جنگ جمل

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جنگ جمل
سلسلۂ محارب: ناکثین کے ساتھ لڑائی
وقت بروز جمعرات جمادی الاول یا جمادی الثانی سنہ 36 ہجری قمری
مقام خریبہ
محل وقوع حدود بصرہ
نتیجہ امام علی(ع) فاتح قرار پائے
سبب ناکثین کا عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا بہانے
فریقین
لشکر امام علی(ع) لشکر جمل (ناکثین)
قائدین
امیرالمؤمنین علی(ع) عایشہ، طلحہ اور زبیر
نقصانات
امیرالمؤمنین(ع) کے 400 سے 500 اصحاب شہید ہوئے اصحاب جمل کے 2500 افراد ہلاک ہوئے

جنگ جَمَل امام علی(ع) کے دور خلافت کا پہلا جنگ ہے جو ام المؤمنین عایشہ، طلحہ اور زبیر کی سرکردگی میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے امام علی(ع) کے خلاف لڑی۔ یہ جنگ سنہ 36 ہجری قمری میں بصرہ کے قریب واقع ہوئی۔ عایشہ اور ان کے ساتھیوں نے اس جنگ کو خلیفہ سوم عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی غرض سے شروع کی۔ عایشہ اس جنگ میں خود شریک ہوئی اور ایک سرخ اونٹ پر سوار تھی اور اس جنگ کو جمل نام رکھنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ عربی میں نراونٹ کو جمل کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ جو مسلمانوں کی پہلی داخلی جنگ شمار کیا جاتا تھا امام علی(ع) کی فتح اور طلحہ اور زبیر کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس جنگ میں عایشہ گرفتار ہوئیں اور جنگ کے آخر میں امام(ع) نے انہیں اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کے ذریعے مدینہ پہنچا دی۔

چونکہ اس جنگ کے سرکردگان نے امام علی(ع) کی بعنوان خلیفہ بیعت کی تھی پھر بعد میں بعیت توڑتے ہوئے آپ کے ساتھ جنگ شروع کی اس وجہ سے یہ گروہ ناکثین (عہد و پیمان توڑنے والے) کے نام سے مشہور ہوئے اور اس جنگ کو بھی اسی سبب جنگ ناکثین کہلانے لگی۔

جنگ جمل اسلامی دار الخلافہ کا مدینہ سے کوفہ منتقلی اور اصحاب اور خلیفہ کے درمیان براہ راست جنگ چھڑنے کی وجہ سے اسلامی مذاہب کے درمیان سیاسیت کے حوالے سے بہت سارے جدید کلامی اور فقہی مسائل کے وجود میں آنے کا سبب بنی۔

وجہ نامگذاری

جَمَل عربی میں "نر اونٹ" کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس جنگ میں عایشہ "عسکر" نامی ایک "نر اونٹ" پر سوار تھی [1] اسلئے اس جنگ کو "جنگ جمل" کہا جاتا ہے۔

جنگ جمل کے علل و اسباب

حضرت علی(ع) کی نگاہ میں

امام علی(ع) کے دور حکومت کی جنگیں مد مقابل لشکر تاریخ وقوع
جنگ جمل طلحہ و زبیر کا لشکر 15 جمادی الثانی سنہ 36 ہجری قمری
جنگ صفین معاویہ کا لشکر صفر سنہ 37 ہجری قمری
جنگ نہروان خوارج کا لشکر صفر سنہ 38 ہجری قمری

جنگ جمل کے حوالے سے امام علی(ع) کے ارشادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس جنگ کے علل و اسباب کو دو علتوں میں خلاصہ کر سکتے ہیں:

حضرت علی(ع) نہج البلاغہ کی خطبہ نمبر 148 میں یوں فرماتے ہیں: طلحہ اور زبیر اپنے لئے خلافت کا امیدوار ہے یوں خلافت کی کرسی پر نظریں جما کر رکھا ہوا ہے اور اپنے ساتھی کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔

  • دوسری دلیل: کینہ توزی

اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت علی(ع) کے بارے میں بعض لوگوں کے دل میں بغض اور کینہ تھا۔ اس سے پہلے خود حضرت امیرالمؤمنین(ع) اس بارے میں کئی بار اشارہ کرتے آئے ہیں بطور نمونہ یہ جملہ پیش خدمت ہے:

  1. چونکہ پیغمبر(ص) نے مجھے عایشہ کے والد (ابوبکر) پر برتری دی تھی۔
  2. چونکہ پیغمبر(ص) نے مجھے میثاق اخوت میں اپنا بھائی بنایا تھا۔
  3. چونکہ خداوند عالم نے حکم صادر فرمایا تھا کہ مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام دروازے حتی عایشہ کے والد کے گہر کا دروازہ بند کر دئے جائیں سوای میرے گھر کے دروازے کے۔
  4. چونکہ جنگ خیبر میں پیغمبر اکرم‌(ص) نے دوسروں کی ناکامی کے بعد پرچم میرے حوالے کی اور میں نے قلعہ خیبر کو فتح کیا تھا۔ یہ امر ان کی ناراضگی کا باعث بنا تھا۔[2]

