عبد اللہ بن عبد الاسد

ویکی شیعہ سے
(عبداللہ بن عبدالاسد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن عبد الاسد
معلومات
مکمل نام عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال
کنیت ابو سلمہ
وجہ شہرت رسول کا رضاعی بھائی، اصحاب بدر
محل زندگی مکہ، حبشہ، مدینہ
مہاجر/انصار مہاجر
مشہوراقارب رسول اللہ، امام علی
مدفن مدینہ
اسلام لانا ابتدائے اسلام
اصحاب رسول اللہ
جنگ بدر، احد
ہجرت حبشہ، مدینہ


عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال کنیت ابو سلمہ (متوفا ۴ق/۶۲۵ ع) صحابی اور رسول اکرم کا رضاعی بھائی تھا۔ وہ حبشہ اور مدینہ کے مہاجرین نیز پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہے۔ غزوہ بدر و احد میں شریک ہوا۔ احد میں زخمی ہوا اور پھر اسی کے سبب فوت ہوا۔

پیغمبر سے نسبت

عبد اللہ کی والدہ کا نام برّہ تھا جو عبدالمطلب کی بیٹی[1] اور وہ خود پیغمبر(ص) کا پھوپھی زاد تھا۔ اس نے پہلے ثُوَبیہ کا دودھ پیا جو حلیمہ سے پہلے پیغمبر کی دایہ تھی۔ اسی نسبت سے اسے رسول اللہ کا رضاعی بھائی کہتے ہیں۔[2]

زندگی نامہ

وہ اول مسلمین میں سے تھا[3] اور اپنی زوجہ کے ہمراہ پہلی ہجرت میں حبشہ گیا۔ [4] مکہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کی خبر پر مکہ واپس آیا لیکن خبر کے جھوٹی ہونے کی بنا پر مشرکین مکہ کے آزار کے خوف سے حضرت ابوطالب کی پناہ حاصل کی۔[5]

ابو سلمہ نے اسی طرح پہلے مسلمانوں کے گروہ کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔[6] غزوہ ذوالعشیرہ سے پہلے پیغمبر اکرم نے اسے اپنا جانشنین قرار دیا۔ [7] بنی اسد سے نبرد کے بعد مدینہ واپسی پر پہلا زخم دوبارہ بھر آیااور پھر اسی کی وجہ سے فوت ہوا اور وہیں مدینہ میں مدفون ہوا۔[8]

احتضار کے موقع پر پیامبر(ص) اسکے سرہانے موجود تھے اس کی وفات پر آپ کی آنکھیں بھر آئیں۔[9] ام سلمہ ابو سلمہ کی زوجہ نے وفات کے بعد سال ۴ق کے آخر شوال میں پیغمبر(ص) سے شادی کی۔[10]

جنگوں میں شرکت

وہ غزوہ بدر میں شریک تھا[11] اور غزوہ احد میں زخمی ہو کر اپنے گھر واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد پیغمبر(ص) کے ساتھ حمراء الاسد کی جنگ کیلئے گیا۔ [12] مدینہ واپسی پر ایک مہینہ اپنے زخم کا علاج کیا یہاں تک کہ رسول اللہ نے محرم ۳ کے آغاز میں اسے 150 افراد کے ساتھ بنی اسد کی جانب روانہ کیا۔[13]

اولاد

عبد اللہ بن عبد الاسد کی اولاد میں سے بنام عمر ایک فرزند نے جنگ جمل میں امام علی(ع) کے ساتھیوں کی حیثیت سے حصہ لیا اور آپ کی جانب سے بحرین کا والی بنا۔[14] پھر فارس کا اور ایک قول کے مطابق حلوان، ماہ اور ماسبذان کا والی بنا۔[15]

حوالہ جات

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۹.
  2. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۱۰۸.
  3. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص۱۴۳؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۹.
  4. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص۱۷۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۲۰۴.
  5. ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص۱۶۴؛ ابن ہشام، السیرہ النبویہ، ج۲، ص۵.
  6. ابن ہشام، السیرہ النبویہ، ج۲، ص۱۱۲ـ۱۱۳.
  7. واقدی، المغازی، ج۱، ص۷؛ ابن ہشام، السیرہ النبویہ، ج۲، ص۲۴۸.
  8. واقدی، المغازی، ج۱، ص۳۴۳؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۴۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۲۰۷.
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۴۱.
  10. واقدی، المغازی، ج۱، ص۳۳۴.
  11. ابن ہشام، السیرہ النبوی‍ـہ، ج۲، ص۳۳۹.
  12. واقدی، المغازی، ج۱، ص۳۴۰ـ۳۴۱.
  13. واقدی، المغازی، ج۱، ص۳۴۰ـ۳۴۱.
  14. ابن قتیبہ، المعارف، ص۱۳۶.
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۴۳۰.


منابع

  • ابن اسحاق، السیر و المغازی، بہ کوشش سہیل زکار، بیروت، ۱۳۹۸ق/۱۹۷۸م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر.
  • ابن قتیبہ، عبداللہ بن مسلم، المعارف، کوشش ثروت عکاشہ، قاہرہ، ۱۹۶۰م.
  • ابن ہشام، السیرہ النبوی‍ـہ، بہ کوشش مصطفی سقّا و دیگران، قاہرہ، ۱۳۷۵ق/۱۹۵۵م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، کوشش محمد حمید اللہ، قاہرہ، ۱۹۵۹م.
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، کوشش مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶م.

بیرونی لنک