امام حسین علیہ السلام

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
Basmala.svg
امام حسین علیہ السلام
ضریح امام حسین5.jpg
نام امام حسین علیہ السلام
کنیت ابوعبداللہ
ولادت سوم شعبان، سال 4ق.
مولد مدینہ
مدفن کربلا، عراق
مسکن مدینہ، کوفہ
القاب زکی، سید الشہداء،
والد امام علی
والدہ حضرت فاطمہ
ازواج رباب، لیلا، ام اسحاق ، شہربانو
اولاد امام سجاد علیہ‌السلام، علی اکبر، جعفر، علی اصغر، سکینہ، فاطمہ
عمر 57 سال

امام علی • امام حسن • امام حسین • امام سجاد • امام باقر • امام صادق • امام کاظم • امام رضا  • امام جواد • امام ہادی • امام حسن عسکری • امام مہدی

محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسین (ع) کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسین(ع)
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تعزیہ • مجلس • زنجیر زنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


حسین بن علی بن ابی طالب(علیہم السلام)، کی کنیت ابوعبداللہ ہے [1] (ولادت مدینہ سنہ 4 ہجری اور شہادت کربلا سنہ61ہجری)، امام حسین(ع) کے نام سے معروف شیعیان آل رسول(ص) کے تیسرے امام، اصحاب کساء میں سے ایک، شہید کربلا، امام علی(ع) اور حضرت زہرا (س) کے دوسرے فرزند اور رسول اللہ(ص) کے دوسرے نواسے ہیں۔[2] پیغمبر اکرم(ص) نے آپ اور آپ کے بھائی حسن مجتبی(ع) کو جنت کے سردار قرار دیا ہے۔ آپ(ع) نے صفین، جمل اور نہروان میں اپنے والد ماجد کے رکاب میں لڑے۔ بھائی امام حسن(ع) کی امامت کے دور میں آپ کے تابع و پیرو تھے اور جب تک معاویہ زندہ رہا آپ صلح امام حسن کے پابند رہے۔ تاہم معاویہ کی موت کے بعد یزید کی بیعت کو جائز نہيں سمجھا اور آپ کی حکومت و زمامداری قبول کرنے کے سلسلے میں اہل کوفہ کی دعوت کے پیش نظر مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے لیکن آپ کو کربلا میں کوفیوں کی عہد شکنی کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں دو لشکروں کے مابین ہونے والی جنگ میں آپ اپنے 72 افرادقلیل ساتھیوں کے ہمراہ شہادت نوش کرگئے۔ اہل بیت اور اصحاب میں سے آپ کے پسماندگان یزیدی لشکر کے ہاتھوں اسیرکر کے کوفہ اور شام بھجوائے گئے۔

امام حسین(ع) کی شہادت نے تاریخ اسلام اور تاریخ شیعہ بالخصوص اسلام کی ابتدائی صدیوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسلام کی ابتدائی صدی کے نہایت حساس اور کشیدہ دور میں امام حسین(ع) کی زندگی، ظلم اور ظالم و جائر اموی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد اور شہادت نے ایک طرف سے آپ(ع) کے نام کو استقامت و مزاحمت اور شہادت جیسے مفاہیم سے جوڑ دیا اور دوسری طرف سے آپ کا قیام زمانے کے جائرین و ظالمین کے خلاف اگلی تحریکوں کا مبدأ و آغاز ثابت ہوا۔ مختلف صدیوں کے دوران واقعۂ عاشورا کی عکاسی شیعہ معاشروں کی فکر کی مختلف اتھاہ میں ادب، فن تصاویر اور یادگاروں کی صورت میں نمایاں ہوئی۔[3]

نسب، کنیت اور لقب

حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم، ہاشمی و قرشی ہیں۔ آپ کے والد امیرالمؤمنین(ع) اور والدہ فاطمہ(س) بنت رسول اللہ(ص) ہیں۔حسن مجتبیٰ ،عباس اور محمد بن حنفیہ بھائیوں اور زینب بہنوں میں سے ہیں۔

تسمیہ

شیعہ روایات کے مطابق، پیغمبر اکرم(ص) نے ابتدا ہی میں آپ کے لئے کوئی نام منتخب ہونے سے پہلے اللہ کے حکم سے آپ کا نام حسین رکھا۔.[4] چنانچہ رسول اکرم(ص) نے سب کو بتا دیا کہ: "مجھے فرمان ملا کہ اپنے دو بیٹوں کو حسن اور حسین کا نام دوں"۔ [5] "ہارون نے اپنے دو بیٹوں کو شبَّر اور شُبَیر کا نام دیا"۔ [6] منقول ہے کہ امام حسین(ع) کا نام تورات میں شُبَیر اور انجیل میں طاب تھا۔[7]

بعض روایات میں منقول ہے کہ حسن اور حسین دو بہشتی نام ہیں اور اسلام سے قبل یہ نام کہیں ذکر نہيں ہوئے تھے۔ [8]

ابن سعد، [9] کے مطابق عباس بن عبدالمطلب، کی زوجہ امّ الفضل نے رسول اللہ(ص) کے حکم پر امام حسین (ع) کی دایہ (آپ کو دودھ پلانے) کی ذمہ داری سنبھالی اور یوں آپ قُثم بن عباس کے رضاعی بھائی ٹھہرے جو اس وقت خود بھی شیرخوار تھا۔[10]

کنیت

امام حسین(ع) کی کنیت ابو عبداللہ ہے جو رسول خدا(ص) نے آپ کی ولادت کے وقت آپ کے لئے منتخب کی اور یہ کنیت تمام منابع میں نقل ہوئی ہے۔ [11] تا ہم خصیبی [12] نے کہا ہے کہ خاصہ کے نزدیک آپ کی کنیت ابو علی ہے۔

لقب

امام حسین(ع) سے متعدد القاب منسوب کئے گئے ہیں جن میں سے اکثر آپ کے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کے ساتھ مشترک ہیں۔ امام حسین(ع) کے القاب خاص میں زکی، طیب، وفیّ، سیّد، مبارک، [13] نافع، الدلیل علی ذات اللّہ، [14] رشید، اور التابع لمرضاۃ اللہ[15] ہیں.[16]

مؤرخین میں سے ابن طلحہ شافعی[17] نے زکی کو دیگر القاب سے زيادہ مشہور اور سید شباب أہل الجنہ کو اہم ترین لقب قرار دیا ہے۔

ائمۂ شیعہ کی بعض احادیث میں بھی امام حسین(ع) کو لقب شہید یا سید الشہداء سے یاد کیا گیا ہے۔ [18]

انگشتریوں کے نقش

امام حسین علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش منقول ہیں:حَسْبِی اللہ،۔[19] اور إِنَ‏ اللہ بالِغُ‏ أَمْرِہ۔[20]۔[21]

ولادت اور شہادت

امام حسین(ع) کا مولد مدینہ ہے۔ آپ کی ولادت کا سال بعض نے 3 ہجری [22] اور بعض نے سنہ 4 ہجری [23] لکھا ہے۔ تاہم مؤرخین اور محدثین کے نزدیک مشہور سنہ 4 ہجری ہے۔

امام حسین(ع) کے یوم ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ قول مشہور تین شعبان ہے۔ [24]

شہادت

تفصیلی مضمون:شہادت امام حسین علیہ السلام

امام حسین(ع) دس محرم سنہ 61 ہجری کو عراق کی سرزمین نینوا میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ [25] امام حسین(ع) کی شہادت کا دن روز جمعہ [26] روزشنبہ (سنیچر)، [27] یکشنبہ (اتوار)[28] اور دوشنبہ (سوموار)[29] قرار دیا ہے[30] اور ان ایام میں سے یوم جمعہ کو قول صحیح اور مشہور قرار دیا ہے۔ [31] ابوالفرج اصفہانی، [32] نے امام(ع) کی شہادت کو سوموار کو عوام کے افواہ میں رائج ترین قول قرار دیتے ہوئے تقویم کے لحاظ سے اسے رد کردیا ہے۔[33]

امام حسین(ع) کی عمر

امام حسین(ع) کی عمر شہادت کے وقت 56 سال اور پانچ مہینے [34] ، 57 سال اور پانچ [35] مہینے، 57 سال اور 58 سال [36] ذکر ہوئی ہے۔[37]

ازواج اور اولاد

ازواج

  1. شہربانو: امام سجاد(ع) کی والدہ ماجدہ ہیں. اگر چه مورخین نے امام سجاد ع کی والدہ کا یہی نام ذکر کیا ہے لیکن دور حاضر کے محقیقن اس مسئلے کی تردید کرتے ہیں [38]
  2. رباب بنت امرؤ القیس: آپ ادب و عقل کے لحاظ بہترین اور افضل ترین خواتین میں سے تھیں ۔[39] ان سے امام حسین(ع) کی دو اولادیں: سکینہ و عبداللّه. عبداللّه(علی اصغر) جو عاشورا کے روز چھوٹے تھے اور اپنے والد کی گود میں شہید ہو گئے .[40] رباب کربلا میں موجود تھیں اور اسیر ہو کر شام تک گئیں۔[41]
  3. لیلی: یہ ابی‌مُرَّة بن عروة بن مسعود ثَقَفی کی بیٹی [42] اور انکی والدہ کا نام میمونہ تھا۔ [43] انکی امام حسین سے شادی کے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں ہے ۔علی اکبر اسی خاتون کے فرزند ہیں۔[44]
  4. ام اسحق : یہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی زوجہ تھیں جن سے حضرت امام حسین ع نے امام حسن کی شہادت کے بعد ان سے ازدواج کیا۔[45] گزارش‌های تاریخی از زیبایی و بدخلقی او یاد کرده‌اند.[46] شیخ مفید نے ان سے ایک بیٹی کا نام لیا ہے : فاطمہ.[47]
  5. سُلافہ یا ملومہ[48] : قُضاعہ نامی قبیلے سے تھیں۔اس سے جعفر نامی حضرت امام حسین کا بیٹا مذکور ہوا ہے ۔ [49] اسکے علاوہ اس کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہے ۔

اولاد

عالم بزرگوار شیخ مفید نے لکھا ہے کہ امام حسین(ع) کی اولاد کی تعداد 6 ہے جن میں سے 4 بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ [50] اورعلامہ سید محسن امین العاملی [51] اور ابن خشاب سمیت بعض علماء نے[52]آپ کی اولاد کی تعداد 9 بتائی ہے جن میں 6 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں اور ابن شہر آشوب نے مناقب میں[53] اور اربلی نے کشف الغمہ، میں اور دیگر نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ آپ کی 10 اولادیں ہیں جن میں 6 بیٹے اور 4 بیٹیاں شامل ہیں، [54] جبکہ بعض نے یہ تعداد 10 سے بھی زائد نقل کی ہے۔

قدیم مآ‏خذ[55] نے امام کی اولادیں 6 (4 بیٹے اور 2 بیٹیاں) اور متأخرمآخذ نے [56] 9 اولادیں (6 بیٹے اور تین بیٹیاں) ذکر کی ہیں۔ چنانچہ دو دیگر بیٹیوں اور ایک بیٹی کے نام متأخرمآخذ میں دکھائی دیتے ہیں: علی اصغر، محمد اور زینب۔[57] ابن طلحہ شافعی[58] نیز امام(ع) کی اولاد کی تعداد 10 بیان کی ہے جن میں نو کے نام بھی نقل ہوئے ہیں لیکن ایک کا نام دستیاب نہيں ہے۔ نیز تذکرہ اور مرثیہ کی بعض متأخر کتب میں امام حسین(ع) کی بیٹی رقیہ کا نام بھی مذکور ہے۔[59]

منابع و مآخذ کے اختلاف کے پیش نظر یہاں امام کی اولاد اور ان کی ماؤں کے نام ذکر کئے جاتے ہیں:

  1. علی بن الحسین (الاکبر)(ع) یا علی اوسط: امام چہارم شیعیان، ملقب و معروف بہ زین العابدین [= عبادت کرنے والوں کی زینت] اور سجاد جن کی کنیت ابو محمد اور والدہ کا نام شہربانو بنت شاہ ایران یزدگرد مشہور ہے۔
  2. علی اکبر: امام حسین(ع) کے بڑے بیٹے جو کربلا میں شہید ہوئے اور ان کی والدہ لیلی بنت ابومرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہیں۔
  3. جعفربن حسین: جن کی والدہ قبیلۂ قضاعہ سے ہیں۔ وہ امام(ع) کی حیات میں ہی دنیا سے رخصت ہوئی اور ان کی نسل باقی نہ رہی۔[60]
  4. عبداللہ بن حسین: وہی عبداللہِ رضیع [= شیرخوار] المعروف بہ علی اصغر جن کی والدہ رُباب ہیں۔ [61]
  5. سکینہ بنت الحسین: امام(ع) کی چھوٹی بیٹی ہیں جن کی والدہ رُباب ہیں۔
  6. فاطمہ: امام(ع) کی بڑی بیٹی [62] جن کی والدہ ام اسحق بنت طلحہ بن عبیداللہ تیمی[63] ہیں۔
  7. محمد: جو کربلا میں شہید ہوئے اور ان کی والدہ رُباب ہیں۔[64]
  8. زینب بنت امام حسین : جن کی والدہ کا نام نامعلوم ہے۔[65]
  9. رقیہ (س): مرحوم حائری کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ یزدگرد سوئم کی بیٹی شہربانو ہیں۔[66] اور بعض روایات کے مطابق ان کا نام ام اسحق تھا۔[67]
  10. محسن بن حسین: جن کی والدہ امام حسین(ع) کی وہ زوجہ ہیں جن کا نام نا معلوم ہے اور حالت حمل میں کربلا کے واقعے میں حاضر ہوئیں اور اسیران اہل بیت(ع) کے قافلے میں تھیں اور ان کا فرزند حلب کے قریب سقط ہوا ہے[68] اور ان مقام سقط آج کے ملک شام کے شہر حلب میں زیارتگاہ خاص و عام ہے۔


