نافع بن ہلال بجلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نافع بن ہلال
ذاتی کوائف
نام کامل نافع بن ہلال بجلی
وجہ شہرت قاری قرآن کریم اور کاتبان حدیث
محل ولادت کوفہ
محل زندگی کوفہ
وفات/شہادت عاشورا سنہ ۶۱ ہجری قمری
مدفن کربلا
دیگر فعالیتیں
سیاسی صحابی امام علی اور امام حسین(ع)
واقعہ کربلا میں حاضری

نافع بن ہلال بن جمیل امام علی(ع) اور امام حسین(ع) کے اصحاب اور شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ تاریخی منابع میں انہیں جَمَلی، بَجَلی، مُرادی، اور بَجَلی مرادی جیسے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ وہ عرب کے اشراف اور بہادروں اور[1] قاری قرآن کریم اور کاتبان حدیث میں سے تھا۔

نام اور نسب

بعض تاریخی منابع اور مقاتل میں نافع بن ہلال کا نام غلطی سے ہلال بن نافع ثبت ہوا ہے ۔[2] حالنکہ "ہلال بن نافع" نیز واقعہ کربلا میں حاضر تھا لیکن وہ عمر بن سعد کی فوج میں شامل تھا اور کربلا کے واقعے کے راوی ہیں۔[3]

نافع بن ہلال کا تعلق "قبیلہ جمل" جو "قبیلہ مذحج" کی ایک شاخ تھی، سے اور یمنی الاصل تھے۔

امام علی(ع) کے صحابی تھے

نافع بن ہلال امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے اصحاب میں سے تھے[4] اور آپ(ع) کے دور میں لڑی گئی تینوں جنگوں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں آپ(ع) کے ساتھ شریک ہوئے۔[5] کہا جاتا ہے کہ نافع ایک دلیر اور ماہر تیر انداز تھے۔ ابومخنف سے منقول ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) نے انہیں جنگی فنون کی تعلیم دی تھی۔[6]

امام حسین(ع کے قافلے میں شامل ہونا

نافع بن ہلال حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت سے پہلے کوفہ سے خارج ہوئے اور راستے میں امام حسین(ع) کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ [7] وہ عذیب الہجانات نامی جگہے پر امام حسین(ع) کے ساتھ ملحق ہونے والے چار افراد میں سے ایک ہیں۔ حضرت امام حسین(ع) نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے کوفہ کے حالات دریافت فرمائے تو انہوں نے جواب دیا: کوفہ کے اشراف اور بزرگان رشوت لے کر آپ کے خلاف ہو گئے ہیں جبکہ عوام الناس کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلوار آپ کے خلاف ہیں۔[8]

واقعہ عاشورا میں حاضری

امام حسین(ع) کے ساتھ تجدید بیعت

محرم کی دوسری تاریخ کو امام حسین(ع) کربلا پہنچے۔ اس موقع پر آپ(ع) نے اپنی اہل بیت(ع) اور اصحاب کو جمع کیا اور ابتدا میں اپنے اہل بیت(ع) کی طرف نگاہ کرکے گریہ کرتے ہوئے فرمایا:

خدایا بتحقیق ہم تیرے نبی حضرت محمد(ص) کے خاندان میں سے ہیں جنہیں اپنے وطن سے نکالا گیا اور پریشان و سرگرداں اپنے نانا رسول خدا(ع) کے روضہ اطہر سے ہمیں نکال باہر کیا گیا ہے۔ بنی امیہ نے ہم پر ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے پس اے خدا ہمارا حق ان ظالموں سے لے لیں اور ان کے مقابلے میں ہماری نصرت فرما۔

اس کے بعد امام(ع) نے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا:

النَّاسُ‏ عَبِيدُ الدُّنْيَا وَ الدِّينُ لَعِقٌ عَلَى أَلْسِنَتِهمْ يَحُوطُونَه مَا دَرَّتْ مَعَايِشُهمْ فَإِذَا مُحِّصُوا بِالْبَلَاءِ قَلَّ الدَّيَّانُون‏.
لوگ دنیا کے غلام بن گئے ہیں اور دین ان کی زبان کی حد تک ہے، دین کی حمایت اور پیروی اس وقت تک کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی آسائش میں گزرے اور جیسے ہی کوئی مصیبت آجائے اور کسی سختی کا شکار ہو تو دیندار کم ہی نظر آتے ہیں۔

امام(ع) کی اس تقریر کے بعد آپ(ع) کے اصحاب نے ایک ایک کر کے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے آپ(ع) کے ساتھ تجدید بیعت کیا۔

نافع بن ہلال نے زُہیر بن قِین کے بعد کھڑے ہو کر امام(ع) سے مخاطب ہو کر کہا:

