد الملک سے رابطے کی وجہ ابن زبیر کی طرف سے بدسلوکی قرار دیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر نے اسے زمزم کے چھوٹے سے کمرے میں بند کیا اور مختار ثقفی کے یار دوستوں نے اس سے نجات دلایا۔[29] مختار کو قتل کرنے کے بعد ابن زبیر نے محمد حنفیہ سے دوبارہ بیعت مانگا اور چاہتا تھا ان پر اور انکے دوست احباب پر حملہ کرے۔ اس وقت عبد الملک ابن مروان جو ابھی مسند خلافت پر بیٹھ گیا تھا اس کی طرف سے محمد ابن حنفیہ کو ایک خط موصول ہوا جس میں محمد اور اس کے چاہنے والوں کو شام آنے کی وعوت تھی۔ محمد اور اس کے دوست احباب شام کی طرف چلے گئے۔ لیکن مَدین پہنچے تو ان کو خبر ملی کہ عبد الملک ابن مروان نے عمرو ابن سعید سے (جو کہ ابن حنفیہ کے دوستوں میں سے تھا) بے وفا‎ئی کی ہے۔ اس وجہ سے سفر سے پشیمان ہو‎ئے اور «أیلہ» میں رک گئے جو کہ بحیرہ احمر کے کنارے، حجاز کے آخر میں شام کے بارڈر پر ایک شہر ہے۔ وہاں سے واپس مکہ لوٹے اور شعب ابوطالب میں سکونت اختیار کیا۔ اور وہاں سے طا‎ئف چلے گئے۔ جب تک حجاج نے ابن زبیر کو مکہ میں محاصرے میں رکھا محمد حنفیہ طا‌‎ئف میں رہے۔ اس کے بعد پھر شعب ابو طالب واپس آ‎ئے۔ حجاج نے ان سے عبد الملک کی بیعت مانگی لیکن انہوں نے بیعت کرنے سے انکار کیا۔ ابن زبیر مرنے کے بعد محمد ابن حنفیہ نے عبد الملک کو ایک خط لکھا اور اس سے امان مانگی اور عبد الملک نے اسے امان دیا۔[30]

مختارنامہ ٹی وی سیریل میں محمدرضا شریفی نیا، محمد بن حنفیہ کے کردار میں

وفات اور محل دفن

امام باقر علیہ السلام سے ایک روایت میں آیا ہے کہ:

«محمد ابن حنفیہ کی بیماری کے دوران میں اس کے پاس تھا میں نے خود ان کی آنکھیں بند کیں، غسل دیا، غسل دیا اور میں نے ہی ان پر نماز پڑھی اور دفن کیا۔»[31] البتہ غیر شیعہ منابع میں ذکر ہوا ہے کہ (تیسرے خلیفہ کا بیٹا) ابان ابن عثمان نے ان پر نماز پڑھی ہے۔.[32]

محمد ابن حنفیہ کہاں دفن ہو‎ئے ان کے محل دفن میں اختلاف ہے؛ سید محسن امین نے تین جگہوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایلہ، طا‌‎ئف اور مدینہ میں بقیع کا قبرستان[33] لیکن قوی احتمال یہ ہے آپ نے مدینہ میں وفات پایا ہے۔[34]

محمد بن حنفیہ ٹی وی پر

‎ٹی وی ڈرامہ سیریل مختارنامہ جس کے ڈا‎ئریکٹر داود میرباقری تھے جو 60 منٹ کی چالیس قسطوں پر مشتمل تھی اس میں محمد رضا شریفی نیا نے محمد حنفیہ کا کردار ادا کیا۔ یہ سیریل پہلی بار 2010 (1389 ھ شمسی) کو جمہوری اسلامی ایران کے ٹی وی چینل سے نشر ہو‎ئی در ۴۰ قسمت ۶۰ دقیقہ‌ای ساختہ شد، محمدرضا شریفی‌نیا نقش محمد حنفیہ را بازی کرد. این سریال برای اولین بار در سال ۱۳۸۹ شمسی از سیمای جمہوری اسلامی ایران پخش شد.

