بشیر بن عمرو حضرمی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گنج شہدا، حرم امام حسین (ع)، کربلا

بَشیر (بِشر) بن عَمْرو حَضرَمی کِندی، شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ روز عاشورا انہیں خبر ملی کہ ری کے سرحدی علاقہ میں ان کے بیٹے کو اسیر کر لیا گیا ہے تو امام حسین (ع) نے ان سے چاہا کہ وہ اپنے فرزند کی رہائی کے لئے چلے جائیں لیکن انہوں نے امام (ع) کو تنہا چھوڑ کر جانا گوارا نہیں کیا۔

نام، نسب

مختلف منابع میں ان کا نام بشیر یا بشر اور ان کے والد کا نام عمرو یا عمر ذکر ہوا ہے۔[1] وہ حضرموت (یمن) کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا۔[2]

واقعہ کربلا

وہ کربلا میں امام حسین (ع) سے ملحق ہوئے، ان کا ایک بیٹا محمد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ بعض منابع نے نقل کیا ہے: روز عاشورا بشیر کو خبر دی گئی کہ ان کا بیٹا ری کی سرحد پر اسیر کر لیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا: اس کا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے پسند نہیں ہے کہ وہ میرے زندہ رہتے ہوئے اسیر ہو۔ جب امام حسین (ع) نے ان کی یہ بات سنی تو فرمایا: خدا تم رحمت نازل کرے، میں تمہیں اپنی بیعت سے آزاد کیا۔ تم جاؤ اور اپنے بیٹے کی رہائی کے لئے کوشش کرو۔ بشیر نے جواب دیا: درندے میرا زندہ زندہ شکار کریں اگر میں نے ایسا کیا اور آپ سے جدا ہوا اور آپ کو اصحاب کی قلت کے باوجود تنہا چھوڑ دوں اور آپ کا سراغ قافلوں سے دریافت کروں۔[3] امام (ع) نے فرمایا: اچھا تو ان قیمتی لباسوں کو اپنے فرزند محمد (جو کربلا میں ان کے ساتھ تھا) کو دے دو تا کہ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے سلسلہ میں ان سے استفادہ کرے۔ امام نے انہیں پانچ قیمتی لباس عطا کئے جن کی قیمت ایک ہزار دینار تھی۔[4]

شہادت

واقعہ کربلا میں ان کی شہادت کے سلسلہ میں کہ کس وقت ان کی شہادت واقع ہوئی، دو مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ابو مخنف کی روایت کے مطابق، جس وقت امام حسین (ع) نے میدان کربلا کا رخ کرنا چاہا اس وقت اصحاب میں سے فقط دو لوگ بشیر بن عمرو و عمرو بن ابی مطاع (سوید بن عمرو خثعمی کے نقل کے مطابق) باقی بچے تھے۔[5] بشیر نے جب یہ دیکھا کہ امام جنگ کے ارادہ سے مقتل میں جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے چاہا کہ وہ امام سے پہلے میدان قتال میں جائیں، لہذا وہ میدان میں گئے اور امام (ع) سے پہلے شہید ہو گئے۔

لیکن بعض دیگر منابع میں انہیں حملہ اول میں شہید ہونے والے افراد میں شمار کیا گیا ہے۔[6]

زیارت ناموں میں نام

زیارت رجبیہ میں ان کا نام اس طرح ذکر ہوا ہے: السَّلَامُ عَلَی بَشِیرِ بْنِ عَمْرٍو الْحَضْرَمِی۔[7]

زیارت ناحیہ (غیر مشہور) میں بھی ان کا نام ذکر ہوا ہے: السَّلَامُ عَلَی بِشْرِ بْنِ عُمَرَ الْحَضْرَمِی شَکرَ اللَّهُ لَک قَوْلَک لِلْحُسَینِ وَ قَدْ أَذِنَ لَک فِی الِانْصِرَافِ أَکلَتْنِی إِذَنِ السِّبَاعُ حَیاً إِذَا فَارَقْتُک وَ أَسْأَلُ عَنْک الرُّکبَانَ وَ أَخْذُلُک مَعَ قِلَّةِ الْأَعْوَانِ لَا یکونُ هَذَا أَبَداً۔[8]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ری شہری، دانش نامہ امام حسین، ۱۳۸۸ ج۶، ص۲۱۴
  2. ابصار العین، سماوی، ص۱۷۳
  3. بشیر کا یہ جملہ بھی زیارت الشہدا میں نقل ہوا ہے۔
  4. ابصار العین، ص۱۷۴
  5. ابصار العین، سماوی، ص۱۶۹
  6. منتہی الامال، ص429
  7. شہيد اول، المزار، ۱۴۱۰، ص۱۵۲
  8. محمد بن مشہدی، المزار الكبير، ۱۴۱۹، ص۴۹۳


مآخذ

  • ری شہری، دانش نامہ امام حسین، قم، دار الحدیث، دوم، ۱۳۸۸ش
  • سماوی، إبصار العين فی أنصار الحسين، قم، زمزم ہدایت، ۱۳۸۴ش
  • شہید اول (مکی عاملی، احمد)، المزار، قم، مؤسسہ امام مہدى‏، ۱۴۱۰ق
  • محمد بن مشہدی، المزار الكبير، قم، قيوم‏، ۱۴۱۹ق