آپ جانتے ہیں کہ آپ کے نانا رسول خدا(ص) اپنی محبت لوگوں کے دلوں میں موجزن نہ کرسکے یا لوگوں کو جس طرح خود چاہتے تھے بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے بعض اصحاب منافقین میں سے تھے آپ(ص) کو مدد کا وعدہ دیتے تھے جبکہ پیٹھ پیچھے آپ کو دھوکہ دیتے تھے، جب آپ(ص) سے ملتے تو شہد سے بھی میٹھے انداز اپناتے تھے لیکن پیٹھ پیچھے زہر سے بھی کڑوا ہوتے تھے یہاں تک کہ خدا نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ آپ کے بابا علی(ع) کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، لوگوں نے سب سے پہلے حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے ان کے گرد جمع ہوگئے جبکہ بعد میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کی شکل میں آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ خدا نے ان کو بھی شہادت کی عظیم نعمت سے مالا مال کیا۔ آج آپ(ع) ہمارے درمیان اسی طرح ہیں بعض نے اپنا عہد و پیمان توڑ کر آپ کی بیعت سے خارج ہوگئے ہیں جبکہ اس بیعت شکنی میں ان کا اپنا نقصان ہے کسی اور کا نہیں خدا ان سے بے نیاز ہے۔ پس ہمیں جب تک آپ سالم ہیں ہماری رہنمائی فرما کر ہمیں جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں خدا کی قسم ہمیں خدا کی تقدیر پر کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ ملاقات کرنے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم اپنی نیات اور سوچ کے بل بوتے پر عمل پیرا ہونگے جو بھی آپ سے محبت کرے اور آپ کی حمایت کرے ہم بھی اس سے محبت کریں گے اور جو بھی آپ سے دشمنی اختیار کرتے ہم بھی اس کے دشمن بنیں گے۔[9]

خیموں میں پانی لانا

عمر بن سعد کے حکم پر جب یزیدی فوج نے امام حسین(ع) کے خیموں میں پانی بند کردیا اور اصحاب پر پیاس کی شدت بڑھ گئی تو امام حسین(ع) نے حضرت ابوالفضل العباس(ع) کو بلایا اور انہیں راتوں رات 30 سپاہیوں منجملہ نافع بن ہلال کے ساتھ پانی لانے کیلئے فرات کی طرف روانہ فرمایا۔

جب حضرت عباس(ع) اور آپ کے ساتھی جن میں نافع بن ہلال سب سے آگے حرکت کر رہے تھے، فرات کے کنارے پہنچے تو عمرو بن حجاج زبیدی جو فرات پر مامور سپاہیوں کا کمانڈر تھا نے کہا: تم لوگ کون ہو؟

نافع نے جواب دیا: "ہم تمہارے چچازاد بھائیوں میں سے ہیں ہم اس پانی سے سیراب ہونے آئے ہیں جسے تم لوگوں نے بند کیا ہوا ہے۔"

عمرو نے کہا: "جتنا پی سکتے ہو پیں لیکن حسین(ع) کیلئے اس سے پانی مت لے جاؤ"

نافع نے کہا: "خدا کی قسم ایک قطرہ پانی بھی نہیں پیوں گا جبکہ حسین(ع) اور ان کے اہل و عیال پیاسے ہوں۔"

دوسرے ساتھیوں کے پہنچنے پر نافع نے پکارا: "اپنے مشکیزوں اور برتنوں کو پانی سے بھر دو"

عمرو بن حجاج کے ساتھی حضرت قمر بنی ہاشم(ع) اور نافع بن ہلال کے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے کیلئے آئے اور ایک سخت لڑائی ہوئی۔

امام(ع) کے بعض اصحاب مشکیزوں میں پانی بھرنے میں کامیاب ہو گئے یوں خیموں میں پانی لانے میں کامیاب ہو گئے اس واقعے میں دشمن کے کئی سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے۔[10]

شب عاشورا

شب عاشورا آدھی رات کو امام حسین(ع) خیموں کے اطراف کو دئکھنے کیلئے تنہا خیمے سے باہر تشریف لے گئے تو نافع چپکے سے آپ کے پیچھے آ گئے۔

واپسی پر امام حسین(ع) نے نافع سے پوچھا: "کیا رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان دو پہاڑوں کے درمیان سے گذر کر اپنی جان بچانا نہیں چاہتے ہو؟"

نافع نے اپنے آپ کو امام کے قدموں پر گرایا اور کہا: "میں نے ہزار درہم میں ایک تلوار خریدی ہے اور ایک گھوڑا ہے اس کی قیمت بھی تقریبا اتنی ہی ہے، پس اس خدا کی قسم جس نے مجھے آپ کے رکاب میں شہید ہونے کا موقع فراہم کرکے میرے اوپر احسان کیا ہے، جب تک میری یہ تلوار جنگ میں میرے کام آئیگی ہر گز آپ سے جدا نہیں ہونگا۔"[11]

