توابین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


توابین (توبہ کرنے والے) شیعیان کوفہ کی اس جماعت کا نام ہے جنہوں نے سنہ 65 ہجری میں سلیمان بن صُرَدِ خُزاعی کی قیادت میں امام حسین(ع) اور اہل بیت رسول(ص) کی خونخواہی کی نیت سے قیام کیا اور قیام میں شریک افراد کی اکثریت نے "عین الوردہ" کے مقام ابن زیاد کے لشکر کا مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا۔

وجۂ تسمیہ

شیعیان کوفہ کی اکثریت نے اگرچہ امام حسین(ع) کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن عین وقت پر آپ(ع) کی مدد سے انکار کیا اور امام(ع) کو سنہ 61 ہجری کے قیام عاشورا میں تنہا چھوڑ دیا۔

وہ واقعۂ عاشورا کے بعد اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور انہیں رستگاری اور فلاح اور توبہ کی قبولیت کا واحد رستہ امام حسین(ع) کے قتل کے انتقام کی غرض سے قیام کرنے اور اس راہ میں شہادت پانے، میں نظر آیا؛ چنانچہ وہ تاریخ میں توابین کے نام سے مشہور ہوئے۔[1]

توابین کا قیام

تفصیلی مضمون: توابین کا قیام

توابین کا قیام واقعہ عاشورا کے بعد شیعوں کی پہلی تحریک تھی جو امام حسین(ع) اور آپ کے باوفا اصحاب کے قاتلوں سے انتقام لینے کی غرض سے چلائی گئی تھی۔[2] یہ تحریک سنہ ۶۵ ھ.ق میں اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کی توسط سے شام کے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے 65ہجری قمری میں عین الوردہ نامی جگہہ پر سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں عمل میں آئی اور توابین نے 4دن تک اموی لشکر کا مقابلہ کیا اور بہت سے لوگ اس میں شہید ہوئے۔[3] نیز مسيب بن نجبہ[4]، عبد الله بن سعد الأزدي اور عبد الله بن وال تيمي کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔[5]

حوالہ جات

  1. سیر اعلام النبلاء، ج3، ص395۔
  2. ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج6، ص25.
  3. بلاذري، أنساب الأشراف، ج 6، ص 364.۔ ابن كثير، البدايہ والنہايہ، ج8، ص276 -280.
  4. ابن عبد البر،الاستیعاب،2/650،دار الجبل بیروت۔
  5. ابن اثیر،الکامل فی التاریخ،4/186،دار صادر للطباعہ والنشر -


مآخذ

  • ذهبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، بیروت، مؤسسة الرسالة، 1413ہجری۔