اس کے علاوہ طلحہ اور زبیر اس خام خیالی میں تھے کہ حضرت علی(ع) خلافت کے امور میں ان دونوں سے مشورے طلب کریں گے کیونکہ یہ دونوں خود کو امام علی(ع) کے ہم رتبہ اور ہم مقام جانتے تھے۔ یہ دونوں امیدار تھے کہ عثمان کی رحلت کے بعد حکومت میں ان کو بھی حصہ ملے گا۔ لیکن مذکورہ امور میں سے کوئی ایک بھی متحقق نہیں ہوا۔ یہ باعث بنا کہ ان دونوں کا امیر المؤمنین(ع) کی نسبت دلی خصومت اور ناراضگی آشکار ہوئی اور باقاعدہ امام کے خلاف علم بغاوت بلند کی اور جنگ کرنے پر اتر آئے۔

ناکثین کی نگاہ میں

  1. طلحہ نے بصرہ کے لوگوں کے سامنے جو خطبہ دیا اس میں امام علی(ع) کے ساتھ جنگ کرنے کی علت کو امت پیغمبر(ص) کی اصلاح اور اطاعت خدا کی ترویج بیان کرتے ہیں۔[3]
  2. ناکثین معتقد تھے کہ امام علی(ع) نے عثمان کو قتل کیا ہے اور عثمان کے قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ناکثین خود کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے والے معرفی کرتے تھے۔ اس کے رد عمل کے طور پر امام علی(ع) نے خود انہیں عثمان کا اصل قاتل قرار دیتے ہوئے فرمایا:[4] یہ خون کا بدلہ لینے کا دعوا اس لئے ہے تاکہ کوئی ان سے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوا نہ کرے۔ [5]

اس نقطہ نگاہ پر تنقید

  1. امیرالمؤمنین(ع) حضرت علی(ع) کی جانب سے ناکثین کی جو سرزنش کی گئی ہے اس میں اکثر طلحہ اور زبیر آپ کا مخاطب تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ(ع) اس جنگ کے مسبب اصلی کو طلحہ اور زبیر قرار دیتے تھے اور اس جنگ میں عایشہ ایک ضمنی کرار ادا کر رہی تھی دوسرے لفظوں میں طلحہ اور زبیر کی طرف سے ان کو غلط پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کی جارہی تھی۔
  2. اصحاب جمل نے جنتے دلائل ذکر کئے ہیں ان میں سے ایک کی بھی کوئی عقلی توجیہ نہیں ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عثمان کے خون کا بدلہ صرف اور صرف ایک بہانے سے زیادہ نہیں تھا۔ کیونکہ جب تک عثمان زندہ تھا خود عایشہ کے ان سے اچھے تعلقات قائم نہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عایشہ پیغمبر اکرم(ص) کا کرتا عثمان کے ہاں لے جاکر بطور احتجاج کہتی تھی: ابھی تک رسول خدا(ص) کے کفن کی رطوبت بھی خشک نہیں ہوا ہے جبکہ تم ان کے لائے ہوئے احکام میں اس طرح سے تغییر ایجاد کر رہے ہو اور ان میں تحریف کر رہے ہو۔[6]

معتزلہ کی نگاہ میں

معتزلہ کے بعض علماء معتقد ہیں کہ عایشہ اور اس کے ہمراہان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ارادہ رکھتے تھے۔[7]

حالنکہ ابن ابی الحدید جو خود بھی معتزلہ مذہب کے پیروکار ہیں جنگ جمل کے مسببین کے بارے میں کہتے ہیں: ہم معتزلیوں کی نگاہ میں یہ سب کے سب ظلم پر اصرار کرنے کی وجہ سے دوزخی ہیں سوائے عایشہ، طلحہ اور زبیر کے کیونکہ ان تینوں نے توبہ کی تھی اور توبہ کے بغیر ان تینوں کا حشر بھی یہی ہے۔[8]

طلحہ اور زبیر کی پیمان‌شکنی

امام علی(ع) نے ذوالحجہ سنہ 35 ہجری قمری کو مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے اصرار پر اپنی باطنی رغبت کے نہ ہوتے ہوئے زمام خلافت کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ طلحہ اور زبیر جو ابتداء میں خلافت پر نظریں جمائے ہوئے تھے؛[9] جب کامیاب نہ ہوئے اور خلافت امام علی‌(ع) تک پہنچی تو اس امید میں تھے کہ آپ(ع) خلافت کے امور میں انہیں بھی شریک کریں گے اور کم از کم کسی صوبے کی گورنری انہیں بھی ملے گی۔

اپنے اسی خام خیالی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے انہوں نے حضرت علی(ع) سے بصرہ اور کوفہ (یا عراق اور یمن) ان کے سپرد کرنے کو کہا لیکن امام‌(ع) انہیں اس کام کیلئے شایستہ نہیں سمجھتے تھے۔[10]