بیور زین گیلان میں امامزادہ محمد حنفیہ

محمد حنفیہ کے نام سے امام زادے

بوشہر کا علاقہ خارک اور گیلان کا علاقہ رودبار میں کچھ امام زادے محمد حنفیہ سے منسوب ہیں لیکن ان کے محل وفات کو دیکھتے ہو‎ئے اس نسبت کا صحیح ہونا بعید نظر آتا ہے۔

جزیرہ خارک میں امامزادہ میرمحمد (محمد حنفیہ)
  • محمد حنفیہ کے نام سے ایک امام زادہ رودبار شہر کی بیورزین نامی دیہات میں بھی ہے جو شجرہ نسب اور وہاں کے لوگوں کے کہنے کے مطابق محمد حنفیہ، ان کا بیٹا ہاشم اور (امام کاظم(ع) کے بیٹے) ابو القاسم حمزہ دفن ہیں۔ البتہ یہ بات بھی محمد ابن حنفیہ کے محل وفات جو کتابوں میں بیان ہوا ہے اس کے ساتھ مطابق نہیں۔ امام زادہ محمد حنفیہ کو امام زادہ «قِل قِلی» یا «غلتان» کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ہر سال 28 صفر کو اس امام‌زادے پر بہت رش ہوتا ہے۔.[35]
  • امام‌زادہ میرمحمد (محمد حنفیہ) جو جزیرہ خارک میں واقع ہے صدر اسلام کی نشانیوں میں سے ہے۔ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ محمد حنفیہ فرزند امیر المومنین علیہ السلام کا محل دفن یہی ہے۔[36]. یہاں اس امامزادہ میں بھی محمد حنفیہ کا دفن ہونا پہلے والے امامزادوں کی طرح یہ بھی محل دفن کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. أنساب الأشراف، ج۲، ص۲۰۰.
  2. الطبقات الکبری، ج۵، ص:۸۷.
  3. مراجعہ کریں: ابن سعد، ج۵، ص۶۷؛ مدرس وحید، ج ۲، ص۳۵۶.
  4. صابری، ج۲، ص۵۱.
  5. صابری، ج۲، ص۵۴.
  6. مدرس وحید، ج۲، ص۳۵۷؛ نک: ری‌شہری، ج۱، ص۱۸۳.
  7. ابن خَلِّکان، ج۴، ص۱۷۱.
  8. دیکھیں : ابن جوزی، ج۵، ص۷۸؛ صابری، ج۲، ص۵۱.
  9. بحارالانوار، ج۴۲،ص۱۱۰
  10. المقرم، ص۱۳۵
  11. ابن‌اعثم،‌ ہمان،‌ ص۲۳
  12. مامقانی،‌ عبداللّہ.‌ ۱۳۵۲ ق، تنقیح المقال فی علم احوال الرجال، ج۳، ص۱۱۱، بی‌جا، مطبعۃ الحیدریۃ.
  13. حر عاملی،اثبات الہداہ، ج۴، ص۴۲
  14. بحار، ج۴۲، ص ۸۱.
  15. قمی، ص۹۸.
  16. نوبختی، ص۸۷.
  17. دیکھئے: تاریخ سیاسی صدر اسلام، ص ۲۱۴ و ۲۱۵؛ نوبختی، ج۲، ص ۵۲ و ۵۳.
  18. أخبارالدولۃالعباسیۃ، ص ۹۹ - ۱۰۰.
  19. نوبختی، ص۸۵ و ۸۶.
  20. صابری، ج۲، ص۵۵.
  21. اشعری، مقالات الاسلامیین، تحقیق: محمد محیی‎الدین عبدالحمید، ج۱، ص۹۰ و ۹۱؛ بغدادی، الفرق بین الفرق، قاہرہ، مکتبۃ محمد صبیح و اولادہ، ص۳۹، ۴۱ و ۴۳.
  22. معجم الرجال، ج ۱۸، ص ۱۰۳-۱۰۲.
  23. دیکھیے: صفار، ص۵۰۲؛ ابن بابویہ، ص۶۲-۶۰؛ کلینی، ج۱، ص۳۴۸
  24. الخرائج و الجرائج، ج۱، ص۲۵۸ و بحارالانوار، ج۴۶، ص ۳۰
  25. الإمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، ص۶۰.
  26. قطب راوندی، ج۱، ص۲۶۲-۲۶۱.
  27. کشی، ص۷۰.
  28. تنقیح المقال، ج۳، ص۱۱۱.
  29. صابری، ج۲، ص۵۲ و ۵۳.
  30. دیکھ‎ئے: نوبختی، ص ۸۶-۸۷.
  31. رجال کشی، ص۳۱۵.
  32. تہذیب الکمال، ج۱۰، ص ۲۸۵.
  33. اعیان الشیعہ، ج۱۴، ص ۲۷۰.
  34. تہذیب‌الکمال، ج۱۰ص ۲۸۵؛ ریحانۃ‌الادب، ج۷، ص۴۸۴.
  35. صوبہ گیلان صدا و سیما کی ویب سایٹ
  36. دانستنی‌ہای تاریخ و جغرافیایی ایران و جہان