امامت سے پہلے

رسول اللہ(ص) کا دور

رسول اللہ کی حدیث امام حسین کی شٰان میں، امام کے حرم میں

امام حسین(ع)، رسول اللہ(ص) کے وصال کے وقت بچپن کے ایام سے گذر رہے تھے لیکن اسی دور میں طفولیت کے باوجود اہل بیت نبی کے ہمراہ بہت اہم اور تاریخی وقائع میں شریک تھے جن میں سے نصارائے نجران کے ساتھ مباہلہ، اصحاب کساء کا واقعہ، پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ بیعت، مکاتبات میں شاہد قرار پانا، شامل ہیں۔

ابن سعد[69] امام حسین(ع) کو صحابہ کے آخری طبقے (پانچویں طبقے) میں گردانتا ہے. آپ(ص) کے وصال کے وقت ابھی بچے تھے اور کسی بھی جنگ میں آپ(ص) کے ساتھ شریک نہيں ہوسکتے تھے۔

امام حسین(ع) کی زندگی کے تقریبا 6 سال اور 8 مہینے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کے دور میں گذرے۔ آپ کو ہمیشہ رسول خدا(ص) کی خاص عنایات اور توجہات حاصل رہیں۔ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:[70] امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔[71]

یعلی عامری سے مروی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:[72] حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ خداوند دوست رکھتا ہے ہر اس شخص کو جو حسین کو دوست رکھے! حسن اور حسین اسباط میں سے دو سبط (انبیاء کے فرزندوں میں سے دو فرزند) ہیں)۔[73]

سلمان فارسی سے منقول ہے کہ رسول اللہ(ص) حسین(ع) کو اپنے زانوئے مبارک پر بٹھا کر چوم رہے تھے اور فرمارہے تھے:
"تم سید و سرور، سید و سرور کے فرزند ہو، تم امام فرزند امام اور ائمہ کے باپ ہو؛ تم حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند اور اللہ کی ان حجتوں کے باپ ہو جو 9/افراد ہیں اور ان کا آخری اور خاتم قائم (آل محمد) ہے "؛[74] پھر سلمان ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
اے سلمان! جو بھی ان سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی ہے اور جو مجھ سے محبت کرے اس نے خدا سے محبت کی ہے۔ اور پھر اپنا ہاتھ امام حسین(ع) کے کندھے پر رکھا اور فرمایا: یہ امام فرزند امام ہے، اس کی نسل سے 9 افراد نیک امین اور معصوم ائمہ ہیں اور ان میں سے نواں قائم (یعنی قیام کرنے والا) ہے۔[75]

پیغمبر اکرم(ص) نے بارہا فرمایا:
"حسن(ع) اور حسین میرے فرزند ہیں، جو ان سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی ہے اور جو مجھ سے محبت کرے اس نے خدا سے محبت کی ہے اور جو خودا سے محبت کرے وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو بھی ان سے دشمنی کرے اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے اور جو مجھ سے دشمنی کرے اس نے خدا سے دشمنی کی ہے اور جس نے خدا سے دشمنی کی وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔[76]

ابو ہریرہ نے بھی کہا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:
"جو بھی میرے ان دو فرزندوں ـ حسن و حسین ـ سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے۔"[77]

حسنین(علیہما السلام) سے آنحضرت(ص) کی محبت اس قدر شدید تھی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو کبھی تو آپ اپنا خطبہ ہی ادھورا چھوڑتے اور منبر سے نیچے اترتے اور ان کا خیرمقدم کرتے اور انہیں گود میں اٹھا دیتے تھے۔[78] انس بن مالک سے مروی ہے:
"رسول اللہ(ص) سے پوچھا گیا: آپ اہل بیت میں سے کس سے زيادہ محبت کرتے ہیں؟ فرمایا: حسن اور حسین سے"۔ [79]

تین خلفا کا دور

امام حسین(ع) نے اپنی عمر کے تقریبا 25 سال خلفائے ثلاثہ (ابوبکر، عمر و عثمان) کے زمانے میں بسر کئے۔ خلیفہ اول کی خلافت کے آغاز کے وقت آپ کی عمر سات سال تھی اور خلیفہ ثانی کے دور کے آغاز میں آپ کی عمر 9 سال جبکہ خلیفہ ثالث کی خلافت کے آغاز پر آپ کی عمر 19 سال تھی۔

ابوبکر کی خلافت

ابوبکر کی خلافت کے ایام اہل بیت(ع) کے لئے ایک مختلف دور کا آغاز تھا۔ اس دور میں اہل بیت(ع) ایک طرف سے رسول اللہ(ص) کی وفات پر سوگوار تھے اور دوسری طرف حقِّ خلافت پر کھڑے کئے گئے جھگڑے نے اہل بیت(ع) کے لئے عرصۂ حیات تنگ کردیا تھا۔ مروی ہے کہ امام حسین(ع) خلافت ابوبکر کے ابتدائی ایام میں اپنے بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام اور اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا کے ہمراہ راتوں کو امام علی علیہ السلام کا غصب شدہ حق خلافت واپس دلانے میں مدد پہنچاتے اور اہل بدر کے دروازوں پر حاضر ہوتے تھے۔[80]

عمر کی خلافت

عمر کی خلافت کے دور میں امام حسین(ع) کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات ہم تک نہيں پہنچی ہیں؛ شاید اس کا سبب حکومت و اقتدار سے امیرالمؤمنین(ع) اور آپ کے فرزندوں کی کنارہ کشی میں ڈھونڈا جاسکے۔

بعض مآخذ میں مروی ہے کہ عمر کی خلافت کے دور کے آغاز میں ایک روز امام حسین(ع) مسجد میں داخل ہوئے اور عمر کو منبر رسول(ص) پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھ کر منبر کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھے اور عمر سے کہا: "میرے باپ کے منبر سے نیچے اترو اور اپنے باپ کے منبر پر بیٹھو"۔
عمر، جو اس بات سے مبہوت و حیران تھے، نے کہا: "میرے باپ کا کوئی منبر نہ تھا!"، اور اس کے بعد امام حسین(ع) کو اپنے پہلو میں بٹھایا۔[81] اور جب منبر سے اترے تو امام حسین(ع) کو گھر لے گئے اور پوچھا: "یہ بات کس نے آپ کو سکھائی تھی؟ فرمایا: مجھے یہ بات کسی نے بھی نہیں سکھائی"۔"[82]

خلافت عثمان

جس وقت عثمان نے خلافت کا عہدہ سنبھالا تو امام حسین(ع) 19 سالہ نوجوان تھے۔ اہل سنت کے بعض منابع میں مذکور ہے کہ امام حسین(ع) عثمان کے دور خلافت کی بعض فتوحات میں اپنے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کے ہمراہ شریک ہوئے۔ ان روایات کے مطابق آپ نے بھا‏ئی امام حسن(ع)، عبداللہ بن عباس، ابن عمر اور ابن زبیر کے ہمراہ سعید بن العاص کی سرکردگی میں طبرستان کی جنگ میں شرکت کی۔[83]

عثمان نے بزرگ صحابی ابوذر کو مدینۃ الرسول(ص) سے جلاوطن کرکے سرزمین ربذہ بھجوانے کا حکم دیا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو انہیں شہر سے باہر چھوڑ آنے اور وداع کرنے سے منع کیا اس وقت بھی امام حسین(ع) نے اپنے والد امام علی علیہ السلام، بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام، چچا عقیل بن ابی طالب، چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر اور عمار یاسر کے ہمراہ ابوذر سے وداع کیا۔ [84]

نافذ و راسخ سماجی سیاسی بصیرت، اور موضوعات و مسائل کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی صلاحیت، اہل بیت کی سماجی رویوں کا امتیازی نشان ہے اور اسی بنیاد پر جب عوام نے خلافت کے ظلم و جور کے خلاف بغاوت کرکے انہیں قتل کرنے کی غرض سے ان کے گھر پر حملہ آور ہوئے تو عثمان بن عفان کی کارکردگی سے ناراضگی کے باوجود، امام حسین(ع) اپنے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کے ہمراہ اپنے والد امام علی علیہ السلام کی ہدایت پر عثمان کے حریم کی حفاظت کے لئے سرگرم ہوئے۔[85] ااگرچہ باغیوں کا مقابلہ اتنا دشوار تھا کہ عثمان کو آخر کار قتل کیا گیا، تاہم صرف والد کے حکم پر معاشرے کی بعض اقدار کے تحفظ کی خاطر مخالفین کی جان بچانے کی کوشش بہت زیادہ اہم ہے جس کی عکاسی امام حسین(ع) کے کردار میں نمایاں ہے۔[86]

امام علی علیہ السلام کی حکومت

امام حسین(ع) نے امام علی علیہ السلام کے دور کی تمام جنگوں :جمل، صفین، اور نہروان میں شرکت کی۔[87] اور جنگ صفین میں آپ نے مجاہدین کو جہاد کی ترغیب و تحریض کی غرض سے خطبہ دیا۔[88]

امام علی(ع) نے امام حسن علیہ السلام کے بعد امام حسین(ع) کو صدقات (موقوفات) کی ذمہ داری سونپ دی۔ [89] ایک روایت کے مطابق، امام حسین(ع) امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے وقت آپ ہی کی طرف سے کوئی اہم کام سرانجام دینے کی غرض سے مدائن کے دورے پر تھے اور امام حسن(ع) کا خط پا کر اس واقعے سے مطلع ہوئے۔[90] اور والد کی تجہیز و تدفین کی رسومات میں حاضر ہوئے۔[91]

امام حسن علیہ السلام کی خلافت اور امامت کا دور

امام حسن علیہ السلام کی شش ماہہ خلافت اور 10 سالہ امامت [92] کے دور میں امام حسین(ع) کے ہمراہ اور ہم قدم تھے۔ امیرالمؤمنین(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن(ع) نے مسلمین کی زعامت کا عہدہ سنبھالا چنانچہ امام حسین(ع) نے امام حسن(ع) کے ساتھ بیعت کی اور نخیلہ اور مسکن کی چھاؤنیوں میں مجاہدین بھجوانے میں اہم کردار ادا کیا اور امام حسن(ع) کے ہمراہ لشکر تشکیل دینے کے لئے مدائن اور ساباط کے دورے پر گئے۔[93]

معتبر روایات کے مطابق، معاویہ کے ساتھ صلح امام حسن کے وقت اہل بیت کے بعض محبین نے امام حسین(ع) سے درخواست کی کہ سیاسی مصالحت کی مخالفت کرکے معاویہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں؛ لیکن آپ نے فیصلہ کن انداز سے معاویہ کے ساتھ بھائی حسن(ع) کی مصالحت کی حمایت کی اور بقولے خود بھی معاویہ کے ساتھ بیعت کی اور جب قیس بن سعد نے اس سلسلے میں آپ کی رائے جاننا چاہی تو آپ نے پوری صراحت کے ساتھ اپنی رائے ظاہر کی۔ [94] آپ صلح کے انعقاد کے بعد بھائی کے ساتھ کوفے سے مدینہ واپس آ کر وہیں سکونت پذیر ہوئے۔[95]

دلائل امامت

رسول اکرم کی حدیث

رسول اللہ(ص) کی حدیث ابنای ہذان امامان قاما او قعدا(ترجمہ: میرے یہ دو بیٹے حسن و حسین امام ہیں چاہے یہ قیام کریں چاہے یہ بیٹھے ہوں)‌۔ [96] امام حسن اور امام حسین(ع) کی امامت کی دلیل ہے۔

علاوہ ازیں ایسی احادیث رسول اللہ(ص) سے وارد ہوئی ہیں جن میں ائمہ(ع) کی تعداد بتائی گئی ہے اور امام علی(ع)، امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) اور ان کے نو فرزندوں کی امامت پر تصریح و تاکید ہوئی ہے۔ [97]

ان دلائل کے علاوہ، امام حسن(ع) نے بوقت شہادت بھائی امام حسین(ع) کی جانشینی پر وصیت اور بھائی محمد بن حنفیہ کو آپ کی پیروی کی سفارش کی۔ [98] مفید[99] کی رائے کے مطابق مذکورہ دلائل کے ہوتے ہوئے امام حسین(ع) کی امامت ثابت اور قطعی ہے اگرچہ آپ نے تقیہ اور صلح کی پابندی اور جنگ بندی(ہُدْنہ) جاری رکھنے کی خاطر اعلانیہ طور پر لوگوں کو اپنی امامت کی دعوت نہ دی، تاہم معاویہ کی موت اور جنگ بندی کا دور ختم ہونے پر آپ نے اپنی امامت آشکار کردی۔[100]