امام علی‌(ع) کی خلافت کے چار ماہ گزرنے کے بعد جب طلحہ اور زبیر اس نتیجے پر پہنچے کہ امام علی‌(ع) کی خلافت اور طرز حکمرانی کی وجہ سے لوگ ان دونوں سے دور ہوگئے ہیں اور اب مدینہ میں ان کیلئے کوئی مقام نہیں ہے تو انہوں نے امام(ع) سے عمرہ کیلئے مکہ جانے کی اجازت مانگ لی۔ اس وقت امام سمجھ گئے تھے کہ یہ دونوں عمرہ کیلئے نہیں بلکہ بغاوت اور بیعت شکنی کیلئے جا رہے ہیں۔ [11]

طلحہ اور زبیر نے اپنی پیمان‌شکنی کی توجیہ کیلئے یہ ادعا کیا کہ انہوں نے خوف اور اکراہ کی وجہ سے بیعت کیا تھا اور دل سے بیعت نہیں کی تھی لہذا حضرت علی(ع) کی اطاعت میں باقی رہنا کوئی ضروری نہیں ہے۔[12]

ناکثین کا عایشہ کے ساتھ عہد و پیمان

طلحہ اور زبیر نے اپنے اہداف کی پایہ تکمیل کی خاطر عایشہ جو عثمان کی قتل سے پہلے عمرہ کی غرض سے مکہ گئی تھی، سے عثمان کے قاتلوں سے جو اس وقت امام علی(ع) کے قریبی دوستوں اور آپ کے لشکر کے سپہ سالاروں میں سے ہیں، سے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے ان کا ساتھ دینے کی درخواست کی۔ کجھ مدت کے بعد آخر کار عایشہ نے ان کی درخواست کو قبول کر لی۔[13]

امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) نہج البلاغہ کی خطبہ نمبر 172 میں اس بات کی طرف یوں اشارہ فرماتے ہیں: "یہ (طلحہ و زبیر) میری بیعت سے خارج ہو گئے اور حرمِ رسول خدا(ص) کو اپنے ساتھ ادھر سے ادھر لے جاتے تھے جس ایک کنیز کو خریتے وقت اسے اپنی مرضی سے ادھر ادھر لے جاتے ہیں"۔[14]

زبیر پیغمبر(ص) اور امام علی‌(ع) کے خالہ ذات اور عایشہ کی بہن کے شوہر تھے۔ زبیر کا بیٹا عبداللّہ نے عایشہ کو طلحہ اور زبیر کے ساتھ رکھنے اور جنگ کو اور شعلہ ور کرنے میں عمدہ کردار ادا کیا۔ [15] عایشہ بھی حضرت علی‌(ع) سے کینہ رکھتی تھی۔[16] اور یہ چیز خود عایشہ کا طلحہ اور زبیر کے ساتھ ملحق ہونے میں مؤثر ثابت ہوئی۔

یوں طلحہ، زبیر اور دوسرے جدایی‌طلبان جو جانتے تھے کہ عایشہ ہمسر رسول خدا(ص) کے بغیر کہ جو لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی، ان کا کام کسی نتیجے تک پہنچنے والا نہیں ہے، عایشہ کی اجازت سے ایک لشکر تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔[17]

عبداللّہ بن عامر بن کُرَیز اور یعلی بن امیہ بھی اپنی بے پناہ دولت اور بہت سارے اونٹوں (بعض روایات کے مطابق ۶۰۰ اونٹ اور 6 لاکھ درہم یا دینار) کے ساتھ یمن میں ان کے ساتھ ملحق ہو گئے اور سب عایشہ کے گھر میں جمع ہوگئے۔[حوالہ درکار]

مخالفین کا بصرہ کی جانب حرکت

عبداللّہ بن عامر نے بصرہ کی طرف حرکت کرنے جبکہ عایشہ نے مدینہ جانے کی تجویز پیش کی لیکن اصحاب جمل عبداللہ بن عامر کی تجویز سے توافق اور عایشہ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے بصرہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ کیونکہ وہ مدینہ والوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ بصرہ کے لوگ طلحہ و زبیر کے حامی تھے اور خود عبداللّہ بن عامر کے بھی وہاں کجھ یار و مددگار رہتے تھے۔ یوں 3000 سپاہیوں پر مشتمل لشکر روانہ ہونے کیلئے آمادہ ہوئے جن میں سے 900 کے قریب مکہ و مدینہ والے تھے۔[18]

