یا لثارات الحسین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یا لثارات الحسین

یا لَثاراتِ الحسین امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے کا نعرہ ہے۔ یہ نعرہ سب سے پہلے سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں شروع ہونے والی تحریک قیام توابین میں اس کے بعد قیام مختار میں استعمال ہوا۔ اس نعرے کو قیام کے آغاز کا اعلان کرنے اور اہل بیت کے حقیقی پیروکاروں کو اس قیام کی طرف ترغیب دلانے کیلئے لگایا جاتا تھا۔ ابومسلم خراسانی نے بھی امویوں کو شکست دینے کیلئے اسی نعرے سے کا سہارا لیا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت مہدی(ع) اور آپ کی مدد کیلئے آنے والے فرشتوں کا بھی یہ نعرہ ہوگا۔

ترجمہ اور توضیح

اصل مضمون: ثاراللہ

یا لثارات الحسین یعنی‌ اے امام حسین(ع) کے خون کا انتقام لینے والو![1] اس نعرے کا استعمال امام حسین(ص) کی شہادت کی بعد آپ(ع) کی خون کا بدلہ لینے کیلئے شروع ہونے والے قیاموں میں ہوا ہے۔ بنی امیہ کے کارندے عموما اس نعرے کے جواب میں "یا لثارات العثمان" کا نعرہ لگاتے تھے۔[2] بعض اوقات اس نعرے کو امام حسین(ع) کے علاوہ بھی دوسرے موارد میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلا قرمطیوں نے حسین بن زکرویہ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے اس نعرے کا سہارا لیا ہے۔[3]

تأثیر

اہل بیت اطہار(ع) کے پیروکاروں کا بنی امیہ کے خلاف چلانے والی تحریکوں میں یالثارات الحسین کے نعرے کی تأثیر بہت زیادہ دیکھائی دیتی ہے۔ قرشی اس تأثیر گزاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ انقلابی نعرہ شیعہ بلکہ بنی امیہ کی حکومت کے مخالف ہر شخص کے دل میں ایک جوش اور جذبہ ایجاد کرتا تھا۔[4] وہ اسی نعرے کو بنی امیہ کی حکومت کی نابودی کا اصل عامل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ نعرہ وہی فلاک شگافت فریاد تھی جس نے بنی امیہ کی حکومت کے تخت و تاج کو ویران کر دیا اور ان کی قدرت کو خاک میں ملا دیا۔[5] جب لوگ اس نعرے کو سنتے تھے تو اپنی بیوی بچوں سے ہاتھ اٹھا کر ان سے خدا حافظی کرتے اور میدان جنگ میں کود پڑتے تھے۔[6]

"ابوالقاسم حالت" کے مطابق "یا لثارات الحسین" کے اس نعرے کے پس پردہ سنہ 61 ہجری قمری کو پیش آنے والا عاشورا کا دلخراش واقعہ دشمنان اہل بیت کے خلاف قیام کرنے والے شیعہ اکابرین کی بہترین ہتھیار سمجھی جاتی ہے۔ اس کی مطابق قرمطیوں کا اس نعرے کا سہارا لینے کی اصل وجہ اس نعرے کی معجز نما تأثیر ہے اگرچہ انہوں نے اسے امام حسین(ع) کے علاوہ کسی اور شخص یعنی حسین بن زکرویہ کیلئے اسے استعمال کیا گیا تھا۔ [7]

توابین کا نعرہ

اصل مضمون: قیام توابین

امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد کوفہ میں چلائی جانے والی پہلی تحریک "توابین کا قیام" تھا۔ اس تحریک میں شرکت کرنے والوں نے "یالثارات الحسین" کے اس نعرے کا بھر استعمال کیا۔[8] پہلا شخص جس نے اس نعرے کو بلند کیا وہ حکیم بن منقذ کندی اور ولید بن غضین کنانی تھے۔ [9] سلیمان بن صرد خزاعی جو اس قیام کے روح رواں تھے اپنی ساتھیوں کے ساتھ امام حسین(ع) کی زیارت کیلئے گئے وہاں پر انہوں نے "یالثارات الحسین" کا نعرہ بلند کیا.[10]