تمام امور و شئون اور معارف دین کا علم تامّ و کامل بھی امامت کے لوازمات میں سے ہے؛ اسی بنا پر امام علی علیہ السلام نے امام حسن مجتبی(ع) کی مانند امام حسین(ع) کو بھی ہدایت کی کہ لوگوں سے خطاب کریں تا کہ بعد میں قریشی انہیں لاعلمی کی نسبت نہ دے سکیں۔ [101] اور اس کی بات کی گواہی آپ کے علمی مرتبے کے بارے میں صحابہ کے اقوال اور ان کی طرف سے امام(ع) سے افتاء کی درخواستوں سے، ملتی ہے۔ [102]

اپنی امامت کے بارے میں آپ کے بعض اپنے ارشادات [103] اور آپ کے بعض معجزات و کرامات سے آپ کی امامت کے اثبات کے لئے استناد کیا گیا ہے۔ [104]

علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 ائمۂ شیعہ کے اسمائے گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام حسین بن علی علیہ السلام سمیت تمام ائمہ(ع) کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[105]

معاویہ کا دور

معاویہ کے مقابلے میں امام کی حکمت عملی

اس کے باوجود کہ امام حسن(ع) کے بعد آپ(ع) حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے صالح ترین اور مناسب ترین شخصیت تھے؛ تاہم معاویہ کے ساتھ امام حسن(ع) کی صلح کی بنا پر، آپ اس صلح کے پابند رہے۔[106] اور اس کے باوجود کہ کوفی عوام نے معاویہ کے خلاف قیام کے لئے آپ کو خطوط لکھے، آپ(ع) نے قیام سے اجتناب کیا گو کہ آپ نے مسلمانوں پر معاویہ کی حاکمیت کی شرعی اور قانونی حیثیت کو مسترد کردیا اور ظالموں کے خلاف جہاد پر زور دیا اور قیام کو معاویہ کی موت تک ملتوی کردیا۔[107] معاویہ امام حسین(ع) کے قیام سے خوفزدہ تھا چنانچہ امام حسین(ع) کو خط لکھ کر کہا کہ قیام سے اجتناب کریں اور امام(ع) نے جواب دیا کہ آپ صلح کے عہدنامے کے پابند ہیں۔[108]

معاویہ تمام امور و معاملات پر مسلط تھا اور معاشرے کی سیاسی اور سماجی صورت حال نا مناسب تھی چنانچہ امام حسین(ع) کی کارکردگی اپنے عقیدے کے اظہار و ابلاغ و تبلیغ اور معاویہ کی کارکردگی پر تنقید کی حد سے آگے نہيں بڑھتی تھی؛ اسی بنا پر آپ(ع) قیام کی دعوت دینے والے افراد کو آپ کا جواب یہی ہوتا تھا کہ "آج میری سوچ [اور میرا منصوبہ] یہ نہیں ہے، خدا تم پر رحم فرمائے، زمین سے چپک جاؤ، اپنے گھروں میں گھات لگا کر بیٹھو، اور جب تک معاویہ زندہ ہے، بدگمانی کا نشانہ بننے سے بچ کر رہو؛ جب خداوند متعال معاویہ کے لئے کچھ پیش لائے گا اور میں زندہ ہونگا تو میں اپنی سوچ (اور اپنا منصوبہ) تمہیں لکھ دوں گا"۔[109]

امام حسسین(ع)

الناس عبید الدنیا و الدّین لعق علی ألسنتهم یحوطونه ما درّت معائشهم فإذا محّصوا بالبلاء قلّ الدیانون.
(ترجمہ:عوام دنیا کے غلام ہیں اور اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زبانوں پر دین کا ورد کرتے رہتے ہیں. اور جب آزمائش میں ڈالے جائیں تو دیندار لوگ بہت کم ہوں گے.)

شهیدی، قیام حسین(ع)، صص۴۶، ۹۴.

معاویہ کے حامیوں نے کئی بار امام حسین(ع) کو اموی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کے حوالے سے مورد الزام قرار دیا اور معاویہ کو بھی خبردار کیا۔ معاویہ نے اس کے بعد کئی بار خط لکھ کر امام(ع) کو پیمان شکنی سے منع کیا اور امام(ع) نے عہد و پیمان کی پابندی پر تصریح و تاکید کی۔[110] اسی دور میں امام حسین(ع) نے معاویہ کے کارگزاروں بالخصوص مروان بن حکم پر اس کی کارکردگی کے بموجب کڑی تنقید کی۔ [111]

امام(ع) اسی دور میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پر امامت اور خلافت کے احکام اور خلیفہ بر حق کی خصوصیات بیان کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ منیٰ کے مقام پر حجاج کے عظیم اجتماع سے امام حسین(ع) کا خطاب رائے عامہ کو ہموار کرنے اور احکام الہی بیان کرنے کے سلسلے میں آپ کے اہم تبلیغی اقدامات میں سے ایک تھا۔[112] نیز مکہ میں آپ کی خفیہ مجالس و محافل بھی ان ہی اقدامات میں سے ہیں۔[113]

امام حسین(ع) کی دس سالہ امامت کے دوران آپ اور معاویہ کے درمیان متعدد خطوط و مراسلات کا تبادلہ ہوا جن سے معاویہ کے مقابلے میں امام حسین(ع) کے موقف کا اظہار ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بھی معاویہ سے کوئی غیرانسانی اور غیر اسلامی جرم سرزد ہوتا امام(ص) اس کو شدت سے تنقید و ملامت کا نشانہ بناتے تھے۔ جب معاویہ نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں، عمرو بن حمق خزاعی اور حضرمی اور ان کے ساتھیوں کو شہید کیا تو امام(ع) نے نہایت شدید موقف اپنایا اور معاویہ کے ان جرائم پر شدید تنقید کی۔ [114]

معاویہ نے یزید کی ولیعہدی کو مستحکم بنانے کی غرض سے وسیع اقدامات انجام دینے کے بعد مدینہ کا دورہ کیا تا کہ مدینہ کے عوام اور اکابرین سے امام حسین(ع) سمیت سب سے یزید کے لئے بیعت لے۔ مدینہ پہنچتے ہی معاویہ نے امام حسین(ع) سے ملاقات کی اور یزید کی ولی عہدی کا موضوع چھیڑا اور آپ کو اپنے منصوبے سے متفق کرنے کی کوشش کی؛ لیکن امام(ع) نے اس فیصلے کی بنا پر معاویہ پر شدید ملامت کی اور یزید کی نااہلی اور ہوس بازیوں کی یاد آوری کرائی اور اس کو یزید کی ولیعہدی کا اعلان کرنے سے متنبہ کیا۔ [115] امام حسین(ع) ان گنے چنے افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے یزید کی بیعت کو رد کیا اور ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک خطبے کے ضمن میں معاویہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔[116]

امام(ع) کے سامنے معاویہ کی پالیسی

معاویہ خلفائے ثلاثہ کی طرح ظاہری طور پر امام حسین(ع) کے لئے غیرمعمولی احترام کا قائل تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امام حسین(ع) مکہ اور مدینہ کے عوام کے یہاں بہت زیادہ ہر دلعزیز ہیں اور آپ کے ساتھ عام افراد جیسا رویہ نہيں اپنایا جاسکتا۔ اس کے باوجود امام(ع) معاویہ کی حکومت کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے تھے اور معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام(ع) کے سامنے بسط و قبض کی پالیسی اپنائی؛ اور اگر ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مد نظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا [117] اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ(ص) کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔[118] دوسری طرف سے معاویہ نے امام(ع) کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور کبھی جان بوجھ کر آپ کو اس کڑی نگرانی کے بارے میں آگاہ بھی کیا کرتا تھا اور آپ کو جتا دیا کرتا تھا کہ آپ کے تمام امور کی نگرانی کی جارہی ہے اور آپ کا کوئی کام حکومت کی نگاہوں سے چھپی نہیں ہے اور آپ کی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے معاملات کی رپورٹ دربار شام تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ وہ اس طرح امام(ع) کو قیام کے بارے میں سوچنے سے روکنا چاہتا تھا۔ اس نے حتی امام حسین(ع) کی عظمت اور معاشرتی منزلت کے پیش نظر اپنے بیٹے یزید کو بھی سفارش کی تھی کہ امام(ع) کے ساتھ رواداری سے پیش آئے اور آپ سے بیعت لینے کی کوشش نہ کرے۔[119]

یزید کا دور

اصل مضمون: یزید بن معاویہ

یزید خلافت تک پہنچنے سے قبل ساز و آواز اور شراب نوشی کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا۔ [120] اور اس قدر ان قبیح اعمال میں زیادہ روی اور افراط کرتا تھا کہ حتی اس کا باپ معاویہ بھی اسے شراب نوشی سے منع کیا کرتا تھا۔[121] چنانچہ جب معاویہ نے اس کو ولیعہد کے طور پر مقرر کرنا چاہا تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے حیرت و تعجب کا اظہار کیا اور معاویہ کی یہ بات ماننے سے منکر ہوئے۔ معاویہ نے یزید کا بھونڈا چہرہ بحال کرنے اور اس کو خلافت کے لئے قابل قبول شخصیت کے عنوان سے پہچنوانے کی غرض سے سنہ 51 ہجری[122] میں شام کے حجاج کے سرپرست کے عنوان سے مکہ بھجوایا؛[123] لیکن یزید اس مقدس سفر میں بھی شراب نوشی سے پرہیز نہ کرسکا اور مدینہ پہنچتے ہی شرابنوشی کی بزم جمائی۔[124]

سنہ 52 ہجری میں یزید معاویہ کے حکم پر لشکر شام کے ساتھ مل کر سرزمین روم روانہ ہوا؛[125] لشکر شام نے روم کی سرحدوں کی طرف چڑھائی کی تاہم یزید اپنی بیوی ام کلثوم کے ساتھ دیر مُرّان کے علاقے میں [126] رک گیا اور وہیں عیاشی اور شرابخوری میں مصروف ہوا حتی کہ اس کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی فوج غَذقَذونہ کے علاقے میں[127] ہیضے اور چیچک میں مبتلا ہوچکی ہے؛ لیکن یزید بن معاویہ کو اطلاع ملی بھی تو اس نے وقاحت و بےشرمی اور سنگدلی و قساوت کے ساتھ بعض اشعار کے ضمن میں کہا کہ "مجھے کوئی پروا نہيں ہے کہ مسلمانوں کی جماعت بخار اور چیچک میں مبتلا ہوکر مرجائے" اس بات سے معاویہ بھی ناراض ہوا اور یزید کو حکم دیا کہ مسلمانوں کی چھاؤنی میں پہنچ جائے۔ اور یزید بھی مجبور ہوکر سپاہ کے ہمراہ قسطنطنیہ پہنچ گیا؛ [128] مگر وہ اس شہر کو فتح نہ کرسکا اور سپاہ ناکام ہوکر شام پلٹ گئی۔ اس جنگ میں عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر، ابوایوب انصاری اور دیگر شریک تھے۔[129]

مسلمانوں اور بطور خاص مکہ اور مدینہ کے بزرگوں کی مخالفتوں کے باوجود معاویہ نے یزید کی بیعت پر اصرار کیا اور آخر کار اس مہم کو سر کرگیا اور سنہ 56 ہجری میں یزید کے لئے بیعت لینے میں کامیاب ہوا۔[130]

عصر یزید کے سیاسی حالات

یزید بن معاویہ کی مختصر مدت سلطنت افراتفری اور بحران و ہیجان سے بھرپور تھی اور یزید کی تین سال اور چند ماہ پر محیط حکومت کا زیادہ تر وقت اندرونی تحریکوں کی سرکوبی اوراسلامی ممالک کو پرسکون بنانے میں صرف ہوا۔ اس نے اپنے دور میں اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو تمام تر شدت کے ساتھ کچل ڈالا۔ اس دور میں عوام پر حکومت کے دباؤ اور عمومی گھٹن کی فضا کی کیفیت کچھ ایسی تھی کہ مسعودی اس کے بارے میں لکھتا ہے:

"یزید کی سیرت وہی فرعون کی سیرت تھی بلکہ فرعون اپنی رعیت میں یزید سے زیادہ عادل اور اپنے خاص و عام کے درمیان زيادہ منصف تھا"۔ [131] "اس نے اپنی حکومت کے پہلے سال میں امام حسین(ع) اور اہل بیت رسول(ص) کو قتل کیا؛ اور دوسرے سال اس نے حرم رسول خدا(ص) (مدینہ) کی حرمت شکنی کی اور اس کو تین دن تک اپنے لشکریوں کے لئے حلال قرار دیا۔ اور تیسرے برس اس نے کعبہ کو جارحیت اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا اور اس کو نذر آتش کیا"۔ [132] اس مختصر مدت میں یزیدی اقدامات اموی خلفاء کے خلاف مختلف قسم کے جھگڑوں اور تحریکوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئے اور آخر کار ان ہی تحریکوں نے نفرت انگیزی اموی حکمرانی کے زوال کے اسباب فراہم کردیئے۔