راستے میں جہاں کہیں بھی رکتے عایشہ اس سرزمین کا نام پوچھتی تھی یہاں تک کہ حواب نامی جگہے پر پہنچے۔ جب عایشہ کو اس منطقے کے نام کا پتہ چلا تو لشکر سے جدا ہو کر واپس مکہ جانا چاہی۔[19] کیونکہ پیغمبر(ع) نے اس سے کہا تھا کہ جب بھی حواب کے کتے تم پر بونکے تو سمجھ لینا تم باطل پر ہو۔ [20] عبداللہ بن زبیر پچاس آدمیوں کو جمع کیا اور انہوں نے قسم کھایا کہ یہ جگہ حواب نہیں ہے۔[21] اس طرح اس نے عایشہ کو واپس جانے سے روک دیا۔ یہ بات اہل سنت کی بہت ساری منابع میں موجود ہے۔[22] اور بعض نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔[23]

عایشہ کے کہنے پر عبداللّہ ‌بن عامر بصرہ کے سرداروں کے نام عایشہ کا خط لے کر مخفی طور پر شہر میں داخل ہو گیا جبکہ عایشہ اپنے ہمراہان کے سانھ حُفَیر یا حَفر ابی‌موسی تک پیش قدمی کی۔[24]

جب بصرہ والوں کو ان کی آمد کا پتہ چلا تو عثمان بن حُنَیف (بصرہ میں حضرت علی‌(ع) کا گورنر) نے عِمران بن حُصَین اور ابوالاسود دُؤَلی کو عایشہ کے ہاں بھیجا اور اس سے یہاں آنے اور امام علی(ع) سے انکی اختلاف کا سبب پوچھا۔

عایشہ نے کہا: اوباشوں نے پیغمبر(ص) کے حرم پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیشوا (عثمان) کو ظلم و ستم کے ساتھ قتل کیا اور اس کے اموال کو غارت کیا اور خدا کے حرمت والے مہینوں کی حرمت پال کیا گیا۔ میں آئی ہوں تاکہ مسلمانوں کو ان کے کرتوت سے آگاہ کروں اور ان حالات کی اصلاح کیلئے جو کچھ انجام دینا چاہئے انہیں بتادوں۔

انہوں نے عایشہ سے دوسری زوجات نبی کی طرح خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گھر میں بیٹھنے کی تلقین کی۔ دوسری طرف سے طلحہ اور زبیر نے بھی عثمان کے خون کی انتقام کی خاطر آنے کا کہا اور یہ کہ انہوں مجبورا بعیت کی تھی لہذا بعت شکنی کی بات معقول نہیں ہے۔[25]

امام(ع) کے لشکر کا روانہ ہونا

ربیع الثانی (یا ماہ جمادی الاول) سنہ 36 ہجری قمری کی 24 اور 25 تاریخ تھی [26] جب امام علی(ع) کو عایشہ اور طلحہ و زبیر کی بصرہ کی طرف حرکت کی کی خبر دی گئی تو امام(ع) نے مدینہ میں جنگ کیلئے تیار ہونے کی دعوت دی اور لوگوں نے بھی اس دعوت پر لبیک کہا۔[27]

اس کے بعد امام(ع) نے سہل بن حنیف انصاری کو مدینے میں اپنا جانشین مقرر فرمایا اور خود 700 نفر پر مشتمل سپاہیوں کے ساتھ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تاکہ مخالفین کو دوبارہ واپس لا سکیں لیکن جب مدینہ سے 3 میل کے فاصلے پر ربذہ کے مقام پر پہنچے [28] تو پتہ چلا کہ مخالفین کافی دور ہو گئے ہیں۔ امام‌(ع) نے چند روز وہاں توقف فرمایا اور یہاں قبیلہ طی کے مومنین آپ کے ساتھ ملحق ہوئے اور مدینے سے آپ کیلئے مرکب اور اسلحہ وغیرہ لایا گیا۔ [29]

امام علی(ع) کے سپاہی مختلف قبائل کے سات گروہ پر مشتمل تھا۔ بعض قبائل مانند بنی قَیس، بنی اَزد، بنی حَنْظَلہ، بنی عِمران، بنی تَمیم، بنی ضَبّہ اور بنی رِباب‌ذ اصحاب جمل کے ساتھ ملحق ہو گئے تھے۔ جبکہ بعض نے دونوں گروہ کا ساتھ نہ دیا مانند اَحْنَف بن قیس، اس نے امام‌(ع) سے کہا اگر آپ کہتے ہیں تو آپ کے ساتھ ملحق ہوتا ہوں ورنہ اپنے قبیلہ بنی سعد کو لے کر کنارہ کشی کرتا ہوں اور دس ہزار یا چار ہزار تلوار کو آپ سے دور کرتا ہوں، امام(ع) نے اسے دور رکھنے کو ترجیح دی اور اسے ملحق ہونے کا نہیں کہا۔[30]

ایک اور روایت کے مطابق امام(ع) کے سپاہیوں کی تعداد 19 یا 20 ہزار جبکہ مخالفین کی تعداد 30 ہزار یا اس سے زیادہ تھی۔[31]