قیام مختار کا نعرہ

اصل مضمون: قیام مختار

مورخین کے مطابق قیام مختار میں یہ نعرہ ہر خاص و عام کا ورد زبان تھا اور جہاں بھی اعلان جنگ کرنی ہوتی اسی نعرے کا سہارا لیتے تھے۔ مختار کے ساتھیوں کا مخالفین کے ساتھ پہلی جنگ عبداللہ بن مطیع کے ساتھ کوفہ میں پیش آیا اس جنگ کا آغاز بھی اسی نعرے کے ساتھ ہوا۔ [11] مختار نے بھی جنگی لباس پہنتے وقت بھی یہی حکم صادر کرتا ہے کہ لوگ "یا لثارات الحسین" اور "یا منصور امت" کے نعرے کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا جائے۔[12][13][14]

یہ نعرہ قیام مختار میں ہر وقت مورد استفادہ واقع ہوا کرتا تھا۔ "سپاہ خشبیہ]" جسے مختار نے بنی‌ہاشم جن میں سر فہرست محمد بن حنفیہ کو نجات دینے کیلئے مکہ میں عبداللہ بن زبیر کے کارندوں پر اسی نعرے کے ساتھ ٹوٹ پڑا اور بنی ہاشم کو ان کے چنگل سے نجات دیا۔ [15][16]

نیز جب عمر بن سعد مارا گیا تو کوفہ والوں نے بھی "یالثارات الحسین" کا نعرہ لگایا۔[17]

عبداللہ بن ہمام سلولی کا شعر

مختار اور اس کے ساتھی ان نعروں کے علاوہ اپنے اشعار میں بھی اس عبارت کو استعمال کرتے تھے تاکہ اس کے معجز نما تأثیر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ لے کر لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جا سکے۔عبداللہ بن ہمام سلولی جو اس وقت کا مشہور شاعر کے اشعار اس حوالے سے درج ذیل ہے:

و فی لیلة المختار ما یذهل الفتی و یلهیه عن رود الشباب شموع
دعا: «یا لثارات الحسین،» فاقبلت کتائب من همدان بعد هزیع[18]
یعنی اس رات مختار، وہ مرد مجاہد سراسیمہ تھا اور شمعیں اس جوان سے مسحور تھیں۔
(یا لثارات الحسین) کے نعرے کے ساتھ اس نے دعوت دی تو ہمدان اور دیگر علاقوں سے لوگ جوغ در جوغ اسے قبول کر رہے تھے۔ [19]

بعد کی تحریکوں میں اس نعرے کا استعمال

"یا لثارات الحسین" کے نعرہ کا مختار کے قیام کے بعد چلائی جانے والی تحریکوں میں کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد زید اور یحیی نے بنی امیہ کے خلاف جبکہ محمد نفس زکیہ ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ معروف بہ قتیل باخمرا اور حسین بن علی معروف بہ شہید فخ وغیرہ نے بنی عباس کے خلاف قیام کی لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی اس نعرے کا سہارا نہیں لیا گیا۔

لیکن خراسانیوں نے بنی امیہ کے خلاف اپنی قیام میں اس نعرے کا سہارا لیا۔[20]

قیام حضرت مہدی(عج) اور یہ نعرہ

احادیث میں آیا ہے کہ حضرت مہدی(عج) بھی اسی نعرے کے ساتھ قیام فرمائیں گے۔[21] ابن مشہدی اپنی کتاب "المزار الکبیر" میں امام زمانہ(عج) کا نعرہ بھی "یا لثارات الحسین" ذکر کیا ہے۔[22] روایات کے مطابق شیخ صدوق نے روایت کی ہے کہ امام رضا(ع) ریان بن شبیب کو امام حسین(ع) پر رونے کی سفارش کرتے ہوئی بیان فرماتے ہیں کہ امام مہدی(عج) کے اصحاب "یالثارات الحسین" ہے۔[23] اسی روایت میں اشارہ ہوا ہے کہ وہ فرشتے جو ظہور امام زمانہ(ع) تک امام حسین(ع) کے مزار مبارک پر موجود ہیں امام زمانہ کے قیام کے وقت "یالثارات الحسین" کا نعرہ بلند کرینگے۔[24]