یزید کے مقابلے میں امام(ع) کا رد عمل

مدینہ سے ہجرت

مفصل مضمون: حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک

امام حسین(ع) نے فرمایا:
"امام وہ ہے جو قرآن کے حکم کے مطابق عمل کرے اور عدل نافذ کرے اور خدا کو حاضر و ناظر سمجھے"۔[133]

معاویہ رجب المرجب سنہ 60 ہجری کو دمشق میں دنیا سے رخصت ہوا۔ معاویہ کی موت کے وقت یزید حوارین میں تھا۔ جب دمشق پہنچا تو لوگوں نے اس کے ساتھ بیعت کی اور اس نے مدینہ کے حاکم ولید بن عتبۃ بن ابی سفیان کو خط لکھا کہ: "‌حسین بن علی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ زبیر کو چین سے نہ بیٹھنے دو حتی کہ ان سے میرے لئے بیعت لے لو"۔

والی مدینہ نے اس سلسلے میں مروان بن حکم کے ساتھ مشورہ کیا۔ مروان نے کہا: "اگر تمہیں میری رائے منظور ہے تو وہ یہ ہے کہ لوگ معاویہ کی خبر نہيں پہنچی ہے چنانچہ یہ خبر پھیلنے سے قبل ہی ابن زبیر اور حسین بن علی کو بلواؤ اور اگر انھوں نے بیعت کی تو ٹھیک ورنہ دونوں کے سر قلم کردو کیونکہ اگر یہ افراد بیعت نہ کریں اور لوگ معاویہ کی موت کی خبر سنیں تو وہ حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر کے گرد اکٹھے ہونگے اور ایک بڑا فتنہ بپا ہوگا۔ تاہم ابن عمر تحریکیں چلانے والا شخص نہيں ہے مگر یہ کہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور خلافت کو اس کے سپرد کریں"۔

ولید نے انہيں بلوایا۔ عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی(ع) مسجد میں تھے کہ والی کا بھجوایا ہوا قاصد آن پہنچا اور اس کا پیغام انہيں پہنچایا۔ ان دونوں نے کہا: امیر کے پاس واپس جاؤ اور کہہ دو کہ ہم دونوں بہت جلد آرہے ہیں۔ حاکم کا ایلچی واپس چلا گیا تو ابن زبیر نے حسین(ع) سے پوچھا: امیر نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟
 :میرا خیال ہے کہ معاویہ مر گیا ہے اور ولید چاہتا ہے کہ عوام تک خبر پہنچنے سے پہلے ہم سے بیعت لے لے۔
عبداللہ نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے، اب آپ کیا کرنا چاہیں گے؟
 :حاکم کے پاس جاتا ہوں! لیکن اس لئے کہ وہ مجھے کوئی نقصان نہيں پہنچائيں اپنے اعزاء میں سے چند افراد کو ساتھ لے جاؤں گا اور ولید کے گھر کے دروازے پر تعینات کروں گا، تا کہ اگر بات جدال پر ختم ہو تو وہ میری مدد کو آئیں۔
حسین(ع) ولید کے پاس پہنچے اور ولید نے آپ کو معاویہ کی موت کی خبر دی اور کہا کہ یزید کی بیعت کو قبول کرے۔
حسین(ع) نے کہا: مجھ جیسا کوئی، خفیہ بیعت نہيں کیا کرتا۔ لوگوں کو بلواؤ اور مجھے بھی بلواؤ، پھر میں دیکھتا ہوں کہ ہوتا کیا ہے۔
ولید نے کہا: تھیک ہے آپ سلامتی کے ساتھ چلے جائے۔
مروان نے ولید سے کہا: ان کو نہ جانے دو، کیونکہ اگر وہ بیعت کئے بغیر چلا جائے تو تم کبھی بھی اس کو نہ پاسکو گے، اگر بیعت نہ کرے تو ان کو قتل کرو۔
حسین(ع) غضبناک ہوئے اور کہا: "نہ تم مجھے مار سکتے ہو اور نہ ہی مجھے قتل کرسکتے ہو"۔
آخر کارحسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر دونوں بیعت کئے بغیر مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [134]

کوفیوں کے خطوط

مرقد حسینی کا تاریخچہ[135]
61ھ‍ (12 محرم) سب سے پہلے آپ(ص) کا مرقد بنانے والے بنو اسد تھے۔
65ھ‍ مختار نے مرقد پر اینٹوں اور چونے کی گنبد تعمیر کردی۔
132ھ‍ ابو العباس سفاح نے مرقد کے ساتھ ایک سرپوشیدہ عمارت بنوائی۔
146ھ‍ ابو جعفر منصور نے اس عمارت کو ویران کیا۔
158ھ‍ مہدی عباسی نے اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
171ھ‍ ہارون الرشید نے عمارت کو ویران کیا اور قریب ہی بیری کا درخت بھی کٹوا دیا۔
193ھ‍ امین نے حرم کی عمارت کو از سر نو تعمیر کیا۔
236ھ‍ متوکل عباسی نے عمارت کو ویران کردیا اور زمین میں ہل چلوایا۔
247ھ‍ منتصر عباسی نے بنا کی تعمیر نو کروائی؛ علوی اور سب سے آگے آگے سید ابراہیم مجاب نے مرقد امام(ع) کے اطراف میں سکونت کا آغاز کیا۔
273ھ‍ تحریک طبرستان کے قائد محمد بن محمد بن زید کے ہاتھوں حرم کی تعمیر نو۔
280ھ‍ علوی داعی نے قبر کے اوپر ایک گنبد بنوائی۔
367ھ‍ عضد الدولہ دیلمی نے حرم کے لئے ایک گنبد، چار ڈیوڑھیوں اور ہاتھی دانت سے بنی ضریح کی تعمیر کا اہتمام اور شہر کے لئے برجوں اور فصیل کا انتظام کیا۔
397ھ‍ عمران بن شاہین، نے رواق سے متصل اپنے نام پر ایک مسجد تعمیر کردی۔
407ھ‍ دو شمعیں گرنے کی وجہ سے حرم آگ میں جل گیا، وزیر حسن بن سہل نے حرم کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
479ھ‍ ملک شاہ سلجوقی، نے حرم کے اطراف کی دیوار کی مرمت کروائی۔
620ھ‍ الناصر لدین اللہ عباسی، نے مرقد امام(ع) کے لئے ایک ضریح بنوائی۔
767ھ‍ سلطان اویس جدایری نے اندرونی گنبد بنوائی اور قبر شریف کے گرد ایک صحن قرار دیا۔
786ھ‍ سلطان احمد اویس، نے حرم کے لئے دو سنہرے گلدستے قرار دیئے اور صحن کی توسیع کا اہتمام کیا۔
914ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی حرم کے کناروں پر سونے کا کام کروایا اور سونے کے 12 چراغدان حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
920ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی، نے صندوقی از ساج کی لکڑی کا ایک صندوق ضریح کے لئے بنوایا
932ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی دوئم نے چاندی کی جالیدار اور خوبصورت ضریح حرم کو بطور عطیہ پیش کی۔
983ھ‍ علی پاشا، المعروف بہ "وند زادہ" نے گنبد کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
1032ھ‍ شاہ عباس صفوی نے تانبے کی ضریح بطور عطیہ پیش کی اور گنبد پر کاشی کاری کا کام کروایا۔
1048ھ‍ سلطان مراد چہارم (عثمانی) نے حکم دیا کہ حرم کو باہر سے چونا لگا کر سفید کیا جائے۔
1135ھ‍ نادر شاہ افشار کی زوجہ نے حرم امام(ع) کی وسیع تعمیر نو کی غرض سے بہت سے اموال حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
1155ھ‍ نادرشاہ افشار نے موجودہ عمارتوں کی تزئین کا اہتمام کیا اور حرم کے گنجینے کو بیش بہاء عطیات پیش کئے۔
1211ھ‍ آقا محمد خان قاجار نے طلائی گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
1216ھ‍ نوظہور وہابی مذہب کے پیروکاروں نے کربلا پر حملہ کیا، ضریح اور رواق کو ویراں کردیا اور حرم کے اموال کو لوٹ کر لے گئے۔
1227ھ‍ فتح علی شاہ قاجار، نے عمارت کی تعمیر نو اور گنبد پر لگے طلائی اوراق کی تبدیلی کا حکم دیا۔
1232ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے چاندی کی ضریح بنوائی اور ایوانوں پر سونے کا کام کروایا۔
1250ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے گنبد و بارگاہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا اور ابو الفضل(ع) کی قبر شریف پر بھی گنبد تعمیر کردی۔
1273ھ‍ ناصر الدین شاہ، نے گنبد کی تعمیر نو اور طلاکاری کی مرمت کروائی۔
1418ھ‍ انتفاضۂ شعبانیہ میں صدام نے گنبد کو توپوں کا نشانہ بنایا اور طلاکاری کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
1428ھ‍ صحن کو نئے طرز سے مسقف کیا گیا۔
1431ھ‍ حرم حضرت ابو الفضل (ع) کے گلدستوں پر طلاکاری کا کام کیا گیا۔

مفصل مضمون: کوفیوں کے خطوط امام حسین (ع) کے نام

جن دنوں دمشق حجاز میں بیعت نہ کرنے والوں کے حوالے سے فکرمند تھا، کوفہ میں ایسے واقعات و حوادث گذر رہے تھے جو ایک بھاری طوفان کی چغلی کررہے تھے۔ شیعیان علی معاویہ کی 20 سالہ حکومت کے دوران سینکڑوں افراد کی قربانی پیش کرچکے تھے اور اتنے ہی یا اس سے بھی زیادہ قیدخانوں میں بند رہے تھے ۔انہوں نے معاویہ کی موت کی خبر سن کر چین کی سانس لی۔

معاویہ کی موت کی خبر سن کر کوفہ کے شیعہ سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر میں اکٹھے ہوئے، زمانے کے اتار چڑھاؤ اور اپنے ہم شہریوں کے رنگ بدلنے کا مشاہدہ کرنے والے میزبان نے حاضرین سے کہا: "لوگو! تم کام کے لوگ نہيں ہو، تمہیں اپنی جان کا خوف لاحق ہے، خواہ مخواہ اس مرد کو دھوکا مت دو!"۔ مختلف گوشوں سے صدائیں اٹھیں کہ "بیشک، ہم اپنی جان سے گذر گئے ہیں، اپنے خون کے ذریعے عہد کرچکے ہیں کہ ہم یزید کو ہٹا دیں گے اور حسین(ع) کو خلافت تک پہنچا دیں گے"۔

بالآخر انھوں نے امام حسین(ع) کو خط لکھا جو کچھ یوں تھا: "تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے آپ کے ظالم دشمن کو توڑ ڈالا۔ وہ دشمن جس نے امت محمد(ص) کے صالحین و اخیار کو قتل کیا اور عوام کے بروں اور اشرار کو اقتدار بخشا، مسلمانوں کے بیت المال کو صاحبان ثروت اور اور جابروں کے درمیان تقسیم کیا۔ اب آپ کی حاکمیت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہيں ہے۔ اس شہر کا حکمران نعمان بن بشیر سرکاری محل میں سکونت پذیر ہے، ہم اس کے ساتھ کوئی محفل نہیں کرتے اور اس کے ساتھ نماز میں حاضر نہيں ہوتے"۔ [136] صرف یہی خط نہ تھا جو متعدد پاکدل اور یک رنگ شیعیان اہل بیت(ع) نے امام(ع) کے لئے لکھا۔ ان خطوط کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں بتائی گئی ہے۔ [137]

حضرت امام حسین کے پاس خطوط کی ڈھیر لگ گئے [138]امام حسین(ع) نے کوفہ کے لوگوں کے نام خط لکھا[139] اور اسے اپنے چچازاد مسلم بن عقیل کے ہاتھ روانہ کیا تا کہ وہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آپ کو مطلع کرے .[140] مسلم نے وہاں پہنچ کر بہت سے لوگوں سے بیعت لی اور اس بات کی امام کو خبر دی اور امام کو کوفہ آنے کیلئے دعوت دی.[141]

مکہ سے کوفہ روانگی

امام حسین(ع) بروز منگل، آٹھ ذی الحجہ ( ترویہ)[142] کے روز 82 افراد [143] کے ساتھ مکہ سے کوفہ کیلئے روانہ ہوئے ۔اسی روز آپ کو مسلم کی شہادت کی خبر ملی۔امام حسین علیہ السلام کو مکہ اور عراق کے راستے میں مسلم ، ہانیکی شھادت اور کوفہ کے لوگوں کی عہد شکنی سے آگاہی ہوئی نیز آپ نے اپنے اپنے ساتھیوں کو جانے اور اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دی ۔پس کچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے لیکن مخلص اور جانثار افراد آپ کے ساتھ رہ گئے

امام ذو حسم کے مقام پر ابن زیاد کے لشکریوں کے روبرو ہوئے جس کا سردار حر بن یزید تھا.اس نے امام کا راستہ روک لیا یہانتک کہ عبیدالله بن زیاد کا خط حر کو ملا جس میں لکھا تھا : حسین(ع) کے ساتھ سختی سے پیش آؤ اور اسے بے آب و گیاہ جگہ پر اترنے پر مجبور کرو[144]