امام علی(ع) کی صلح کیلئے کوششیں

جب امام علی(ع) طَفّ کے راستے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور زاویہ نامی جگہے پر چندی روز قیام کے بعد اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے بصرہ میں داخل ہوئے تو دوسری طرف سے طلحہ، زبیر اور عایشہ بھی فرضہ(بندر) کے ساستے بصرہ میں پہنچے یوں دونوں گروہ بصرہ میں ایک دوسرے کے روبرو ہوئے۔[32] عایشهہ نے بھی اپنی اقامتگاہ سے مسجد حُدّان‌ جو قبیلہ ازد کے محلے میں میدان جنگ کے نزدیک تھی، میں منتقل ہو گئی۔[33]

امام علی‌(ع) جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے اسی لئے بصرہ میں داخل ہونے کے تین دن تک اس کوشش میں رہے کہ کسی طرح مخالفین کو جنگ سے بار رکھے اور انہیں اپنے ساتھ ملحق ہونے کی دعوت دیتے رہے۔[34] جنگ کے دن بھی امام علی(ع) نے صبح سی ظہر تک اصحاب جمل کو واپس آنے کی دعوت دیتے رہے۔[35]

امام‌(ع) نے طلحہ اور زبیر کے نام ایک خط لکھا جس میں اپنی خلافت کی مشروعیت، لوگوں کی آزادہ بیعت، عثمان کے قتل میں اپنی بے گناہی، عثمان کے انتقام لینے میں طلحہ اور زبیر کا حق بہ جانب نہ ہونے اور طلحہ اور زبیر کا قرآن کی سراسر مخالفت کرتے ہوئے زوجہ پیغمبر اکرم(ص) کو اپنے گھر اور منزل سے باہر لانے جیسے مسائل کی طرف انہیں آگاہ کیا۔

امام‌(ع) نے عایشہ کو بھی ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ اس نے قرآن کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے گھر سے باہر نکلی ہے اور لوگوں کی اصلاح اور عثمان کے انتقام کے بہانے لشکر کشی کر کے خود کو ایک عظیم گناہ میں گرفتار کیا ہے۔

طلحہ اور زبیر نے جواب میں اپنی نافرمانی پر اصرار کیا جبکہ عایشہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری طرف عبداللہ بن زبیر لوگوں کو امام‌(ع) کے خلاف اکسانے میں مصروف تھے جن کا امام حسن(ع) نے جواب دیا۔ [36]

آخر میں امام علی(ع) نے صَعْصَعہ بن صوحان پھر عبداللہ بن عباس کو طلحہ و زبیر اور عایشہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے بھیجا لیکن ان مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا اس درمیان عایشہ سب سے زیادہ سر سخت نکلی۔[37]

امام(ع) کا براہ راست مخالفین سے گفتگو

امام علی‌(ع) نے طلحہ اور زبیر سے فیس ٹو فیس گفتگو فرمایا اور زبیر جسے آپ زیادہ نصیحت‌پذیر جانتے تھے پیغمبر اکرم(ص) کی ایک حدیث یاد دلادی جس پر زبیر نے اقرار کیا کہ اگر یہ حدیث انہیں یاد رہتی تو ہرگز جنگ کیلئے نہیں آتا اور امام کے ساتھ جنگ نہ کرنے کی قسم کھائی۔

اس وقت زبیر نے عایشہ سے کہا کہ وہ جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر اس کی بیٹے عبداللّہ بن زبیر نے کہا کہ یہ تم ہی تھے جس نے ان دو لشکروں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کر دیا اور اب یہ ایک دوسرے کے اوپر تلوایں نکال رہے ہیں اب تم چاہتے ہو کہ ان کو چھوڑ کر چلا جائے؟ تم نے علی ابن ابی طالب کے دلیر اور شجاع جوانوں کے ہاتھوں میں موجود پرچموں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے۔

طبری کے نقل کے مطابق زبیر اپنے بیٹے عبداللّہ کی اصرار پر قسم توڑنے کے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کیا پھر جنگ کیلئے آمادہ ہو گیا۔ [38]

جنگ کا آغاز

15 جمادی الثانی سنہ 36 ہجری قمری[39] یا 10 جمادی الثانی 36 ہجری [40] یا 10 جمادی الأول 36 ہجری [41] کو بصرہ کے نواح میں خُرَیبَہ کے مقام پر چنگ کا آغاز ہوا۔[42]

امام‌(ع) نے جنگ کے آغاز سے پہلے اپنے ایک سپاہی کے ہاتھوں میں قرآن دے کر اسے بلند کروا کر مخالفین کو ایک بار پھر اس کتاب کے قوانین پر عمل پیرا ہونے اور تفرقہ سے بار رہتے ہوئے اتحاد اور اتفاق کی دعوت دی۔ لیکن مخالفین نے اسے شہید کردیا امام کے کئی دوسرے ساتھیوں کے اوپر پر تیر چلائی۔ اس کے بعد امام(ع) نے فرمایا اب جنگ کرنا جائز ہے اب جنگ کی باری ہے۔[43] امام(ع) نے اپنے سپاہیوں کو جنگ کی ابتداء کرنے سے منع کیا ہوا تھا اور انہیں یہ حکم دی تھی کہ زخمیوں کو نہ مارا جائے، کسی کو مثلہ نہ کیا جائے، اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل نہ ہو، کسی کو برابلا نہ کہا جائے، کسی عورت پر حملہ آور نہ ہو اور سوائے جو چیز مخالفین کے مورچوں میں ہیں کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔[44]