حوالہ جات

  1. زندگانی حضرت امام حسن(ع)، ترجمہ بحار الأنوار،ص:۳۰۷
  2. تاریخ الطبری،ج۶،ص:۵۰
  3. تجارب الأمم،ج۵،ص:۴۳
  4. حیاۃ الإمام زین العابدین(ع)، القرشی،ج۲،ص:۳۸۴
  5. حیاۃ الإمام الحسین(ع)، القرشی،ج۲،ص۲۷۸
  6. تجارب الأمم،ج۲،ص:۱۱۲
  7. تجارب الأمم/ترجمہ،ج۵،ص:۳۹
  8. أنساب الأشراف،ج۶،ص:۳۶۸
  9. تاریخ الطبری،ج۵،ص:۵۸۳
  10. أنساب الأشراف،ج۶،ص:۳۷۰
  11. الأخبارالطوال،ص:۲۹۱
  12. أنساب الأشراف،ج۶،ص:۳۹۰
  13. تاریخ الطبری،ج۶،ص:۲۰
  14. الفتوح،ج۶،ص:۲۳۳
  15. أخبارالدولۃ العباسیۃ،ص:۱۰۶
  16. تجارب الأمم،ج۲،ص:۱۸۹
  17. أنساب الأشراف،ج۶،ص:۴۰۷
  18. الأخبارالطوال،ص:۲۹۱
  19. حیاۃ الإمام زین العابدین(ع)، القرشی،ج۲،ص:۳۹۴
  20. انساب الاشراف، ج۹ص ۳۱۷
  21. إلزام الناصب، الیزدی الحائری،ج۲،ص:۲۴۴
  22. المزار الکبیر، محمد بن المشہدی،ص:۱۰۷
  23. عیون أخبار الرضا(ع)، الشیخ الصدوق،ج۱،ص:۲۹۹
  24. بحار الأنوار (ط - بیروت)، ج۴۴، ص: ۲۸۶

مآخذ

  • ابن اعثم، محمد بن احمد(م۳۱۴) کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۱ق.
  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر(۶۱۰ق)، المزار الکبیر(لابن المشہدی)، دفتر انتشارات اسلامی، قم،۱۴۱۹ ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر(م۲۷۹)، کتاب جمل من انساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت،‌دار الفکر، ط الأولی، ۱۴۱۷.
  • دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داود(م ۲۸۲)، الأخبار الطوال،، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال،قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا علیہ‌السلام،نشر جہان، تہران، ۱۳۷۸ ق.
  • طبری، محمد بن جریر(م۳۱۰)، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت،‌دار التراث، ط الثانیۃ، ۱۳۸۷.
  • قرشی، باقر شریف، حیاۃ الإمام الحسین علیہ‌السلام، مدرسہ علمیہ ایروانی، قم، ۱۴۱۳ ق.
  • قرشی، باقر شریف حیاۃ، الإمام زین العابدین علیہ‌السلام،‌دار الأضواء، بیروت، ۱۴۰۹ ق.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، زندگانی حضرت امام حسن مجتبی علیہ‌السلام(ترجمہ جلد ۴۴ بحار الأنوار)، مترجم نجفی، محمد جواد، اسلامیہ، تہران، ۱۳۶۲ ش.
  • مجہول(ق ۳)،أخبار الدولۃ العباسیۃ و فیہ أخبار العباس و ولدہ، تحقیق عبد العزیز الدوری و عبد الجبار المطلبی، بیروت،‌دار الطلیعۃ، ۱۳۹۱.
  • مسکویہ رازی، ابوعلی(م۴۲۱تجارب الأمم، تحقیق ابو القاسم امامی، تہران، سروش، ط الثانیۃ، ۱۳۷۹ش.
  • مسکویہ رازی، ابوعلی، تجارب الأمم، جلدیکم، مترجم ابو القاسم امامی، تہران، سروش، ۱۳۶۹ش.
  • یزدی حایری، علی(۱۳۲۳ق)، إلزام الناصب فی إثبات الحجۃ الغائب عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف، مؤسسۃ الأعلمی، بیروت، ۱۴۲۲ ق.