حر نے عبید اللہ کا خط امام(ع) کو سنایا ۔امام(ع) نے اس سے کہا:ہمیں نینوا یا غاضریہ»[145] میں پڑاؤ ڈالنے دو"[146] حر نے جواب دیا ایسا کرنا میرے لئے ممکن نہیں کیونکہ عبید اللہ نے مجھ پر جاسوس مقرر کر رکھے ہیں ۔دونوں قافلوں نے اکٹھا سفر شروع کیا یہانتک کہ کربلا پہنچ گئے ۔حر اور اسکے ساتھیوں نے امام کو اس سے آگے بڑھنے سے روکا ۔[147]

عبید اللہ حضرت امام حسین کے کوفہ کے نزدیک پہنچ جانے سے باخبر ہوا تو اس نے عمر بن سعد کی سرکردگی میں لشکر روانہ کیا[148]

کربلا کا المیہ

مفصل مضمون: عاشورا|شہدائے کربلا|اسیران کربلا

اکثر مآخذ حضرت امام حسین علیہ السلام کا میدان کربلا میں ورود 2 محرم کو سمجھتے ہیں۔[149] عمر بن سعد نیز اس سے اگلے روز چار ہزار افراد کے ساتھ کوفے سے کربلا آیا.[150]

امام حسین(ع) نے عمر بن سعد کو وہاں آنے کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا :تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے خطوط لکھے اور یہاں آنے کی دعوت دی اب اگر وہ مجھے نہیں چاہتے ہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔[151] عمر بن سعد نے خط کے ذریعے عبید اللہ کو امام حسین سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا ۔[152] عبیداللَّه بن زیاد نے جواب میں عمر بن سعد کہا کہ حسین اور اسکے ساتھیوں سے یزید بن معاویہ کیلئے بیعت لینے کا تقاضا کرے .[153]

امام(ع) اور ابن سعد کے درمیان تین یا چار مرتبہ گفتگو ہوئی .[154] بعض مآخذ کے مطابق امام حسین اور ابن سعد نے کربلا کے چھوڑنے پر اتفاق کر لیا لیکن عبید اللہ بن زیاد کی مخالفت کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا.[155]

سات محرم

سات محرم کو عبید اللہ بن زیاد کے خط کے ذریعے حکم دیا گیا کہ امام حسین اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا جائے تا کہ وہ پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں۔اس خط کے پہنچنے پر عمر بن سعد نے خط پر عمل در آمد کرانے کیلئے 500 افراد کو عمرو بن حجاج زبیدی کے تحت فرمان فرات پر مقرر کر دیا اور اس طرح پانی اور امام حسین کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ۔[156]

روز تاسوعا(نو محرم)

مفصل مضمون:روز تاسوعا

نو محرم کو شمر بن ذی الجوشن عبید اللہ کا خط لے کر ظہر کے بعد کربلاپہنچا۔نیز کوفہ سے حضرت عباس کیلئے امان نامہ اپنے ساتھ لایا لیکن حضرت عباس نے اس امان نامے کو قبول کرنے سے انکار کیا ۔[157] عمر بن سعد کے ارادۂ جنگ سے آگاہ ہونے پر حضرت امام حسین نے حضرت عباس کے ذریعے ایک رات عبادت کیلئے مہلت مانگی ۔[158]

شب عاشور

حضرت امام حسین علیہ السلام نے رات کے ابتدائی حصے میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ان سے کہا میری طرف سے تم آزاد ہو لہذا آپ جا سکتے ہیں ۔میری جانب سے بیعت اٹھا لی گئی ہے ۔آپ اس رات کی تاریکی کو اپنا مرکب قرار دیں اور آسودہ خاطر ہو کر یہاں سے چلے جائیں ۔لیکن آپ کے اصحاب نے باری باری سے اپنی جان نثاری کا یقین دلایا اور کسی نے بھی جانے کو اقرار نہیں کیا ۔[159]

روز عاشور

مفصل مضمون:واقعۂ عاشورا

امام حسین(ع)نے صبح کی نماز کے بعد[160] 32 سواروں اور 40 پیادوں کے لشکر کو صف آرا کیا[161] اور امام (ع)اتمام حجت کیلئے اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ لشکر یزیدی کے سامنے تشریف لائے اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہیں نصیحت کی .[162]

عاشورا کی صبح کے واقعات میں ایک اہم واقعہ حر بن یزید ریاحی کا توبہ کر کے حضرت امام حسین علیہ السلام کے لشکر سے مل جا نا ہے ۔[163]

جنگ کی ابتدا میں طرفین نے اکٹھے حملے کئے یہانتک کہ پہلے حملے میں امام کے50 با وفا اصحاب شہید ہو گئے[164] اصحاب کی شہادت کے بعد بنی ہاشم نے اپنے آپ کو شہادت کیلئے پیش کیا ۔سب سے پہلے حضرت علی اکبر میدان کار زار میں گئے۔[165]اسکے بعد یکے بعد دیگرے شہادت کیلئے جاتے رہے اور حضرت عباس فرات کے کنارے شہید ہوئے .[166]

شہادت امام حسین

مفصل مضمون:شہادت امام حسین

بنی‌ ہاشم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین میدان جنگ میں اترے اور مبارزہ طلب کیا۔کافی دیر تک کوئی مقابلے کیلئے نہیں آیا .[167]۔جو بھی آپ کے مقابلے میں آیا آپ نے اسے واصل جہنم کیا۔ تنہا مقابلے کے بعد شمر بن ذی الجوشن نے پیادہ ساتھیوں کے ساتھ امام کا گھیراؤ کیا اور حملے کی تشویق کرنے لگا لیکن کوئی اسکے لئے تیار نہ تھا ۔آخرکار سب نے حملہ کیا اور امام زخمی ہوئے ۔اسی دوران آپکا نابالغ بھتیجا عبداللہ بن حسن آپ کو بچانے کی غرض سے خیام سے نکل آیا اور میدان میں پہنچ گیا ۔اسے بھی شہید کر دیا گیا ۔بالآخر آپکو بھی شہید کر دیا گیا ۔آپکی شہادت کی کیفیت مختصر اور مفصل صورت میں نقل ہوئی ہے ۔

خصوصیات اور فضائل

مفصل مضمون: اصحاب کساء|مباہلہ|آیت تطہیر|حدیث ثقلین

امام حسین(ع) بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کے بعد خاندان میں عمر کے لحاظ سے بڑے افراد کے باوجود بنی ہاشم کے شریف ترین فرد سمجھے جاتے تھے۔ [168] اور وہ اپنے امور و معاملات میں آپ سے مشورہ کرتے تھے اور آپ کی رائے کو دوسروں کی رائے پر مقدم رکھتے تھے۔[169]

امام حسین(ع) کے چہرے کی رنگت سفید تھی۔ [170]‌کبھی خز (یا فَر) کا عمامہ[171] اور کبھی سیاہ عمامہ سرپہنتے تھے۔[172] سر اور داڑھی کے بالول یر خضاب لگاتے تھے۔ [173] قدیم مآخذ حدیث، تاریخ اور رجال میں مروی ہے کہ امام حسین(ع) رسول اللہ(ص) سے شباہت رکھتے تھے۔ [174] اور ایک روایت میں منقول ہے کہ آپ اخلاق و اطوار اور اقوال و گفتار میں رسول اللہ(ص) سے سب سے زيادہ شباہت رکھتے تھے۔[175] ایک حدیث میں مروی ہے کہ امام علی(ع) نے فرمایا کہ آپ(ع) کے بیٹے حسین(ع) آپ اخلاق و اطوار اور اقوال و گفتار میں آپ(ع) سے سب سے زيادہ شباہت رکھتے ہیں۔[176] امام حسین(ع) اپنے اعزاء و اقارب کے ساتھ 25 بار پائے پیادہ حجّ بیت اللہ بجا لائے۔ [177]

امام حسین(ع) کے دشمن بھی آپ کے فضائل کے معترف تھے. چنانچہ معاویہ کہا کرتا تھا کہ حسین(ع) بھی اپنے والد کی مانند ہیں اور غدر و حیلہ کرنے والے نہيں ہیں۔[178] اور عمرو بن عاص کہا کرتا تھا کہ حسین(ع) اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین کی نسبت محبوب ترین فرد ہیں۔[179]

امام حسین(ع) ہمیشہ اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کا احترام کرتے تھے اور بھائی کے سامنے بولنے سے پرہیز کرتے تھے۔[180] کبھی بھی امام حسن(ع) سے قدم آگے نہيں بڑھاتے تھے اور جہاں وہ دونوں موجود ہوتے تھے، کبھی بھی بولنے میں سبقت نہيں لیتے تھے اور اظہار خیال نہيں کرتے تھے۔ [181] حتی اس کے باوجود کہ مدینہ میں جود و سخاوت کے حوالے سے شہرت تامّ رکھتے تھے [182] مگر سخاوت اور بخشش میں بھی آپ کی کوشش رہتی تھی کہ امام حسن(ع) کے احترام کا لحاظ رکھا جائے۔ مروی ہے کہ ایک محتاج شخص امام حسن(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام حسن(ع) نے کچھ رقم امداد کے طور پر اس کو عطا کی اور پھر مزید مدد حاصل کرنے کی غرض سے امام حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام(ع) نے بھائی حسن(ع) کی عطا کردہ رقم کی جانکاری حاصل کرنے کے بعد بھائی کے احترام کا پاس رکھتے ہوئے، اس شخص کو امام حسن(ع) کی عطا کردہ رقم کی نسبت ایک دینار کم کرکے، عطیہ دیا۔[183]

امام حسین(ع) مسکینوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور ان کی دعوت قبول کرتے تھے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور انہیں اپنے گھر میں کھانے پر بلاتے تھے اور گھر میں جو کچھ بھی ہوتا تھا انہیں کھلا دیتے تھے۔[184] اگر آپ نماز کی حالت میں ہوتے اور کوئی سائل مدد مانگتا تو آپ اپنی نماز مختصر کردیتے تھے اور جو کچھ آپ کے پاس ہوتا تھا سائل کو عطا کرتے تھے۔[185] آپ اپنے غلاموں اور کنیزوں کو ان کی حسن کارکردگی کی بنا پر آزاد کردیتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ معاویہ نے ایک کنیز کثیر مال و دولت اور لباس کے ساتھ آپ کے لئے تحفے کے عنوان سے بھجوادی تو آپ نے اس کنیز کو قرآنی آیات تلاوت کرنے اور دنیا کے فانی ہونے اور انسانوں کی موت کے سلسلے میں اشعار پڑھنے کے عوض آزاد کردیا اور تمام اموال اور کپڑے اس کو بخش دیئے۔[186] روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ کے ایک غلام سے کوئی غلطی سرزد ہوئی جو سزا کا موجب تھی لیکن غلام نے قرآن مجید کی آیت وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (ترجمہ: اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں) [187] پڑھ لی تو آپ نے اس کو بخش دیا اور جب اسی آیت کا اگلے حصے وَاللہ يحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (ترجمہ: اور اللہ بھلائی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے)۔ [188] کی تلاوت کی تو آپ نے اس کو اللہ کی راہ میں آزاد کردیا۔[189] اسامہ بن زید بیمار پڑ گیا اور اپنا قرض ادا کرنے سے عاجز ہوا تو آپ نے اس کا قرض ادا کیا۔[190] روایت ہے کہ جو زمینیں اور دوسری اشیاء آپ کو ارث کے طور پر ملی تھیں، انہيں وصول کرنے سے پہلے ہی محتاجوں میں بانٹ دیا۔ [191] ایک شخص پر دیّت واجب الادا ہوئی تو آپ نے تین سوالوں کے جواب کے عوض اس کی دیت مکمل طور پر ادا کی اور اپنی ایک انگوٹھی بھی اس کو عطا کی۔[192] آپ کا جود و کرم اس قدر زیادہ تھا کہ ایک یہودی مرد اور ایک (یہودی) عورت اسی سبب مسلمان ہوئے۔[193] آپ نے اپنے بچوں کے استاد کو بہت زيادہ مال اور لباس بخشا اور اس کا منہ موتیوں سے بھر دیا جبکہ کہہ رہے تھے کہ "یہ تمہاری محنت کا معاوضہ نہیں ہوسکتا۔ [194] آپ کے حلم کے بارے میں روایت ہے کہ ایک شامی مرد نے جب آپ اور آپ کے والد کو برا بھلا کہا تو آپ نے اس کو لطف و مرحمت سے نوازا۔ [195] مروی ہے کہ راتوں کو یتیموں اور مسکینوں کے لئے اشیاء و خورد و نوش پہنچانے کے لئے بوجھ اٹھانے کے اثرات آپ کی شہادت کے وقت آپ کی پیٹھ پر نمایاں تھے۔ [196]

مروی ہے کہ جب مروان نے آپ کی والدہ ماجدہ بنت رسول حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کی تو آپ نے شدت کے ساتھ اس کا جواب دیا[197] جیسا کہ امویوں کی طرف سے امام علی علیہ السلام کے سبّ اور گستاخی پر شدت کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتے تھے۔[198]