لشکر امام علی(ع) کے دائیں بازوں کی کمانڈ مالک اشتر اور بائیں طرف کی کمانڈ عمار بن یاسر جبکہ فوج کا پرچم محمد بن حنفیہ کے ہاتھ میں تھا۔[45] اس جنگ امام حسن(ع) لشکر کے دائیں طرف اور امام حسین(ع) بائیں طرف سے جنگ فرما رہے تھے۔[46]

اصحاب جمل نے بھی اپنی سپاہیوں کو مرتب کیا [47] در حالی کہ عایشہ ایک اونٹ پر سوار تھی جسے زرہ سے چھپایا گیا تھا اور لشکر کے آگے آگے چل رہی تھی۔ [48]

جنگ کا نتیجہ

اصحاب جمل‌ اس چند گھنٹوں کی جنگ میں کافی سارے سپاہیوں کی ہلاکت کے بعد رات تک مغلوب ہو گئے۔[49] جب اصاب جمل کا لشکر فرار ہونے لگے تو مروان بن حَکَم نے طلحہ کے ٹانگوں میں ایک تیر پیوست کیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ طلحہ کو بصرہ میں ایک گھر میں منتقل کیا گیا اور وہ وہیں پر شدید خونریزی‌ کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر مروان بن حکم نے عثمان‌ کے بیٹے ابان سے کہا کہ تمہار باپ کے ایک قاتل کو میں نے ہلاک کردیا ہے۔[50]

بعض تاریخ منابع کے مطابق زبیر جو اپنے کئے پر شرمندہ تھا جنگ سے پہلے ہی اصحاب جمل سے جدا ہو کر میدان جنگ سے باہر چلا گیا تھا۔[51] ایک اور قول کی بنا پر جنگ میں شکست کھانے کے بعد زبیر میدان جنگ سے فرار ہو گیا اور مدینہ چلا گیا۔[52]

بہر حال جب زبیر نے میدان جنگ ترک کیا تو عَمرو بن جُرموز نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ اس کا پیچھا کیا اور وادی‌السِّباع نامی جگہے پر اسے غافلگیر کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔[53]

امام(ع) نے زبیر کی ہلاکت پر اظہار افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور جب اس کی تلوار پر نظر پڑی تو فرمایا کہ اس تلوار نے صدر اسلام میں اس تلوار نے کئی بار پیغمبر اکر(ص) کے چہرے سے غم اندوہ کو دور کیا تھا۔[54]

عایشہ کا انجام

جنگ‌ کے بعد عایشہ کو کجاوہ سے باہر لائی گئی اور اسے ایک الگ خیمہ نصب کیا گیا۔ امام(ع) نے جنگ کو شعلہ ور کرنے کی بنا پر اس کی سرزنش کی اس کے بعد انکے بھائی محمد بن ابی بکر کے ذریعے اسے بصرہ روانہ فرمایا۔

عایشہ وہاں چند روز قیام کے بعد مدینہ جانا قرار پایا تھا لیکن مہلت تمام ہونے کے بعد بھی مدیہ جانے سے تعلل کیا تو امام(ع) نے عبداللہ بن عباس کو ان کے پاس بھیجا اور انہیں معاملے سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد انہیں بصرہ کے کئی عورتوں کے ساتھ جنہیں امام(ع) کے حکم پر مردوں کے لباس میں ملبوس کیا گیا تھا اپنے سپاہیوں کی ایک تعداد کے ساتھ محمد بن ابی بکر یا عبدالرحمان کے ہمراہ با احترام مدینہ روانہ کیا گیا۔[55]

اس واقعے کے بعد عایشہ جب بھی جنگ جمل کی یاد آتی، یہ آرزو کرتی تھی کہ اے کاش اس سے پہلے وہ مر چکی ہوتی اور اس حادثے میں وہ شریک نہ ہوتیں۔ عایشہ جب بھی آیت [56] کی تلاوت کرتی اس قدر گریہ کرتی کہ ان کا چہرہ آنسوں میں بھیگ جاتا تھا۔[57]

ہلاکتوں کی تعداد

جنگ جمل میں ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں تاریخ میں کوئی خاطر خواہ اور اطمینان بخش حقائق ثبت نیہں ہے لیکن "ابوخَیثَمَہ" کی روایت کے مطابق جو انہوں نے "وَہب بن جَریر" سے نقل کیا ہے، جنگ جمل میں بصرہ والوں کی ۲۵۰۰ افراد مارے گئے۔ [58] دیگر روایتوں میں اصحاب جمل کے جنگ میں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی تعداد ۶۰۰۰ سے ۲۵۰۰۰ افراد تک مذکور ہیں۔[59] اسی طرح بعض نی امام(ع) کے لشکر میں سے بھی ۴۰۰ سے ۵۰۰۰ افراد کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔ [60]