منابع

  • ابن بابویہ، علی بن حسین، الإمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، مدرسہ الامام المہدی(عج)، قم، ۱۳۶۳ش.
  • ابن جوزی، عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، تحقیق محمد و مصطفی عبد القادر عطا، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۲م.
  • ابن خلکان، احمد بن محمد بن ابی بکر، وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان، تحقیق احسان عباس، دارالثقافہ، بیروت، ۱۹۶۸م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، محقق: محمد عبدالقادر عطا،‌دار الکتب العلمیہ، بیروت.
  • ابن فلیچ، علاءالدین مغلطای بن قلیچ بن عبداللہ بکچری حنفی، اکمال تہذیب الکمال، انتشارات فاروق الحدیثیہ الطبع و النشر، قاہرہ، ۱۴۲۲ق.
  • اشعری، علی بن اسماعیل، مقالات الاسلامیین، تحقیق: محمد محیی‎الدین عبدالحمید، قاہرہ، مکتبۃ النہضۃ المصریۃ، ۱۳۶۹ق.
  • الامین، سید محسن، اعیان‌الشیعۃ، المحقق حسن الامین، دارالتعارف، بیروت، ۱۴۲۰ق/۲۰۰۰م.
  • بغدادی، عبدالقاہر بن طاہر تمیمی، قاہرہ، مکتبۃ محمد صبیح و اولادہ، بی‎تا.
  • بلاذری، احمدبن یحیی بن جابر، کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، طبعۃ الأولی، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • راوندی، قطب، الخرائج و الجرائج، مدرسہ امام مہدی، قم، ۱۴۰۹ق، چاپ اول.
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، شرح نہج البلاغۃ، شارح: احمد مدرس وحید، ناشر: احمد مدرس وحید، قم.
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، سمت، تہران، ۱۳۸۸ش.
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، مصحح: محسن کوچہ باغی، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، قم.
  • قطب راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الخرائج و الجرائح، مؤسسۃ الإمام المہدی علیہ‌السلام، قم.
  • قمی، عباس، در کربلا چہ گذشت؟ ترجمہ نفس المہموم، محقق: محمد باقر کمرہ‌ای، انتشارات مسجد مقدس جمکران، قم، ۱۳۸۱ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، مصحح: محمد آخوندی و علی اکبر غفاری، دارالکتب الاسلامیہ، تہران.
  • محمدی ری شہری، محمد، دانش نامہ امیرالمومنین علیہ‌السلام بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، ترجمہ عبدالہادی مسعودی، دارالحدیث، قم، ۱۴۲۸ق/۱۳۸۶ش.
  • مدرس، میرزا محمدعلی، ریحانۃ الادب، ناشر کتابفروشی خیام، چاپ سوم، ۱۳۶۹ش.
  • مؤلف مجہول (قرن ۳)، أخبار الدولۃ العباسیۃ و فیہ أخبار العباس و ولدہ، تحقیق عبدالعزیز الدوری و عبدالجبار المطلبی، بیروت، دارالطلیعۃ، ۱۳۹۱ش.
  • نوبختی، حسن بن موسی، ترجمہ فرق الشیعہ نوبختی با دو مقدمہ: زندگینامہ نوبختی و کتاب‌ہای فرق الشیعہ: نگاہی بہ شیعہ و دیگر فرقہ‌ہای اسلام تا پایان قرن سوم ہجری، مترجم: محمد جواد مشکور، بنیاد فرہنگ ایران، تہران، ۱۳۵۳ش.
  • چلونگر، محمدعلی، محمد بن حنفیہ و قیام کربلا، مجلہ روش شناسی علوم انسانی، زمستان۱۳۸۱ش، شمارہ ۳۳.