حوالہ جات

  1. المفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق.، ص288.
  2. دائرۃ المعارف تشیع، زیر نگرانی احمد صدر حاج سید جوادی، کامران فانی اور بہاء الدین خرمشاہی، ج2، صص349-354؛ ابن سعد، ج6، ص399؛ ابوالفرج اصفہانی، ص51؛ مفید، ج2، ص27۔
  3. حاج منوچہری، فرامرز، حسین(ع) (امام)، در دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ج20، مدخل صص664-665.
  4. برای نمونہ ر.ک: کلینی، ج6، ص33ـ34؛ ابن بابویہ، علل الشرایع، ج1، ص137ـ138؛ طوسی، 1414، ص367؛ دوسری روایات کے مندرجات کی نقادی کے لئے رجوع کریں: قرشی، ج1، ص31ـ32.
  5. ابن شہرآشوب، ایضا، ج3، ص397؛ العاملی، ابن حاتم؛ الدرالنظیم، قم، جامعہ مدرسین، بی‌تا، ص776 و إربلی، علی بن عیسی؛ کشف الغمہ، تبریز، مکتبہ بنی ہاشمی، 1381ق.، ج1، ص525.
  6. شیخ صدوق؛ علل الشرائع، ایضا، ص138؛ ابن شہرآشوب، ایضا، ج3، ص397 و إربلی، ایضا، ص525. بعض منابع نے اس حدیث میں "مشبّر" کا اضافہ کیا ہے: بلاذری، سابقہ منبع، ج1، ص401.
  7. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص86، بحوالہ یداللہ مقدسی، باز پژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان(ع)، ص289.
  8. ابن سعد، ج1، ص357؛ دولابی، ص100.
  9. ج 6، ص400ـ401.
  10. ابن اعثم کوفی، ج4، ص323؛ قس ابن حنبل، ج6، ص340؛ دولابی، ص106؛ بہاءالدین اربلی، ج2، ص308، 320، 348ـ349، نے یہ نسبت امام حسن(ع) کو دی ہے۔
  11. موسوعہ کلمات الامام حسین ع، ص38؛ بحوالہ فرہنگ عاشورا، محدثی وابن ابی شیبہ، ج8، ص65؛ ابن قتیبہ، 1960، ص213؛ طبرانی، ج3، ص94؛ مفید، ایضا۔
  12. الہدایۃ الکبری ص 201.
  13. ابن ابی الثلج، ص28؛ ابن طلحہ شافعی، ج2، ص374.
  14. ابن ابی الثلج، وہی ماخذ۔
  15. ابن طلحہ شافعی، وہی ماخذ۔
  16. شامل ہیں۔ آپ(ع) کے القاب کی فہرست کے لئے رجوع کریں: ابن شہر آشوب، ج4، ص86.
  17. ابن شہر آشوب، ج4، ص86.
  18. رجوع کریں: حِمْیری، ص99ـ100؛ ابن قولویہ، ص216ـ219؛ طوسی، 1414، ص49ـ 50؛ مجلسی، ج37، ص94ـ95.
  19. خدا ہی میرے لئے کافی ہے: کلینی، وہی ماخذ، ص473۔
  20. خداوند متعال اپنا امر و فرمان انجام تک پہنچانے والا ہے: صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج2 ص56۔
  21. کلینی، الکافی ج6 ص474۔
  22. کلینی، الکافی، ج1، ص463؛ شیخ طوسی؛ تہذیب الاحکام، ج6، ص41؛ طوسی، 1401، وہی ماخذ؛ ابن عبدالبرّ، ج1، ص392؛ ابن سعد؛ الطبقات الکبری، خامسہ1، ص369؛ شیخ مفید؛ المقنعہ، ص467؛ الموفق بن احمدالخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص143.
  23. ابن سعد، ج6، ص399؛ یعقوبی، ج2، ص246؛ دولابی، ص102، 121؛ ابوالفرج اصفہانی، ص51؛ احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص404؛ محمد بن جریرالطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج2، ص555؛ شیخ مفید؛ الارشاد، ج2، ص27 و علی بن حسین مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص213.
  24. مجلسی، ج44، ص201؛ شیخ مفید؛ مسار الشیعہ، ص61؛ محمد بن مشہدی؛ المزار[الکبیر]، ص397؛ شیخ طوسی؛ مصباح المتہجد، صص826 و828 و سید بن طاؤس؛ اقبال الاعمال، صص689-690.
  25. ابن سعد، ج6، ص441؛ بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص512؛ طبری، ج5، ص394، 400؛ طوسی، 1401، ج6، ص41ـ42؛ طبری، ج5، ص394، جس نے ایک روایت میں امام حسین(ع) کی شہادت کا مہینہ صفر المظفر قرار دیا ہے؛ ابن ابی الثلج، وہیں جہاں اس نے سال شہادت کو سنہ 60 ہجری قرار دیا ہے۔
  26. ابن سعد، وہی ماخذ؛ طبری، ج5، ص422؛ ابوالفرج اصفہانی؛ طوسی، 1401، وہی مآخذ۔
  27. طبری؛ ابوالفرج اصفہانی؛ طوسی، 1401، وہی مآخذ۔
  28. دولابی، ص133.
  29. کلینی؛ طوسی، 1401، وہی مآخذ
  30. فضل بن حسن طبرسی، 1417، وہی مآخذ۔
  31. مسعودی، تنبیہ، ص303؛ ناطق بالحق، ص11.
  32. مسعودی، التنبیہو الاشراف، ص303؛ ناطق بالحق، ص11.
  33. ناطق بالحق، ص11.
  34. ابن سعد؛ ابوالفرج اصفہانی، وہی مآخذ؛ نیز رجوع کریں: ابن قتیبہ، 1960، ص213؛ بلاذری، 1996ـ2000؛ یعقوبی، وہی ماخذ؛ طبرانی، ج3، ص115، جنہوں نے امام(ع) کی عمر 56 سال ثبت کی ہے۔
  35. فضل بن حسن طبرسی، 1417، وہی ماخذ؛ نیز رجوع کریں: الکلینی، ج1، ص:463 57 سال اور چند مہینے؛ ابن ابی الثلج؛ مسعودی، تنبیہ، وہی ماخذ۔
  36. ابن سعد؛ ابن قتیبہ، 1960، وہی ماخذ؛ طبرانی، ج3، ص98ـ99، 103، 105؛ طوسی، 1401، وہیں۔
  37. شہادت کے وقت امام(ع) کی عمر کے بارے میں گوناگوں اقوال دیکھنے لئے رجوع کریں: مزّی، 1422، ج6، ص445ـ446.
  38. مطہری ، خدمات متقابل اسلام و ایران، ص ۱۳۱-۱۳۳۔ شریعتی، تشیع علوی و تشیع صفوی، ص۹۱؛ دہخدا ، لغت نامہ؛ جعفر شہیدی،زندگانی علی ابن الحسین(ع)، ص۱۲ ۔یوسفی غروی، تقی‌زاده، سعید نفیسی و کریستین سن مختلف نظر رکھنے والے افراد میں سے ہیں ۔
  39. سید محسن امین، اعیان الشیعہ، ج۶، ص۴۴۹
  40. شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۵
  41. سید محسن امین، اعیان‌الشیعة، ج۶، ص۴۴۹
  42. مصعب بن عبدالله، کتاب نسب قریش، ص ۵۷؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۴۶ـ۲۴۷؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۴۶
  43. مصعب بن عبدالله، کتاب نسب قریش، ص ۵۷
  44. مقریزی، امتاع الأسماع، ج‌۶،ص:۲۶۹
  45. اصفہانی، الاغانی، ج۲۱، ص۷۸
  46. اصفهانی، الاغانی، ج۲۱، ص۷۸
  47. مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۵
  48. سبط ابن جوزی، تذکرة الخواص، ج۱، ص۲۴۹
  49. مُصْعَب ‌بن عبداللّه، کتاب نسب قریش، ج۱، ص۵۹؛ محمد بن محمد مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۵؛ علی ‌بن زید بیہقی، لباب الأنساب و الألقاب و الأعقاب، ج۱، ص۳۴۹؛ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج۴، ص۷۷،۱۱۳
  50. مفید، الارشاد، ج2، ص491.
  51. سید محسن امین، فی رحاب ائمۂ اہل بیت علیہم السلام، ج4، ص73.
  52. علی بن عیسی الاربلی، کشف الغمہ، ج2، ص215.
  53. ابن شہر آشوب، مناقب، ج3، ص77.
  54. علی بن عیسی الاربلی، کشف الغمہ، ج2، ص214.
  55. رجوع کریں: مصعب بن عبد اللہ، ص57ـ 59؛ بخاری، ص30؛ مفید، وہیں۔
  56. رجوع کریں: دلائل الامامۃ، ص74؛ ابن شہر آشوب، ج4، ص77؛ ابن طلحہ شافعی، ج2، ص69۔۔
  57. دلائل الامامۃ، ص74؛ ابن شہر آشوب، وہیں۔
  58. ج 2، ص69.
  59. کاشفی، ص389ـ390؛ امین، ج7، ص34.
  60. مصعب بن عبداللہ،نسب قریش ایضا؛ مفید،الارشاد ج2، ص135؛ ابن شہرآشوب،مناقب علی بن ابی طالب ایضا۔
  61. ربانی خلخالی، علی، چہرہ درخشان امام حسین علیہ‌السلام، ص22، بحوالہ جنات الخلود، ص23.
  62. ابن سعد،البقات الکبری، ج3، ص214؛ مصعب بن عبداللہ،نسب قریش ایضا؛ ابن حبیب، ص404.
  63. مفید، الارشاد، ج2، ص491؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص329.
  64. ابن شہر آشوب، مناقب، ج3، ص77.
  65. ربانی خلخالی، چہرہ درخشان امام حسین علیہ‌السلام، ص22، بحوالہ جنات الخلود، ص23؛ نیز سید محسن امین العاملی کی کتاب فی رحاب ائمۃ اہل بیت علیہم السلام، ج4، ص73؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ج3، ص77.
  66. ربانی خلخالی، علی، ص22، بحوالہ جنات الخلود، ص197، اور بحوالہ معالی السبطین، ج2، ص214.
  67. جنات الخلود، ص199؛ ابصار العین فی انصار الحسین، ص368؛ بحوالہ ربانی خلخالی، چہرہ درخشان امام حسین علیہ‌السلام، ص22.
  68. قمی، منتہی الامال، ج2، صص701ـ638.
  69. ج 6، ص399.
  70. انّ الحسن والحسین سيدا شباب اہل الجنة۔
  71. موسوعہ کلمات الرسول الاعظم، المجلد السادس، کتاب الحسنین(ع) و کتاب اہل البیت(ع)، ص22، بحوالہ از شرح الاخبار 3: 74 ح 995.
  72. حسين منّي وانا منہ، أحبّ اللہ من أحبّہ، الحسن و الحسین سبطان من الاسباط۔
  73. احمد بن حنبل؛ سابقہ ماخذ، ج4، ص172؛ حاکم نیشابوری؛ سابقہ ماخذ، ج3، ص177 اور القزوینی، محمد بن یزید؛ سنن ابن ماجہ، ج1، ص51.
  74. شیخ صدوق؛ کمال الدین، ج1، ص262؛ سیدبن طاوس؛ الطرائف، ج1، ص174 و قمی، علی بن محمد؛ کفایۃ الاثر، ص46؛ مقتل خوارزمی، ج1، ص146 - کمال الدین صدوق، ص152.
  75. قمی، وہی ماخذ، ص45؛ مجلسی، بحارالانوار، ج36، ص304.
  76. طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، ص432؛ المقریزی، سابقہ ماخذ، ج6، ص11 و خرگوشی نیشابوری، ابو سعید، 1424، ج5، ص334.
  77. ابن سعد؛ سابقہ ماخذ، ج10، ص266؛ احمد بن حنبل؛ سابقہ ماخذ، ج2، ص440 اور حاکم نیشابوری؛ المستدرک، ج3، ص166۔ نیز سنن ترمذی، ج5، ص324.
  78. احمد بن حنبل، سابقہ ماخذ، ج5، ص354؛ الترمذی، سنن، تحقیق عبدالرحمن محمد عثمان، ج5، ص322؛ ابن حبان؛ صحیح، ج13، ص402 و حاکم نیشابوری؛ سابقہ ماخذ، ج1، ص287.
  79. سنن ترمذی، ج5، ص323.
  80. دینوری، ابن قتیبہ؛ الامامہ و السیاسہ، ج1، ص29-30؛ طبرسی، احمد بن علی؛ الاحتجاج، ج1، ص75 و علامہ مجلسی؛ بحارالانوار، ج22، ص328.
  81. النمیری، عمر بن شبہ؛ تاریخ المدینة المنورہ، ج3، ص799؛ ابن سعد؛ الطبقات الکبری، ج1، ص394؛ الذہبی؛ تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، ج5، ص100؛ ابن شہرآشوب؛ المناقب، ج4، ص40 و البغدادی، تاریخ بغداد، ج1، ص152.
  82. نمیری، سابقہ ماخذ، ج3، ص799؛ ابن سعد؛ سابقہ ماخذ، ج1، صص394-395؛ الذہبی، سابقہ ماخذ، ج5، ص100؛ متقی ہندی، علاء الدین علی؛ کنزالعمال فی سنن الاقوال و الافعال، ج13، ص654 و بغدادی، سابقہ ماخذ، ج1، ص152.
  83. ابن فقیہ، احمد بن محمد، البلدان، تحقیق یوسف الہادی، ص750؛ ابن جوزی، المنتظم، ج5، ص7؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج3، ص109.
  84. معتزلی،شرح نہج البلاغہ ج8، صص253-254 و کلینی؛ الکافی، ج8، ص207.
  85. بلاذری، انساب الاشراف، 216/3-217؛ الامامة، 40/1 بہ بعد؛ مالقی، محمد، التمہید و البیان، بہ کوشش محمد یوسف زاید، قطر، 1405ق، 119-194؛ مقدسی، البدء و التاریخ، باہتمام کلمان ہوار، پاریس، 1916م، 206/5؛ عاملی، الحیاة السیاسیہ للامام الحسن(ع)، قم، 1405ق، 140 بہ بعد؛ بہ نقل حاج منوچہری، فرامرز، «‌حسین(ع)، امام »، در دانشنامہ بزرگ اسلامی، ج20، ص678.
  86. حاج منوچہری، فرامرز، «‌حسین(ع)، امام»، در دانشنامہ بزرگ اسلامی، ج20، ص678.
  87. بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص187، 213، 246، 323؛ مسعودی، مروج، ج3، ص104ـ114، 136.
  88. نصربن مزاحم، ص114ـ115.
  89. ابن شبّہ نمیری، ج1، ص227؛ نہج البلاغة، مراسلہ نمبر 24.
  90. بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص356، قس ج2، ص357.
  91. ر.ک: ابن قتیبہ، 1410، ج1، ص181؛ بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص355ـ 356؛ مفید، ج1، ص25؛ مجلسی، ج42، ص235، 294ـ 295.
  92. ابن ابی الثلج، وہیں؛ دلائل الامامۃ، ص159، 177.
  93. طبری، محمد بن جریر؛ پیشین، ج5، ص165.
  94. کشی، سابقہ ماخذ، ص110؛ اور علامہ مجلسی؛ سابقہ ماخذ، ج44، ص61.
  95. طبری، محمد بن جریر؛ ج5، ص166؛ ابن جوزی؛ المنتظم، ج5، ص184 و ابن کثیر؛ البدایہ و النہایہ، ج8، ص19.
  96. مفید، الارشاد، قم: سعید بن جبیر، 1428ق، ص290.
  97. صدوق، کمال الدین و تمام النعمة، ص257ـ258؛ خزاز رازی، ص13ـ14، 23، 28ـ29، و خزاز رازی، ص217، 221ـ223.
  98. ابن اعثم کوفی، ج4، ص319؛ کلینی، ج1، ص301ـ302؛ خزاز رازی، ص229؛ فضل بن حسن طبرسی، 1417، ج1، ص421ـ423؛ نیز امام حسین(ع) کی امامت کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں محمد بن حنفیہ کے اعتراف کے لئے رجوع کریں: وہی، ج1، ص423.
  99. ج 2، ص30ـ31.