حوالہ جات

  1. طبری، ج ۴، ص ۴۵۲، ۴۵۶ و ۵۰۷
  2. مفید، ص ۴۰۹
  3. مفید، ص ۳۰۴
  4. مجلسی، ج ۳۲، ص ۱۲۱؛نہج البلاغہ، خطبہ۱۳۷
  5. نہج البلاغہ، ص ۲۵۰
  6. ابن ابی الحدید، ج ۶، ص ۲۱۵
  7. مفید، ص ۶۴
  8. ابن ابی الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغۃ، بہ کوشش محمدابوالفضل ابراہیم‌، قاہرہ، ۱۳۷۸-۱۳۸۴ق‌/۱۹۵۹-۱۹۶۴م‌، ج ۱، ص ۹.
  9. نہج‌البلاغہ، خطبہ۱۴۸ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۵۳، ‌۴۵۵
  10. ابن قتیبہ، ج‌۱، ص‌۵۱۵۲ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۲۹، ۴۳۸
  11. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۵۸ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۲۹ ؛ مفید، ج۱، ص۲۲۶
  12. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۵۸ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص۴۳۵
  13. بلاذری،ج‌۲، ص‌۱۵۹ ؛ دینوری‌، ص‌۱۴۴ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۵۲
  14. نہج البلاغۃ، خطبہ ۱۷۲
  15. ابن اثیر، ج‌۲، ص‌۲۴۹-۲۵۰ و ج‌۳، ص‌۲۴۲-۲۴۳
  16. نہج‌البلاغہ،خطبہ۱۵۶ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۴۴ ؛ مفید، ج۱، ص ۴۲۵-۴۳۴
  17. طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۵۰۴۵۱ ؛ مفید، ج۱، ص‌۲۲۶-۲۲۷
  18. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۵۷۱۵۹ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص۴۵۴ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۵۳ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۰۲
  19. مسند أحمد بن حنبل، ج 6، ص52، ح24299
  20. البيہقي، المحاسن والمساوئ، ج 1، ص43
  21. البيہقي، المحاسن والمساوئ، ج 1، ص43
  22. إبن أبي شيبۃ، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص536، ح37771؛ مسند إسحاق بن راہويہ، ج 3، ص891، ح1569؛ المستدرك علي الصحيحين، ج 3، ص129، ح4613؛ دلائل النبوۃ، ج 6، ص129؛ مسند أبي يعلي، ج 8، ص282، ح4868؛صحيح ابن حبان، ج 15، ص126، ح6732
  23. الذہبي ، سير أعلام النبلاء، ج 2، ص178؛ البدايۃ والنہايۃ، ج 6، ص212؛ الہيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 7، ص234؛ فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 13، ص55
  24. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۶۰ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۶۱
  25. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۶۰ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۶۱
  26. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۶۳-۱۶۴ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۶۸
  27. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۶۵ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۵۷
  28. یاقوت حموی‌، ذیل کلمه ربَذَة
  29. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۵۸ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۴۷۷-۴۷۹ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۰۳-۱۰۵ ؛ خلیفۃ ‌بن خیاط‌، ج۱، ص‌۱۱۰
  30. بلاذری‌، ج‌۲، ص۱۸۶ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص۵۰۰-۵۰۵ ؛ دینوری‌، ص‌۱۴۵-۱۴۶ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص۴۶۳ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۱۷
  31. طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۵-۵۰۶ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۶۱
  32. خلیفۃ ‌بن خیاط‌، ج۱، ص‌۱۱۱ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۰ ۵۰۱ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۰۴۱۰۶
  33. طبری‌، ج‌۴، ص ۵۰۳
  34. دینوری‌، ص‌۱۴۷ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۱ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۰۶ ؛ مفید، ج۱، ص‌۳۳۴
  35. دینوری‌، ص‌۱۴۷
  36. ابن قتیبہ، ج‌۱، ص‌۷۰۷۱؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۶۵۴۶۷.
  37. مفید، ج۱، ص‌۳۱۳۳۱۷؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۶۷.
  38. ج ۳، ص ۵۱۳
  39. طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۱
  40. مسعودی‌، ج‌۳، ص ۱۱۳
  41. یعقوبی‌، ج‌۲، ص‌۱۸۲
  42. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۷۴ ؛ یاقوت حموی‌، ذیل کلمہ خُرَیبَۃ
  43. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۷۰۱۷۱ ؛ یعقوبی‌، ج‌۲، ص‌۱۸۲ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۹
  44. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۷۰
  45. المفید، الجمل، قم: مکتبۃ الداوری، بی‌تا، ص ۱۷۹ (نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبۃ اہل البیت(ع)، نسخہ دوم، ۱۳۹۱ش).
  46. المفید، الجمل، قم: مکتبۃ الداوری، بی‌تا، ص ۱۸۶(نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبۃ اہل البیت(ع)، نسخہ دوم، ۱۳۹۱ش).
  47. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۶۹ ؛ ابن قتیبه‌، ج‌۱، ص‌۷۶ ؛ مفید، ص ‌۳۱۹ ۳۲۵
  48. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۷۰ ؛ دینوری‌، ص‌۱۴۹ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۰۷
  49. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۷۱
  50. دینوری‌، ص‌۱۴۸
  51. ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۷۰۴۷۱
  52. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۸۱
  53. طبری‌، ج‌۴، ص۵۱۱
  54. ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۷۱۴۷۲
  55. مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۱۱۳۱۱۴
  56. احزاب/۳۳/۳۳
  57. ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص ۴۸۷
  58. بلاذری‌، ج‌۲، ص‌۱۸۷
  59. خلیفۃ ‌بن خیاط‌، ج۱، ص‌۱۱۲ ؛ طبری‌، ج‌۴، ص‌۵۳۹ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۸۷۴۸۸ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۹۵۹۶
  60. خلیفۃ ‌بن خیاط‌، ج۱، ص‌۱۱۲ ؛ ابن اعثم کوفی‌، ج‌۲، ص‌۴۸۷ ؛ مسعودی‌، ج‌۳، ص‌۹۶