روز عاشورا

بعض منابع کے مطابق نافع بن ہلال نے انہی دنوں شادی کی تھی اور جب روز عاشورا میدان میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی نئی نویلی دلہن نے منع کیا لیکن وہ امام کی نصرت کیلئے اصرار کر رہا تھے۔ جب امام کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ (ع) نے نافع سے فرمایا: تمہاری دلہن پریشان ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تم دونوں جوانی میں ایک دوسرے کے فراق میں مبتلا ہو جائوں اگر یہ راضی نہیں ہے تو اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے چلے جاؤ۔"

نافع نے کہا:‌ "یابن رسول اللہ(ص) اگر سختی اور مصیبت میں آپ کو تنہا چھوڑ کر اپنی آسائش کے پیچھے چلا جاوں تو کل قیامت کے دن آپ کے نانا رسول خدا کو کیا جواب دوں۔" [12]

جنگ کے وقت نافع کا رجز پڑھنا

جنگ کے دوران نافع درج ذیل اشعار پڑھ رہے تھے:


ان تنکرونی فانا ابن الجملی دینی علی دین حسین بن علی(ع)


"اگر مجھے نہیں پہچانتے ہو تو میں اپنا تعارف کرونگا، "قبیلہ جَمَلی" سے میرا تعلق ہے اور میرا دین وہی دین ہے جس پر حسین ابن علی(ع) ہیں"۔[13]

دشمن کے لشکر سے مزاحم بن حریث نامی ایک شخص نے اس کے جواب میں کہا: "ہم عثمان کے پیروکار ہیں"

نافع بن ہلال نے کہا: "تم شیطان کے پیروکار ہو" اس کے بعد تلوار سے اس پر وار کیا۔ مزاحم نے بھاگنا چاہا لیکن نافع کے وار نے اسے یہ اجازت نہیں دی اور وہ ہلاک ہو گیا۔" [14]

نافع بن ہلال روز عاشورا تیروں پر اپنا نام لکھ کر انہیں زہر سے آلودہ کر کے دشمن کی طرف پھینکتے تھے۔ اور تیر چلاتے وقت یہ اشعار پڑھتا تھے:


ارمی بها معلمۃ افواقها والنّفس لا ینفعها اشفاقها
مسمومۃ تجری بها اخفاقها لیملانّ ارضها رشاقها


"ایسا تیر چلا رہا ہوں جس کے نوک پر لکھا ہے کہ جان کا خوف اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا، یہ تیر زہر سے آلودہ اور مست حالت میں آگے جا رہا ہے یہاں تک کہ میدان جنگ کو لطیف تیروں سے پر کریگا۔" [15]

جب نافع کے پاس تیر ختم ہوئے تو انہوں نے تلوار اٹھا لی[16] اور دشمن کے صفوف پر حملہ آور ہوئے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:


انا الغلام الیمنی الجملی دینی علی دین حسین و علی
ان اقتل الیوم فهذا املی فذاک رایی و الاقی عملی


«من ایک یمنی اور جملی جوان ہوں میں اس دین کا پیروکار ہوں جس پر حسین ابن علی(ع) ہیں؛ آج میری آرزو یہ ہے کہ شہید ہو جاؤں۔ پس میری یہ آرزو ہے اور میں اپنے عمل سے خود ملاقات کروگا۔"[17]

شہادت

دشمن کے سپاہیوں نے ایک ساتھ ان کا محاصرہ کیا اور اپنے تیروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا اس طرح ان کے بازوں کو توڑ کر انہیں گرفتار کر کے عمر بن سعد کی پاس لے جایا گیا۔

عمر بن سعد نے کہا: "اے نافع! افسوس ہے تم پر! کیوں اپنے ساتھ ایسا کیا؟"

نافع جبکہ خون اس کے محاسن سے جاری تھا، کہنے لگے: " میرا پروردگار میری نیت سے آگاہ ہے۔ خدا کی قسم میں نے تمہارے 12 آدمیوں کو ہلاک کیا ہے جس پر اپنے آپ کو ملامت نہیں کرونگا اگر میرے بازوں سالم ہوتے تو مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے."

عمر بن سعد نے شمر کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا تو ناقع نے شمر سے کہا: " خدا کی قسم اے شمر! اگر تم مسلمان ہو تو تم یر یہ گراں گزرے گا کہ تم خدا سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ ہمارا خون تمہاری گردن پر ہو۔ میں خدا کی حمد و ثنا بجا لاتا ہوں کہ دنیا کے سب سے پست اور حقیر قوم کے ہاتھوں ہماری موت واقع ہوئی۔" اس کے بعد شمر نے نافع کو شہید کر دیا.[18]

نافع بن ہلال کا نام زیارت رجبیہ امام حسین(ع) اور زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں نافع کو یوں مورد خطاب قرار دیا ہے:

"السّلام علی نافع بن ہلال البجلی المرادی"

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. خیرالدین زرکلی، الأعلام، ج۸، ص۶.
  2. ابصارالعین، ص۵۰-۱۵۰؛ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص۳۱.
  3. الملہوف، ص۱۷۷.
  4. الامالی للشجری، ج۱، ص۱۷۲
  5. محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین (ع)، ص۱۴۷.
  6. وقار شیرازی، عشرہ کاملہ، ص۴۰۲.
  7. محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین(ع)، ص۱۴۷.
  8. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص۳۱.
  9. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ج ۵، ص۸۳ ؛ الملہوف، ص۱۳۸
  10. احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، ج ۳، ص۱۸۱؛ و محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج ۵، صص ۴۱۲ - ۴۱۳؛ ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۱۱۷.مقتل الحسین خوارزمی ج۱، ص۳۴۶-۳۴۷. طبری، تاریخ، ج۴، ص۳۱۲
  11. بہبہانی، الدمعۃ الساکبۃ ج۴، ص۲۷۳. المقرم،مقتل الحسین(ع)، ص۲۱۹.
  12. روضۃ الشہداء، ص۲۹۸. ناسخ التواریخ ج۲، ص۲۷۷.
  13. الطبری، تاریخ، ص۴۳۵ و شیخ مفید؛ الارشاد،ج ۲، ص۱۰۳ و الموفق بن احمدالخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج ۲، ص۱۴ - ۱۵ و طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی،ج ۱، ص۴۶۲.
  14. الطبری، تاریخ، ص۴۳۵ و شیخ مفید، الارشاد، ج ۲، ص۱۰۳.
  15. الکوفی، الفتوح، ص۱۱۰ و البحرانی، العوالم، ص۲۷۱.
  16. البلاذری، انساب الاشراف، ص۱۹۷؛ الطبری، تاریخ، ص۴۴۱ - ۴۴۲ و ابن اثیر، الکامل، ج ۴، ص۷۱ - ۷۲.
  17. ابن شہرآشوب؛ مناقب آل ابیطالب، ج ۴، ص۱۰۴.
  18. ناسخ التواریخ ج۲، ص۲۷۷-۲۷۹. البلاذری، انساب الاشراف، ص۱۹۷ و الطبری، تاریخ، ص۴۴۱ - ۴۴۲ و ابن اثیر، الکامل، ج ۴، ص۷۱ - ۷۲.


مآخذ

  • محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین(ع)، تحقیق محمد جعفر الطبسی، مرکز الدرسات الاسلامیہ لممثلی الولی الفقیہ فی حرس الثورۃ الاسلامیہ، چاپ اول.
  • علی النمازی الشاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، تہران، ابن المؤلف، چاپ اول، ج ۸.
  • الموسوی المقرم، عبد الرزاق؛ مقتل الحسین(ع)، بیروت، دارالکتاب الاسلامیہ، چاپ پنجم، ۱۹۷۹.
  • ابن اعثم الکوفی، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، ۱۹۹۱، ج ۵.
  • عبداللہ البحرانی، العوالم الامام الحسین(ع)، تحقیق مدرسہ الامام المہدی(عج)، قم، مدرسہ الامام المہدی(عج). چاپ اول، ۱۴۰۷.
  • احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، تحقیق محمد باقر محمودی، بیروت، دارالتعارف، چاپ اول، ۱۹۷۷، ج ۳.
  • محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۹۶۷، ج ۵.
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم؛ الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر - داربیروت، ۱۹۶۵، ج ۴.
  • شیخ مفید؛ الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳، ج ۲.
  • الموفق بن احمد الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبۃ المفید، بی‌تا، ج ۲.
  • طبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۹۰ق، ج ۱.
  • ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی تا.
  • ابوالفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، ۱۹۸۶، ج ۸.
  • السید ابراہیم موسوی زنجانی، وسیلۃ الدارین فی انصار الحسین(ع)، بی‎جا، چاپ سوم، ۱۴۱۰.
  • علامہ محمدباقر مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، بیروت، موسسہ وفا، داراحیا التراث العربی، چ۳، ۱۴۰۳.
  • ابی حنیفہ احمد بن داود الدینوری، الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر، ایران، قم، شریف رضی، ۱۳۷۰.
  • محمدباقر دہدشتی بہبہانی، الدمعۃ الساکبۃ فی احوال النبی و العترۃ الطاہرۃ، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی
  • وقار شیرازی، عشرہ کاملہ،‌ شیراز، نشر فروزنگہ، ۱۳۹۰
  • ابن نما حلی، مثیر الاحزان و منیر سبل الاشجان، المطبعۃ الحیدریہ، نجف، ۱۳۶۹ق