  100. طبرسی، فضل بن حسن، 1417، ج1، ص423ـ424.
  101. صدوق، الامالی، ص425؛ وہی، التوحید، صص307ـ308.
  102. ابن بابویہ، التوحید، ص80؛ ابن عساکر، ج14، ص174، 180، 183ـ184.
  103. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج1، ص68؛ خزاز رازی، ص230ـ234.
  104. فضل بن حسن طبرسی، 1417، ج1، ص423؛ نمونے کے طور پر رجوع کریں: صفار قمی، ص291؛ ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمة، ص537؛ طوسی، 1401، ج5، ص470؛ قطب راوندی، ج1، ص245ـ246؛ دلائل الامامہ، ص181ـ183، 186، 188ـ189؛ ابن عساکر، ج14، ص82؛ ابن شہرآشوب، ج4، ص57، 59ـ60؛ مجلسی، ج44، ص185ـ186؛ ہاشم بن سلیمان بحرانی، ج2، ص83ـ230.
  105. مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی آیت 59 اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علی(ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی آیت 33 انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایةالأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ(ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔
  106. شیخ مفید؛ الارشاد، ج2، ص32؛ ابن شہر آشوب؛ مناقب آل ابی طالب، ج4، ص87.
  107. بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص458ـ459؛ مفید، ج2، ص32.
  108. ابن سعد، وہیں؛ قس بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص459ـ460.
  109. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص152؛ دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود؛ الاخبار الطوال، ص222.
  110. الدینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود؛ سابقہ منبع، صص224-225؛ البلاذری، احمد بن یحیی؛ سابقہ ماخذ، ج5، صص120-121و الدینوری، ابن قتیبہ؛ الامامۃ والسیاسۃ، ج1، صص202-204.
  111. ابن سعد، الطبقات الکبری، ص408؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج54، ص209.
  112. طبرسی، احمد بن علی؛ الاحتجاج، ج2، ص296 و مجلسی، محمد باقر؛ بحارالانوار، ج44، ص127.
  113. حرانی، حسن بن شعبہ، تحف العقول، صص237-239؛ مجلسی، بحارالانوار، ج97، صص79-81.
  114. دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود؛ سابقہ ماخذ، صص224-225؛ البلاذری، احمد بن یحیی؛ سابقہ ماخذ، ج5، صص120-121و الدینوری، ابن قتیبہ؛ سابقہ ماخذ، ج1، صص202-204.
  115. دینوری، وہی، ج1، صص208-209 ۔ کوفی، ابن اعثم؛ الفتوح، ص339.
  116. وہی، ج6، ص422؛ یعقوبی، ج2، ص228؛ ابن عثم کوفی، ج4، ص337ـ339، 342ـ343؛ طبری، ج5، ص303.
  117. الذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص291.
  118. الدینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود؛ سابقہ ماخذ، ص224؛ کشّی، محمد بن عمر؛ رجال الکشی، ص48.
  119. ابن سعد، ج6، ص423؛ طبری، ج5، ص322؛ ابن اعثم کوفی، ج4، ص349ـ350؛ صدوق، امالی، ص215ـ216.
  120. البدایۃ و النہایۃ، ج8، ص235.
  121. کتبی، فوات الوفیات، ج2، ص645.
  122. الکامل، ج3، ص490.
  123. الکامل، سابقہ ماخذ، ج3، ص490 اور طبری، محمد بن جریر؛ تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص285 و خلیفہ بن خیاط؛ تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص129.
  124. الکامل، ج4، ص127؛ تاریخ مدینہ دمشق، سابقہ ماخذ، ص406.
  125. تاریخ الطبری، سابقہ ماخذ، ج5، ص232 و اصفہانی، ابوالفرج؛ الاغانی، ج17، ص136 و الکامل، سابقہ ماخذ، ج3، ص38.
  126. معجم البلدان، ج2، ص533.
  127. معجم البلدان، ج4، ص188.
  128. تاریخ مدینۂ دمشق، سابقہ ماخذ، ص405-406 و الاغانی، سابقہ ماخذ، ج17، ص136 و معجم البلدان، سابقہ ماخذ، ج4، ص188- 189 و انساب الاشراف، سابقہ ماخذن، ص288-289.
  129. تاریخ الطبری، ج5، ص232.
  130. تاریخ الطبری، ج5، ص303؛ الکامل، ج3، ص503.
  131. علی بن الحسین مسعودی، مروج الذہب و معادن الجواہر، ص68.
  132. تاریخ الیعقوبی، سابقہ ماخذ، ص253 و ابن طقطقی؛ الفخری فی الآداب السلطانیہ و الدول الاسلامیہ، ص116.
  133. شہیدی، قیام حسین(ع)، ص116۔
  134. شہیدی، پس از پنجاہ سال، صص112-113.
  135. راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، صص244-246.
  136. ارشاد مفید، ج 2، ص 378
  137. شہیدی، پس از پنجاہ سال، صص114-113. ارشاد مفید، ج 2، ص 378
  138. سید بن طاوس؛ اللہوف، ص۲۴.
  139. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۳۵۳؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۲۱.
  140. ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، ص۲۳۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۳۴۷؛ مقتل الحسین(ع)، پیشین، ص۳۹و ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۲۱.
  141. ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، اخبار الطوال، ص ۲۴۳؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص ۳۹۵
  142. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۶۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۳۸۱
  143. کوفی، ابن اعثم؛ الفتوح، ج۵، ص۶۹؛ خوارزمی، پیشین، ص۲۲۰ و علی بن عیسی إربلی، کشف الغمہ، ج۲، ص۴۳.
  144. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۰۸ و مسکویہ، ایضا، ص۶۷ و ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۱.
  145. حموی، یاقوت؛ایضا، ج۴، ص۱۸۳.
  146. شیخ مفید، الارشاد، ص۸۴؛ مسکویہ، ایضا ص۶۸ ؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۲.
  147. عبدالرزاق الموسوی المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص۱۹۲.
  148. شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام، ص۱۸۵.
  149. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ج۵، ص۸۳؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۸۴؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۰۹؛ ابوعلی مسکویہ، تجارب الامم، ج۲، ص۶۸؛ علی بن ابی الکرم ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۲؛ و ابن شہر آشوب، مناقب آل ابیطالب، ج۴، ص۹۶.
  150. ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، ص۲۵۳؛ احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۶؛ الطبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۰۹؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۲.
  151. ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، صص۲۵۳-۲۵۴؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۱؛ شیخ مفید، الارشاد، صص۸۵-۸۶.
  152. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۱؛ شیخ مفید، الارشاد، ص۸۶؛ خوارزمی، ایضا، ص۲۴۱.
  153. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۱؛ شیخ مفید، الارشاد، ص۸۶.
  154. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۴؛ مسکویہ،ایضا ص۷۱.
  155. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۴؛ شیخ مفید، الارشاد، ص۸۷؛ مسکویہ، ایضا، ص۷۱؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۵.
  156. ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، ص۲۵۵؛ احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۸۰؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۱۲؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۸۶.
  157. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۱۵؛ الخوارزمی، پیشین، ص۲۴۶؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۶.
  158. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۱۷؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۱؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۷.
  159. الارشاد، ج۲، ص۹۱-۹۴؛ إعلام الورى بأعلام الہدى، ص 239
  160. محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۲۳
  161. احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۳۹۵؛ و محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۲۲؛ و ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، ص۲۵۶، و ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ج۵، ص۱۰۱؛ علی بن ابی الکرم ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۹.
  162. موفق بن احمد الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج۱، ص۲۵۲. احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج۳،ص۳۹۶-۳۹۸.
  163. محمد بن جریر طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۲۷ و شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۹ و موفق بن احمد خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج۲، ص۹
  164. محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۲۹-۴۳۰
  165. بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۳۶۱-۳۶۲؛ ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۰؛ ابوحنیفہ احمد بن داوود دینوری، الاخبار الطوال، ص۲۵۶؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵،ص۴۴۶؛ جعفر ابن نما، مثیرالاحزان، ص۶۸؛ ابن طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ص۴۹
  166. محمد بن جریر طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵،ص۴۴۶-۴۴۹؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج۴، ص۱۰۸.
  167. محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج۵، ص۴۵۲؛ شیخ مفید؛ الارشاد، ج۲، ص۱۱۱؛ ابوعلی مسکویہ، تجارب الامم، ج۲، ص۸۰ و ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۷۷.
  168. یعقوبی، ج2، ص226؛ ابن سعد، ج6، ص409۔
  169. ابن سعد، ج6، ص414ـ415.
  170. ناطق بالحق، ص11.
  171. طبرانی، ج3، ص101.
  172. ابن سعد، ج6، ص415؛ ابن ابی شیبہ، ج6، ص46؛ طبرانی، ج3، ص100.
  173. ابن سعد، ج6، ص413ـ 417؛ ابن ابی شیبہ، ج6، ص3، 15.
  174. بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص366، 453؛ دولابی، ص104؛ طبرانی، ج3، ص95؛ ناطق بالحق، ص11؛ مفید، ج2، ص27.
  175. ابن حنبل، ج3، ص261؛ بخاری، ج4، ص216؛ ترمذی، ج5، ص325.
  176. ابن سعد، ج6، ص413؛ بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص123.
  177. ابن سعد، ج6، ص410؛ طبرانی، ج3، ص115؛ ابن عبدالبرّ، ج1، ص397.
  178. ابن اعثم کوفی، ج3، ص40.
  179. ابن سعد، ج6، ص408؛ ابن ابی شیبہ، ج7، ص269.
  180. ابن شہرآشوب؛ وہی ماخذ، ج3، ص401 اورعلامہ مجلسی؛ وہی ماخذ، ج43، ص319.
  181. ابوالفضل علی بن حسن طبرسی، مشکاة الانوار، ص170 و محدث نوری؛ مستدرک الوسائل، ج8، ص393.
  182. ابن شہرآشوب، ج4، ص73.
  183. شیخ صدوق؛ الخصال، ج1، ص135؛ علامہ مجلسی؛ بحارالانوار، ج43، ص333 و شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج9، ص447.
  184. ابن سعد، ج6، ص413.
  185. ابن عساکر، ج14، ص185.
  186. ابن عساکر، ج70، ص196ـ197؛ ابن حزم، ج8، ص515؛ بہاءالدین اربلی، ج2، ص476.
  187. سورہ 3 آیت 134۔.
  188. سورہ 3 آیت 134۔.
  189. اربلی، ج2، ص478ـ479.
  190. ابن شہرآشوب، ج4، ص72ـ73.
  191. قاضی نعمان، ج2، ص339.
  192. مجلسی، ج44، ص196؛ ابن ابی الدنیا، ص140؛ کلینی، ج4، ص47؛ ابن بابویہ، 1362ش، ج1، ص135ـ136.
  193. ابن شہرآشوب، ج4، ص83.
  194. ابن شہرآشوب، ج4، ص73-74.
  195. ابن عساکر، ج43، ص224-225.
  196. ابن شہرآشوب، ج4، ص73.
  197. احمدبن علی طبرسی، ج2، ص23.
  198. ابن سعد، ج6، ص409ـ410، 415.