مآخذ

  • قرآن کریم
  • ابن ‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ‌، چاپ محمدابوالفضل ابراہیم‌، قاہرہ‌.
  • إبن أبي شيبۃ، عبد اللہ بن محمد(235ق)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، تحقيق كمال يوسف الحوت، مكتبۃ الرشد، رياض، الطبعۃ الأولي، 1409ق.
  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، چاپ محمد ابراہیم بنا و محمد احمد عاشور، قاہرہ‌.
  • ابن اعثم کوفی‌، کتاب الفتوح‌، چاپ علی شیری‌، بیروت.
  • ابن حجز عسقلانی، أحمد بن علي(852ق)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، تحقيق محب الدين الخطيب، دار المعرفۃ، بيروت.
  • ابن قتیبہ‌، الامامۃ و السیاسۃ، المعروف بتاریخ الخلفاء، قاہرہ‌.
  • أبو يعلي الموصلي التميمي، أحمد بن علي بن المثني(307ق)، مسند أبي يعلي، حسين سليم أسد، دار المأمون للتراث، دمشق، الطبعۃ الأولي، 1404ق.
  • أحمد بن حنبل(241ق)، مسند أحمد بن حنبل، ، مؤسسۃ قرطبۃ، مصر.
  • بلاذری‌، انساب الاشراف‌، چاپ محمود فردوس العظم‌، دمشق.
  • بيہقي، إبراہيم بن محمد(320ہق)، المحاسن والمساوئ، تحقيق عدنان علي، ناشردار الكتب العلميۃ، بيروت، لبنان، الطبعۃالأولي، 1420ق.
  • تميمي بستي، محمد بن حبان(354ق)، صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان، تحقيق شعيب الأرنؤوط، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت، الطبعۃالثانيۃ، 1414ق.
  • حاكم نيشابوري، محمد بن عبداللہ(405ق)، المستدرك علي الصحيحين، تحقيق مصطفي عبد القادر عطا، دار الكتب العلميۃ، بيروت الطبعۃ الأولي، 1411ق.
  • حنظلي، إسحاق بن إبراہيم(238ق)، مسند إسحاق بن راہويہ،تحقيق د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي، مكتبۃ الإيمان،المدينۃ المنورۃ، الطبعۃالأولي، 1412ق.
  • خلیفۃ ‌بن خیاط‌، تاریخ خلیفۃ ‌بن خیاط‌، چاپ مصطفی نجیب فوّاز و حکمت کشلی فوّاز، بیروت‌.
  • دینوری‌، الاخبار الطوال‌، چاپ عبدالمنعم عامر، مصر.
  • طبری‌، تاریخ طبری، موسسہ اعلمی للمطبوعات، بیروت‌.
  • مجلسی، بحارالانوار، موسسہ الوفاء، بیروت.
  • مسعودی، مروج الذہب و معادن الجواہر، ترجمہ ابوالقاسم پایندہ، انتشارات علمی و فرہنگی، تہران.
  • مفید، الجمل و النصرۃ لسیدالعترۃ فی حرب البصرۃ، چاپ علی میرشریفی‌، قم.
  • نہج‌البلاغہ‌، ترجمہ جعفر شہیدی‌، تہران: شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، بہار ۱۳۸۶.
  • ہيثمي، علي بن أبي بكر(807ق)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، دار الريان للتراث، دار الكتاب العربي،القاہرۃ، بيروت، 1407ق.
  • یاقوت حموی‌، معجم البلدان.
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ ابراہیم آیتی، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، تہران.