مآخذ

  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4 و 3، قم: علامہ، 1379ق.
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت: دارصادر-داربیروت، 1965.
  • ابن المشہدی، محمد بن جعفر، المزار [الکبیر]، تحقیق جواد القیومی الاصفہانی، قم: مؤسسة النشر الاسلامی، 1419.
  • ابن اعثم، الفتوح، ج5، تحقیق علی شیری، بیروت: دارالأضواء، 1991.
  • ابن الجوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، ج3و5، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1992.
  • ابن عبدربہ، العقد الفرید، ج5، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1404.
  • ابن کثیر، ابوالفداء اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، ج8، بیروت: دارالفکر، 1986.
  • ابن الفقیہ، احمد بن محمد، البلدان، تحقیق یوسف الہادی، بیروت: عالم الکتب، چاپ اول، 1996.
  • البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج5، تحقیق احسان عباس، بیروت: جمیعة المتشرقین الامانیہ، 1979؛ انساب الاشراف، ج3 و 1، تحقیق محمد باقر محمودی، بیروت: دارالتعارف، چاپ اول، 1977.
  • الاصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت: دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • امین، سیدمحسن، فی رحاب ائمہ اہل بیت علیہم السلام، ج4، ترجمہ حسین وجدانی، سروش، 1376ش.
  • البغدادی، صفی الدین عبدالمؤمن، مراصد الاطلاع علی اسماء الامکنة و البقاع، ج1، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت: دارالمعرفہ، 1954.
  • دایرة المعارف تشیع، زیر نظر احمد صدر حاج سید جوادی و کامران فانی و بہاء الدین خرمشاہی، ج2، نشر سازمان دایرہ المعارف تشیع، تہران: 1368ش.
  • دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ دہخدا، ج6، تہران: 1377ش.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد بن صامل السلمی، طائف: مکتبة الصدیق، 1993؛ الطبقات الکبری، ج1، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت: دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1990.
  • الطوسی، تہذیب الاحکام، ج6، تہران: دارالکتب الاسلامیہ، 1365ش.
  • الطوسی، مصباح المتہجد، بیروت: مؤسسہ فقہ الشیعہ، 1411.
  • الطوسی، الامالی، قم: دارالثقافہ، 1414.
  • کلینی، الکافی، تہران: دارالکتب الاسلامیہ، 1365ش.
  • المفید، المقنعہ، قم: کنگرہ شیخ مفید، 1413ق.
  • المفید، الارشاد، ترجمہ و شرح فارسی: محمدباقر ساعدی، تصحیح: محمدباقر بہبودی، بیجا: انتشارات اسلامیہ، 1380ش؛ الارشاد، ج2، ترجمہ محمد باقر ساعدی خراسانی، اسلامیہ، 1351ش؛ الارشاد، ج2، قم: کنگرہ شیخ مفید، 1413.
  • المفید، مسار الشیعة، قم: کنگرہ شیخ مفید، 1413.
  • الخوارزمی، الموفق بن احمد، مقتل الحسین(ع)، ج1، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم: مکتبة المفید، بی‌تا.
  • دانشنامہ امام حسین(ع)، محمدی ری شہری و...، ج10، مترجم: محمد مرادی، قم: دارالحدیث، 1430ق/1388ش.
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج2، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت: دارالتراث، 1967.
  • شہیدی، سیدجعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران: مرکز نشر دانشگاہی، 1390.
  • شہیدی، سیدجعفر، پس از پنجاہ سال، پژوہشی تازہ پیرامون قیام حسین علیہ‌السلام، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1380ش.
  • المسعودی، علی بن الحسین، التنبیہ و الاشراف، تصحیح عبداللہ اسماعیل الصاوی، قاہرہ: دار الصاوی، بی‌تا؛ افست قم: دار الثقافة الاسلامیہ، بی‌تا.
  • المسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم: دارالہجرہ، 1409.
  • الدینوری، ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق ثروت عکاشہ، قاہرہ: الہیئة المصریة العامة للکتاب، 1992.
  • العسقلانی، ابن حجر، الاصابة فی تمییز الصحابہ، ج2، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1995.
  • جعفریان، رسول، گزیدہ حیات سیاسی و فکری امامان شیعہ، 1391.
  • سید بن طاوس، اقبال الاعمال، تہران: دارالکتب الاسلامیہ، 1367ش.
  • سید بن طاوس، الملہوف علی قتلی الطفوف، جمع آوری عبد الزہرا عثمان محمد، قم: المعد، 1988.
  • سید بن طاوس، الطرائف، ج1، قم: خیام، 1400.
  • العاملی، محمد بن مکی (شہید اول)، الدروس الشرعیہ فی فقہ الامامیہ، ج2، قم: جامعہ مدرسین، 1417.
  • الطبرانی، المعجم الکبیر، ج3، تحقیق حمدی عبدالمجید السلفی، بی‌جا، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • السمعانی، الأنساب، ج8، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدرآباد: مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، 1962.
  • ابن الصباغ، الفصول المہمہ فی معرفة الائمة، ج2، تحقیق سامی الغریری، دار الحدیث، 1422.
  • البحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترة الطاہرہ، ج17، تحقیق محمدتقی ایروانی و عبدالرزاق مقرم، قم: جامعہ مدرسین، 1405.
  • البحرانی، عبداللہ، العوالم الامام الحسین(ع)، تحقیق مدرسہ الامام المہدی (عج)، قم: مدرسہ الامام المہدی (عج)، 1407.
  • الطبری، احمد بن عبداللہ، ذخائر العقبی، قاہرہ: مکتبة القدسی، 1356ق.
  • الطبری (شیعی) محمد بن جریر، دلائل الامامہ، قم: دار الذخائر.
  • الحلی، ابن نما، مثیر الاحزان، قم: مدرسہ امام مہدی (عج)، 1406.
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج14، بیروت: دار الفکر، 1415.
  • المزی، تہدیب الکمال، تحقیق بشار عواد معروف، ج6، بیروت-لبنان: موسسة الرسالہ، 1985.
  • ابن الطقطقی، الفخری فی الآداب السلطانیہ و الدول الاسلامیہ، تحقیق عبدالقادر محمد مایو، بیروت: دارالقلم العربی، 1997
  • الطبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، تہران: اسلامیہ، 1390ق.
  • الطبرسی، ابوالفضل علی بن حسن، مشکاة الانوار، نجف: کتابخانہ حیدریہ، 1385ق.
  • الطبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد: نشر مرتضی، 1403.
  • ابن الخشاب البغدادی، تاریخ موالید الائمہ (المجموعہ)، قم: کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی.
  • العاملی، ابن حاتم، الدر النظیم، قم: جامعہ مدرسین، بی‌تا.
  • الاربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، ج1، تبریز: مکتبة بنی ہاشمی، 1381ق.
  • الاربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، ج2، ترجمہ حسین زوارئی، حقیقت، 1381ق.
  • ربانی خلخالی، علی، چہرہ درخشان امام حسین علیہ‌السلام، قم: مکتب الحسین، 1379 ش.
  • الصدوق، کمال الدین وتمام النعمة، تصحیح وتعلیق: علی أکبر الغفاری، قم: مؤسسة النشر الإسلامی، محرم الحرام 1405-1363ش.
  • الصدوق، التوحید، تحقیق: تصحیح وتعلیق: السید ہاشم الحسینی الطہرانی، قم: مؤسسة النشر الإسلامی، بی‌تا.
  • الصدوق، الخصال، ج1، قم: جامعہ مدرسین، 1403.
  • الصدوق، الأمالی، قم: تحقیق: قسم الدراسات الإسلامیة - مؤسسة البعثة – 1417.
  • الصدوق، علل الشرائع، ج1، النجف الأشرف: المکتبة الحیدریة ومطبعتہا 1385-1966م.
  • فتال نیشابوری، محمد بن حسن، روضة الواعظین، ج1، قم: رضی، بی‌تا.
  • قمی، عباس، منتہی الامال، ج2، تحقیق ناصر باقری بید ہندی، قم: دلیل، 1379ش.
  • مالک بن انس، الموطأ، ج2، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت: دار احیاء التراث العربی، 1985.
  • مقدسی، یداللہ، باز پژوہی تاریخ ولادت و شہادت معصومان(ع)، قم: پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، 1391ش.
  • موسوعہ کلمات الرسول الاعظم، ج6، کتاب الحسنین(ع) و کتاب اہل البیت(ع)، مولف لجنة الحدیث فی مرکز ابحاث باقرالعلوم(ع)، تہران: نشر امیرکبیر 1388.
  • قمی، علی بن محمد، کفایة الاثر، قم: بیدار، 1401.
  • المجلسی، بحارالانوار، ج36و45، بیروت: مؤسسہ الوفاء، 1404.
  • خرگوشی نیشابوری، ابو سعید، شرف المصطفی، ج5، مکہ: دارالبشائر الاسلامیہ، 1424.
  • حاکم نیشابوری، المستدرک، ج3، تحقیق یوسف عبدالرحمن المرعشی، بی‌تا.
  • الترمذی، سنن، ج5، تحقیق عبدالرحمن محمد عثمان، بیروت: دارالفکر، 1983.
  • ابن حبان، صحیح، ج13، تحقیق شعیب ارنؤوط، بی‌جا: الرسالہ، 1993.
  • الدینوری، ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج1، تحقیق علی شیری، بیروت: دارالأضواء، 1990.
  • النمیری، عمر بن شبہ، تاریخ المدینة المنورہ، ج3، قم: دارالفکر، 1368ش.
  • الذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ج5، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت: دارالکتاب العربی، 1993.
  • المتقی الہندی، علاء الدین علی، کنزالعمال فی سنن الاقوال و الافعال، ج13، تصحیح صفوة السقا، بیروت: الرسالہ، 1989.
  • خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج1، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1412.
  • الدینوری، ابوحنیفہ احمد بن داوود، الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم: منشورات رضی، 1368ش.
  • الدینوری، ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ج1، تحقیق علی شیری، بیروت: دار الأضواء، چاپ اول، 1990.
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج54، بیروت: دارالفکر، 1415.
  • الحرانی، حسن بن شعبہ، تحف العقول، قم: جامعہ مدرسین، 1404.
  • الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت: دار الأضواء، چاپ اول، 1991.
  • الیعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، ج2، بیروت: دار صادر، بی‌تا.
  • الذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، تخریج شعیب ارنؤوط و تحقیق حسین اسد، بیروت: الرسالہ، چاپ نہم، 1993.
  • کشّی، محمد بن عمر، رجال الکشی، مشہد: دانشگاہ مشہد، 1348ش.
  • تمیمی مغربی، نعمان بن محمد، دعائم الاسلام، ج2، مصر: دارالمعارف، 1385ق.
  • الکتبی، فوات الوفیات، ج2، تحقیق علی محمد بن یعوض اللہ و عادل احمد عبدالموجود، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2000.
  • الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت: دارالتراث، 1967.
  • خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، تحقیق فواز، بیروت: دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1995.
  • الاصفہانی، ابوالفرج، الاغانی، ج17، بیروت: دار احیاء تراث عربی، چاپ اول، 1415.
  • الازدی، ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق حسین الغفاری، قم: مطبعة العلمیہ، بی‌تا.
  • الخوارزمی، الموفق بن احمد، مقتل الحسین(ع)، ج1، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم: مکتبة المفید، بی‌تا.
  • مسکویہ، ابوعلی، تجارت الامم، ج2، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران: سروش، 1379ش.
  • السماوی، محمد، ابصار العین فی انصار الحسین(ع)، تحقیق محمد جعفر الطبسی، مرکز الدراسات الاسلامیہ لممثلی الولی الفقیہ فی حرس الثورة الاسلامیہ.
  • فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، ج1، قم: ہجرت، 1409.
  • الموسوی المقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسین(ع)، بیروت: دارالکتاب الاسلامیہ.
  • محدث نوری، مستدرک الوسائل، ج8، قم: آل البیت(ع)، 1408.
معصوم چہارم:
امام حسن مجتبی علیہ السلام
14 معصومین
امام حسین علیہ السلام
معصوم ششم:
امام زین العابدین علیہ السلام
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام ہادی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام